اعلیٰ ترین اخلاقی معیار کیا ہے ؟

سب سے بڑا اخلاقی معیار اور انسانی فریضہ یہی ہے کہ وہ برائی کے خلاف لڑے۔
لیکن مجھے نطشے کی یہ بات درست لگتی ہے کہ جب آپ برائی سے نبرد آزما ہوتے ہیں تو برائ خود آپ کے اندر بھی در کر آتی ہے۔ اس لئے مانسٹرز سے لڑتے ہوئے اس بات سے بچنا بھی پڑتا ہے کہ کہیں آپ خود ہی مانسٹر نہ بن جائیں۔
دوسری طرف برائی کے خلاف لڑنے کے لئے معلوم ہونا بھی ضروری ہے کہ برائی ہے کیا؟ اور یہ کیسے اور کن وجوہات کی بنا پر برائی ہے؟ اگر یہ نہیں معلوم ہو گا تو ڈان کیخوٹے کی طرح جو بڑی سی پَون چکی کو مانسٹر سمجھ کر نیزہ نکال کر اس سے لڑنے لگ جاتا ہے، برائی سے لڑنے والا جانے کس کس سے لڑنے لگے گا۔
ہمارے سبھی "مجاھدین"اور دیگر "دوست" جن میں ملحد اور لبرل اور سوشلسٹ اور کمیونسٹ بھی شامل ہیں "برائی" ہی سے لڑ رہے ہیں۔ اپنے اپنےطور پہ۔
لیکن برائی ہے کیا؟ ان سب کے نزدیک مختلف ہے۔ لال مسجد کی لڑکیاں بھی تو برائی ہی کے خلاف اسے مٹانے نکلی تھیں۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ برائی کے خلاف نہ لڑیں۔ ضرور لڑیں۔ لیکن یہ تو دیکھ لیں کہ کہیں آپ خود تو مانسٹر نہیں بن گئے؟
کیا آپ برائی کے خلاف لڑتے ہوئے خود مجسم برائی تو نہیں ہو گئے؟
ہم تو یہی مانتے ہیں۔ کہ برائی سے لڑنے کے لئے سب سے پہلے اسے جاننا ضروری ہے کہ برائی ہے کیا اور کن وجوھات کی بنا پر اسے برائی کہا جا رہا ہے؟
کیا یہ محض اس لئے برائی ہے کہ آپ کے پیشوا نے اسے بطور برائی کے بتا دیا ہے یا خود اس برائی میں ایسی وجہیں موجود ہیں، کہ ان کو بطور برائی کے مانا جائے؟
کیا کچھ ایسی کامن برائیاں موجود ہیں، کہ جن کو سب برائی کہتے ہیں؟
مثلاً جو قتال کا کرنے کو کہتے ہیں، کہ قتل انسانی کو برائی نہیں مانتے؟
کیا برائی اپنے اندر برائی بھی ہو سکتی ہے؟ جیسے ایسوپ کی فیبل میں اس چرواہے کے ساتھ ہوا تھا جو شیر آیا، شیر آیا کہتا تھا؟ (ویسے آج کل بھی ایسے بہت سے چرواہے موجود ہیں)۔
تو برائی کے متعلق کیسے جانا جائے؟
اور جان بھی لیا جائے تو ہم اس بات کے خلاف ہیں کہ آپ ڈنڈے، سوٹے یا بندوقیں نکال کر برائی کے خلاف لڑنے نکل کھڑے ہوں۔
یعنی ہمارے آپ سے صرف دو اختلاف ہیں۔ پہلا یہ کہ ہم کہتے ہیں کہ پہلے برائی کو برائی ثابت کیا جائے۔
اس کے لئے مطالعے کی، تعلیم کی، سٹڈی سرکلز کی اور ان سب سے بڑھ کر زبردست قسم کے بحث مباحثوں کی ضرورت ہے۔ جن سے برائی کو فی الذات برائی، یعنی اپنے اندر برائی ثابت کیا جائے اور اس کے لئے تمام موجود انسانی تعقل استعمال کیا جائے۔ اس کے لئے کوئی یہ دلیل کافی نہیں ہے کہ یہ فلاں نے کہا ہے یا فلاں کہتا ہے۔ اگر کسی نے کسی ایسی چیز کو برائی کہا ہے جو کہ آج بھی برائی ہے، اور واقعتاً وہ برائی ہی ہے، تو بحث مباحثے میں اسے برائی ثابت کرنے میں کیا دقت ہو سکتی ہے، کہ وہ "برائی" واقعی بری ہے؟
ہمارا دوسرا اختلاف یہ ہے کہ برائی کے خلاف لڑنا بے شک ضروری ہے۔ لیکن اکیلے نہیں۔ اس کے لئےچند لوگوں کا گروہ تیار کرنے کی بجائے اپنے ساتھ عوام کو جوڑا جائے۔ اور برائی کے خلاف ایک اجتماعی کوشش کی جائے۔ بے شک یہ ایک بے حد مشکل کام ہے۔ لیکن یہ بحثیں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہی یہ جنگ جیتنا ہے جس میں برائی کو شکست دی جا سکے۔
اور اس کے لئے ہم غلط کو غلط ثابت کرتے ہیں اور برائی کو بطور برائی بتاتے ہیں۔
ہمارے مخالفین کے ساتھ ہمارا ایک اور اختلاف بھی ہے۔
ہمارے ایک مخالفین وہ ہیں جو کسی پرانے کو بطور نظام لانا چاہتے ہیں۔ ان سے ہمارا اختلاف یہ ہے کہ پرانا کبھی واپس نہیں آتا۔ مثلاً اب غلام داری یا جاگیر داری کا آنا ناممکن ہے۔ اب سرمایہ داری ہی کا نظام ہے۔ دوسرے مخالفین وہ ہیں، جو موجود نظام کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم یہی کہتے ہیں کہ کسی نظام کو دوام نہیں ہے، جس طرح پچھلے نظام ختم ہوئے، اسی طرح اس کا خاتمہ بھی ہو گا۔
نظام صرف یہی تین گزرے ہیں۔ سوشلزم بطور نظام کے کبھی نہیں آیا۔ وضاحت یہ ہے کہ جس طرح ساری دنیا میں (تقریباً) غلامی رائج تھی، پھر جاگیر داری رہی، اور اب سرمایہ داری ہے، سوشلسٹ دنیا کا وجود نہیں رہا۔ چند ملکوں میں تجربے ضرور کئے گئے۔
ہمارے مخالفین ان نظاموں کا نام لینے سے گریزاں ہیں۔ وہ کبھی مذہب کو نظام کہتے ہیں اور کبھی جمہوریت وغیرہ کو۔ حالاں کہ مذہب تینوں نظاموں میں موجود رہا ہے اور جمہوریت بھی۔
اس طرح وہ کچھ ہمیں مذہب کے خلاف پیش کرتے ہیں اور کچھ جمہوریت کے۔ حالاں کہ ہماری لڑائی سرمایہ داری سے ہے۔
صرف ایک مثال پہلے مخالفین کی دیتا ہوں، دوسروں کی بات تو چلتی ہی رہتی ہے۔
ہمارے پاکستان میں ہر کالج کے اندر جہاں جہاں ایف اے یا بی اے ہوتا ہے معاشیات یا اکنامکس پڑھائی جاتی ہے۔
اس میں سوشلزم کی بطور ایک برائی کے پیش کیا جاتا ہے اور سوشلسٹ مَعیشت کو اسلامی مَعیشت کے ساتھ ٹکرایا جاتا ہے۔ اور سوشلسٹ نظام کے مقابلے میں اسلامی "نظام" پیش کیا جاتا ہے۔
آپ میں سے کوئی بھی اس بات کو ایف اے، بی اے اور ایم اے کی نصابی کتب میں دیکھ سکتا ہے۔
اس طرح طلباء کے ذہنوں میں سوشلزم کے خلاف ایک بُغض بھر دیا جاتا ہے۔
یہ نہیں کہ اس میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بات نہیں ہوتی۔ ۔ ۔ ہوتی ہے۔ اس کے خلاف بھی اسلامی نظام کو بطور بہترین نظام کے پیش کر دیا جاتا ہے۔
اب؟
کیا انصاف ہو گیا؟ کیا اب میں اسلامی نظامِ مَعیشت کے خلاف لکھوں؟
اس سے مجھے پاکستان میں مزید مخالفت ہی ملے گی بجائے اس کے کہ میں کسی کو یہ سمجھا سکوں کہ سوشلسٹ نظامِ معیشت اچھا ہے۔ ۔ ۔ وغیرہ
مسئلہ یہ ہے ہی نہیں۔ چلیں میں مان لیتا ہوں۔ کہ پاکستان میں اکنامکس کی کتابیں لکھنے والے نہ صرف یہ کہ دیندار اور راسخ العقیدہ مسلمان ہیں، بلکہ اچھائی اور نیکی بھی ان میں کوٹ کوٹ کے بھری ہے اور وہ سچائی کا ساتھ بھی دے رہے ہیں۔ لیکن اس کے لئے انہیں "اسلامی نظام مَعیشت" پڑھانا پڑے گا۔
یہ ٹھگ، دھوکے باز، جیب کترے، عیار، مکار گھٹیا کرداروں کے مالک نوسر باز ہیں۔
صرف سوشلزم کی برائی کرنے کے لئے اسلام کو اکنامکس میں لے کر آئے ہیں، سرمایہ داری کو بھی برا کہتے ہیں، پھر آگے ساری کتابوں میں یہی گھٹیا، سطحی بے ہودہ اور احمقانہ سرمایہ داری کی لونڈی معاشیات پڑھانا شروع کر دیتے ہیں۔ یعنی اس ایک چیپٹر کے بعد ساری معاشیات سرمایہ داری کی پڑھو۔ بھائی آپ تو اسلامی نظام کو اچھا مانتے ہیں؟ آپ اسلامی معاشیات کیوں نہیں پڑھاتے پاکستان میں؟
جی؟ دنیا میں رہنا ہے؟
ان سب باتوں کے جواب ہیں ہمارے پاس۔ لیکن موضوع کچھ اور ہے۔
جس کے مطابق ہمارے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم غلط کو غلط کہیں اور بتائیں بھی۔
لیکن غلط کو محض غلط ثابت کر دیں گے تو لوگوں کے ذہن میں ایک "خلا" سا رہ جائے گا، جو ناممکن چیز ہے۔ اس خلا کو جو نہیں رہ سکتا فوراً غلط ہی نظریات مل جائیں گے، کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں، اندر ہی سے ملیں گے۔ اس لئے ہمارے لئے نہایت ضروری ہے کہ جہاں جھوٹ کو بے نقاب کریں وہاں سچ بھی بتائیں، جہاں برائی کا بھانڈا پھوڑیں وہاں اچھائی بھی بتائیں اور جس طرح برائی کو فی الذات یا اسی کے اندر سے برائی ثابت کریں اسی طرح اچھائی کو بھی فی الذات اسی کے اندر سے سچائی ثابت بھی کریں۔
اور یہ سچ اور جھوٹ، صحیح اور غلط ہم سب کے اندر ہی موجود ہے۔
یہ کوئی تصوف کی بات نہیں ہے، یہ سماج کے ساتھ ہمارے تعلق کی وجہ سے ہے۔ یہ ایک کثیر پہلو تعلق ہے۔ یہ تعلق ہم بطور سرگرم سماجی رکن کے سماج کے ساتھ قائم کرتے ہیں۔ اس تعلق میں ہم سماج پر عمل کرتے ہوئے سماج ہی سے وصول کرتے ہیں کیوں کہ سماج بھی انفرادی کے ساتھ ساتھ بطور کُلیت بھی ہم پر عمل کر رہا ہوتا ہے۔
مسئلہ تو وہاں پیدا ہوتا ہے کہ ایک ہی چیز کے بارے میں جھوٹ بہت سارے اور سچ صرف ایک، وہ بھی کئی مختلف شکلوں میں ہو سکتا ہے۔
اسی لئے سچ کی پہچان کروانے کے لئے، جھوٹ کو بے نقاب کرنے والے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ سچائی کی پہچان منطقی دلیلوں اور سائنسی ثبوتوں کے انبار سے کروائے۔
اس کے باوجود اس انسان کا جسے سچائی سے واقفیت ہو جاتی ہے، اور وہ جھوٹ کو بطور جھوٹ جان لیتا ہے سفر ابھی ختم نہیں ہوتا۔ جب تک وہ اپنی معلوم بات کو انہی، یا بہتر ہے کہ ان سے مختلف، اپنے گرد موجود زندگی میں سے منطقی اور سائنسی ثبوتوں کے مدد سے درست اور اس سے متضاد تمام باتوں کو غلط ثابت نہیں کر دیتا، نامکمل ہے۔
اور انسان کی نظریاتی تکمیل کا یہ سفر تا عمر جاری رہتا ہے کہ وہ غلط کو غلط اور درست کو درست بطور عقیدے کے نہ مانے، بلکہ وہ بتا بھی سکے کہ غلط کیسے غلط ہے اور درست کیسے درست ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   فلسفہ کا رد

تحریر کردہ: صبغت وائیں

(131 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں