العالم فی العالم

درسِ نظامی سے منسلک طبقہ اعدادیہ سے لے کر دورہ حدیث یا آگے چل کر تخصّص تک مختلف ادوار سے گزرتا ہے...کبھی ایک ہی مدرسے میں یہ طویل عرصہ گزرتا ہے تو کبھی مختلف مدارس کی سیر مختلف دالیں کھلاتی ہے...
طلباء ہمیشہ تین قسم کے پائے جاتے ہیں...ایک ممتاز طبقہ دوسرا مقبول اور تیسرا اعتدالی طبقہ...عموماً ممتاز و انتھک محنتی طلباء درس گاہ سے لے کر مطبخ تک اور مطبخ سے اپنے کمرے تک کتابوں یا کتابی باتوں میں الجھے نظر آتے ہیں...اور اس قدر الجھے ہوتے ہیں کہ مدرسے کی چار دیواری سے آگے نہیں جا پاتے...معاشرہ اور معاشرے کے اتار چڑھاؤ سے اتنے بے خبر کہ کبھی بوجہ ہڑتال مدرسے کی چھٹی ہوجائے تو یہ طلباء یہ بھی نہیں جانتے کہ ہڑتال کس کی ہے...مختصر یہ کہ انکی اکثریت باہر کے ماحول سے ناواقف ہوتی ہے...جمعرات کی شام نکلتے ہیں تو صرف گھر جا پاتے ہیں...اور مسافر طلباء ہیں تو انکی یہ چھٹی بھی اپنے کمرے میں گزرتی ہے...ذندگی کے شب و روز یونہی گزارتے ہوئے اور تعلیم کو تکمیل پر پہنچاتے ہوئے دورہ تک جا پہنچتے ہیں..پھر فراغت کے بعد ایسے غائب ہوتے ہیں کہ نام و نشاں تک باقی نہیں رہتا...ناجانے آسمانوں میں ڈیرے لگاتے ہیں یا سمندر میں پھیرے..کہ چراغِ رخِ زیبا لے کر بھی ڈھونڈنے نکلیں تو نہیں ملتے...
سب نہیں اکثریّت کی بات کر رہا ہوں !!
ہوتا یہ ہے کہ یہ ممتاز طلباء فراغت کے بعد اپنے اپنے علاقوں میں جا بستے ہیں..پھر امامت و خطابت یا کسی آس پاس کے مدرسے میں دو گھنٹے انکی کُل کائنات ہوا کرتی ہے...بہت ذیادہ آگے نکل جائیں تو دو چار تقریریروں کی ویڈیوز دکھ جاتی ہیں کہ ایک یہ بھی عالم ہیں اس ملک میں...
شرح تہذیب کی محزوف عبارتوں کی طرح ان ممتاز علماء کا اوجھل ہونا گویا علم کا ایک حصّہ کسی اندھیرے کنارے لگ جانے کے مترادف ہے...

دوسرے نمبر پر مقبول طلباء...یہ وہ خلقت ہے جو برکت کے لیے درسگاہ میں حاضر رہتے ہیں لیکن ذہنی طور پر کمزور ہونے کے سبب ہر حرف ذہن نشیں نہیں کرپاتے...اکثر انہی کہ منہ سے یہ جملہ بھی سنا گیا ہے..کہ بھائی دین میں قابلیت شرط نہیں قبولیت شرط ہے...
اپنا کام سے کام رکھتے ہیں جتنا سبق سمجھ آجائے اس پر توجہ دیتے ہیں اور گرتے پڑتے آٹھ سال گزار دیتے ہیں...

تیسرا اعتدال پسند طبقہ...جو ماقبل میں گزرے دونوں طبقوں سے خاصہ مختلف طبقہ ہے...یہ طلباء زہین غزب کے ہوا کرتے ہیں...مگر ذہانت کا پورا استعمال سبق میں نہیں کر پاتے...البتہ باہر کے ماحول اور ملکی حالات سے اتنے باخبر ہوتے ہیں کہ میڈیا بھی شرما جائے...پڑھائی یہ اتنی کرتے ہیں کہ اچھے نمبروں سے پاس ہوجائیں..پوزیشن سے انکا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں...کبھی پوزیشن آبھی جائے تو پریشان ہوجاتے ہیں...
لیکن یہ وہ طلباء ہیں جو فراغت کے کچھ عرصے بعد اپنی تیزی اور ذہانت کی بناء پر کبھی کبھی اتنا آگے نکل جاتے ہیں کہ ممتاز طلباء بھی ان پر رشک کرتے ہیں...

یہ بھی پڑھیں:   اسلامی جمہوریہ پاکستان اور ہمارا کردار

یہ تو ہوگئے طلباء کے مختصر مراتب...

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ کم از کم ستّر فیصد فضلاء کوملکی و غیر ملکی سطح پر کیسے ابھارا جائے...کیونکہ تیس سے چالیس فیصد طلباء کاروبار یا کسی اور سرگرمی میں مشغول ہوجاتے ہیں...

ممتاز طلباء چونکہ کتابوں کی رگوں سے واقف ہوا کرتے ہیں اسلیے بطورِ مدرّس انکا پھر سے چاردیواری میں رہ جانا گویا علم کا ایک محدود جگہ قید ہوجانا ہے...انہیں مدارس سے باہر کی دنیا کا علم ہونا بھی اتنا ضروری ہے جتنا کتابوں کا...وگرنہ انکی حیثیت محض اس یاقوت سی ہے جسے گہرے سمندروں سے نکال کر بنا زیب و زینت کے انگھوٹی میں جَڑ دیا جائے !!
ملکی و غیر ملکی مسائل کی جانکاری،.اپنا اور اپنوں کا دفاع اور اس طرح کی مزید سرگرمیاں انکے لیے بے حد ضروری ہیں...اس لیے ان ممتاز طلباء کی خدمت میں عرض ہے کہ سماج اور سماج کے بدلتے رنگوں سے واقفیت رکھیں تاکہ مدارس کی شان اغیار و اعداء کے ہاں بڑھے...اور دنیا دار لوگوں کا مدارس اور مدارس والوں کے متعلق اعتماد مضبوطی پکڑے...

مقبول طلباء اپنی کند ذہنی پر پریشان نا ہوں...مدرسے میں ایک طویل عرصہ گزر جانا غنیمت سمجھیں اور احساسِ کمتری سے خود کو بچائیں...درسگاہ میں جتنا سمجھا ہے اسے پکّا کریں اور مزید مطالعہ جاری رکھیں پیچھے نا ہٹیں...جہاں اندھیرا ہو وہیں چراغ بن کر روشنی فراہم کریں...ایک جگہ خود کو ہرگز ہرگز محدود نا رکھیں...اور کچھ نہیں امامت و خطابت تو دامن میں ہے ہی بس وہیں سے ابتداء کریں اور آہستہ آہستہ معاشرے میں خود کو متعارف کروائیں اور معاشرے کے اتار چڑھاؤ اور مسائل پر غور کریں انہیں اپنے طور سلجھانے کی کوشش کریں..دین اور دین والوں سے وابستہ رہیں...انشااللّہ کامیابی ایک دن مانندِ دربان آپکی چوکھٹ پر ڈیرے لگائے نظر آئے گی...

درمیانی طلباء چونکہ زمانہءِ طالبِ علمی سے ادھر اُدھر کے مسائل میں خود کو الجھائے رکھتے ہیں تو انہیں فراغت کے بعد کچھ زیادہ جانچنے کی ضرورت نہیں پڑتی...عبارتیں انکے ذہنوں میں ہوں نا ہوں مگر اساتذہ کی باتیں کچھ نا کچھ انہیں یاد رہتی ہیں..اور وہی باتیں سن کر یہ ایک دن دار الحدیث النبوی کی کسی صف میں بیٹھے نظر آتے ہیں...
دین اور دینداری تقوی اور پرہیزگاری بے شک اس دورِ پرفتن میں ایک مشکل عمل سہی مگر بےحد ضروری ہے...زمانہ اتنا بےدرد ہے کہ سینے سے لگا کر کلیجہ کھینچ لینا جانتا ہے...ہمارے مدارس کے کئی طلباء فراغت کے بعد اپنی وضع قطع اور چال ڈھال بدل بیٹھتے ہیں...وجہ یہی کہ جب طالب تھے تو مدرسے کو زیادہ سنجیدہ نا لے سکے...بس پڑھنا ہے..چاہے جیسے بھی پڑھنا ہے...
درمیانی طلباء میں سے کم از کم پچاس فیصد طلباء کہیں نا کہیں کسی نا کسی مقام پر نظر آہی جاتے ہیں..قابلِ داد ہیں...لیکن چلتے دور کی ان بدلتی فضاؤں میں تعداد پچاس سے بڑھ کر پچھتر فیصد تک جانا بہت ضروری ہے...آپ درمیانی درجہ کے سہی مگر عالم تو ہیں نا...اور جب آپ زندگی کا ایک حصہ مدرسہ میں گزار ہی چکے..اور مولوی بن ہی چکے تو دنیا کی کون سی طاقت ہے جو آپ سے آپکا علمی لباس چھین سکے...چاہیے تو یہ کہ آپ زمانے پر اثر انداز ہوں مگر افسوس کہ زمانہ مؤثر ٹہرتا ہے...علم ایسی شئے ہے جو مکمل سے بھی آگے کی توجہ آپ سے چاہتا ہے...چلیں آپ دورِ شاگردی میں زیادہ توجہ نا دے سکے مگر بعد از فراغت تو آپ وفا کیجئیے...
بخدا ایک عالم اگر مخصوص ترتیب سے معاشرے میں خود کو متعارف کروائے تو معاشرے کا ایک بڑا حصّہ آپ سے متاثر ہوکر آپکے ساتھ ہر مشکل وقت میں جان مال کے ساتھ کھڑا نظر آئے گا...
میں کہنا یہ چاہتا ہوں..کہ جدید دور کی جدّتیں اور جدّتوں میں آنے والی شدّتیں جہاں انسانیت کو تباہی کے گہرے دریاؤں میں ڈوباتی ہیں..وہیں یہ جدّتیں انسانوں کو ایک دوسرا رخ بھی دکھاتی ہیں..یہ الگ بات ہے کہ اکثریّت اس رخ کی طرف رخ نہیں کرپاتی...
موبائل سے لے کر انٹرنیٹ ومافیھا ...سب کا استعمال کیجیے..مگر خدارہ دوسرا رخ استعمال کیجیے...بگاڑ تو ویسے بھی پیدا ہو رہا ہے..آپ سنوار پیدا کیجیے...فیسبک وٹس ایپ اور دیگر سوشل نیٹورکس صرف وقت گزارنے کا زریعہ تو نہیں..یقین جانیے ان چیزوں کا صحیح استعمال کارِخیر بھی ہے...موبائل بنانے والے نے صرف موبائل بنایا ہے سوچ نہیں بنائی..مارکیٹ سے موبائل لیں تو کپمنی کی طرف سے صرف پھولوں کی تصاویر ڈالی جاتی ہیں...اب مرضی آپکی کہ آپ پھول مسل کر کانٹے بو دیں...او ما شئت...

یہ بھی پڑھیں:   ابلاغ، نقد و نظر اور الہام

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ طلباء علماء احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں..اور احساسِ کمتری وہ سانپ ہے جو ڈس لے تو روح اور تخیّلات میں بے انتہاء زہر پھیلا دیتا ہے...سارے ارادے اور ساری سوچیں ساری محنتیں اور ساری کاوشیں مٹی ہوجاتی ہیں جب آپ کسی اور کی فانی ذندگی کو ضرورت سے زیادہ سوچ بیٹھتے ہیں...یہ سوچ کس بےدردی سے آپکی شخصیت کا قتل کرتی ہے آپ سوچ بھی نہیں سکتے...

سب کو سب کچھ نہیں ملتا یاد رکھیے...
اور سب،سب نہیں پاسکتے یاد رکھیے !!

یہ بھی پڑھیں:   ماموں اور خالہ ہی کیوں؟

اکثر اساتذہ دنیاوہ تعلیم سے روکتے ہیں..مقصد تعلیم نہیں بلکہ نامناسب ماحول سے دور رکھنا ہوتا ہے...اگر درسِ نظامی کے ساتھ ساتھ انٹر یا گریجویشن کرچکے تو نور علی نور..اگر نہیں کیا تو فراغت کے بعد ضرور کوشش کریں کوئی مشکل نہیں...مولانا شامزئی شہید سے لے کر مولانا مینگل تک علماء ہمارے سامنے مثالیں ہیں...ممبر پر دورانِ تقریر اگریزی لفظوں کا استعمال کئی علماء کرتے ہیں...یہ کوئی عیب نہیں...بات پھر وہی ہے کہ دنیاداروں پر اثراندازی آپکی ہو نا کہ اُنکی آپ پر...مقصد سماج کو دینِ اسلام سے وابستہ کرنا ہے..مقصد عوام کو عوام کی ذبان میں یہ بتانا ہے کہ مدارس دہشت کے اڈّے نہیں امن کے ڈیرے ہیں...سفید کپڑے،داڑھی ٹوپی کسی دہشت گرد کا لباس نہیں بلکہ امن کی وہ چادریں ہیں جن میں چھپ گئے تو دین محفوظ ہوسکتا ہے وگرنہ تباہی تقدیر کے مزّین اوراق پھاڑ پھینکے گی...
اگر اب بھی سماج کے سامنے مدارس کی حقیقت نا بتا سکے تو واللّٰہ یہ سماج غیروں کی گندی سوچ پر عمل کرتے ہوئے ایک دن اپنا اور اپنوں کی روح کا قتل کردے گا...
تاریخ کے جن پنّوں کو دشمن غلط کہ کر پھاڑ رہا ہے آپ اسے جوڑیے اور عوام کو دکھائیے...
یہ عام لوگ اور یہ دنیا کی رنگینیوں میں گھرے لوگ خدا کی قسم سکون کے متلاشی ہیں...یہ سکون تلاش کرتے کرتے خرافات میں پڑجاتے ہیں انہیں پتہ بھی نہیں چلتا...آپ کا فرض ہے کہ انہیں دائمی سکون کے صحیح راستوں سے آگاہ کریں...یہ خود آنے کی ہمّت نہیں کرتے تو ہاتھ سے پکڑ کر لائیے...خدا کے لیے انہیں کسی بھی طرح کا دھوکہ مت دیجیے...کوئی مصیبت کا مارا تعویذ لینے آجائے تو صرف تعویذ دیجیے...کوئی روتا گڑگڑاتا آکر دوزانوں بیٹھ جائے تو صرف اسکا غم سنیے اُسکے ہاتھوں میں رکھی کار کی چابیاں نا دیکھیے...

خدا کے لیے کمال پیدا کیجیے...یہ کمال ہی تھا کہ لوگ مال حسین احمد مدنی (رح) کی جوتیوں میں ٹھونس کر چل دیتے تھے...

رزق رب کی زمہ داری ہے..اور وہ اس ذمہ داری کو خوب نبھاتا ہے...آپ بس اپنی ذمہ داریوں پر اپنے شب و روز صرف کیجیے...

اللّہ اپنے دین کی سربلندی کے لیے ہمیں قبول فرمائے...اللّہ آخری اکھڑتی سانس تک دین اور دین والوں سے وابستگی نصیب فرمائے...


  تحریر محمد عرفان السَّعید

(55 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. safir ullah says:

    بہت اچھی پوسٹ ھے.میں خود ایک طلبعلم ہو.
    مگر 5 درجے پڑ ھ کہ پڑائ ترک کر دی احساس کمتری کی وجہ سے.

تبصرہ کریں