آخرت کی تیاری کیسے کریں؟

پیارے بھائیو!

سمجھ دار شخص وہ ہے جو اپنا محاسبہ کرے اور موت کے بعد والی زندگی یعنی آخرت کی تیاری میں لگ جائے اور کتنا غافل ہے وہ انسان جو خود تو خواہشات کی غلامی کرے اور پھر بڑی بڑی امیدیں اللہ تعالیٰ سے لگانا شروع کردے۔

اب سوال یہ ہے کہ ہم یہ محاسبہ کس طرح کریں اور موت کے بعد کی تیاری کہاں سے شروع کریں اور خواہشات کو آخر کیسے دبائیں اور ایسا کونسا عمل کریں کہ کم از کم اللہ کی رحمتوں سے امید لگانے کے قابل تو ہوجائیں۔

اس کا آسان اور مختصر جواب یہ ہے کہ ہم فی الحال خود کو اللہ کی نافرمانی سے روک دیں اور جو کام ہمیں کرنے کے لیے دیے گئے ہیں ان میں لگ جائیں اور ماضی میں جو کوتاہیاں ہوئیں ان کی تلافی کریں۔
بات وہیں آجاتی ہے کہ یہ سب کچھ کیسے کریں؟ کہاں سے شروع کریں؟ ہم تو نافرمانیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں ، ماضی کی کوتاہیاں اب تو ہمارے اعداد و شمار سے بھی تجاوز کرچکی ہیں ، کس کس کی تلافی کریں؟ اور کیسے کریں؟ کرنا شروع بھی کردیں تو کچھ دنوں بعد پھر سب کچھ چھوڑ چھاڑ حالیہ روش پر آجائیں گے۔
بھائیو! اس کا ایک بہت اچھا اور پائدار حل یہ ہے کہ ہم خود کو کسی اللہ والے کے سپرد کردیں ، جو پابند شریعت ہو ، جس کی زندگی سنتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہوکر انھی مبارک سنتوں پر ختم ہوتی ہو

دوستو!
جو لوگ ایسا کرلیتے ہیں وہ یقینا اپنی آخرت کی تیاری کرنا اور دنیا سنوارنا شروع کردیتے ہیں۔ مگر ان کے علاوہ وہ بہت سے لوگ کہاں جائیں؟ جو ایسا نہیں کر سک رہے یا تو اپنی سستی کی وجہ سے یا پھر کسی پر بھی اطمینان نہ ہونے کے باعث یا کسی بھی وجہ سے۔ ایسے لوگوں سے عرض ہے کہ خدارا! اپنے حال پر رحم کریں اور یوں اپنی آخرت کو بے سہارا نہ چھوڑیں ، ایک چھوٹی سی کوشش ہی کردیکھیں ، ممکن ہے اس سے کچھ راستہ نکل آئے ، آئیے اسی چھوٹی سی کوشش کو پڑھتے ہیں۔

پیارے دوستو!
مایوسی چھوڑیں ، ایک چھوٹی سی (دس روپے والی) کاپی خریدنے کی زحمت کریں ، اس میں پہلے صفحے پر حالیہ تاریخ لگا کر عنوان ڈالیں:
"میری قضا نمازیں"
پھر بالغ ہونے سے اب تک کی فجر ، ظہر ، عصر ، مغرب ، عشا اور وتر کی ان تمام نمازوں کا حساب لگائیں جو نہیں پڑھیں اور انھیں لکھ لیں ، (اگر حساب لگانے میں دشواری ہورہی ہے تو یوں سوچ لیں کہ زیادہ تر نماز پڑھنے کا معمول رہا ہے یا نہ پڑھنے کا ، اس سے ایک ایسا اندازہ قائم کرنا آسان ہوجائے گا کہ زیادہ سے زیادہ قضا نمازیں عدد کی شکل میں لکھی جاسکیں گی ، مثلا ایک شخص کی عمر پچیس سال ہے ، پندرہ سال کی عمر میں وہ بالغ ہوا تھا ، اب بالغ ہونے کے بعد دس سال کے عرصے میں اسے صرف یہ یاد ہے کہ زیادہ تر نمازیں پڑھی ہیں تو "قضا نمازوں" کے طور پر پانچ سال کی نمازیں لکھ لے۔)
غیر ضروری تفصیل سے بچتے ہوئے ہم بات کو آگے بڑھاتے ہیں ، اگلے صفحے پر عنوان ڈالیں:
"میرے قضا روزے"
یہاں بھی اندازہ لگالیں ، مثلا دس سال میں دس رمضان کے کل تین سو روزے بنتے ہیں ، زیادہ تر رکھنے کا معمول رہا ہے اور بے شمار چھوڑے بھی ہیں تو ڈیڑھ سو کا عدد لکھ دیں۔
اسی طرح ایک صفحے پر واجب الادا زکوۃ اور ایک صفحے پر اپنے حج کے بارے میں لکھ لیں کہ ادا کیا ہے یا نہیں اور اگر ادا نہیں کیا تو فرض ہوا ہے یا نہیں وغیرہ۔
یہ سارے حقوق اللہ ہیں جو ہم سے ادا ہونے سے رہ گئے ہیں اور جن کی بابت ہم سے کل قیامت کے دن پوچھا جائے ، یقیناً پوچھا جائے گا۔
اس کے بعد نئے صفحے پر عنوان قائم کریں:
"میرے قرض خواہ"
اب جن جن سے قرض لے رکھا ہے یا جن جن کا حساب باقی ہے ایک ایک کرکے ان کے نام ، رابطہ نمبر ، ضروری تفصیل اور قرض کی مقدار لکھنا شروع کردیں۔
اس کے بعد ایک نئے صفحے پر یہ عنوان لگائیں:
"میرے مقروض"
نیچے ان لوگوں کے نام ، نمبر اور تفصیل لکھیں جو جو آپ سے قرض لے چکے ہیں۔
اس کے بعد ایک اور عنوان سجائیں:
"امانتیں"
اور پھر جن جن لوگوں کی امانتیں پاس رکھی ہیں ان کی تفصیل نام اور نمبروں کے ساتھ لکھ ڈالیں۔

یہ بھی پڑھیں:   تزکیۂ نفس - ایک خانقاہ کا احوال (مکمل)

عزیزانِ من!
اب اپنی وصیت لکھنا شروع کریں:

  • میرے مرنے کے بعد رونے دھونے کے بجائے اپنی اپنی آخرت کی تیاری کی فکر کریں۔
  • میری تجہیز و تکفین شرعی طریقے سے کی جائے۔
  • میرے کل مال میں سے میرے سارے قرضے ادا کیے جائیں۔
  • اگر کل مال کم پڑ جائے تو میرے ورثہ مجھ پر احسان کریں اور میرے قرضے چکا دیں کہ میں اپنے مرنے کے بعد انھیں ادا کرنے سے عاجز ہوں۔
  • اگر قرضوں کی ادائیگی کے بعد میرا مال بچ جائے تو اس کے ایک تہائی میں سے میری نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کیا جائے ، زکوۃ اور واجب الادا صدقات نکالے جائیں ، حج بدل کیا یا کروایا جائے اور اگر ایک تہائی سے یہ نہ ہوسکے تو بقیہ دو تہائی میرے ورثہ کا حق ہے ، وہ شرعی لحاظ سے باہم تقسیم کریں پھر ان میں سے جو بالغ ہیں وہ مجھ پر احسان کریں کہ اپنے مال میں سے میرے یہ کام کردیں۔
  • میرے پاس پاس فلاں فلاں لوگوں کی فلاں فلاں امانتیں ہیں وہ ان تک بحفاظت پہنچادی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں:   وقت کا طلسم اور عبادات

قابلِ احترام ساتھیو!
اگر آپ نے مذکورہ بالا ہدایات پر عمل کرلیا تو گویا آپ نے اس دس روپے والی کاپی میں اپنی نہ ختم ہونے والی زندگی سکون سے گزارنے کے لیے اہم ترین محاسبہ لکھ ڈالا ہے۔
اب آپ درج ذیل نیتیں کریں:

  1.  آج کے بعد سے جو نماز ، روزہ وغیرہ خدا نا خواستہ چھوٹ گیا تو اسے اس کاپی میں مستقل نوٹ کریں گے۔
  2.  جو نیا قرض لیا یا مزید جسے قرض دیا وہ بھی اس کاپی میں لکھیں گے۔
  3. گزشتہ حقوق اللہ یا حقوق العباد میں سے جو جو ادا ہوتا جائے گا ، اس کاپی میں وہ تبدیلی شامل کرتے جائیں گے۔
  4. خود کو اچھے ماحول ہی میں رکھیں گے ، اگر بد قسمتی سے کبھی برا ماحول مل گیا تو کم از کم اتنا ضرور کریں گے کہ جتنی دیر برا ماحول ملا ہے اتنی ہی دیر خود کو لازمی طور پر اچھے ماحول میں شامل کریں گے۔

عزیز از جان مسلمانو!
"لا حول ولا قوۃ الا باللہ" کی کثرت کریں کہ نیکی کی طاقت اور گناہ سے بچنے کی قوت دینے والی ذات صرف اللہ کی ہے ، ہم میں نہ اتنی طاقت ہے کہ کوئی نیکی کرسکیں اور نہ اتنی قوت ہے کہ کسی گناہ سے خود کو بچا سکیں ، البتہ اگر ہم نے اپنے لیے اچھے ماحول کا انتخاب کیا تو نیکیاں زیادہ اور گناہ کم ہوں گے اور اگر بد قسمتی سے ہم ایسے ماحول کا شکار ہیں جو اللہ کی نافرمانی اور ناراضی پر مشتمل ہے تو روز بہ روز ہمارے گناہ زیادہ اور نیکیاں کم ہوتی رہیں گی ، پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انسان کی طبیعت ہی اس پر آمادہ نہیں ہوتی کہ وہ ایک منٹ ، صرف ایک منٹ کے لیے اپنا محاسبہ کرے اور یہ سوچ سکے کہ اسے جو کرنا چاہیے تھا وہ اسی میں لگا ہوا ہے یا پھر معاذ اللہ اس کی زندگی برے انجام اور ہولناک مستقبل سے بے نیاز اور لاپروا ہوکر مسلسل اس ذات کو ناراض کرنے میں صرف ہورہی ہے جو ہماری ایک ایک سانس کا خالق ہے ، ہماری رگ رگ سے واقف ہے ، اور ہمیں بلکہ ہر ذی روح کو ایک دن مرنا ہے ، اس کے پاس جانا ، کچھ سوالوں کے جواب دینے ہیں ، پل صراط سے گزرنا ہے ، جنت یا جہنم میں سے کسی ایک کا فیصلہ کروانا ہے۔ جسے جنت کا پروانہ دے دیا جائے گا وہ سب کو اپنا نامۂ اعمال دکھاتا پھرے گا اور جس کی بدقسمت ہتھیلیوں میں جہنم کا پرچہ تھمادیا جائے گا وہ صرف اس تمنائے خام کا سہارا لینے کی کوشش کرے گا کہ کاش! مجھے یہ اعمال نامہ دیا ہی نہ گیا ہوتا۔ کاش!

یہ بھی پڑھیں:   علم میراث - تیسرا سبق

اچھے ماحول یہ ہیں: مسجد ، والدین ، اساتذہ ، اعزہ و اقارب اور بیوی بچوں سے پیار محبت کی بات چیت ، وہ جگہیں جہاں قرآن کریم کی تلاوت ہوتی ، احادیثِ رسول پڑھی اور پڑھائی جاتی ہوں ، وہ جگہیں جہاں اللہ ، رسول ، صحابہ اور اولیائے کرام کے مبارک تذکرے ہوتے ہوں ، بیمار کے پاس عیادت کی نیت سے بیٹھنا ، کسی پریشان حال کے پاس تسلی دینے کے لیے بیٹھنا۔

اور برے ماحول یہ ہیں: وہ جگہیں جہاں اللہ کی نافرمانی ہوتی ہو ، جیسے سینما ، شراب خانے ، جوئے کے اڈے ، وہ جگہ جہاں محض دنیاوی باتیں اور گپ شپ ہوتی ہوں جیسے دوستوں کی بیٹھک جہاں نماز اور ذکر کا خیال نہ رکھا جاتا ہو ، بازار ، موبائل اور کمپیوٹر کا بے محل استعمال بالخصوص واٹس ایپ اور فیس بک کی چوبیس گھنٹے مصروف رہنے والی عادت ، احکامِ الٰہیہ کے بارے میں عوام الناس کا بے جا بحث و مباحثہ ، فضول اور لایعنی باتوں کی مجالس ، مسلسل قہقہے لگانا اور زور زور سے ہنسنا کہ اس سے دل مردہ ہوکر رہ جاتا ہے۔
غرض اللہ سے غافل کردینے والی ہر جگہ اور عمل روحانی طور پر مضر ہے اور اللہ سے تعلق قائم کرنے والی ہر جگہ اور عمل ہماری آخرت کی تیاری کے لیے مفید ہی مفید ہے

میرے عزیزو!
آئیے ، پھر آخرت کے اُس اعمال نامے کو درست کرنے کے لیے آج ہی ایک چھوٹی سی کاپی خرید کر اپنی ذمہ داریوں اور کوتاہیوں کو قلم بند کریں اور آج ہی کی تاریخ کو اپنی زندگی کی اہم ترین تاریخ شمار کرکے ایک نئے جوش اور جذبے کے ساتھ اپنی آخرت کی تیاری شروع کریں۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
"الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهٗ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهٗ هَوَاهَا وَتَمَنّٰى عَلَى اللہ۔"
(جامع الترمذى ، أبواب صفة القیامة ، باب الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ ۔ ۔ ۔ الرقم: 2647)

ترجمہ و تشریح کے لیے یہ مضمون پھر سے پڑھیے۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے ہم سب ضعیفوں کی آخرت سنوارنے کا سامان کرے ، و ما توفیقنا الا بالله وھو حسبنا ونعم الوکیل۔

(آپ کا مخلص اور غمزدہ بھائی ، محمد اسامہ سَرسَری)

(353 مرتبہ دیکھا گیا)

محمد اسامہ سرسری

محمد اسامہ سرسری مستند عالِمِ دین اور فقہِ اسلامی کے متخصص ہیں۔ اسامہ صاحب دینی تعلیمات کے ساتھ ادبی اور فنی سرگرمیوں کا بھی فعال حصہ ہیں۔ انتہائی محنتی اور معاون طبیعت رکھتے ہیں اور متعدد کتب کے مصنف بھی ہیں ، کتاب "آؤ شاعری سیکھیں" ان کی اب تک کی شہ کار تصنیف ہے جسے اندرون و بیرون ملک ہر جگہ خوب پذیرائی ملی ہے۔ سوشل نیٹ ورک پر سینکڑوں لوگوں کو ادب اور شاعری کی فنیات آسان انداز میں سبقاً سبقاً سکھاتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. m.adil says:

    اسامہ بھائی جزاکم اللہ خیرا

  2. محمد اسامہ سَرسَری says:

    اللہ خوش رکھے۔

تبصرہ کریں