انسانی عقل اور دین کا دائرہ

انسانی عقل اور دین کا دائرہ

یعنی

جب عقل سے یہ جان لیا کہ اللہ بلاشبہ موجود ہیں

جب عقل سے یہ سمجھ لیا کہ الله واقعی خالق کل کائنات ہیں

جب عقل سے یہ ثابت ہوگیا کہ محمد صلی الله الہہ وسلم اپنی رسالت کے دعویٰ میں سچے ہیں

جب عقل سے یہ جان لیا کہ نازل کردہ قران الله کی آخری کتاب ہے

جب عقل سے یہ دیکھ لیا کہ اس کتاب میں درج احکامات محفوظ اور حتمی ہیں

جب ان کلیدی سوالات کے مشفی جواب عقل نے پا لئے اور آخری درجہ میں کلام کا من جانب الله ہونا ثابت ہوگیا تو اب یہ عقل اپنے بنانے والے کی نازل کردہ وحی کی پابند ہوگئی. اب یہ احکامات کی پوشیدہ حکمت تو ضرور کھوج سکتی ہے، طالبعلمانہ سوالات تو کرسکتی ہے مگر ان احکامات کے قبول و رد کا میعار ہرگز نہیں بن سکتی۔ حکمت کا جاننا یا نہ جاننا اب احکام پر عمل کرنے یا نہ کرنے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ اب تو بس سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کا اصول لاگو ہوگا یعنی 'ہم نے سنا اور اطاعت کی'. عقل کو جب اپنے بنانے والے کی لامحدود دانش اور اپنی محدودیت کا ادراک حاصل ہوگیا تو اب عقل کا اعتراف عجز کے ساتھ چلنا ہی عقلی بنیاد قرار پائے گا۔ اس شخص کا یہ انداز تسلیم اور وحی الہیٰ پر اعتماد احمقانہ نہیں بلکہ خالص عقلی و وجدانی سفر کا نتیجہ ہے۔ وہ اب جان چکا ہے کہ عاقل ہونا یہ نہیں کہ آپ ہر بات کی عقلی توجیہہ پالیں بلکہ عاقل ہونا یہ بھی ہے کہ آپ اپنی عقل کے بارے میں یہ جان لیں کہ وہ کیا نہیں جان سکتی۔

یہ بھی پڑھیں:   علم میراث - پہلا سبق

دھیان رہے کہ اس استدلال کا مقصد عقل کو سلب کرنا نہیں بلکہ اسکی حدود کا تعین ہے۔ وگرنہ پورا قران حکیم تدبر و تفکر کی دعوت دیتا نظر آتا ہے۔ دنیا کے دیگر مذاہب اپنے پیروکاروں کو عقیدے کی افیون پلا کر انکے غور و فکر کی صلاحیت کو سلب کر لیتے ہیں۔ لیکن قرآن وہ واحد الہامی کلام ہے جو اپنے قاری کو تحقیق و تدبر پر ابھارتا ہے۔ وہ کہتا ہے ' افلا تعقلون ' (تم عقل کیوں نہیں استعمال کرتے؟) وہ کہتا ہے ' افلا یدبرون' (تم تدبر کیوں نہیں کرتے؟) وہ اس انسان کو انسان ماننے تک سے انکار کرتا ہے جو اپنی عقل استمعال نہ کرے اور ایسے انسان کو بدترین جانور سے تعبیر کرتا ہے جو گونگا بہرہ بھی ہو۔ وہ دلیل پیش کرتا ہے اور جواب میں دلیل کا تقاضہ کرتا ہے۔ وہ اپنے باپ دادا کی اندھی تقلید سے روکتا ہے اور اس عمل کو مشرکین کی روش بتاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر تم سچے ہو تو انجیل، تورات یا کوئی اور بڑی دلیل پیش کرو. وہ مکالمے کی فضا کو فروغ دیتا ہے اور جاہل کو بھی سلام کہہ کر چھوڑ دینے کو کہتا ہے. وہ غیر مذاہب کے خود ساختہ خداؤں کو بھی برا کہنے سے روک دیتا ہے. وہ زمین و آسمان پر غور کرنے کو عبادت بنا دیتا ہے اور تاریخ سے سیکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔

تحقیق و تدبر کرنے والا ذہن بناء سوال پوچھے نہیں رہ سکتا۔ یہ انتہائی درجہ کا مغالطہ ہے کہ الله سوال پوچھنے سے منع کرتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ اس کے برعکس وہ مخلص علمی سوالات کی حوصلہ افزائی فرماتے ہیں۔ البتہ ایسے سوالات پوچھنے والے کی گرفت کرتے ہیں جس کا مقصد بات کو سمجھنا نہیں بلکہ کجی پھیلانا ہو. یہاں سوال پوچھنا اپنی اصل میں مذموم نہیں بلکہ وہ ٹیڑھی ذہنیت ہے جو فتنہ پرور ہو۔ اگر مقصد حق کو سمجھنا ہے تو پھر نہ صرف اس کی اجازت ہے بلکہ ایسے سوالات پوچھنا مندوب ہے. اسکی ایک خوبصورت مثال ملائکہ کا سوال پوچھنا ہے۔ ہم قران ہی کے بیان سے جانتے ہیں کہ فرشتے رب کی کبھی نافرمانی نہیں کرتے۔ مگر یہی قران جب ہمیں تخلیق آدم کا قصہ سناتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب الله نے آدم عليه السلام کو خلیفہ الارض بنانے کا اپنا ارادہ ظاہر کیا تو ملائکہ نے بارگاہ الٰہی میں سوال اٹھایا. ملاحظہ ہو سورہ البقرہ ٣٠

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیا اور اظہار رائے کی آزادی

"جب آپ کے پروردگار نے فرشتو ں سے کہا کہ میں روئے زمین پرایک جانشین اور حاکم مقرر کر نے لگا ہوں تو فرشتوں نے کہا (پروردگارا ) کیا ایسے شخص کو مقرر کرے گا جو زمین پر فساد اور خونریزی کرے گا (جبکہ)  ہم تیری تسبیح اور حمد بجالا تے ہیں "۔

ذرا سوچیں کہ رب کے فرمان کے سامنے ایسا سوال اٹھانا بظاہر کتنی بڑی جسارت ہے اور یہ بھی دیکھیں کہ یہ سوال اٹھا ملائکہ رہے ہیں جو اپنی سرشت میں معصوم بنائے گئے ہیں. اب اگر ہمارے رب کو سوال کا پوچھنا ناپسند ہوتا تو لازمی تھا کہ پوچھنے والے سزا پاتے. مگر اس کے برعکس الله رب العزت نے پہلے ملائکہ کو انکے علم کی محدودیت اور اپنے علم کی کاملیت کا بیان کیا اور پھر اسی پر اکتفاء نہ کیا بلکہ ملائکہ کی تشفی کیلئے ایک پورا امتحان سجا کر حجت کا اتمام کیا. ابلیس اور ملائکہ میں بنیادی فرق یہی ہے کہ ملائکہ کا سوال پوچھنا بات کو سمجھنے کیلئے تھا. جبکہ ابلیس کا اعتراض اس کے تکبر کا اظہار تھا. یہی وجہ ہے کہ ملائکہ سجدہ کرکے مقرب رہے اور ابلیس کافر بن کر راندہ درگاہ قرار پایا. یہاں یہ حقیقت ملحوظ رہے کہ ملائکہ نے سوال پوچھا تھا ، سجدہ سے انکار نہ کیا تھا. اگر الله کی مشیت میں انہیں جواب نہ بھی دیا جاتا تب بھی وہ سجدہ ضرور کرتے. جیسا کے پہلے ہی بیان کیا جاچکا ہے کہ جب بات کا من جانب اللہ ہونا ثابت ہو جائے تو پھر عقل احکامات کے قبول و رد کا میعار ہرگز نہیں بن سکتی۔

یہ بھی پڑھیں:   تم نے شرک نہیں چکھا

 

(نوٹ: گزارش ہے کہ یہاں ملائکہ کے عاقل ہونے یا نہ ہونے کی بحث کو نہ اٹھایا جائے. یہ ایک جدا موضوع ہے جو تفصیل کا متقاضی ہے)

 

(372 مرتبہ دیکھا گیا)

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمان عثمانی اپنے مزاج کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہیں۔ بڑے بڑے موضوعات کو دو جمع دو چار کرکے سمجھانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں سے فیضیاب ہوتے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. Farra Arisha says:

    Thank you for commenting on my post. Keep on blogging anyway!

تبصرہ کریں