احساس کمتری

مشاہدوں اور تجربوں سے پتا چلا کہ ہمارے لوگوں میں سے 70 فیصد لوگ وہ ہیں جو احساس کمتری کا شکار ہیں۔
ان میں اکثریت پڑھے لکھے لوگوں کی ہے۔
مولوی انجینئیر ڈاکٹر تاجر سیاست دان وغیرہ وغیرہ۔

میں عرصہ دراز سے احساس کمتری پر لکھنے کا سوچ رہا تھا۔ چند ماہ قبل اسلام آباد کے سفر میں لکھنا شروع کیا تھا تقریباََ تیس شہروں میں جانا ہوا، دیکھتا رہا اور لکھتا رہا۔ یہ تحریر شاید میری سب سے زیادہ لمبے عرصے میں لکھی گئی تحریر ہے۔
میں آخری حد تک تو نہ پہنچ سکا۔ نہ ہی درج ذیل باتیں اس موضوع کو سمیٹ لینے کے قابل ہیں۔
یہ انتہائی طویل موضوع ہے۔ کسی ایک شہر ملک کا نہیں بلکہ دنیا میں بسنے والے ہر ہر شخص کا تعلق اس موضوع سے ہے۔

اس بات کو سب مانتے اور جانتے ہیں کہ ہمارا نصیب ہماری قسمت وہی ہے جو لکھ دی گئی، ملنا وہی ہے جو ربِّ کریم نے دینے کا فیصلہ کرلیا۔
یہ دستورِ دنیا ہے کہ کوئی تو اپنی زندگی کے دن انتہائی پرسکون گزارتا ہے۔ اور کوئی اُس پرسکون شخص کے سکون سے اپنا سکون برباد کرنے کہ درپہ ہے۔
احساسِ کمتری ایک ایسی خطرناک بیماری ہے جو لاحق ہوجائے تو انسان اپنے ہاتھوں سے اپنا خون کرتا کرتا بالآخر اپنے احساس، اپنی خوشیاں، اپنے جزبات، نظریات کو مار ڈالتا ہے۔
مزید پانے کی سوچ اسے اس قدر دربدر کرتی ہے کہ وہ پایا ہوا بھی کھوتا چلا جاتا ہے۔
اور جلد ہی وہ وقت آ پہنچتا ہے کہ نہ اسکے پیچھے کچھ رہتا ہے نا آگے روشنی کی کوئی کرن جگمگاتی نظر آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   روح کے زخم اور ان کا مداوا

سفر سے پہلے منزل کا تعین نہ کرنا ہمیں بے شمار الجھنوں کا شکار کرتا ہے۔ انہیں الجھنوں میں کتابِ زندگی کے اوراق اتنی تیزی سے پلٹتے ہیں کہ پتا ہی نہیں چلتا۔ ہوتا یہ ہے کہ ہم اب تک وہیں کھڑے ہوتے ہیں جہاں سے سفر شروع کیا تھا۔ لگتا یوں ہے کہ ہم آگے کی جانب بڑھ رہے ہیں مگر یہ صرف غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
یہ عجیب بات ہے کہ ہم سکون کے ہر راستے پر چلنا چاہتے ہیں مگر زادِ سفر میں کچھ نہیں۔
کامیابی تک نا پیسہ پہنچاتا ہے نا ہی شہرت۔
کامیابی تک پہنچنے کا ایک ہی زریعہ ہے۔ اور وہ ہے ایک اچھی اور مثبت سوچ۔ اور سوچ کا ساتھ ہمارا مضبوط ارادہ دیتا ہے۔
آپ کو اپنے خیالات نظریات و ذات میں اگر دوسروں کی نسبت فرق محسوس ہو تو اسکا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ ان سے کمتر ہیں۔ یا ان جیسی لیاقت و ذہانت نہیں رکھتے۔ ایسے خیالات کے پیدا ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ غیر محسوس طور پر اپنے ذہن کی گہرائیوں میں ایسے احساسِ جرم کی پرورش کرنے لگتے ہیں جو کبھی آپ سے سرزد ہی نہیں ہوا۔ اس طرزِ فکر کی جڑیں بچپن تک پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔ اگر والدین کا رویّہ کسی بچے کے بارے میں انتہا پسندانہ ہو تو بچے کے ”ذہن“ میں ازخود ایک مجرمانہ احساس پیدا ہوجاتا ہے۔
رفتہ رفتہ وہ اپنے جزبات کے برملا اظہار کی جرّأت کھو بیٹھتا ہے۔ اور اپنی ذات کے محدود خول میں سمٹ کر کُڑھنا شروع کردیتا ہے۔
عقل مند والدین اسکی نوبت نہیں آنے دیتے۔ بے شک اس سے آدمی کی شخصیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آئیڈیل شخصیت یا بُت سازی

یہ صورتحال خاصی تشویشناک ہے۔ لیکن یقین جانیے جس طرح آپکو پرانا لباس اتار پھینکنے میں کوئ تکلیف نہیں ہوتی ٹھیک اسی طرح اگر کوشش کریں تو پل بھر میں ذہن کی اس قید سے رہائی حاصل کر سکتے ہیں۔
جب بھی آپکے ذہن میں اپنی کمتری یا کم مائیگی کے خیالات ہوں تو انہیں فوراََ جھٹک دیں۔ اس مقصد کے لیے آپ کو اپنی پوری صلاحتیں بروئے کار لانی پڑیں گی۔ کیونکہ انسان جب بھی ان فاسد خیالات سے پیچھا چھڑانے کے لیے عملی قدم اٹھانے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی طرف سے مزاحمت شروع ہوجاتی ہے۔ یہ فاسد خیالات اپنے وجود کی بقاء کے لیے ایک خوفناک جنگ کا آغاز کر دیتے ہیں جس سے انسان کی شخصیت دو حصّوں میں بٹ جاتی ہے۔ جسم کا جو حصہ اب تک ان سے حظ حاصل کرتا رہا وہ انہیں نکال باہر کرنے پر امادہ نہیں ہوتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ خیالات و عادات میں کسی قسم کی نمایاں تبدیلی لانا ایک مضبوط دشمن سے اعلانِ جنگ کرنے کے مترادف ہے۔
لیکن ایک بار اگر انسان کو اپنی ذات کی صحیح قدر و قیمت اور اہمیت کا احساس ہوجائے تو پھر وہ اس مقابلے میں ایسا ڈٹتا ہے کہ کامیابی اسکے قدم چومتی رہ جاتی ہے۔
جتنے وقت میں ہم دوسروں کی کامیابی پر حیرت کرتے ہیں اس وقت میں ہم خود کو کامیاب کر سکتے ہیں۔
جتنا وقت ہم کسی اور کی خوشی کی وجہ کو تکنے میں صرف کرتے ہیں اتنے وقت میں ہم اپنی زندگی خوشگوار بنا سکتے ہیں۔
”کبھی دن بڑے ہوتے ہیں اور کبھی راتیں“
اگر ہم مزید کچھ پا نہیں سکتے تو جو ہے کم از کم اسے تو بچا سکتے ہیں۔
مثبت سوچ اور ارادوں کی مضبوطی کامیابی کے راستوں سے ہمکنار کرواتی ہے۔ اور یہی ہمیں زندگی کے سکون سے ملواتی ہے۔
اور ہاں۔
کامیابی ہمیشہ ناکامیوں کے بعد آتی ہے۔ فاتح وہی ٹہرتا ہے جو ”ہار“ کو مان لینے کا حوصلہ رکھتا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم جنسیت (Homosexuality)

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

تحریر: محمد عرفان السعید

(368 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں