ابلاغ، نقد و نظر اور الہام

(ایک "مبہم شعر" پر ایک عزیز اور اس ناقص کا مکالمہ)

ہم نے عرض کیا:
مجھے تو نہ شعر سمجھ میں آیا ہے نہ شاعر کی طرف سے فراہم کردہ تشریح۔
اگر ایک مبتدی یا اوسط درجے کا شاعر کوئی ایسا شعر کہتا ہے کہ ایک "اوسط قاری" کے دل میں اس کا مفہوم پڑھتے ہی نہ اتر جائے تو میرے خیال میں یہ شعر کا حسن نہیں بلکہ انتہائی قبیح بات ہے۔ ابلاغ کما حقہ ہو، اس بات کا سب سے زیادہ خیال چاہیے۔

وہ فرمانے لگے:
دیکھئے کسی بھی تخلیق کار کو قاری یہ گائیڈ لائن نہیں دے سکتا کہ وہ کیا لکھے اور کیسا لکھے. جناب عاصم بخشی صاحب (Aasem Bakhshi) کیا خوب کہ گئے کہ آپ پہیلیوں کی کتاب بھی لکھ سکتے ہیں جسے سمجھنے والے صرف پانچ افراد ہوں. اور ایسا ہوچکا ہے. لکھنے والا اس بات کا مکلف نہیں ہے کہ وہ اس انداز میں لکھے کہ ہر قاری اس کی بات سمجھ سکے. اس کے ذمے لکھنا بھی نہیں ہے نا ہی سچا ادیب ذمہ داری سمجھ کر کچھ لکھتا ہے. بس الہام ہوتا ہے دل پر آیتیں اترتی ہے اور تخلیق کار اس الہام کو کاغذ پر منتقل کرکے قاری کے فہم پر چھوڑ دیتا ہے. یہ ذمہ داری قاری کی ہے کہ وہ اس سے کیا مفہوم اخذ کرتا ہے. یہ صرف حوصلہ شکنی ہے کہ نیا شاعر، نیا ادیب صرف آسان لکھے. بلکہ ہر ایک صرف وہی لکھے جو اس پر القاء ہوتا ہے. تکلف نہ برتے

ہم نے عرض کیا:
میرے نزدیک آپ دو باتوں کا خلط کررہے ہیں۔ جو بات عاصم صاحب نے کہی کہ آپ پہیلیوں کی کتاب بھی لکھ سکتے ہیں جسے چار پانچ ہی افراد سمجھنے والے ہوں۔ یہ بات بالکل درست ہے۔ متفق ہوں۔ لیکن اس سے یہ استدلال کہ آپ ہر "صنفِ ادب" میں اپنے اختیارات اور تصرفات کے گھوڑے دوڑا سکتے ہیں، یہ استدلال قطعاً درست نہیں۔ ادب کی تاریخ ہی یہ نہیں ہے۔ جب کسی تخلیق کو "ادبی تصنیف" منوانا ہوتا ہے تو اسے چند کسوٹیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور تصرفات کے لیے ایک دو سال کی ریاضت یا اوسط درجے کی تخلیقی قابلیت کافی نہیں ہوتی۔ یہ بات درست ہے کہ ادب کے نقد و نظر کے قوانین کوئی ریاضی کی طرح سخت گیر نہیں ہیں۔ لیکن یہ ایسے کھلے ہوئے بھی نہیں ہیں کہ "مہملات" کے حامل یا متحمل ہوسکیں۔
ابلاغ کے حوالے سے کسی نے کہا تھا:
وَإِنّ اَحسَنَ بَیْتٍ انت قائلہٗ
بَیْتٌ یُقال اذا انْشَد تَّہٗ صَدَقا
اور پھر یہ الہام والی بات صرف القا ہونے پر ہی موقوف نہیں ہے۔ اس کے لیے ایک طویل نفسیات کا ماضی کارفرما ہوتا ہے جو کسی بھی شخص کے علم کے موجودہ سرمائے کی بدولت الفاظ میں ڈھلتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو امیر مینائی کبھی یہ نہ کہتا کہ:

یہ بھی پڑھیں:   منطقی محال (Paradox)

خشک سیروں تنِ شاعر کا لہو ہوتا ہے
تب کہیں آتی ہے اک مصرعِ تر کی صورت

یا اقبال یہ نہ کہتا نظر آتا کہ:

صد نالۂ شب گیرے، صد صبحِ بلا خیزے
صد آہِ شرر ریزے، یک شعرِ دل آویزے

میں عرض یہ کر رہا تھا کہ کسی ادبی تصنیف کے لیے ضروری ہے کہ وہ ادب کے مجموعی تاثر کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہو۔ اس کے لیے خود ادب کا مطالعہ یا صاحبِ ادب کی رائے ضروری ہے۔ ورنہ آپ ادب سے کوئی خاطر خواہ "معنی" نہیں کشید کرسکیں گے۔
دیکھیے حکایت کی بہت سی اصناف ہیں۔ لیکن ہر حکایت کو ادبی صنف نہیں مانا جاتا۔ شعر میں جس صنف سے یہ کام لیا جاتا ہے اسے مثنوی کہتے ہیں۔ لیکن ہر شعری حکایت مثنوی بھی نہیں ہوتی۔ صرف چند اصولوں سے بات کہیں کی کہیں جا لگتی ہے۔
مولانا محمد منظور نعمانی نے "تصوف کیا ہے؟" میں اپنی کہانی لکھی ہے۔ لیکن آپ اسے ایک "ادبی تصنیف" تصور نہیں کرسکتے۔ اسی طرح اشعار کا بھی معاملہ ہے۔ اگر صرف الہام پر ادبی تصنیف کا دار و مدار ہوتا تو ادبی میدانوں میں نثری نظم اور آزاد نظم کی بحث کیا معنی رکھتی؟ کیا الہام عروض کا پابند ہے؟ اگر پابند ہے تو اس کے لیے کسی مضبوط دلیل کی ضرورت ہوگی۔ اور پابند نہیں ہے تو تخیل کی ہر چال، چاہے وہ کتنی ہی بھونڈی ہو، اسے آپ نے بطور صنف ماننا پڑے گا کیونکہ "الہام" کو آپ معیار مان چکے ہیں۔ لیکن بہت واضح بات ہے کہ ایسا ہوتا نہیں ہے۔ ہوتا در اصل یوں ہے کہ آپ کے الہام کو بھی عروض، نقد، معنی و مفاہیم، بدائع و صنائع کے ایک طویل سلسلے سے گزرنا پڑتا ہے۔ تب جا کر آپ کے تخیل کے اظہار کا کوئی مقصد بر آمد ہوتا ہے جسے "ادب" کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   فکرِ این و آں نے جب مجھ کو پریشاں کردیا

وہ فرمانے لگے:
عروض کی بنیاد اسی الہام پر رکھی گئی ہے نا کہ الہام کیلیے پہلے سے عروض کا جہاں آباد تھا. اس لئے الہام بہر حال مقدم ہے.جب تک آپ ان ہی عروض اور قواعد فن کے اندر رہتے ہوئے کسی کلام کو جواز دے سکتے ہیں آپ کو دینا چاہیے

عرض کیا:
حضورِ والا! الہام ایک الگ چیز ہے اور عروض ایک مختلف چیز ہے۔ علمِ عروض کا وجود اس لیے آیا ہے تاکہ "الہام" کی غلطیوں کو سدھارا جاسکے۔ آہنگ موسیقیت کے ذوق سے وجود میں آتا ہے۔ اور عروض نے اسی "ذوق" کی سلامتی کے لیے قوانین بنائے ہیں تاکہ ذوق کا ایک پیمانہ متعین ہوسکے اور الہام کی غیر معتبر خامہ فرسائیوں کو قرار آجائے۔ یہی کام نقد و نظر، ادبی تنقید اور اصلاحِ سخن میں بھی ہوتا ہے۔
اگر ایک موزوں طبع شخص بحر رجز اور بحرِ رمل کو خلط ملط کر جاتا ہے اور اس پر زبردستی کرتا ہے کہ یہ الہام کا معاملہ ہے تو میرے نزدیک وہ نادان ہے۔ کیونکہ الہام کی جانچ پڑتال کے لیے انہی قوانین کی ضرورت ہے جو صدیوں کی ادبی تاریخ نے کسی خاص صنف کو اس صنف کی حدود میں رکھنے کی خاطر متعین کیے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   ننگا مصافحہ

(46 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں