انسان اور نظریۂ حیات

میں کون ہوں اورکیوں موجود ہوں؟
میں کہاں سے آیا اور مجھے کہاں جانا ہے؟
کائنات کس نے بنائی اور کیسے بنی؟
خدا کیا ہے؟ اور....... وقت کا بہاؤ کیوں ہے؟ ...
کیا یہ سوالات کبھی آپ کے ذہن میں اُٹّھے اور آپ نے ان پرغور کیا ؟
اگر ایسا ہے تو یقیناً آپ ایک متجسّس ذہن لیئے ہوئے ہیں جو انسان کا شرف ہے اور اگر ایسا نہیں سوچا تو اپنے اندر سوئے ہوئے تجسّس کو بیدار کریں کیونکہ حقیقت آشنائی زندگی کو آبدار بناتی ہے۔یہ ہر سوچتے ہوئے ذہن کو بے چین کرنے والے سوالات ہیں جنکے جوابات پر ہی انسان کی روزمرّہ زندگی گزارنے کے نظریات اسُتوار ہوتے ہیں۔ ان سوالات کے جوابات ہی کسی نظریۂ حیات کی تدوین کرتے ہیں ۔لہٰذا کائنات اور اس میں انسان کے حقیقی مقام کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ زندگی اور کائنات کے عیاں اور پنہاں حقائق کو شفّاف طور پہ جا نا جائے۔
مختصراً جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی معاشرے میں مذہبی نظریا ت مختلف شکلوں میں ہمیشہ سے موجود رہے ہیں جیسے کہ خداپرستی،آتش پرستی اور بت پرستی وغیرہ۔ گویامذہب ایک اثر انگیز قوّت کے طور پر موجود رہا ہے اور مختلف معاشروں میں رائج مختلف مذہبی نظریات ہی ان کے قوانین و رسم و رواج کے مآخذ رہے تھے۔تحریکِ احیائے علوم یور پ میں شروع ہوئی جہاں پر چرچ کا غلبہ تھا ، علوم کی یورش کے بعد جیسے جیسے نئے نظریات سامنے آتے گئے ویسے ویسے یورپی معاشرے میں نظریاتی تناؤ پیدا ہوتا گیا نتیجتاً کمزور مذہبی عقائدکی ٹوٹ پھوٹ بھی شروع ہوئی۔ جدید سائنسی نظریات جو طبعی طور پر ثابت شدہ تھے مگر مذہبی نظریات سے متصادم تھے انکی وجہ سے یورپ میں ایک نظریاتی محاذ آرائی نے جنم لیا جس میں ایک طرف مذہبی اور دوسری طرف جدید ِ نظریات کے حامی تھے،مگر ثابت شدہ طبعی نظریات سے ٹکراؤ مذہبی عناصرکیلئے ممکن نہ تھا۔کیونکہ مذہبی نظریات صدیوں سے انسانی ذہن میں سرایت کئے ہوئے تھے لِہٰذا ان کو یکلخت نہیں نکالا جا سکتا تھامگر رفتہ رفتہ اُنکی گرفت کمزور پڑتی گئی ۔معاشرے میں اس تناؤ کا نتیجہ رفتہ رفتہ معتدل راہ کی شکل میں نکلنا شروع ہوا جس میں مذہب اور مذہبی نظریات کے دائرۂ عمل کو محدود کیا جانے لگا۔
نئے سائنسی و معاشرتی نظریات لادینیت کے پرچارِک تھے، معاشرے میں وَحی کی پیروی اور آسمانی کتاب کی برتری رفتہ رفتہ محدودہوتی گئی اور انسانی فِکر پرمبنی عملی نظریات نے فروغ پانا شروع کیا۔ مذہبی اداروں نے اپنے نظریات کی بقاء کی خاطر پسپائی اختیار کی اور اپنے آپ کو صرف عبادات اورعقائد تک محدود کرلیا۔ یہاں تک کہ مذہب کو ایک ذاتی معاملہ قرار دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں سیکولرازم، دہریت، آزاد خیالی، جمہوریت، تحریر وتقریر کی آزادی اور انسانی حقوق کے جدید نظریات نے اپنی جڑیں مضبوط کرنی شروع کیں اور اس حد تک طاقت پکڑلی کہ موجودہ دور میں بین الاقوامی قوانین کا اجراء اور اطلاق انہی نظریات کے تابع ہو گیا ہے۔
لیکن یہ بات قابل ِذکر ہے کہ سائنسی معلومات کے اضافے نے بعض مذہبی حلقوں کو پسپا توکیا لیکن اس سب کے باوجودسائنس خود بھی انسان کے مذکورہ بنیادی سوالات کے جوابات کے بارے میں مخمصوں کا شکار ہے اور اگر ہم گہرائی میں جا کر کائنات اور انسان کے حوالے سے جدید نظریات پر غور کریں تو یہ بھی ادھورے ہی ہیں۔
کائنات اور زندگی کے بارے میں بنیادی سوالات کہ:
زندگی اور کائنات کس طرح اور کیوں موجودہیں؟
اور یہ کہ انکا منبع یا Origin کیا ہے؟
انکا سائنس بھی کوئی واضح جواب دینے سے قاصر ہے کیونکہ سائنس محض ان چیزوں سے بحث کرتی ہے جو کہ صرف طبعی ہیں ،سائنس ہر غیر طبعی چیز سے منکر ہے اِلّا یہ کہ وہ اس کو خود دریافت کر لے۔

یہ بھی پڑھیں:   راستے روکنے کا کفر

حقائق: Realities

دنیا میں موجود ہر چیز ایک حقیقت ہی ہے، اگر سائنسی دریافتیں حقیقت ہیں تومذہب بھی ایسی حقیقت ہے جو کہ ہزاروں سال سے انسانی ذہن میں حکمرانی کر رہی ہے جسکو کسی بھی بنیاد پر رد نہیں کیا جاسکتا۔ گو کہ قدیم مذاہب اپنی قدامت پرستی اور مبہم نظریات کی وجہ سے جدید سائنسی علوم کی تشریح خالص مذہبی نقطہ نظرسے کرنے سے قاصر ہیں پھر بھی سوال یہ ہے کہ انسان اپنے ذہن میں پرورش پانے والے صدیوں پرانے ایسے خیالات سے کیوں فاصلہ کرلے جوبہت مضبوط اور گہری جڑیں رکھتے ہیں اور جن کی موجودگی ہی ایک حقیقت ہے۔

نظریہ: Ideology

نظریہ ایک نقطۂ نظرہوتا ہے جو کسی فلسفے کی بنیاد پر ہو۔ یہ مربوط اعمال کا مجموعہ ہوتا ہے کہ جسے عوام اور حکومت ایک معمول سمجھ کر اپناتے ہیں یعنی ایک ایسا نظریہ جو عوام النّاس کے معاملات سے متعلّق ہو۔ اسی وجہ سے یہ سیاست کا مرکزی اور محوری نقطہ ہوتا ہے۔ عموماً معاشروں میں ذاتی اور عوامی معاملات میں فرق ملحوظ رکھا جاتا ہے اس لیے نظریے کو خصوصی اہمیت ہوتی ہے کیونکہ کوئی بھی سیاسی اور معاشی پیش رفت نظریے کی بنیاد پر ہی ہوتی ہے۔ وہ نظریات جو مضبوط منطقی اور غیر مبہم بنیادوں پرقائم ہوتے ہیں وہ ہی معاشروں میں مثبت اقدار کو فروغ دیتے ہیں۔ غیر مبہم نظریات بالآخر ایک افراتفری اور معاشرتی اور معاشی بے راہ روی پر منتج ہوتے ہیں۔ جدید مستعمل نظریات پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو لبرل ازم، سوشلزم، سیکرلرازم اور جمہوریت وغیرہ کا زیادہ شہرہ ہے۔ آج کل کم و بیش انہی نظریات کا زیادہ تر معاشروں میں غلبہ اور چرچا ہے۔ ہم ان نظریات کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں کہ انکی فلسفیانہ بنیادیں کتنی مستحکم ہیں۔

لبرل ازم:

یہ نظریہ شخصی آزادی کا علمبردار ہے۔ یہ ہر شخص کے حقوق کا محافظ ہے سیاست میں اسکا محور انفرادی انسان ہے۔ لیکن مذہبی نظریات کو یہ دقیانوسی اور فرسودہ سمجھتے ہیں اور ان میں تبدیلی کی وکالت کرتے ہیں۔ یہ خدا کو ایک فعّال ہستی نہیں مانتا ہے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں  icon-hand-o-left مسلم ، لبرل اور سیکولر

سوشلزم:

یہ ایک معاشی اور معاشرتی نظام ہے جس میں معاشرہ تمام ذرائع پیدائش پر قابض ہوتا ہے اور تمام ذرائع مفاد ِعامّہ کی فلاح کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ سیاست میں عام طور پر اسکے حامیوں کی منزل یہی ہوتی ہے۔یہ خدا کا منکر ہے اور مذہب کا مخالف۔

یہ بھی پڑھیں:   چائے کے کپ سے موبائل فون چارج

سیکولرازم:

یہ ایک غیر جانبدار اور لا مذہب حکومت کا داعی ہے۔ یہ مذہب کو انسان کا ذاتی معاملہ قرار دیتا ہے اور انفرادی طور پر ہر شخص کے مذہبی حقوق کا محافظ ہوتا ہے۔ اسکی بنیاد بھی مادّی ہے اور خالص علمی پیرایوں میں اپنے نظریات اخذ کرتا ہے۔

جمہوریت:

اس میں اقتدار ِ اعلیٰ انسانوں کی اکثریت کے پاس ہوتا ہے۔ وہ اکثریت کی بنیاد پر کوئی بھی قانون سازی کرسکتے ہیں جس کی بنیاد مذہب بھی ہوسکتی ہے۔
اوپر مذکورہ جدید نظریات خدا کو اجتماعی زندگی سے خارج کرکے انسانوں کی بہبود کے لیے کوشاں تو ہیں لیکن کیا انسان اجتماعی فلاح پاگیا؟ یہ تمام نظریات بنیادی طور پر کسی مربوط فلسفۂ حیات کو پیش کرنے میں ناکام ہیں اور اپنی نظریاتی اساس جدید سائنس کی دریافتوں سے مستعار لیتے ہیں۔ کسی بھی قسم کی جوابدہی سے عاری یہ نظام صرف انسان کے اقتدار ِ اعلیٰ کے داعی ہیں۔ عیش، خوشحالی اور اقتدار کی فطری جبلّت کے ساتھ جب انسان خود ہی عقل ِکلُ بنتا ہے تو قوانین سازی میں انسان کی فلاح مدّ ِ نظر رکھی تو جاتی ہے لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ رفتہ رفتہ یہ آزادی اور طلب ِ عیش انسان کے گردموجود مضبوط خاندانی اور اخلاقی حصار کو تہہ و بالا کرنے لگتا ہے۔ گو کہ یہ تمام نظام انسان کی فلاح کے پیامبر ہیں لیکن حالیہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب انسان بنیادی عقائد کے حوالے سے ہر پابندی سے آزاد ہوا تو پھرخاندانی اور معاشرتی نظام میں تباہی اور خلفشار بڑھا۔ جب سے ان نظریات نے اقتدار پر قبضہ جمایا ہے انسانیت نے تاریخ کے سب سے گہرے زخم کھائے ہیں۔دنیا میں پچھلے ١٠٠ سال میں جتنی قتل و غارت گری ہوئی اور اب بھی ہورہی ہے اس کے ذمّہ دار انہی نظریات کے پرچارک ملیں گے جو دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنے کی دوڑ میں نیم پاگل ہوچکے ہیں۔ امن کے نام پر مہلک ترین ہتھیاروں کا استعمال اب معمول ہے جس میں لاتعداد بے گناہ مر جاتے ہیں۔ غیر ثابت شدہ سائنسی مفروضات یعنی ادھورے علوم پر اندھا یقین انکی نظریاتی بنیاد ہیں۔ ادھورے نظریے انسانوں کو ادھورے فائدے ہی پہنچائیں گے جو آج کل ہورہا ہے۔ انسان ابھی بھی جدیدیت کے علمبرداروں کی طرف سے زندگی کے بنیادی سوالات کے بارے میں مستند ترین جواب کا منتظر ہی ہے! یہ بات تو واضح ہے کہ قدیم مذہبی حلقے اورجدید سائنس اس دور کے اُبھرتے ہوئے سائنسی، نظریاتی اور فکری چیلنج کی روشنی میں خدا کائنات اور زندگی کے تعلّق کی گُتھی کو سُلجھانے میں ناکام رہے ہیں ان میں ایک سرد جنگ جاری ہے۔ خودسائنس بھی دریافتوں کے ایسے سفر پر گامزن ہے جس کی منزل کافی الحال کچھ پتہ نہیں۔
انسانوں میں اس نظریاتی ٹکراؤ کا حل اُسی صورت میں نکل سکتا ہے کہ جب مذہب اور سائنس کے علم بردار مل کر خالص علمی بنیادوں پر کھلے دل سے بنیادی سوالات کے صحیح جوابات تلاش کریں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اُس مشترک بنیاد کی تلاش کیسے کی جائے جہاں دونوں نظریات کی چھان بین ہوسکے اورمستند منطقی اور عقلی جوابات حاصل کیئے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ویلین ٹائن ڈے کا تاریخی پس منظر

جدید مذہب: Modern Religion

دراصل قدیم الوہی ہدایات وقتاً فوقتاً ایک مخصوص مدّت کے لیئے نازل ہوتی رہیں ہیں اورہزاروں برس پر پھیلی مذہبی روایات اور عقائد بھی گزرتے وقت کے ساتھ اپنے اندر حالات کے جبر سے غیر ضروری نظریاتی کثافتیں قبول کرتے رہے جسکی وجہ سے وحی کی ہدایات خالص نہ رہیں اور مذہب کے حوالے سے ابہام پیدا ہوئے۔اور اسی وجہ سے اکثر مذاہب زمانے کی ترقّی کے ساتھ اُبھرنے والے نظریات کوسمونے یا اُن کوعلمی طور پر رد کرنے کی صلاحیّت سے محروم ہو ئے۔

لیکن منطقی طور پہ اگر خالقِ کائنات حقیقتاً موجود ہے تو نہ صرف آسمانی ہدایات
کسی طور پہ بھی ادھوری نہیں ہو سکتی ہیں بلکہ موجودہ مذاہب میں خالق کا
حقیقی جدید نمائندہ مذہب کا موجود ہونا بھی لازمی ہے۔

ایسا مذہب جس میں جدید نظریات کو نہ صرف سمونے کی صلاحیت موجود ہو بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر غیر منطقی جدید نظریات کے کسی بھی طوفان کو قوّت کے ساتھ دھکیل دینے کی خاصیّت بھی ہو۔ ہمیں ایسے ہی مذہب کی تلاش کرنی ہے مگر یہ تلاش اسی وقت مثبت نتائج دے گی جب تمام عقلی دلائل عمومی منطق کی روشنی میں بغیر کسی تعصّب کے سائنسی بنیادوں پر استوار ہوں۔ ایسا ہی مذہبی نظریہ ہمیں سائنس کے مقابل ایک غیر طبعی اور عقلی پلیٹ فارم دے سکتا ہے جو حقائقِ کائنات کی تلاش کی سائنسی جدوجہد میں معاون ہوگا۔ اور اگر ہم ایسا مذہبی نظریہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں جو جدید دور کی سائنسی دریافتوں کونہ صرف سمونے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ انسانیت کے تمام بنیادی سوالات کا تسلّی بخش جواب بھی دیتا ہے تو بلاشبہ ہم اس مذہب کو ایک جدید اور سائنسی نظریۂ حیات قرار دے سکیں گے۔

Understanding The Divine Whispers کے اردو ورژن ”خدائی سرگوشیاں“ سے اقتباس


بارے مصنف کے:

مجیب الحق حقیجناب مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے سابقہ آفیسر ہیں۔ اسلام، جدید سائنس اور الحاد کے موضوع پر ان کی کتاب ”خدائی سرگوشیاں“ حال ہی میں انگریزی زبان میں شائع ہوئی ہے جس کا اردو ورژن بھی طباعت کے مراحل میں ہے۔

(197 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں