انا الحق - ہمارے تکفیری رویے

میں آپ کی جنون انگیز حماقت کی راہ میں رکاوٹ بننا نہیں چاہتا۔ لیکن آپ میری بات تو سنیے۔

آپ چاہتے ہیں آپ کی نوا خلائق تک پہنچنے میں کامیاب ہو۔

آپ یہ بھی چاہتے ہیں آپ کی آہ ان خلائق کی سماعت کی نذر ہی نہ ہو ان کا عمل بھی بنے۔

آپ دل سے اس کے طلب گار ہیں آپ کا مخالف بھی آپ کی بات سنے۔ اور اس پر غور کرے۔ اس کے ذہن میں قمقمے روشن ہوں۔

تو آپ خدارا "اپنے حق" پر کار بند بھی رہیے۔ اپنے نظریات سے چمٹے بھی رہیے۔ اپنے دائرے کو دنیا بھی سمجھتے رہیے۔ لیکن جب آپ ایک عام مجمع سے مخاطب ہوتے ہیں تو ادائے منصوری سے کام نہ لیں  انا الحق ﮐﺎ ﻧﻌﺮﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺣﻘﺎﻧﯿﺖ ﮐﻮ ﭘﺎﺵ ﭘﺎﺵ، ﺭﯾﺰﮦ ﺭﯾﺰﮦ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو آپ انا الحق بھی کہیں اور آپ کی حقانیت بھی چکنا چور نہ ہو۔ تو آپ کو پہلے قصرِ انا مسمار کرنا پڑے گا۔ اتنی محبتیں بانٹنی پڑے گی مخلوقِ خدا میں کہ تم محبت کا، خدائی محبت کا استعارہ بن جاؤ۔

یہ بھی پڑھیں:   عقائد اور پاکستانی ریاست کے حدودکار

انا نہیں فنا پانا ہوگی۔ پھر جب تم اناالصادق الامین کروگے۔ پھر جب تم اناالحق کروگے تو تمہارے حق کو حق  نا ماننے والوں کے ہاتھ بھی ٹوٹے ہوئے دیکھوگے اور جال بھی بکھرتے ہوئے دیکھوگے۔ لیکن یہ آسان نہیں۔ صاحب گفتار بننے میں ہی آسانی ہے۔

اور دیکھیے گفتار کا ڈھنگ یہ ہے کہ جب آپ کہتے ہیں کافر کافر تم ہو کافر تو یہ نعرہ سنتے ہی بشری دفاعی نظام حرکت میں آتا ہے اور آپ کے کفر کے دلائل ڈھونڈنا شروع کردیتا ہے۔ چلیے ہم بھی تسلیم کرتے ہیں آپ کا مخالف کافر ہے۔ اور اپ پچھلی سات پشتوں سے حق پر کاربند چلے آرہے ہیں۔ لیکن حضور ہجوم سے خطاب کے وقت آپ اپنے ہم خیال افراد سے زیادہ مخالفین کے دلوں کو ہدف بنائیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو آپ اپنے ارد گرد صرف انہی افراد کا اکٹھ دیکھیں گے جن کا آپ کی طرح اپنا اپنا دائرہ ہی کل کائنات ہے۔ پھر آپ کی صدائیں بازگشت تو بن سکتی ہیں۔ عمل کا نقارہ نہیں ۔ کبھی بھی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   علمی اختلاف، اعلی اخلاق اور متجددین

دیکھیے آپ سے قیامت کا سوال یہ قطعا نہیں ہوگا کہ فلاں کافر کو کافر کیوں نہیں کہا۔ لیکن میرا یقین کیجے یہ ضرور آپ سے سوال ہوگا کہ فلاں مسلمان کو کافر کیوں کہا۔

(376 مرتبہ دیکھا گیا)

شاد مردانوی

جنابِ شاد کے لیے اگر یہ کہا جائے کہ وہ چلتی پھرتی لغت ہیں تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ان کی اردو در اصل اردو نہیں بلکہ معرب و مفرس کسی ماورائے اردو شئے کی تارید کہی جاسکتی ہے۔ علم دوست ہونے کے ساتھ ساتھ منکسر المزاج بھی ہیں اور مطالعے کو اوڑھنا بچھونا رکھتے ہیں۔ ان کی ہنر کاری ان کی تحریروں سے عیاں ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں