آگہی کا خلا اور خدا

آگہی میں اک خلا موجود ہے
اس کا مطلب ہے خدا موجود ہے

آگہی کا خلا۔ اور اس خلا کا خدا۔
کسی نے کہا گاڈ نہیں بلکہ گاڈ آف دا گیپس (God of the gaps) ہے۔
خدا نہیں ہے۔
بلکہ علم کی درماندگی ہے۔ عجز ہے جو خدا کو قبول کرواتا ہے۔
میں کہتا ہوں ہاں ہے۔
گاڈ نہیں بلکہ گاڈ آف دا گیپس ہے۔  خدا نہیں ہے۔ آگہی کا خلا ہے
پھر کیا؟؟
وہ کہتا ہے یہ گیپس ختم ہوتے جائیں گے اور خدا کا وجود سمٹتا جائے گا۔
پھر کیسے خدا کا اثبات کروگے؟
میں نے کہا اس کی دلیل دو کہ یہ خلا بھر جائیں گے؟
بھرنے والا کون ہوگا؟
اس بات کو کون ثابت کرے گا کہ علم محدود ہے یا لامحدود؟
جواب ندارد۔۔۔
اگر لامحدود ہے تو بات ہی ختم۔
لیکن اگر محدود ہے تو اس کا طول و عرض کتنا ہے؟
کیا مادہ اتنی زندگی یا استطاعت رکھتا ہے کہ اس طول و عرض کو سر کرسکے؟
اگر نہیں رکھتا تو پھر یہ گاڈ آف دا گیپس کا جھانسہ چہ معنی؟
جواب ندارد۔۔۔
پھر یہ کس نے، کیسے اور کب طے کیا کہ آگہی کا کوئی خلا "بھر" بھی جاتا ہے؟
تو میاں!!
کوئی طریقہ بھی ہے کائنات کی حتمی توجیہہ کا جس سے یہ گاڈ آف دا گیپس کا قصہ تمام ہوجائے؟
فائنل تھیوری؟
فائنل تھیوری کیا ہے؟
توہم؟
ڈوگما۔۔۔
یا پھر ایک سائنسی بُت؟
کیا کہوں اسے؟
ایک ایسی "تھیوری کا ہائپوتھیسس" جس کا وجود بھی متنازع ہے۔
فائنل تھیوری ہوتی کیا ہے؟ اور یہ کائنات کی حتمی تشریح کیسے کرے گی؟
خاموشی۔۔۔۔
چلو میں بتا دیتا ہوں۔
ایک کمرہ۔ گھپ اندھیرا۔ ہزاروں کتابوں کے لاکھوں صفحات بکھرے ہوئے۔ ایک ایل ای ڈی ٹارچ۔ جس سے ہر ہر صفحے کو باری باری دیکھا جائے اور ہر صفحہ کی دو عبارات سے اس ٹارچ کی روشنی آگے نہیں جاتی۔ یہ موجودہ سائنس ہے۔ ہر صفحہ ایک الگ کہانی سنا رہا ہے۔ اور کسی بھی صفحہ کو ایک وقت میں مکمل نہیں دیکھا جارہا۔ کیونکہ نئے صفحے کے لیے نئی تھیوری کی ضرورت ہے۔ نئی روشنی چاہیے۔
فائنل تھیوری کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ ایک عد چھت کا بڑا بلب۔ جس سے ایک وقت میں سارے صفحات پر بیک وقت روشنی پڑسکے۔ اور دوسرا بیرونی ذریعے سے کرنٹ کا مخرج۔
اب بیرونی کرنٹ کے حصول کا کوئی راستہ موجود نہیں۔ سب کا سب اندرونی ہے۔ داخلی ہے۔ موضوعی ہے۔ پھر بلب جلے گا کیسے؟
جواب ندارد۔
تو پھر اس گاڈ آف دا گیپس کا کیا ہوگا؟
یہ گیپس کیسے ختم ہونگے؟
کہنے لگا پتہ نہیں۔
میں نے کہا مجھے پتہ ہے۔
یہ گیپس کبھی ختم نہیں ہونگے۔
آگہی میں یہ اک خلا ہمیشہ موجود رہے گا۔
یہ کبھی نہیں بھرے گا۔
بھر سکتا ہی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آرزو کا پُتلا - سالگرہ کے موقع پر

(163 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. Rehan Qamar says:

    Make sens!!!
    Jazak Allah Khair

  2. usama says:

    limits of knowledge "Godel theorem of incompleteness". We can never approach to final theory. #Kurt Godel smiled

تبصرہ کریں