ادب اور دیواریں

ادب انسانی جمالیات، انفعالیات ، مشاہدات، مدرکات اور محسوسات کا وہ لطیف پیرایہ اظہار ہے۔ جس میں مکان و زمان کے تمام رنگ متشکل ہوجاتے ہیں۔ اور آئندہ عہد کے لئے محفوظ ہوجاتے ہیں۔
ادیب جو اپنے خارج میں دیکھتا ہے۔ جو اس کے گردوپیش بکھرا ہوا ہے۔ان تمام ذائقوں کو محسوس کرتا ہے۔
وہ حقارت کو محسوس کرتا ہے اور صرف محسوس نہیں کرتا بلکہ اپنی باطنی دنیا میں حقارت کو ایک مجسم پیکر میں ڈھالتا ہے۔ اور پھر نفرت کے تمام اظہارئیے اور بیانئے اس پیکر کے گرد لپیٹ لیتا ہے۔
ادیب کسی بہن کا اپنے بھائی کے لئے محبت کا جذبہ دیکھتا ہے اور اپنے من کی گُپھا میں اسے ایک نور کے دیوتا کی حسی شکل میں ڈھال کے اس کے چرنوں میں عقیدت کے ہمہ رنگ پھول مہیا کرتا ہے۔
ادیب کے احساس میں شدت ہوتی ہے۔ وہ ایک عام انسان کے دیکھنے سے زیادہ دیکھتا ہے۔ وہ سننے سے زیادہ سنتا ہے۔ وہ چھونے سے زیادہ چھوتا ہے۔ دراصل اشیاء ہوں، روئیے ہوں، تخیل ہو، حرکت و جمود ہو کسی بھی امر کو ایک ادیب، غیر ادیب کی نسبت زیادہ گہرائی سے جانچتا ہے۔ زیادہ گیرائی سے پرکھتا ہے۔ وہ لمحے میں سال جیتا ہے اور قطرے میں سمندر پنہاں دیکھتا ہے۔
ادب کسی بھی قوم کے ثقافتی ورثے کیلئے فصیل کا کام دیتا ہے۔ کسی معاشرے سے اس کی سوچ چھیننی ہے۔ اس کی تہذیب چھیننی ہے۔ اس کو غلام بنانا ہے۔ زیرِ نگیں بنانا ہے۔ اس قوم سے اس کا ادب چھین لو۔ اس کی کتابیں اور اس کا تہذیبی ورثہ چھین لو۔ وہ قوم اقدار سے عاری افراد کا مجموعہ بن جائے گی۔

یہ تحریر بھی دیکھیں  icon-hand-o-left آپ لکھاری ہیں

ادب معاشرے کے خیر و شر کو دو آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اور ادیب اس کو تمام حسی شدتوں سے محسوس کرتا ہے۔ ادب کو اس سے غرض نہیں کہ وہ کیا دیکھ رہا ہے۔ وہ ہر شے دیکھتا ہے۔ اور اس کو بیان کرتا ہے۔ اور ایسا بیان کرتا ہے کہ مشہود کا حسن و قبح مُصَوَّر ہوجاتا ہے۔ مجسم ہوجاتا ہے۔

ادب آوازیں سنتا ہے، جھرنے کی جھنکار سنتا ہے، خشک زمینوں کا تڑخنا سنتا ہے۔،ورقِ گل سے گرتے قطرے کی ٹپ ٹپ سنتا ہے۔ اور ان بے معنی آوازوں کو ایک ترتیب دیتا ہے، ایک لے بخشتا ہے، ایک سُر سے نوازتا ہے اور یوں موسیقی وجود میں آتی ہے۔
ادب چیونٹیوں کی قطار دیکھتا ہے ان کی حرکت کا ایک توازن دیکھتا ہے۔ ادب دیکھتا ہے کہ ہوا چلتی ہے تو پتے بھی ایک خاص ترتیب سے لہکتے ہیں۔ ادب حرکات اور سکنات کو ایک ردھم سے یکے بعد دیگرے ہوتا دیکھ کر زندگی کو وجود پذیر ہوتا دیکھتا ہے۔ وہ دل کی دھڑکن سے لے کر زلزلے تک کی ہر حرکت میں سکون کے مناسب اور معتدل وقفات دیکھ کر حرکات اور سکنات کی ایک مخصوص ترکیب تخلیق کرتا ہے۔ ہم جسے رقص کہتے ہیں۔
ادب دیکھتا ہے کہ کائنات کو تخلیق کرنے والا عظیم مصور ہے۔ وہ بادل کی ٹکڑیوں کو دیکھتا ہے کہ تصویریں بناتی ہیں۔ وہ مناظر اور ان مناظر کے دماغ پر اثرات دیکھتا ہی نہیں ہر احساس کو ہاتھوں سے چھوکر محسوس بھی کرتا ہے۔ وہ جو بھی دیکھتا ہے اس کو کہیں زیادہ شدت سے لوحِ سنگ پر منتقل کرتا ہے تو مجسمہ سازی کہلاتی ہے۔ لوح قرطاس پر منتقل کرتا ہے۔ تو مصوری کہلاتی ہے۔
یہی ادب محسوس کرتا ہے کہ جو میں کررہا ہوں وہ صرف ان کے لئے ہے جو حساس دل رکھتے ہیں۔ جو شعور رکھتے ہیں۔ جو اتنا فہم رکھتے ہیں کہ ان اظہاریوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ ادب سمجھتا ہے میں اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوا۔ مجھے اپنی تخلیقات اس سطح پر لانی ہوگی کہ ایک عام آدمی تک میرا پیغام پہنچ سکے۔ ایک عام آدمی اپنے معاشرے کا وہ رخ جان سکے جو میں نے دیکھا۔ اور جو میں نے محسوس کیا۔ وہ چاہتا ہے کہ ایک عام آدمی تک وہ سیاہ چہرہ اس کے سماج کا پہنچے جس نے کئی روپ سجا رکھے ہیں۔ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ وہ خوش نما حقائق جو میں نے دیکھے ہیں انہیں اور خوش نما کرکے عام فرد کے شعور تک پہنچاؤں۔
ادب جانتا ہے کہ موسیقی، مصوری، سنگتراشی اور رقص کا فہم ایک خاص سطح کا متقاضی ہوتا ہے۔ تب ادب اپنے پیغام کو ہر خاص و عام تک پہنچانے کے لئے ابلاغ کی ایک ایسی جہت تراشتا ہے۔ جسے ہر شخص سمجھ سکے۔ وہ عام آدمی کی سطح پر آکر اسی لفظ ومعاني کے مرکب کو ذریعہ ابلاغ بناتا ہے جس میں عام آدمی خود کلام کرتا ہے۔ ادب کی اس جہت کو ہم شاعری کا نام دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   شعر کے اجزا کیا ہیں؟

اس تمہید کے بعد آئیے جائزہ لیتے ہیں اس سوال کا کہ کیا ادب کو پابند کیا جاسکتا ہے؟
کیا ادب کی حدود متعین کی جاسکتی ہے؟
کیا ہم ادب سے یہ امید رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ ادب صرف وہی دیکھے جو ہم اسے دکھانا چاہتے ہیں؟
ادب وہی سوچے جو ہم سوچتے ہیں۔؟؟؟

یہ سوال تب اٹھتے ہیں۔ جب ہم اس بات سے ناآشنا ہوتے ہیں کہ ادب دراصل کسی معاشرے کا سب سے سچا آئینہ ہے۔ ادب وہی دکھائے گا جو وہ دیکھتا ہے۔ ادب وہی سوچے گا جو اس کے ارد گرد سماج اسے سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔
جب معاشرہ اپنا فرض پورا نہیں کرتا۔ جب دیوار کے اُس پار طیش میں آیا بچہ ہزاروں کے کھلونے توڑتا ہے اور دیوار کے اِس پار ایک بارہ سال کی بچی مٹی کے کھلونے بناکر چوک پر بیچنے جاتی ہے۔ جب اسی بچی کو اشاروں کنایوں میں سمجھایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خواتین کے حقوق اور سیاست

"تم نسوانی وجود رکھتی ہو۔ یہ جو تمہیں سینے میں درد ہورہا ہے۔ یہاں پہلے پُھنسیاں نکلے گی۔ پھر گلٹیاں بنے گی اور کچھ عرصہ بعد بڑی ہوگی۔ چھاتیاں بنے گی۔ اور مرد کے لئے کھیلنے کا ذریعہ بنے گی"

تب وہ بچی جو کھلونے بناتی تھی۔ وہ سوچتی ہے کہ کھلونے ضروری ہوتے ہیں۔ نہ ہوتے تو میرے بنائے گئے کھلونے کیوں خریدے جاتے؟
وہ سوچتی ہے مرد جیسا جیسا بڑا ہوتا جاتا ہے۔ وہ کھلونے بدلتا جاتا ہے۔ کل کو یہ مجھے بھی کھلونا بنائے گا۔ تو میں آج ہی کھلونا بن کر کیوں نا اپنی قیمت وصول کروں؟
یہی معاشرہ اس بچی کو بیسوا بناتا ہے۔ اور یہی فرشتے پھر اس بچی کو اپنے سماج میں رہنے کا حق نہیں دیتے۔
پھر قحبہ خانے بنتے ہیں
چکلے وجود میں آتے ہیں
عزتوں کے مول ہوتے ہیں
گھر اجڑتے ہیں
کہانیاں بنتی ہیں
تب۔ ادب تخلیق ہوتا ہے

جب ادب دیکھتا ہے کہ ایک چودہ سال کا بچہ بڑے صاحب کی کوٹھی میں کام کرتا ہے۔ اور بیگم صاحبہ اس بچے کو باہر کے کاموں سے زیادہ اندر کے کاموں پر لگاتی ہے۔ بیگم صاحبہ اسے بتاتی ہے،سمجھاتی ہے کہ دیکھو تم مرد ہو۔ اور میں عورت ہوں۔ آؤ تمہیں بتاؤں کہ زندگی کسے کہتے ہیں۔
تب منٹو پیدا ہوتا ہے۔ تب عصمت چغتائی جنم لیتی ہے۔ تب لحاف لکھے جاتے ہیں اور ٹھنڈا گوشت پڑھا جاتا ہے۔ ایسے میں ادب تمہارے خود ساختہ معیارات اور پیمانے دیکھ کر چیخ پڑتا ہے۔ وہ سماج کے اس بدبودار پہلو کو سب کے سامنے لاتا ہے۔ وہ چاہتا کہ یہ تعفن انگیز روئیے، یہ منافقتیں سب پر عیاں ہو
تب خدائے سخن میر بھی کہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عشق باقی رہا نہ ہم لوگو !

باہم ہوا کریں ہیں دن رات نیچے اوپر
یہ نرم شانے لونڈے ہیں مخملِ دو خوابا

-میر تقی میر

شیخ بے نفس کو نزلہ نہیں ہے ناک کی راہ
یہ ہے جریان منی دھات چلی جاتی ہے

-میر تقی میر

اور جب ادب یہ سب بیان کررہا ہوتا ہے۔ تو معاشرہ چیخ پڑتا ہے۔ سماج کہتا ہے یہ فرشتوں کے معاشرے میں بیان نہیں ہوسکتا۔
کون سے فرشتے؟
وہی فرشتے جنہوں نے بچی کو بیسوا بنا ڈالا؟
وہی فرشتے جنہوں نے بچے کو مرد بنا ڈالا؟
پھر پابندیاں لگتی ہیں۔
پھر دیواریں کھڑی ہوتی ہیں۔
پھر کہا جاتا ہے یہ ادب نہیں فحاشی ہے۔

متعلقہ تحریر    مرد کی حساسیت

ہاں یہ فحاشی ہے۔ تسلیم یہ عریانی ہے۔ لیکن یہ ادب کی تخلیق تو نہیں ہے نا؟ ادب نے تو فقط عکس دکھایا ہے۔ جو اس آئینے کے سامنے ہوگا۔ ادب اسی کو اپنے پانچوں پیرایوں (مجسمہ سازی، مصوری، موسیقی، رقص، شاعری) میں بیان کرے گا۔

اختتامیہ

ادب کو بدلنا ہے تو خود بدلو۔ ادب کوئی الہامی کتاب نہیں ہے۔ اس کے سوتے تمہارے معاشرے سے ہی پھوٹتے ہیں۔ ادب پر باوجود اس تہمت کہ یہ " مَالِ هَذَا الْكِتَابِ لا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً إِلاَّ أَحْصَاهَا" اسی ادب کو مقتدایانِ مذہب وملت نے بھی اپنے مکتوبات اور ملفوظات کا حصہ بنایا ہے۔ اور سرکار عالی مرتبت علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی نا صرف تحریص و ترغیب دی ہے بلکہ بسا اوقات یہ بھی ہوا کہ دربار نبوی میں مشاعرے کا سماں باندھا گیا ہے۔
اور ستم ظریفی دیکھئے۔ کہ آج کے مسلمان مذہبی معاشرہ کے غالی طبقے کا ایک گروہ ادب کو ہمیشہ بادہ ناب جانتا آیا ہے۔ اور ادب کی ہمہ اقسام کو خالص اسلامی فکر کیلئے سم قاتل سمجھتا آیا ہے۔ اسی فکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ

اے فقیہانِ وطن تم کو اجازت ہے کہ تم
ذوقِ مے نوشی بڑھے جس سے وہ برتن توڑدو
پھوڑ دو ان مست آنکھوں کے سرور انگیز جام
ان حسینوں کی صراحی دار گردن توڑ دو
دلاور فگار


شاد مردانوی

(176 مرتبہ دیکھا گیا)

شاد مردانوی

جنابِ شاد کے لیے اگر یہ کہا جائے کہ وہ چلتی پھرتی لغت ہیں تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ان کی اردو در اصل اردو نہیں بلکہ معرب و مفرس کسی ماورائے اردو شئے کی تارید کہی جاسکتی ہے۔ علم دوست ہونے کے ساتھ ساتھ منکسر المزاج بھی ہیں اور مطالعے کو اوڑھنا بچھونا رکھتے ہیں۔ ان کی ہنر کاری ان کی تحریروں سے عیاں ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. Ahmad Rizwan says:

    بہت عمدہ لکھا آپ نے ۔

تبصرہ کریں