امیر خسرو کی غزل کا منظوم اردو ترجمہ

بندے نے ایک سال قبل امیر خسرو کی مشہور فارسی غزل (ہر شب منم فتادہ بہ گرد سرای تو) کا اردو میں منظوم ترجمہ کیا تھا ، دیکھیے کہاں تک کام یابی ملی ہے۔

ہر شب منم فتادہ بہ گرد سرای تو
تا روز آہ و نالہ کنم از برای تو

ترجمہ:

ہر رات چھانتا ہوں ترے در کی خاک میں
ہر صبح آبِ چشم سے ہوتا ہوں پاک میں

روزے کہ ذرہ ذرہ شود استحوانِ من
باشد ہنوز در دل تنگم ہوای تو

ترجمہ:

یہ بھی پڑھیں:   علمِ عَروض سبق ۵

جب تک بدن میں آخری قطرہ ہے خون کا
رکھوں گا اپنے دل میں ترا انہماک میں

ہرگز شب وصال تو روزے نہ شد مرا
اے وای بر کسے کہ بود مبتلای تو

ترجمہ:

ہو رات اگر ملن کی تو کاذب رہے سحَر
ہائے! ہوں مبتلائے غمِ درد ناک میں

جاں را رواں برای تو خواہم نثار کرد
دستم نمی دہد کہ نہم سر بہ بپای تو

ترجمہ:

میں جاں نثار ہوں ، میں گریباں دریدہ ہوں
بس میں نہیں ہے ورنہ کروں دل بھی چاک میں

یہ بھی پڑھیں:   خوبصورت کردار اور عمل

جانا بیا ببیں تو شکستہ دلی من
عمرے گزشتہ است منم آشنای تو

ترجمہ:

آجا ، مری شکستہ دلی دیکھ اے حبیب!
رکھتا ہوں مدتوں سے ترا انسلاک میں

بر حال زار من نظرے کن ز روی لطف
تو پادشاہ حسن و خسرو گدای تو

ترجمہ:

مجھ خستہ حال پر ہو نظر سَرسَری سی اب
تو شاہِ حسن اور ترے در کی خاک میں

(232 مرتبہ دیکھا گیا)

محمد اسامہ سرسری

محمد اسامہ سرسری مستند عالِمِ دین اور فقہِ اسلامی کے متخصص ہیں۔ اسامہ صاحب دینی تعلیمات کے ساتھ ادبی اور فنی سرگرمیوں کا بھی فعال حصہ ہیں۔ انتہائی محنتی اور معاون طبیعت رکھتے ہیں اور متعدد کتب کے مصنف بھی ہیں ، کتاب "آؤ شاعری سیکھیں" ان کی اب تک کی شہ کار تصنیف ہے جسے اندرون و بیرون ملک ہر جگہ خوب پذیرائی ملی ہے۔ سوشل نیٹ ورک پر سینکڑوں لوگوں کو ادب اور شاعری کی فنیات آسان انداز میں سبقاً سبقاً سکھاتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں