اسمائے حسنی (منظوم)

٭٭٭ اسمائے حسنی نظم ٭٭٭

اللہ ، نور ، رحمٰن ، خالق ، غفور ، باعث
رافع ، شکور ، باقی ، خافض ، صبور ، وارث

اس کی ہے ذات یکتا ، اس کی صفات یکتا

قدوس ، حق ، مؤخِّر ، ارحم ، حمید ، واحد
قیّوم ، حی ، مصوِّر ، واجد ، مجید ، ماجد

اس کی ہے ذات یکتا ، اس کی صفات یکتا

ظاہر ، لطیف ، باطن ، اول ، مقدِّم ، آخر
مؤمن ، ولی ، مہیمن ، قابض ، قدیر ، قادر

اس کی ہے ذات یکتا ، اس کی صفات یکتا

متعالی و علی وہ ، والی ، غنیّ و مغنِی
متکبر و قوی وہ ، جبّار ، برّ و باری

اس کی ہے ذات یکتا ، اس کی صفات یکتا

وہ جلیل ہے ، مذِل ہے ، وہ منتقم ، وہ مانع
وہ وکیل ہے ، معِز ہے ، وہ مقتدر ، وہ جامع

اس کی ہے ذات یکتا ، اس کی صفات یکتا

وہ رحیم ہے ، حلیم اور ، رزّاق اور محصِی
وہ علیم ہے ، حکیم اور ، غفّار اور ہادِی

اس کی ہے ذات یکتا ، اس کی صفات یکتا

وہ بدیع ہے ، سمیع اور وہّاب ، عدْل ، واسع
وہ شہید ہے ، رشید اور توّاب ، ضار ، نافع

اس کی ہے ذات یکتا ، اس کی صفات یکتا

فتّاح ہے ، متین اور ملِک و ممیت و محیِی
قہّار ہے ، عزیز اور ، حکَم و معید و مُبدِی

اس کی ہے ذات یکتا ، اس کی صفات یکتا

وہ خبیر ہے ، بصیر اور ، وہ صمد ، ودود ، مقسط
وہ کریم ہے ، رقیب اور ، وہ عفو ، رؤف ، باسط

اس کی ہے ذات یکتا ، اس کی صفات یکتا

وہ عظیم ہے کبیر اور نام اک مجیب اس کا
وہ مقیت ہے ، حفیظ اور نام اک حسیب اس کا

اس کی ہے ذات یکتا ، اس کی صفات یکتا

ہر آن ، ہر جگہ عام ، اس کا جلال و اکرام
وہ سلام و مالكُ المُلك ، پیارے ہیں اس کے سب نام

اس کی ہے ذات یکتا ، اس کی صفات یکتا

شاعر: محمد اسامہ سَرسَریؔ

یہ بھی پڑھیں:   گردشِ دوراں کی چائے

(49 مرتبہ دیکھا گیا)

محمد اسامہ سرسری

محمد اسامہ سرسری مستند عالِمِ دین اور فقہِ اسلامی کے متخصص ہیں۔ اسامہ صاحب دینی تعلیمات کے ساتھ ادبی اور فنی سرگرمیوں کا بھی فعال حصہ ہیں۔ انتہائی محنتی اور معاون طبیعت رکھتے ہیں اور متعدد کتب کے مصنف بھی ہیں ، کتاب "آؤ شاعری سیکھیں" ان کی اب تک کی شہ کار تصنیف ہے جسے اندرون و بیرون ملک ہر جگہ خوب پذیرائی ملی ہے۔ سوشل نیٹ ورک پر سینکڑوں لوگوں کو ادب اور شاعری کی فنیات آسان انداز میں سبقاً سبقاً سکھاتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں