انکشاف ڈاٹ ٹی وی

یہ واقعی خوشی کی بات ہے کہ ہم اردو یونی کوڈ مواد کی ترویج میں اب ایک قدم اور آگے بڑھ گئے ہیں۔ فیس بک پر اردو کی ترویج کے تخمینہ کی مزید کوئی ضرورت نہیں۔ یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ فیس بک کی محنت کو دیرپائی بخشنے کے لیے یہاں کی محنت کو مزید آگے بڑھانے کا کام بھی ضروری ہے۔ تاکہ یہ ساری محنت انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا سے باہر کی دنیا میں بھی منظرِ عام پر آسکے۔ اس سلسلے میں کئی سال سے کوششیں ہو رہی ہیں۔ اور اردو ویب سائٹ یا بلاگ اس کی بہترین صورتیں ہیں۔
گزشتہ دو تین سالوں میں بڑے پیمانے پر جو پیش رفت ہوئی اس میں وجاہت مسعود صاحب اور جاوید چودھری صاحبان کی نیوز سائٹس اہم کردار کی حامل ہیں۔ انٹرنیٹ پر اردو یونی کوڈ مواد جہاں اردو کی ترقی کا ضامن ہے وہیں یہ اردو بولنے اور سمجھنے والوں کے لیے آن لائن دنیا میں ایک وسیع جہان بنانے کا کردار بھی ادا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
اس مسئلے پر میں پہلے بھی گفتگو کر چکا ہوں کہ فیس بک اپنے تمام تر فوائد کے باوجود ادبی اور علمی مواد کو جمع کرنے اور اس پر بھروسہ کرنے کے لیے کوئی لائقِ اعتبار پلیٹ فارم نہیں۔ اس سلسلے میں نیوز سائٹس کے علاوہ ایسے پلیٹ فارمز کی بھی سخت ضرورت ہے جس کی ہر ڈور اور ہر دستی آپ کے اپنے ہاتھ میں ہو۔ پچھلے دنوں میں ایک تو سبوخ سید صاحب کی سائٹ سامنے آئی ہے۔ ایک اور ٹیم نے اس حوالے سے ڈیلی پڑھو نامی سائٹ کو لانچ کیا۔
اب ماشاء اللہ فاروقی صاحب نے انکشاف ڈاٹ ٹی وی کا آغاز کردیا ہے۔ سائٹ کو دیکھیے۔ مواد کی آرگنائزیشن کے حوالے سے نہ صرف ایک دل خوش کردینے والی کاوش ہے، بلکہ اردو یونی کوڈ کی دنیا میں ایک بہت بڑا مثبت اضافہ بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بچے کے لیے صرف ماں کا دودھ

Inkishaf

Inkishaf.Tv

ان کی اردو لکھنے والوں سے محبت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ وہ لکھنے والوں کے لیے اپنے سینے میں درد رکھتے ہیں۔ اور اس درد کا اظہار آپ کو اس تمام جد و جہد میں باآسانی نظر آتا ہے۔ سائٹ کے حوالے سے عرض کردوں کہ یہ اپنی بنیاد میں گو کہ ایک نیوز سائٹ ہے، لیکن یہاں آپ کو صرف نیوز نہیں ملے گی۔ اسے آپ ہائی ٹی پر قیاس کرکے "ہائی نیوز" سائٹ کہہ سکتے ہیں۔ جس طرح ہائی ٹی میں صرف چائے نہیں ہوتی اسی طرح یہاں آپ کو صرف خبریں نہیں، بلکہ دیگر لوازمات میں ادبی اور علمی تحریریں بھی میسر آئیں گی۔
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں انکے نیک مقاصد میں کامیابی عطا فرمائے۔ اور زبان ہذا کی ترقی و ترویج کا ذریعہ بنائے۔

یہ بھی پڑھیں:   دنیا میں آکے خلد کے مہمان بٹ گئے

(591 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. Yee website open nahi hoti

تبصرہ کریں