آئیڈیل شخصیت یا بُت سازی

 

میں نے سکول میں نوی جماعت میں ڈائریکٹ داخلہ لیا تھا۔ کیونکہ اس سے پہلے والد صاحب کے کام کو سنبھالنے کی ذمہ داری ناقص کے کاندھوں پر آن پڑی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ ان کی آنکھوں میں موتیا تھا اور وہ کام کو سنبھال نہیں سکتے تھے۔ گویا میں نے سکول کی بنیادی تعلیم پہلی جماعت سے آٹھویں جماعت تک حاصل نہیں کی۔ ایک پھر ایک بہت نچلے درجے کے سکول میں نویں جماعت میں داخلہ لے کر میٹرک کرلیا۔ جس کی فیس کُل سات سو روپے مہینہ تھی۔ اس طرح میری اب تک کی عمر بہت سے مختلف لوگوں اور مختلف رویوں سے ہو کر گزری ہے۔ یعنی پہلے مدرسہ، پھر ٹھیٹھ کاروبار اور جہاں دیدہ لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا۔ فارغ اوقات میں سوشل میڈیا۔ پھر سکول کالج اور یونی ورسٹی۔

اپنی اب تک کی زندگی میں ان اصولوں پر ہمیشہ کاربند رہا ہوں

1۔ کسی کو اپنے رازوں سے آگاہ نہیں کرنا۔

2۔ کسی پر اپنے آپ سے زیادہ بھروسہ نہیں کرنا۔

3۔ عزت اور وقار کو سنبھال کر رکھنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ڈورے مون اور ہمارے بچے

4۔ کسی سے ایسی گہری دوستی نہیں کرنی کہ وقت پڑنے پر وہ دوستی ذاتی معاملات رکاوٹ بن جائے۔

5۔ جو گزر گیا اس کی طرف پلٹ کر نہیں دیکھنا۔

6۔ کسی کو زندگی ضرورت سے زیادہ اڈمائر نہیں کرنا۔ یعنی کسی کو بھی یہ حق نہیں دینا کہ وہ آپ کی سوچ، دماغ اور عقل پر قابو پالے۔

7۔ کسی سے بھی متاثر نہیں ہونا۔

ان اصولوں کے مجھے کئی فائدے ہوئے ہیں۔ مثلاً

مجھے اپنے کسی اہم رازکے افشا کا ڈر کبھی نہیں ستاتا۔

کسی پر بھروسہ کرکے جو عین وقت پر مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، وہ کبھی نہیں کرنا پڑتا۔ ہرکام جب تک خود سے نہ کرلوں تب تک سکون نہیں ملتا۔

دوستیوں کے چکر میں لوگوں کو مہینے نہیں بلکہ سالوں برباد کرتے دیکھا ہے۔ جذباتی وابستگیاں انسان کی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ ہوتی ہیں۔ ہر کسی سے خوش ہو کر ملنا، اور وقت کی ضرورت کے تحت خوشی خوشی علیحدہ ہوجانا ترقی کا اہم حصہ ہے۔

اسی طرح پچھلی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھ جانا بہتر ہے، اس بات سے کہ ساری زندگی کسی ایک ناکامی پر رویا پیٹا جائے۔ انسان کی ہر ہر غلطی اس کی شخصیت کی تعیین میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ لیکن پلٹ کر کسی ایک ہی کامیابی یا ناکامی کی طرف رخ کرکے بیٹھ جانا ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ یہ آپ کو آگے نہیں بڑھنے دے گا۔ کبھی بھی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   احساس کمتری

آخری اور سب سے اہم نکتہ یہ کہ کبھی کسی سے اس طرح متاثر نہ ہوا جائے کہ وہ آپ کے دل و دماغ پر حاوی ہو جائے۔ آئیڈیلز، خواب، اور متاثر کن شخصیات کا آپ کی زندگی پر اتنا اثر و رسوخ کبھی نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کا سکون اور طبیعی رجحان مزاحمت کا شکار ہو جائے۔

میں نے لوگوں کو برباد ہوتے دیکھا ہے۔ وہ کسی ایک کے پیچھے ساری زندگی برباد کرتے ہیں۔ اور ہاتھ میں اٹھنی بھی نہیں محفوظ نہیں رکھ پاتے۔ میں نے اپنی اب تک کی زندگی میں آج تک نہ کسی لکھاری کو اپنا آئیڈیل بنایا، نہ سائنس دان کو، نہ کسی شاعر کو۔ اس دھارے پر جینے کو ترجیح دی جس میں میرا اپنا ذاتی رجحان تھا۔ کیونکہ آیڈیل بنانے کے بعد آپ کی ترقی کی راہ بند ہو جاتی ہے۔ اور اکثر حالات میں جسے آئیڈیل مانا گیا ہوتا ہے اس کی ذات کو جب تولا جائے تو آپ کی سوچ کے میزان پر بہت ہلکا بیٹھتا ہے۔ چنانچہ میری ایک بہت نمایاں عادت ہے کہ نہ کسی کی کھل کر تعریف کر سکتا ہوں، نہ برائی کرسکتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   فلسفہ کا رد

کیونکہ میرا گمان مجھے اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا بُت بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔ میں اس کے علاوہ کسی کو اپنی سوچوں کا محور بنا ہی نہیں سکتا۔

میں عزائم کا قائل ہوں۔ متاثر ہونے کا قائل ہرگز نہیں۔

(101 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. Seems Aftab says:

    خوبصورت سبق آموز تحریر

تبصرہ کریں