ابھی تو میں جوان ہوں!

اجی کون تسلیم کرتا ہے کہ اسکی زندگانی کی گھڑیاں کم سے کم ہوتی چلی جا رہی ہیں اور وقت آخر قریب آتا چلا جا رہا ہے معاملہ تو یہ ہے کہ چاہے وہ بوڑھا ہو کہ جوان مرد ہو کہ عورت ہر دل کی ایک ہی صدا ہوتی ہے۔

بھلا میں چھوڑ دوں یہیں
ہے موت اس قدر قریں
مجھے نہ آئے گا یقیں

نہیں نہیں ابھی نہیں
ابھی تو میں جوان ہوں

بر صغیر پاک و ہند کی دو بڑی بیماریوں میں سے ایک بیماری عمر کا غم اور دوسری بیماری نسل کا غم ہے ایک وہ زمانہ تھا کہ جب ہم یہ سمجھنے لگے تھے کہ شاید پچھلی صدیوں میں تمام سادات صوبہ بہار میں نقل مکانی کر گئے تھے اور اسی دور میں ہم پر یہ انکشاف بھی ہوا کہ قریش کے بارہ قبیلے نہیں تھے بلکہ ایک قبیلہ اور بھی تھا کہ جو بلد عرب سے گمشدہ ہوکر سرزمین ہند میں آباد ہو گیا اس قبیلے کا اصل نام ”بنو قصاب“ تھا آج لوگ اسے قریشی اور فصیح اردو میں ”کریسی“ کہتے ہیں۔

اجی چھوڑیے اس نسلی احساس کمتری کا تذکرہ کہاں سے آ گیا ہم تو گفتگو فرما رہے تھے زندگانی کی گھڑیوں کی چوری کی۔

کہتے ہیں عورت سے اسکی عمر اور مرد سے اس کی تنخواہ پوچھنا بد اخلاقی ہے اور ہم اکثر اس بد اخلاقی سے بچتے ہیں کیونکہ اس کے بعد اگلے کے اخلاق خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

دھچکا آپ کو اس وقت لگتا ہے کہ جب بچپن کے ساتھ کھیلے ہوئے آپ کا تعارف کسی دوسرے سے یہ کہ کر کروائیں۔

اجی ہم تو ان کی گودوں میں کھیلے ہوئے ہیں۔

جھوٹ بولنے والے پر خدا کی لعنت۔

یہ بھی پڑھیں:   جیری سپرنگر کلچر اور ہمارا میڈیا

ایک روز ایک مدقوق سفید ریش بابے نے انتہائی تیقن کے ساتھ ہمیں انکل کہ کر پکارا تو ہم گھر آ کر دیر تک آئنے میں اپنی صورت دیکھتے رہے اور سوچتے رہے کہ:

” آئینہ جھوٹ بولتا ہے یا پھر ہماری آنکھیں اندھی ہو چکی ہیں۔“

گزشتہ شب جب ہمارے ایک دوست شاہد میاں فرمانے لگے کہ میاں میں تو تمہیں بچپن سے دیکھ رہا ہوں تو ہم نے آگے سے پوچھ لیا ”ہمارے بچپن سے یا تمھارے بچپن سے؟“ تو وہ ہتھے سے اکھڑ گئے اور بچپن کے تعلقات کے حوالے سے کچھ ایسے انکشافات فرمانے لگے کہ ہمیں اپنی دوستی اور انکی اخلاقیات دونوں ہی مشکوک دکھائی دینے لگیں۔

وہ تو میں سگریٹ کا عادی ہو گیا ہوں وگرنہ میری عمر ہی کیا ہے۔
اجی مجھے تو فکروں نے بوڑھا کر دیا۔
میں بچپن ہی سے بھری دوپہر میں آوارہ پھرنے کا عادی تھا۔
میرے بال تو نزلے کی وجہ سے سفید ہوئے ہیں۔

کچھ لوگ تو ایسے بھی ہیں کہ اپنا شناختی کارڈ اپنے بچوں کی بلوغت کے وقت بنواتے ہیں اور پھر اپنی کم عمری پر اتراتے ہیں۔

عجیب بات ہے کہ ہم اپنے بہت سے دوستوں اور خاندانی ہم عصروں سے عمر میں بہت آگے نکل گئے جبکہ بڑے بتلاتے ہیں تم تو ساتھ کے ہو۔۔۔

ہاں شاید ہم کسی اور عصر میں زندہ ہیں اور وہ کسی اور زمانے میں جی رہے ہیں۔

یہ معاملہ تو ایسا معاملہ ہے کہ ابو الاثر حفیظ جالندھری بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور

”ابھی تو میں جوان ہوں“

کہ ڈالی

نہ مے میں کچھ کمی رہے
قدح سے ہمدمی رہے
نشست یہ جمی رہے
یہی ہما ہمی رہے
وہ راگ چھیڑ مطربا
طرَب فزا، الَم رُبا
اثر صدائے ساز کا
جگر میں آگ دے لگا
ہر ایک لب پہ ہو صدا
نہ ہاتھ روک ساقیا

یہ بھی پڑھیں:   وحشی اسے کہو جسے وحشت غزل سے ہے:: بشیر بدر

پلائے جا پلائے جا

” ابھی تو میں جوان ہوں “

نجانے کس ظالم نے یہ نظم گواتے وقت ملکہ پکھراج کے ساتھ طاہرہ سید کو بٹھا دیا اور
وہ

” ابھی تو میں جوان ہوں“
” ابھی تو میں جوان ہوں “

کی تکرار کے باوجود قصہ پارینہ دکھائی دیتی رہیں۔

سنا ہے پچھلے زمانے میں وہ نوجوان خواتین کہ جو شادیاں ہونے سے رہ جاتیں اپنی عمر چھپا تیں اور وہ بابے کہ جو بہنیں بیاہتے بڑھاپے کی دہلیز تک جا پہنچتے اپنی زندگی کی گھڑیوں میں ڈنڈی مارتے۔۔

لیکن کیا کیجیے

ہر بو الہوس نے حسن پرستی شعار کی
اب آبروئے شیوہ اہل نظر گئی

فلمی اداکاروں کی عمر چوری تو کمال کی تھی کہ انکا کمال ہی اس میں تھا۔ بڑی بڑی عمروں کے بابے اور قبر میں پیر لٹکائے بیٹھی بیبیاں جس انداز میں سرسوں کے کھیتوں میں محو رقص ہوتے اجی اس کے کیا کہنے۔۔

عجیب شے ہیں آپ بھی
بھلا شباب و عاشقی
الگ ہوئے بھی ہیں کبھی
حسین جلوہ ریز ہوں
ادائیں فتنہ خیز ہوں
ہوائیں عطر بیز ہوں
تو شوق کیوں نہ تیز ہوں
نگار ہائے فتنہ گر
کوئی اِدھر کوئی اُدھر
ابھارتے ہوں عیش پر
تو کیا کرے کوئی بشر
چلو جی قصّہ مختصر
تمھارا نقطۂ نظر

درست ہے تو ہو مگر
” ابھی تو میں جوان ہوں “

عقل بڑی چالاک ہے اور ہمیشہ دل کو اپنا تابع کرنے کی کوششوں میں لگی رہتی ہے لیکن یہ وہ معاملہ ہے کہ جس میں عقل و دل کا باہمی اشتراک ہے بلکہ یوں کہیں کہ اس عمر چوری کے جرم میں دونوں شریک ہیں تو کچھ غلط بھی نہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   قرآن اور جدید سائنس کی پیش رفت

” دل ہے کہ مانتا نہیں“
اور
عقل چالاک ہے کہ بہانے تراشتی ہے

جاتی ہوئی جوانی سے ہر کوئی یہ کہتا دکھائی دیتا ہے۔

اے میری محبوب جوانی

آج جانے کی ضد نہ کرو
یونہی پہلو میں بیٹھی رہو

ہائے ! مر جائیں گے، ہم تو لُٹ جائیں گے
ایسی باتیں کیا نہ کرو

تم ہی سوچو ذرا کیوں نہ روکیں تمہیں
جان جاتی ہے جب اُٹھ کے جاتے ہو تم
تم کو اپنی قسم جانِ جاں

” بات اتنی میری مان لو“

مگر جناب جوانی تو دیوانی ہوتی ہے کہ کب کہاں کسی کی مانتی ہے
اور بڑھاپا کب آ جاتا ہے یہ کسے معلوم ہو پاتا ہے؟

آپ کچھ بھی کر لیجیے
ہیر کلر اور میکپ کی تہوں میں سچائی چھپائے نہ چھپے ہے۔
یہ شناختی کارڈ میں لکھوائی گئی جھوٹی عمر چہرے پر پڑی جھریوں کی چادر کو کیسے جھٹلائے گی؟

اجی جانے والی جوانی ان حیلوں بہانوں سے لوٹ کر نہیں آئے گی۔

اب تو بس ہر دوسری عورت کو آنٹی اور ہر دوسرے مرد کو انکل کہ کر دل بہلائیں
اور سانسوں کی مالا پر ” ابھی تو میں جوان ہوں“ کی تسبیح پڑھتے چلے جائیں۔

(127 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں