اسلام کا روایتی بیانیہ یا پھر جدید جوابی بیانیہ ؟

اسلام کا روایتی بیانیہ یا پھر جدید جوابی بیانیہ ؟ کون سی فکر اسلام کی درست ترجمان ہے؟

اگر اس جوابی بیانیہ سے آپ کی مراد وہ فکری تحریک ہے جو آج رائج و مقبول روایتی اسلامی فکر کے مقابل ہر دوسرے مذہبی موضوع کو للکار رہی ہے، اسے نئی تشریح فراہم کررہی ہے تو پھر یہ کوئی آسان سوال نہیں ہے۔ اس کا جواب کسی ایک کے مکمل اثبات و انکار میں دینا علمی دیانت کے خلاف ہوگا. میں حد سے حد آپ کو وہ زاویہ نظر دے سکتا جس سے میں خود اس موجودہ فکری کشمکش کو دیکھ پاتا ہوں۔ مگر اس سے پیشتر آپ کو ایک سادہ علمی نظریہ سمجھنا ہوگا۔

مشہور جرمن فلسفی ہیگل کے فلسفہ سے ماخوز ایک نظریہ صاحبان دانش میں ہمیشہ معروف رہا ہے۔ اس نظریے کے کی رو سے انسانی فکر کا سفر تھیسس (thesis)، اینٹی تھیسس (antithesis) اور سینتھسس (synthesis) کے ذریعے اپنے شعوری مدارج طے کرتا آیا ہے۔ میں اسی فکر کو آج اپنے زاویہ نظر میں ڈھال کر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ آسان الفاظ میں کسی موضوع پر سب سے پہلے ایک تھیسس پیش کیا جاتا ہے، جس میں اس موضوع کا بہترین انداز میں بیان کیا گیا ہوتا ہے۔ اس بیانیہ (thesis) کو عقل عام و خاص قبول کرلیتے ہیں مگر جب ایک لمبا وقت اسے پیش کیے گزر جاتا ہے تو کچھ نئے وقتی تقاضے پیدا ہونے لگتے ہیں، کچھ اس فکر کی خامیاں نمایاں ہوتی ہیں، کچھ نئی تحقیقات سامنے آتی ہیں، کچھ نئے زاویے جنم لیتے ہیں۔ اب اس مقام پر ہونا تو یہ چاہیے کہ ان تازہ دریافتوں کا خیر مقدم کیا جائے مگر انسانی تاریخ گواہ ہے کہ اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ بلکہ اس روایتی بیانیہ سے افراد گہرے تقدس میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ وہ نہ صرف کسی نئی تحقیق کو قبول کرنے میں شدید تردد ظاہر کرتے ہیں بلکہ وہ سارا زور کسی ناقدانہ جدید سوچ کو کچلنے میں لگادیتے ہیں۔ اجتہاد کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور عقائد عقیدے کا لباس پہن لیتے ہیں۔ اس غیرفطری روک سے انسانوں میں ایک فکری بغاوت جنم لیتی ہے جو رستہ نہ پا کر اندر ہی اندر گھٹتی رہتی ہے مگر دم نہیں توڑتی بلکہ ہر گزرتا وقت اسے ایک خاموش طوفان بناتا رہتا ہے۔ بالآخر ایک وقت آتا ہے جب یہ بغاوت اس تھیسس (thesis) یعنی بیانیہ کے رد کی صورت میں برآمد ہوتی ہے۔ اسی رد کو اینٹی تھیسس (antithesis) کہا جاتا ہے۔ یہاں تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ چونکہ اس رد بیانیہ یعنی اینٹی تھیسس (antithesis) کو ایک زمانے تک زبردستی دبایا گیا ہوتا ہے لہٰذا اب اس کا ابھرنا ردعمل کی نفسیات کو ساتھ لیے ہوئے ہوتا ہے۔ جہاں روایتی بیانیہ یعنی تھیسس (thesis) فکری جمود اور عقیدت کی چادر اوڑھ لینے کے بعد ایک انتہا کی صورت اختیار کر چکا ہوتا ہے ، وہاں یہ جوابی بیانیہ (antithesis) یعنی اینٹی تھیسس اپنے آپ میں ایک دوسری انتہا لیے ہوئے آتا ہے اور اس کے داعی بھی اکثر نئے نتائج کی لاشعوری تقلید اپنالیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   وقت کا طلسم اور عبادات

اب اس تھیسس (thesis) اور اینٹی تھیسس (antithesis) یا بیانیہ اور جوابی بیانیہ کی فکری کشتی ہوتی ہے جو ایک لمبا عرصہ جاری رہتی ہے. اس گھمسان کی لڑائی میں بہت ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے جو نہ صرف فریقین کے لیے اذیت کا سبب بنتی ہے بلکہ دیکھنے والوں پر بھی تھرتھراہٹ طاری رکھتی ہے۔ یہ خاموش ناظرین بے چارے بہت ہی قابل رحم ہوتے ہیں۔ ہوا کے جھونکوں کی طرح کبھی یہ ایک جانب قلابازی کھاتے ہیں تو کبھی کسی دوسرے کے زور بیان سے اس کی طرف لڑھکتے جاتے ہیں۔ آغاز میں اینٹی تھیسس (antithesis) کو بظاہر زیادہ کامیابی ہوتی نظر آتی ہے۔ جس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ جیسے کچھ خاموش اقلیت روایتی بیانیہ (thesis) سے پہلے ہی ناراض بیٹھی ہوتی ہے۔ اس لیے وہ نئی فکر کا دل و جان سے خیر مقدم کرتی ہے۔ اسی طرح روایتی بیانیہ (thesis) کی خامیاں یا کچھ ناکامیاں جوابی بیانیہ (antithesis) پیش کرنے والے کے سامنے موجود ہوتی ہیں۔ جس کا وہ کھل کر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس جوابی بیانیہ (antithesis) کی اپنی خامیاں اور ناکامیاں ابھی وقت کے امتحان سے نہ گزرنے کے سبب سامنے نہیں آئی ہوتیں۔ لہٰذا فطری طور پر آغاز میں اینٹی تھیسس (antithesis) یا جوابی بیانیہ ایک انقلابی سوچ کے طور پر نمودار ہوتا ہے۔ مگر جب اس علمی تصادم میں کچھ وقت گزر جاتا ہے تو اب بیانیہ (thesis) کے ساتھ ساتھ جوابی بیانیہ (antithesis) کی خامیاں بھی کھل کے سامنے آنے لگتی ہیں۔ پہلی بار یہ حاملین کو سمجھ آتا ہے کہ پیش کردہ تنقید یا فکر کے کئی حصے جزوی یا کلی طور پر غلط ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کچھ اہل علم دونوں آراء میں تطبیق پیدا کرتے ہیں اور دونوں جانب کی مضبوط تر باتوں کو لے کر ایک مشترکہ بیانیہ پیش کردیتے ہیں۔ اسی مشترکہ بیانیہ کو سینتھیسس (synthesis) کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے. اب یہ سینتھیسس (synthesis) جو تھیسس (thesis) اور اینٹی تھیسس (antithesis) دونوں کا نچوڑ اور علمی اعتبار سے افضل ہوتا ہے، وقت گزرنے کے بعد پھر سے ایک نیا تھیسس (thesis) بن جاتا ہے. پھر کوئی اینٹی تھیسس (antithesis) پیش کرتا ہے۔ پھر جنگ ہوتی ہے۔ پھر سینتھیسس (synthesis) نکالا جاتا ہے اور یوں انسانی فکر کا ارتقاء جاری رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مایوسی چھوڑ دیجیے

عزیزان من! اس ساری تمہید و تفصیل کو بیان کرنے کا مقصد فقط اتنا ہے کہ آپ بالغ نظر ہوکر اسلام کی مذہبی فکری تشکیل نو کو نگاہ بصیرت سے دیکھ سکیں. علامہ اقبال رح نے اسی لیے اپنے خطبات پر مشتمل واحد کتاب کا نام 'اسلام میں مذہبی افکار کی تعمیر نو' رکھا تھا۔ آج ہم جس دور میں زندہ ہیں، وہاں یہ فکری تصادم اپنی جولانیوں پر نظر آرہا ہے۔ جو اپنے آپ میں ایک عامی کے لیے نہایت تکلیف دہ عمل ہے. مگر اس صورت سے مایوس ہرگز نہ ہوں۔ جان لیں کہ آپ دو انتہاؤں میں سفر کر رہے ہیں، آپ تھیسس (thesis) اور اینٹی تھیسس (antithesis) کے تصادم میں زندہ ہیں مگر ابھی سینتھیسس (synthesis) پیش ہونا ہے جو انشاللہ سراسر خیر کا پیش خیمہ ہوگا۔ جان لیں کہ آپ کا رب فرعون کے گھر میں آسیہ اور موسیٰ کو پروان چڑھاتا ہے۔ وہی ہے جو مردہ سے زندہ کو پیدا کرتا ہے اور شر سے بھی خیر کو برآمد کردیتا ہے۔ عقلمند وہ ہے جو دونوں فکری گروہوں کا غیر جانبداری سے جائزہ لیتا رہے۔ جو نہ روایتی فکر کو جہالت سمجھے اور نہ جدید فکر کو گالی دے۔ وقت کی کسوٹی جلد یا بدیر کھرے کو کھوٹے سے جدا کردے گی۔ روایتی بیانیہ سے منسلک دوستوں کو سمجھنا چاہیے کہ اگر جدید تشریحات فاسد ہیں تو جلد ہی انکار حدیث یا معتزلہ جیسے فلسفوں کی طرح دم توڑ دیں گی۔ آپ بس ان کے موقف کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیں اور اگر غلط پائیں تو دلیل سے ان کی غلطی ثابت کرتے رہیے۔ دوسری طرف جوابی بیانیہ سے منسلک احباب کو سمجھنا چاہیئے کہ جہاں آپ کو دلیل سے تنقید کی اجازت ہے، وہاں مختلف موضوعات پر مسلمانوں کی پوری علمی روایت کیلئے تحقیر کا لب و لہجہ اپنانا صریح ظلم ہے. ایک دوسرے کو عزت دینے کی اداکاری نہ کیجیے بلکہ فی الواقع عزت دیجیئے. مقابل نقطہ نظر کے لیے دل میں حقیقی محبت پیدا کیجیے کہ دونوں گروہوں کی نیت مبنی براخلاص ہے۔ اگر سامنے والے کی سمجھ میں غلطی ہوسکتی ہے تو پیغمبر آپ بھی نہیں ہیں۔ سمجھ کی غلطی آپ کو بھی ہوسکتی ہے۔ چنانچہ مدمقابل کی دلیل کو وسعت قلبی سے سنیں اور پھر شائستگی سے رد یا قبول کرلیں

یہ بھی پڑھیں:   نماز کی ادائیگی اور ہماری ترجیحات

(نوٹ: پوسٹ میں درج بیانیہ اور جوابی بیانیہ کی اصطلاحات کا استعمال صرف خلافت و جہاد تک محدود نہیں ہے بلکہ اس سے مراد قدیم و جدید تشریحات کا تصادم ہے)

(209 مرتبہ دیکھا گیا)

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمان عثمانی اپنے مزاج کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہیں۔ بڑے بڑے موضوعات کو دو جمع دو چار کرکے سمجھانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں سے فیضیاب ہوتے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

3 تبصرے

  1. waqas says:

    Masha Allah. Allah ap kay Ilm, Amal aur Khaloos main aur barqat day. Ap ki hr post hm talib ilmon kay liay boht say rahnumai kay pehlu rakhti hai. Mozoo ki tasheel ka bhi Allah nan ap ko khoob johar dia hai. Baat ko 2+2 ki darha wazay kr dia aur sidha dil main utar gai.

  2. Jehangir khan says:

    سادہ ترین انداز میں بہت دقیق مسائل کی تفہیم کوئی عظیم صاحب سے سیکھے۔۔۔۔بہت خوبصورت تحریر

  3. Muhammad Sajid says:

    Umda

تبصرہ کریں