آرزو کا پُتلا - سالگرہ کے موقع پر

ستارے کہتے ہیں کہ میرا اصل مقصودِ حیات خرد و دانش کی آخری منزل کو سر کرنا ہے۔ یہ بات مجھے نہیں معلوم تھی۔ کبھی جاننے کی کوشش بھی نہیں کی کہ میرے ستارے میرے بارے میں کیا کیا بد گمانیاں کر بیٹھے ہیں۔
ہاں اتنا ضرور ہے کہ میں نے زندگی کے لیے اتنے مقاصد طے کر رکھے ہیں کہ اکثر و بیشتر دن کے چوبیس گھنٹے اور عمرِ غیر یقینی کے یہ چند ماہ و سال جن کی کوئی ضمانت نہیں، کافی کم اور بے حقیقت محسوس ہوتے ہیں۔
مجھے یہ قبول کرنے میں کوئی عار نہیں کہ گزرا ہوا ہر دن اسی افسوس کے ساتھ جدا ہوتا ہے کہ "ہائے! آج بھی کوئی قابلِ ذکر کارنامہ سر انجام نہیں دے پایا۔"
میرے لیے دن کے سب سے خوفناک لمحات وہ ہوتے ہیں جب خیال آتا ہے کہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ میرے عجز میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ یہ توانائی ڈھلتی جائے گی۔ حافظہ اور نظر جواب دے جائیں گے۔ چال میں لڑکھڑاہٹ اور زبان کی ناروائی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔
لیکن پھر ایک شیطانی تھپکی کندھے پر آن لگتی ہے جو صدا لگا رہی ہوتی ہے کہ
"زندگی کی منزل افق کے اُس پار ہے۔ اور تمہیں ابھی لاکھوں سال یونہی جیتے رہنا ہے!!"
یہ شاید میری نہیں۔۔ ہر دل کی کہانی ہے۔ ہر روز جیا جانے والا سچ ہے۔ ایسا سچ جسے ہم بے سمجھی میں، لاشعوری طور پر بھی قبول کرکے زندگی کے شب و روز انتہائی بامقصد طریقے سے بے مقصد بناتے چلے جاتے ہیں۔
ایسے میں علم و خرد، دانش و عقل وغیرہ جیسے سارے الفاظ بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں۔ جو باقی رہتا ہے وہ یہ ہم صرف اپنی ہی مستی میں جیتے ہیں۔ اپنی ہی تسکین کی خاطر۔ بقول میرؔ
؎
سراپا آرزو ہونے نے بندہ کر دیا ہم کو
وگرنہ ہم خدا تھے، گر دلِ بے مدعا ہوتے

یہ بھی پڑھیں:   آسمانِ فلسفہ کا دائرہ محدود ہے

اور یہی ہمارے انسان ہونے کی سب سے بنیادی اور سب سے حتمی دلیل ہے۔ یعنی انسان خطا سے بڑھ کر، آرزو کا پتلا ہے۔ باقی سب تو زیبِ داستاں اور دل لگی کے حیلے ہیں کہ اس خرابے میں کسی نہ کسی طرح اپنے سراپا آرزو ہونے کو، اپنے عجز کو، اپنی لاچاری اور بے مایگی کو کوئی ڈھنگ کا نام دیا جاسکے۔ کسی کھونٹے سے باندھ کر ان کی بے ثباتی کو کم کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں:   علمِ عَروض سبق ۵

ابھی پچھلے سال کی ناکامیوں کی نوحہ سرائی ختم نہ ہوئی تھی کہ ایک مزید سال گزر گیا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ تئیس سال پورے کرنے پر خوش ہوا جائے یا ضائع کرنے پر افسوس؟ اور وہی حال ہے کہ خوشی کم، افسردگی زیادہ ہے۔ بلکہ دونوں کا مرکب ہی عجیب سی کیفیت (Nostalgia) میں ڈھل گیا ہے۔ یہ چند ہی مقامات ایسے ہیں جہاں میری طبیعت کی حساسیت اپنی انتہاؤں پر ہوتی ہے۔ یعنی جہاں فیصلہ کرنا ایک پندرہ سال کے بچے کے لیے بھی کھیل ہو، وہاں میرے لیے ترددات کا ایک پہاڑ ہوتا ہے جس کو سر کرنا میری کُل استطاعت سے بالا شئے ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سوچتے ہیں وہ بار بار ہمیں

(62 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں