آشوب انسانیت

وہ دیکھو دور کے دیس میں انسانیت کو دفنایا جارہا ہے۔ بلکہ شاید اسے دفنانا نہیں کہتے۔ تدفین کے لیے اہتمام ہوتا ہے۔ یہاں تو بس انسانیت کا بوجھ  زمین  میں اتارا جارہا ہے۔ اس پر مٹی کی تہہ بلکہ ڈھیریاں تھوپی جارہی ہے۔ دسیوں زندگی کی رونق میں مست، عطرِ حیات کی مہک کو وگمہ وگمہ سونگھنے والوں کو روند دیا گیا

جانتا ہوں

کچھ کہتے کیوں نہیں؟

کچھ لکھتے کیوں نہیں؟

دلچسپی نہیں ہے۔ بے کیفی اور پژمردگی کے پانیوں کی تہوں میں مجھے خموشی کے بھاری پتھروں کے ساتھ باندھ کر ڈبودیا گیا۔

اچھا میں سمجھ گیا۔

تم ایک اچھے مسلمان ہو۔ تمہیں اپنوں کا روگ کھارہا ہے۔ تمہیں ان پانچ لاکھ کے قریب افراد کا صدمہ لگا ہے جو شام میں

کچھ بموں سے اڑائے گئے

کچھ ملبے میں دب گئے

تو

کچھ دنیا میں قطرہ قطرہ مرنے کی سب سے خوفناک شکل بھوک کے ہاتھوں مرے۔

نہ ان ظالموں کی چنگیزی خصلت سے بچہ بچا نہ معمر مامون رہا۔

انہوں نے جوان بیبیوں کو خدا کے گھروں میں بے آبرو کیا۔

تو کچھ اور کرموں جلیوں کو باپ کے سامنے اور کسی کو بیٹے کے سامنے بھنبھوڑ ڈالا۔

میں جانتا ہوں تم پژمردگی اور بے کیفی کی آڑ میں کمینی خوشی چھپارہے ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   سالِ نو کے عزائم اور ہم

نہیں نہیں ایسا بھی نہیں ہے۔

اہل شام مریں یا شاہوں کی زندگی جئیں ۔ میری بے کیفی اور غیر اثر پذیری کو ان سے بھی غرض نہیں۔ میں ان مناظر کو دیکھتا تھا اور کبھی میری سسکیاں مجھ سے نہیں سہی جاتی تھی اب لیکن کم از کم درجے میں مغموم بھی نہیں ہوتا۔ اور ہاں جان لیجیو کہ مجھے مغموم نہ ہونے کا بھی غم نہیں ہے۔

اچھا۔!

شاید یہ ایک نئی طرز کی اس دانش کا انفعال ہے جو کہتی ہے کہ اپنے ملک کے تو ہو رہو پھر دنیا کو بھی رولینا۔ تم شاید پاکستان کے روگی ہو۔

ہاں یہ بھی خوب ہے ایسے ملک کے روگ پر کون آنکھ اشک بار نہ ہوگی جس کا ایک بازو کٹ کر خود اسی کے نظریاتی وجود کے لیے اژدہا بن چکا۔

اور دوسرے بازو پر آفرینشِ وجود کے ساتھ ہی جونک حملہ آور ہوگئے۔ ستم سے بڑھ کر ستم یہ ہوا کہ خود پاکستانی بھی اس مدعا پر متفق نہیں۔ جونک کو خون کی ترسیل بھی اپنے ہی کرتے ہیں۔ کس کس المیے پر اشک مہیا کیے جائیں۔؟

میرے عزیز۔!

(ویسے جیسا میں ہوں اس حال میں نہ کوئی عزیز ہے نہ اجنبی۔ نہ کسی سے نفرت ہے نہ محبت)

یہ بھی پڑھیں:   علمِ عروض سبق ۱۰

یقین جانیے یہ وجہ بھی نہیں۔ پاکستان پھلے پھولے اور ہر شہری اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کرے یا ٹوٹے پھوٹے اور یہاں کی اشرافیہ بھی یک لقمہ تر کی محتاج ہوجائے۔ میں ایسا منجمد ہوا ہوں کہ اس کی بھی رتی برابر پرواہ نہیں۔

اوہ۔!

یہ تو واقعی قابل رحم بلکہ قابل نفرین کیفیت ہے۔

(بشرطیکہ بے کیفی پر "کیفیت" کا اطلاق ہوسکے )

کہیں تم اس وجہ سے تو نہیں واماندہ کہ ابھی پچھلے دنوں تم تو ایک طرف تمہاری والدہ ماجدہ مرحومہ تک کو نہیں بخشا گیا تھا اور تمہیں صحابہ کرام کا گستاخ کہا گیا تھا۔

ہاں ہاں یہی وجہ ہوسکتی ہے میں جانتا ہوں تمہیں۔

تم گالی کے بعد ہفتوں معمول کی کیفیت میں نہیں آتے۔ اس وقت تو آپ کی والدہ ماجدہ مرحومہ کو بھی انہوں نے نہیں بخشا تھا۔ تم اپنی ذات کے دکھوں کی گٹھری تلے دبے ہو۔

دیکھ نیار خلجانی۔!

تم تو میرے ہمزاد ہو۔

تم تو جانتے ہو

میرے لیے گالی اور الزام یکساں اذیت ناک ہیں۔

میری عادت بستر پر پہنچ کر ہر ایک کو معاف کرنے کی نہ ہوتی تو میں گالی اور الزام دینے والے کو کبھی معاف نہ کرتا۔ اور مجھے خود پر جبر کرنا پڑتا ہے ان کو معاف کرنے کے لیے۔

یہ بھی پڑھیں:   طوطا اور مینا

تم تو یہ سب جانتے ہو۔ تم تو ان سب باتوں کو اور مجھے اتنا چھوٹا مت سمجھو کہ میں اپنی ذات کی وجہ سے انسانی المیوں پر خاموش رہوں گا۔

تم کیوں نہیں سمجھتے کہ کیف، احساس، غم، خوشی، ہر چیز۔ میرے لیے اپنی اہمیت کھوچکی ہے۔ میں یہ سب تمہارے توسط سے اپنے غیر مرئی دوستوں کو اس لیے نہیں پہنچارہا کہ اس پر پسندیدگی آئے۔ تبصرے آئیں۔ میں ان چیزوں سے بھی اوب چکا ہوں۔

جنوں مرا شعار تھا مگر کسی کے واسطے

قلم تھمادیا گیا، ادیب کردیا گیا

(عامر یوسف سمیر)

اگر تھمانے والے نے مجھے قلم نہ تھمایا ہوتا تو میں یہ سب لکھتا بھی نہیں۔

(90 مرتبہ دیکھا گیا)

شاد مردانوی

جنابِ شاد کے لیے اگر یہ کہا جائے کہ وہ چلتی پھرتی لغت ہیں تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ان کی اردو در اصل اردو نہیں بلکہ معرب و مفرس کسی ماورائے اردو شئے کی تارید کہی جاسکتی ہے۔ علم دوست ہونے کے ساتھ ساتھ منکسر المزاج بھی ہیں اور مطالعے کو اوڑھنا بچھونا رکھتے ہیں۔ ان کی ہنر کاری ان کی تحریروں سے عیاں ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں