آپ لکھاری ہیں

لکھاری بننے کے لیے کوئی قاعدۂ کلیہ موجود نہیں۔ بطورِ لکھاری بھی آپ یہ بات شاید کبھی نہ بتا سکیں کہ آپ کس مہینے یا کس سن میں لکھاری بنے۔ یہ بھی طے نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کون کون سی خصوصیات ہیں جن کے آنے کے بعد آپ انسان سے لکھاری بن گئے ہیں۔ اس سے یہ مراد نہ لی جائے کہ لکھاری انسان نہیں ہوتا۔ مقصد یہ ہے کہ لکھاری بننے کے بعد انسانیت ثانوی حیثیت کا وصف ہوجاتا ہے۔ کیونکہ لکھاری اپنے آپ پر انسانی قوانین سے پہلے "لکھاریانہ قانون" کا اطلاق ضروری سمجھتا ہے۔ اور ”لکھاریانہ قانون“ یہی ہے کہ ہر قانون سے دستبردار ہو لیا جائے۔  مجھے معلوم ہے کہ آپ بطورِ قلم کار میری بات سے نالاں ہوں گے۔ لیکن سچ تو یہی ہے۔ جب تک آپ انسانیت کی قید سے نکل نہ پائیں تب تک ایک قابلِ ذکر لکھاری بننا ممکن کہاں ہوتا ہے؟ اور اگر ممکن ہو بھی جائے تو وہ غیر تخلیقی نوعیت کا ہوگا۔

مثلاً آپ لکھاری ہیں ۔۔۔۔ جب آپ کو یہ معلوم ہو جائے کہ کرۂ ارض کو گھومنے کے لیے آپ کی اجازت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اگر آپ سے اجازت نہ لی گئی تو آپ سائنسی توجیہات کی دھجیاں بھی اڑا سکتے ہیں۔ اور اپنے قارئین سے اس کے ساکن ہونے کو منوا بھی سکتے ہیں۔

 آپ لکھاری ہیں ۔۔۔ جب آپ عام انسان کو اس کی معصومیت پر ”در فٹے مونھھ!!!“ کہنا سیکھ جاتے ہیں۔

عام انسان: کیا کرتے ہو؟
لکھاری: لکھتا ہوں۔
عام انسان: نہیں اصل میں آپ کا کیا کام ہے؟
لکھاری: در فٹے مونھھھ!!!

آپ لکھاری ہیں ۔۔۔ جب مولوی صاحب آپ کی شرارتوں پر کوئی فتوی لگانے سے پہلے یہ سوچ کر معاف کردیتے ہیں کہ بے چارہ اپنے آپے میں نہیں ہے۔ اس لیے اس پر شریعت کا نفاذ نہیں ہوتا۔

آپ لکھاری ہیں ۔۔۔ جب شرفا آپ کو لکھاری قبول نہ کریں۔ اور آپ کو اس کی پروا بھی نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   دعا سیریز6: (مسجد سے نکلنے کی دعا)

آپ لکھاری ہیں ۔۔۔ جب کفریہ کلمات کے ادا کرنے پر بھی آپ کافر نہیں ہو پاتے۔

آپ لکھاری ہیں ۔۔۔ جب نفیس ادباء اپنے تواضع کی خاطر آپ سے بچ بچا کر چلتے ہیں۔ اور آپ سے بھڑنے کو اپنی نفاستِ طبع کے شایانِ شان نہیں سمجھتے۔

آپ لکھاری ہیں ۔۔۔ جب آئی ایس آئی اور رینجرز آپ کی بغاوتی تحریروں کو بغاوت گرداننا چھوڑ دیتی ہے۔

آپ لکھاری ہیں ۔۔۔ جب لوگ آپ کی شکل دیکھ کر آپ کو ناکام عاشق یا پھر فلسفی سمجھنے لگتے ہیں۔ جبکہ ان دونوں باتوں میں کوئی بھی سچ نہیں ہوتی۔

آپ لکھاری ہیں ۔۔۔ جب جب کوئی آپ سے اچھی تحریر لکھنے کے ٹوٹکے پوچھتا ہے اور آپ کی بولتی بند ہوجاتی ہے۔ کیونکہ آپ نے خود کبھی کسی ٹوٹکے پر عمل نہیں کیا ہوتا۔

آپ لکھاری ہیں ۔۔۔ جب آپ پر کسی اخلاقی قانون کا نفاذ نہیں ہوتا۔

آپ لکھاری ہیں ۔۔۔ جب کوئی معصوم دوشیزہ آپ کی تعریفوں کے پُل باندھ رہی ہو اور آپ کی رال ٹپکنا شروع ہو جائے۔

آپ ہر اس وقت لکھاری ہوتے ہیں جب آپ مصنف، مؤلف اور ادیب نہیں ہوتے۔
جب آپ خود اپنے آپ کو لکھاری ثابت کر پانے سے قاصر ہوتے ہیں۔
جب آپ لکھنا چاہتے ہیں اور لکھ نہیں پاتے، لیکن غیر ارادی طور پر الفاظ کا انبار لگا ڈالتے ہیں۔
ہر اس وقت جب آپ اپنی تسکین کی خاطر لکھنا شروع کریں اور لکھنے بعد تسکین حاصل نہیں ہوتی۔
ہر اس وقت جب اپنی ہر پچھلی تحریر کو جلانا چاہتے ہوں لیکن جلا نہیں پاتے۔

آپ لکھاری ہیں ۔۔۔ کیونکہ آپ یہ کبھی نہیں جان سکتے کہ لکھاری بننے کے لیے کیا کرنا ضروری ہوتا ہے۔

(351 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں