انسان کی حقیقت اور اس کا مقصد

اگر کوئی بکری یہ کہے کہ میں بکری نہیں گھوڑا ہوں یا کوئی پلیٹ یہ سمجھے کہ میں پلیٹ نہیں چمچہ ہوں تو صرف ان کے کہنے یا سمجھنے سے ان کی حقیقت نہیں بدلے گی۔ بکری پھر بھی بکری ہی رہے گی اور پلیٹ بہرحال پلیٹ ہی رہے گی۔ عقلمندی سراب یا دھوکے میں جینا نہیں بلکہ اپنی حقیقت کو تسلیم کرلینے کا نام ہے۔ کسی بھی تخلیق کی حقیقت و مقصد اس کا بنانے والا ہی سب سے بہتر بتاسکتا ہے۔ اسی لیے مختلف تخلیق کار مینوفیکچرنگ کمپنیاں اپنی پروڈکٹ کا مقصد، حقیقت اور استمعال کو تفصیل سے بیان کرتی ہیں۔ الله رب العزت نے انسان کو تخلیق کیا ہے اور انہوں نے صاف الفاظ میں یہ بتادیا ہے کہ انسان کی حقیقت عبدیت ہے۔ اسے الله کا عبد بنایا گیا ہے اور اسی رعایت سے اس کا مقصد عبادت یعنی رب کی پرستش و اطاعت کرنا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے کلام پاک میں ان الفاظ سے بیان کیا گیا ہے ”اور ہم نے جن اور انسان کو نہیں پیدا کیا مگر اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں۔“
( سورہ حشر آیت ۱۹)

یہ بھی پڑھیں:   نماز میں بھگدڑ

خالق نے انسان کی حقیقت بتا دی۔ اب عقلمندی اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں ہے۔ اگر آج کوئی احمق اپنے عبدالله ہونے کا منکر ہوتا ہے تو اس سراب سے اس کی اپنی ذات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا مگر یہ حقیقت تبدیل نہ ہوگی کہ وہ عبد بنا کر بھیجا گیا ہے۔ ہمارے خوش یا غمگین ہونے سے یہ حق نہیں بدلتا کہ زمین گول ہے۔ کسی پر ظلم ہو یا کسی کو اعزاز ملے، اس سے یہ حق نہیں بدلتا کہ پانی حیات کے لیے ضروری ہے۔ ہمارے جذبات، احساسات یا حالات سے دنیا کا کوئی بھی حق تبدیل نہیں ہوتا۔ پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ کسی بشر کے چاہنے نہ چاہنے سے اس کی حقیقت بطورعبد تبدیل ہو جائے؟ یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ عبد اگر معبود کو تسلیم نہ کرے گا تو اپنی حقیقت ذات سے ہی اندھا ہو جائے گا۔ دیکھیے قران حکیم اس بات کو کیسے بلیغ انداز میں بیان کرتا ہے : ”اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی انہیں اپنی جانوں سے غافل کر دیا، اور ایسے ہی لوگ نافرمان ہوتے ہیں“۔
غور کیجییے ، یہ نہیں کہا گیا کہ انہوں نے الله کو بھلا دیا تو الله نے بھی انہیں بھلا دیا بلکہ یہ سمجھایا گیا کہ انہوں نے الله کو بھلا دیا تو الله نے انہیں ان کا اپنا آپ بھلا دیا! یعنی معبود کو فراموش کرنے کا لازمی نتیجہ عبد کا خود اپنی حقیقت سے غافل ہوجانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لوح محفوظ کے پروف ریڈرز

اس کا بڑا عملی مظاہرہ الحاد سے متاثر ان معاشروں میں واضح نظر آتا ہے جو انسان کیلئے ”شتر بے مہار“ جیسی آزادی کے طالب ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان اگر خالق کی غلامی پر راضی نہ ہو تب بھی آزاد نہیں رہ پاتا بلکہ عبدیت کے اس باطنی احساس کی تسکین کے لیے طرح طرح کی غلامیاں اختیار کرلیتا ہے۔ وہ کبھی کسی سیاستدان کو، کبھی کسی گلوکار یا فنکار کو، کبھی کسی کھیل یا کاروبار کو اور کبھی اپنی خواہشات نفس کو معبود بنا کر اس کی عبدیت اختیار کرلیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب مخلوق اپنی جیسی مخلوق کی عبادت کرتی ہے تو اس کا نتیجہ پستی، ذہنی انتشار اور روحانی فساد کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ اس کی امیدوں کا محل دیر یا سویر مسمار ہوجاتا ہے۔ اسی لئے علامہ نے کہا تھا

یہ بھی پڑھیں:   علمِ عَروض سبق ۱

یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

ایسے ہی دھوکے زدہ انسان کو کلام پاک میں کچھ یوں بیان کیا ہے:

اَفَرَایْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہ ھَوَاہ
”کیا تُم نے اُس شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟“

(322 مرتبہ دیکھا گیا)

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمان عثمانی اپنے مزاج کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہیں۔ بڑے بڑے موضوعات کو دو جمع دو چار کرکے سمجھانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں سے فیضیاب ہوتے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

3 تبصرے

  1. Najeeb Uddin says:

    Ma Sha Allah good one

  2. Ahmed Sohail Khan says:

    سبحان اللہ بہت ہی عمدہ ♥ مولا سلامت رکھے اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

تبصرہ کریں