احیائے امت - ماضی ، حال اور مستقبل

نبی اکرم ﷺ کا عہد تاریخ کا سنہری ترین دور تھا۔ اس وقت اسلامی معاشرہ اپنی معراج پر تھا۔ اللہ کے رسول ﷺ بنفس نفیس موجود تھے۔ یہ دور اب کبھی واپس نہیں آئے گا۔ اس کے بعد خلافت علیٰ منہاج النبوة یعنی خلفائے راشدین کا زمانہ آتا ہے جس میں اسلام اپنی پوری قوت کے ساتھ پوری دنیا میں پھیل گیا۔ ان دو بابرکت ادوار کے بعد مسلم امت میں اسلامی خصوصیات رفتہ رفتہ زوال پذیر ہونا شروع ہو گئیں۔ لیکن یہ کمی اچانک اور فوری نہیں تھی بلکہ اس زوال میں بھی صدیاں لگ گئیں۔پہلی دس صدیاں تو بہت کوتاہیوں کے باوجود شان و شوکت برقرار رہی۔ اس کے بعد زوال آتا گیا۔ حتیٰ کے بیسویں صدی عیسوی میں خلافت کی مرکزیت بھی جاتی رہی اور یوں ”سقوطِ امت“ کا سانحہ ہوا۔ ابھرتی ہوئی عالمی استعماری طاقتوں نے امت کے ٹکڑے ہڑپ کرنے شروع کر دیے۔ اور پوری امت مسلمہ پر ظلم و ستم کا ایک دردناک دور شروع ہو گیا۔ پسپائی کے اس دور میں امت کے چند سپوتوں نے اپنے اپنے طور پر مزاحمت کی لیکن مرکزیت نہ ہونے کی وجہ سے یہ کوششیں بارآور نہ ہو سکیں۔
اسلام چونکہ مغلوبیت کا قائل ہی نہیں ۔ اس لیے گرتے ہی اٹھ کھڑے ہونے کی جدوجہد شروع ہو گئی۔ ویسے تو ہر دور میں مسلم مفکرین موجود رہے جنہوں نے اسلام کے خوبصورت چہرے سے گرد و غبار صاف کیا لیکن انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی میں امت مسلمہ میں خصوصیت سے دو طرز کے قائد پیدا ہوئے۔ ایک وہ جنہوں نے استعمار سے آزادی کے لیے جدوجہد کی اور دوسرے وہ جنہوں نے امت کو دوبارہ دین کی اصل بنیادوں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ پہلی قسم کے قائدین نے آزادی کے لیے جدوجہد کی ۔ ان تحریکوں کی اکثریت کامیابی سے ہمکنار ہو چکی ہے۔ صرف چند جگہوں پر ابھی تک استعماری قبضہ باقی ہے۔ اس دوران احیائے دین کی تحریکیں پُرامن طور پر آگے بڑھتی رہیں۔ ان میں دیوبند، جماعت اسلامی ، اخوان المسلمون اور ان کی فکر سے پھوٹنے والی دنیا بھر کی تحریکیں نمایاں ہیں۔
ان تمام قسم کی تحریکوں کو شروع ہی سے دو محاذوں پر سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اول مسلمان ممالک کی حکومتیں ، دوم عالمی استعمار جو احیائے اسلام کی صورت میں اپنا مستقبل تاریک دیکھ رہا تھا۔ ان دونوں کو اسلام کا احیاء بطور نظام کسی صورت گوارہ نہ تھا۔ لہٰذا ان دو محاذوں پر کشمکش جاری ہو گئی۔اسلامی تحریکوں کے مقاصد ایک ہونے کے باوجود طریق کار میں اختلاف موجود تھا۔ جو کہ ایک فطری امر بھی ہے کہ کوئی مرکزی جماعت موجود نہیں جسے الجماعت کہا جا سکے۔انفرادی کوششوں اور تنظیموں میں اختلاف تو لازمی ہو گا۔ ان مکاتب فکر میں دو طریق ہائے کار نمایاں ہیں۔ اول تبدیلی بذریعہ مسلح جدوجہد ، دوم تبدیلی بذریعہ انتخابات۔دونوں گروہوں نے اپنے طور پر تجربے کیے۔ انتخابی طریقے سے الجزائر ، فلسطین اور مصر میں اسلام پسند آگے آئے اور مسلح جدوجہد سے افغانستان میں۔ لیکن دونوں کا نتیجہ ایک ہی ہوا کہ عالم کفر بالواسطہ یا بلاواسطہ ان اسلام پسندوں پر پَل پڑا اور ان کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ یہاں احیائے امت کے علمبردار بھی دو واضح بلاکس میں بٹ گئے۔ ایک گروہ ظلم سہتا رہا لیکن انتخابی طریق کار کو نہ چھوڑا۔ اور دوسرے کا یقین تبدیلی بذریعہ مسلح جدوجہد پر زیادہ مضبوط ہو گیا۔ کشمکش میں شدت آنے سے عام مسلم نوجوان بیدار ہو ا ہے اور دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا شروع کر دیاہے۔ بعض مقامات پر دونوں طرز کی تحریکیں ایک دوسرے کے مد مقابل آ کھڑی ہوئی ہیں۔ اس افسوسناک صورت حال سے اندیشہ ہے کہ کہیں دونوں کی منزل کھوٹی نہ ہو جائے۔
جہادی گروہ بھی غلطی سے پاک نہیں۔ ان میں بھی بہت سی خرابیاں موجود ہیں۔ اور انتخابی گروہ نے بھی قابل قبول بننے کے لیے بہت سی باتوں پر کمپرومائز کر لیا ہے۔ لیکن عالم کفر اسلام سے توبہ سے کم پر کسی صورت راضی نہیں۔ وہ تقسیم کرکے گرانا چاہتا ہے۔ وہ پہلے تو اسلامی تحریکوں کے کارکنان کو عام مسلمان سے متنفر کر رہا ہے۔ پھر عسکری تنظیموں کو مسلم افواج سے لڑاناچاہتاہے۔اور آخر میں اسلامی تحریکوں کو انتخابی ، انقلابی، جہادی اور شدت پسندی کے نام پر آپس میں لڑوانا چاہتا ہے۔ اور اگر ہر سطح کے مسلم قائدین نے اس پر توجہ نہ دی تو عین ممکن ہے کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب بھی ہو جائیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں گروہ اپنی اپنی غلطیوں پر نظر ثانی کریں۔ ایک دوسرے کی مخالفت کی بجائے عالم کفر کے مقابلے میں متحد رہیں۔ لیکن مسلم معاشرے میں محتاط ہو کر کام کریں۔ انتخابی گروہ صرف جمہوریت ہی کی رٹ نہ لگائے بلکہ افراد کی تعلیم و تربیت اور اسلامی کردار سازی پر توجہ دے۔ اور عالمی کفریہ طاقتوں کے مقابلے میں برسرپیکار مجاہدین کی پشتیبانی کرے۔ اور جہادی گروہ مسلمان ممالک کے اندر دعوت ہی کو بطور ہتھیار استعمال کریں۔ ریاستی اداروں کے جبر پر صبر و حکمت سے آگے بڑھیں۔ رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کریں۔ اپنوں کے نشتر برداشت کرکے آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کریں۔ اتفاق و اتحادِ امت کو ترجیح اول رکھیں۔مسلکی اور طریق کار کے اختلاف کو برداشت کرتے ہوئے علمی انداز میں مسائل کو حل کریں۔ انشاءاللہ مستقبل اسلام ہی کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ٹھگ بھائیوں سے گزارش

(72 مرتبہ دیکھا گیا)

یاسر غنی

یاسر غنی

یاسر غنی صاحب سائنس کے شعبے نباتیات میں ماسٹرز ہیں۔ فی الحال ایک کالج کے پرنسپل ہیں اشاعت و بلاغت میں سر گرم ہونے کے ساتھ مطالعے کو اپنا مشغلہ رکھتے ہیں۔ اور لوکل اخبارات میں "نشانِ منزل" کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں