انسانوں کی دو قسمیں اور الحاد

سوال:

اگر اللہ نے اپنی مرضی سےکسی کو مسلم اور کسی کو نان مسلم پیدا کیا ، اور کل کو نان مسلمز کے نیک اعمال بھی قبول نہیں کرنے بلکہ انہیں ڈائریکٹ آگ میں ڈالنا ہےتو پھر وہ اپنے آپ کو رحمان ، رحیم اور عادل کیوں کہتا ہے۔ اگر مسلمز کو ہر حال میں جنت دینااور نان مسلمز کو عذاب دینا تھاتو نان مسلمز کو پیدا ہی کی کیوں کیا؟ کیا صرف اپنی طاقت جتانے؟آخر وہ کس قسم کی خدائی جتانا چاہتا ہے؟ اتنے بڑے ڈرامے کی ضرورت؟

جواب:

انسانوں کی دو قسموں سے اکثر واسطہ پڑتا ہے۔
ایک وہ لوگ جنہیں حقیقت میں حق کی تلاش ہوتی ہے اور وہ پوچھتے پھرتے ہیں کہ ان سے کہاں غلطی ہوئی ہے ؟ وہ رب تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کے بارے میں اللہ پاک کا وعدہ ہے کہ وہ ان کا ہاتھ پکڑے گا اور ان کو لازماً اپنے تک پہنچنے کا رستہ دکھائے گا اور اللہ یقیناً محسنین کے ساتھ ہے کوئی دور نہیں ہے (( والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا وان اللہ لمع المحسنین (العنکبوت 96 )) اس نے فرعون کے جادوگروں کی نیت بدلتے ہی ان کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور کچھ اس طرح پکڑا تھا کہ فرعون کی خوفناک دھمکیوں کے باوجود انہوں نے ایک جملہ کہہ کر اس کے سارے رعب داب پر پانی پھیر دیا تھا کہ لن ن‍ؤثرک علی ما جاءنا ، والذی فطرنا ، فاقض ما انت قاض ،، ہم تجھے اب اثر انداز نہ ہونے دیں گے اور ہر گز ترجیح نہ دیں گے اس پر جو ہمارے پاس کھل کر سامنے آ گیا ہے اور جس نے ہم کو بنایا ہے ،تو جو کر سکتا ہے کر لے تو ، تو صرف اس دنیائے فانی کے فیصلے کر سکتا ہے جبکہ اللہ بہترین آقا بھی ہے جس کی محبت اور انعام بھی دائمی ہے اور جس کا عذاب بھی دائمی ہے ،، قَالُوا لَنْ نُؤْثِرَكَ عَلَىٰ مَا جَاءَنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالَّذِي فَطَرَنَا ۖ فَاقْضِ مَا أَنْتَ قَاضٍ ۖ إِنَّمَا تَقْضِي هَٰذِهِ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا.( طہ - 72 )،، ظاھر ہے کہ جادوگروں میں یہ تبدیلی باھر سے موسی علیہ السلام کا کوئی فوری خطبہ سن کر نہیں آئی تھی بلکہ ان کے اپنے اندر کی سیٹنگز تبدیل ہوتے ہی وہ پیج ٹھک ٹھک کر کے کھلتے چلے گئے جو پچھلے 30 سال سے نہیں کھل سکے تھے اور جو علم ان کے اندر ہوتے ہوئے بھی ان کی مدد نہیں کر رھا تھا ، اندر کی نیت تبدیل ہوتے ہی ٹھک ٹھک کر کے Sequence میں لگنا شروع ہو گیا ،، خدا باھر سے نہیں اندر سے ملتا ہے اور خدا تک پہنچنے کا قریب ترین اور مختصر ترین رستہ خود انسان کے اپنے اندر واقع ہے ،، جو اس دروازے کو بند کر کے خدا کو ڈھونڈنے نکلتے ہیں وہ کبھی خدا تک نہیں پہنچ پاتے ؎
اپنے من کو بھول کر، سارا جہاں ڈھونڈا کئے
تم کہاں بیٹھے ہوئے تھے، ہم کہاں ڈھونڈا کئے
اللہ پاک نے اس مضمون کو بہترین اور مختصر ترین انداز مٰں سمجھایا ہے:
(( ﻓَﺈِﻧﱠﮭَﺎ ﻟَﺎ ﺗَﻌْﻤَﻰ اﻟْﺄَﺑْﺼَﺎرُ. وَﻟَﻜِﻦ ﺗَﻌْﻤَﻰ اﻟْﻘُﻠُﻮبُ. اﻟﱠﺘِﻲ ﻓِﻲ اﻟﺼﱡﺪُورِ.)) الحج ۔۔
جب دل اندھے ہو جاتے ہیں تو آنکھیں بھی رستہ دکھانا چھوڑ دیتی ہیں ،، پہلے نسخۃ سمجھایا ہے کہ زمین میں گھوم پھر کر باغیوں کے اجڑے ہوئے کنوئیں اور بے مکین محلات جا کر دیکھو تا کہ تمہاری دلوں کو عقل آئے تا کہ تم وحی کی پکار پر کان دھر سکو ،،
ھدایت طلبگار کے لئے بس ایک ہی کتاب کافی ہے ،، کتاب اللہ وہ اس کو پڑھنا شروع کر دے ،، ایوان ریڈلے کو سمجھ لگ گئ ہے تو یہ سمجھ اس سے بھی دور نہیں ہے ، جہاں کوئی بات سمجھ نہ لگے ہم بیٹھے ہیں 24 گھنٹے اسی کام کے لئے ہم سے رابطہ کیجئے ، ہم مدد کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔
دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ میں کافر ہونے جا رھا ہوں مجھے روک کر دکھاؤ ،،ان کا حال اس بچے کا سا ہے جو بستہ کلاس میں پھینک کر تنگ سے تنگ گرل میں سے ٹیڑھا میڑھا ہو کر نکل بھاگتا ہے ،، جناب دین کا معاملہ بڑا الگ ہے ، ہدایت کا ضابطہ طلب ہے (( و یہدی الیہ من ینیب ))،، اگر آپ کو ہدایت کی طلب نہیں تو یہ ہدایت آپ کو ملے گی بھی نہیں ، رزق بغیر طلب بھی مل جاتا ہے کیونکہ وہ مقدر ہے جبکہ ہدایت میں آپ کو آپشن دیا گیا ہے کہ من شاء فلیومن و من شاء فلیکفر ، جو چاہے وہ ایمان لائے جو چاہے کافر ہو جائے ،، جب کہ امیری اور غریبی میں ایسا نہیں فرمایا کہ جو چاہے وہ امیر ہو جائے اور جو چاہے وہ غریب ہو جائے ،، کوئی کچھ نہیں کرتا اور اس کی مٹی بھی سونا ہو جاتی ہے اور کوئی ہزار جتن کرتا ہے اور اس کا سونا بھی مٹی بنتا چلا جاتا ہے ،، اس ضابطے کو ثابت کرنے کے لئے اللہ پاک نے قرآن مثالوں سے بھر دیا ہے اور کوئی قریبی رشتہ چھوڑا نہیں کہ جس کی مثال دے کر سمجھایا نہ ہو کہ ہدایت بغیر طلب نہیں ملتی ،، آزر کو طلب نہیں تھی بیٹا نبی ہی نہیں نبیوں کا باپ ابوالانبیاء تھا ،مگر باپ کو نہیں ملی ،، نوح علیہ السلام کے بیٹے اور بیوی کو طلب نہیں تھی ،، باپ سے نہیں ملی ، بیوی کو شوہر سے نہیں ملی ،، لوط علیہ السلام کی بیوی کو اولی العزم رسول شوہر سے نہیں ملی ،، رحمۃ للعالمین کے تایا کو بھتیجے کے پڑوس میں رہ کر نہیں ملی۔
آپ کو طلب نہیں تو آپ کا باپ بھی رسول ہوتا تو آپ کو کبھی ہدایت نہ ملتی اگرچہ وحی کا دروازہ آپ کے گھر میں کھُلتا ، پھر ہم کون ہوتے ہیں آپ کو ہدایت دینے والے ،، آپ متکبر ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آپ کے ملحد یا مرتد ہو جانے سے اللہ پاک کا بہت نقصان ہو جائے گا لہذا اس کو زبردستی آپ کو مسلمان بنانا چاہئے کیونکہ آپ جیسا ہونٹ ٹیڑھے کر کے انگریزی بولنے والا رب کو ملے گا نہیں ،، آپ بھول گئے کہ کل آپ پیشاب میں تیرنے والا ایک دمدار کیڑا تھے ،، اور بس ،، اللہ پاک نے ٹھیک مرض پکڑا ہے ، جو لوگ ہماری آیات میں بغیر دلیل کے جھگڑتے ہیں ان کے دلوں میں تکبر ہے ، وہ اپنے کفر سے اللہ کو نقصان پہنچانے کی پوزیشن میں کبھی بھی نہیں پہنچ سکتے (( إِنَّ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَانٍ أَتَاهُمْ إِن فِي صُدُورِهِمْ إِلاَّ كِبْرٌ مَّا هُم بِبَالِغِيهِ ،،، غافر- 56 ))

یہ بھی پڑھیں:   سائنس اور مذہب کا تصادم

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو ساری صلاحتیں اس لئے دی گئ ہیں کہ آپ رات دن بیٹہ کر اللہ کی غلطیاں نکالا کریں اور ہم بیٹھ کر اللہ کا دفاع کیا کریں، تو ویری سوری سر! ہمارے پاس روحانی خودکشی کرنے والوں کے لئے وقت نہیں ہے ،ہماری خدمات ان کے لئے ہیں جو ڈوب رہے ہیں اور مدد کے لئے پکار رہے ہیں۔


قاری حنیف ڈار

(232 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

3 تبصرے

  1. qhanifdar says:

    جزاک اللہ بسمل بھائی

  2. Mujeeb Haqqie says:

    Splendid !

  3. Ejaz malik says:

    اتنے بڑے ڈرامے کی ضرورت
    لفظ ڈرامے کی جگہ مناسب لفظ استعمال کریں

تبصرہ کریں