انسانی شخصیت پر دعا کے اثرات

کامیابی کے موضوع پر کتابیں لکھنے والے تمام جدید مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ آپ زندگی میں جو ہدف حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ ہر وقت آپ کے دماغ میں تازہ ہونا چاہیے۔ فلسفی دماغ کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں ۔ شعور ، تحت الشعور اور لاشعور۔ لاشعور کو وہ بہت بڑی طاقت یا روح بھی کہتے ہیں۔ ان کے مطابق کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ آپ کا شعور، تحت الشعور کو ہر وقت اپنے مطلوبہ ہدف کی یاد دلاتا رہے۔ تحت الشعور جب مسلسل اس ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو لاشعور یا روح بھی اس کی مدد کو آ جائے گی۔ ساد ہ الفاظ میں آپ جس بھی نصب العین کو حاصل کرنا چاہتے ہیں اسے ہر وقت یاد کرتے رہیں۔ اس کے متعلق سوچتے رہیں۔ آپ کی جسمانی ، دماغی اور روحانی قوتیں اسی کام کی تکمیل میں لگ جائیں گی اور نتیجتاً آپ اپنا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
کائنات کا ہر انسان اپنی موت پر ضرور یقین رکھتا ہے۔ وہ جس بھی مذہب یا عقیدے سے تعلق رکھتا ہو وہ کائنات میں ضرور کسی مافوق الفطرت قوت کو تسلیم کرتا ہے۔ اور مشکل میں اس کو پکارتا بھی ہے۔ یعنی اگر آپ کوئی بہت بڑا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ اس کے لیے اپنی تمام جسمانی اور دماغی صلاحیتیں صرف کردیتے ہیں۔ اور پھر اس سب کے بعد آپ کسی بالاتر طاقت کو بھی پکارتے ہیں تو آپ کی اسی پکار کو دعا کہا جاتا ہے۔ کسی بھی مذہب یا عقیدے کا حامل انسان جب دعا کرتا ہے تو اس کی شخصیت میں بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔آئیے دعا کے کچھ اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دعا سیریز 5: (جزاكَ اللهُ خیرا)

دعا کائنات میں کسی برتر ہستی کے تصور کو پختہ کرتی ہے جس کے ہاتھ میں ہر طرح کی قوت ہے۔ انسان کو اپنی کم مائیگی اور کمزور ی کا احساس تازہ ہوتا رہتا ہے۔ اس میں عاجزی اور انکساری پیدا ہوتی ہے۔ اور اگر وقتی طور پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑے تو وہ مایوس نہیں ہوتا۔ یہ دراصل امید کا ایک پختہ ذریعہ ہے۔ جب بھی آپ کسی مقصد کے حصول کے لیے جدو جہد کرتے ہیں تو اس جدوجہد کے سفر میں آپ کی ہمت کو بڑھاتی رہتی ہے۔ کسی مافوق الفطرت قوت کے اپنے پشت پر ہونے کا یقین انسان کے حوصلے کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ اور آنے والی مشکلات کو برداشت کرنے کے لیے صبر میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔زندگی میں ہونے والے بڑے بڑے نقصانات جن سے ایک کم ہمت انسان ٹوٹ کر بکھر سکتا ہے، دعا انسان کو اس سے محفوظ رکھتی ہے۔

دعا سے انسان کو ذہنی طور پر سکون مل جاتا ہے۔ دعا قبول ہو یا نہ ہو۔ اس کا فوری کوئی نتیجہ نکلے یا نہ نکلے اس کا دل مطمئن ہو جاتا ہے۔ جس طرح انسان اپنی مشکل یا پریشانی کسی دوسرے فرد کے سامنے بیان کرکے اپنے دل کا بوجھ ہلکا محسوس کرتا ہے اسی طرح جب وہ کائنات کی بالاتر ہستی کے سامنے اپنے ارادوں کی تکمیل کے لیے عرض کرتا ہے تو وہ اطمینان محسوس کرتا ہے۔ وہ پہلے سے زیادہ لگن کے ساتھ اپنی جدوجہد میں مصروف ہو جاتا ہے۔ کامیابی سامنے نظر نہ آنے کی صورت میں بھی اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ بالاتر ہستی ضرور اس کی مدد کرے گی۔تسلسل سے کی جانے والی دعا باربار یاددہانی کا کام بھی کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دعا سیریز 4: (مختصر درود و سلام)

کسی شخص کی دعا ہی دراصل اس کا نصب العین ہوتی ہے۔ وہ جس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتا ہے ، اس کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں وقف کردیتا ہے۔ اور اس کے بعد پھر دعا کے لیے ہاتھ بلند کردیتا ہے۔ یہی دعا اس کے عمل میں نکھار پیدا کرتی ہے۔ ایک مسلمان کے شب و روز کا جائزہ لیتے ہیں۔ مثلاً اگر وہ رات کو سونے کی دعا پڑھے گا تو اس کے دل میں یہ یقین پیدا ہوجائے گا کہ مجھے نیند کے بعد دوبارہ اللہ ہی اٹھائے گا۔ وہ بیت الخلاء میں جاتے وقت جب اللہ کی پناہ مانگے گا تو اس کا ایمان اس بات پر پختہ ہو جائے گا کہ کائنات کی تمام خبیث قوتوں سے بالاتر اس کا رب ہے اور وہ اس کی حفاظت فی الواقع کرسکتا ہے اور کرتا بھی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی فرد اللہ سے شہادت کی دعا کرتا ہے تو یقینا جہاد اور شہادت سے اسے محبت ہو گی۔ وہ اس راستے پر چلنے کی کوشش کرے گا۔ علم میں اضافے کی دعا مانگنے والا یقینی طور پر علم کے حصول کی کوشش بھی کرے گا۔ اسی طرح ایک آدمی اگر سلام کرنے کو اپنی عادت بنا لے گا تو وہ دوسروں کو نقصان پہنچانے سے گریز کرے گا۔ اللہ سے دوسروں کی سلامتی کی دعا مانگنے والا ان کو نقصان کیسے دے سکتا ہے؟
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ بطور انسان اور بطور مسلمان ہمیں دعا کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنانا چاہیے۔ سب سے پہلے مسنون دعائیں اپنی روزمرہ عادات کا حصہ بنائیں۔ اس کے بعد زندگی کے ہر نصب العین کے حصول کے لیے اپنی تمام تر جدوجہد اور کوشش کے ساتھ دعا کو شامل کر لیں۔ یہ دعا نہ صرف کائنات کی مافوق الفطرت قوتوں کو آپ کا حامی بنا دے گی بلکہ آپ کی کوششوں کی رفتا ر میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ اور مشکلات کو سہنے کا حوصلہ بھی بڑھ جائے گا۔ نتیجے کے طور پر آپ زیادہ پرسکون رہ کر تیز رفتار سے کام کرکے اپنے اہداف حاصل کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   قانونِ کائنات اور ملحدین

(195 مرتبہ دیکھا گیا)

یاسر غنی

یاسر غنی

یاسر غنی صاحب سائنس کے شعبے نباتیات میں ماسٹرز ہیں۔ فی الحال ایک کالج کے پرنسپل ہیں اشاعت و بلاغت میں سر گرم ہونے کے ساتھ مطالعے کو اپنا مشغلہ رکھتے ہیں۔ اور لوکل اخبارات میں "نشانِ منزل" کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. اچھا مضمون ہے۔ لیکن اس بارے میں ایک فلسفیانہ قسم کا خدشہ ہے۔
    یہ بات ہمارے ایمان کا حصہ ہے کہ اللہ دعاؤں کو سنتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے۔ اگر ہم انسانی نفسیات پر دعاؤں کے اثرات پر ہی زور دیں تو اس بات کا خدشہ ہے کہ کہیں دعاؤں کے معاملے میں ہمارا ایمان کمزور نہ ہوجائے۔
    یعنی جو یہ مضون پڑھے گا وہ دعا کرتے ہوئے اپنے پر ہونے والے نفسیاتی اثر کے بارے میں سوچے گا یا یہ تصور کرے گا کہ رب کائنات میری بات سن رہا ہے اور جو کچھ میں مانگ رہا ہوں وہ اگر میرے لئے مناسب ہوگا تو عطا بھی کرے گا۔

    • ذیشان صاحب اپنی رائے کا بہت شکریہ۔ آپ نے اچھا سوال اٹھایا ہے۔ دعا کے موضوع پر یہ ایک مضمون ہے۔ اس موضوع پر دیگر مضامین بھی انشاء اللہ آ رہے ہیں۔ امید ہے کہ سب کو پڑھنے سے خدشات جاتے رہیں گے۔

تبصرہ کریں