ایک غزل پر تنقید و تبصرہ

خود قتل کرکے خود ہی بنا ہے وہ مدعی
اے ہم نشیں تو یار کے یہ کاروبار دیکھ

اس قسم کا خیال کہ مرنے کے بعد یار کے جور کا شکوہ کیا جائے. روایتی شاعری میں تو اس خیال کی گنجائش بھی تھی اور اس کو اساتذہ نے خوب خوب باندھا بھی ہے. لیکن معاصر اردو ادب میں جبکہ دنیا تخیلاتی سے زیادہ واقعاتی بنیادوں پر اپنی ترجیحات متعین کرتی ہے. اب یہ ایک ایسی شاعرانہ بونگی شمار کی جاتی ہے. جو سامع کی سماعت کیلئے بجائے عارضی تلذذ کے اس کے تفنن کا ذریعہ بنتی ہے.
اسی شعر کے دوسرے مصرعے میں اگر کاروبار کو واحد باندھا جاتا تو خیال مزید نکھر سکتا تھا. میرا مطلب اگر یہ مصرعہ بجائے یوں ہوتا.

"اے ہم نشیں تو یار کا یہ کاروبار دیکھ "

کاروبار کے لفظ پر عرض کرونگا. کہ یار کے شاعر کو قتل کرنے کے بعد مدعی بن جانے کے اس پورے عمل پر یہاں کاروبار کا لفظ چست اور چسپاں ہونے میں تکلف کا سہارا لینا پڑتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد

اک نہر اس جگہ سے گزرتی ہے آج کل
رویا تھا میں جہاں کبھی زاروقطار دیکھ

اس شعر پر مختصرا اتنا عرض کروں گا. کہ شاعر یہاں اپنی اشکوں کی بلاخیزی اور رونے کی کثرت بیان کرنا چاہ رہا ہے. جس کو شاعر ان الفاظ میں بیان کررہا ہے کہ جہاں کبھی میں زاروقطار رویا تھا. وہاں اب نہر بن چکی ہے. دو طرح کے اشکالات یہاں ممکن ہیں.پہلا یہ کہ "جہاں کبھی" کے الفاظ ماضی بعید کو ظاہر کرتے ہیں. یعنی یہ کہ شاعر زمانہ قبل روچکا ہے. جب کہ نہر آج کل بہ رہی ہے. یہ بظاہر دو متضاد باتیں ہیں.

دوسرا اشکال یہ ممکن ہے نہر کا مبدء دریا ہوتا ہے. چنانچہ نَہر جو کہ عربی زبان کا لفظ ہے اس کی تعریف ہے

یہ بھی پڑھیں:   والدین اور اولاد میں فرق

"وہ ندی جو دریا سے کاٹ کر نکالی گئی ہو"

ملاحظہ فرمائیں جامع اردو لغت.

نکتہ اشکال یہ ہے کہ نہر کا مبدء دریا ہوتا ہے. ہم شاعر کی آنکھ کو دریا مان بھی لیںتے ہیں. لیکن قباحت یہ لازم آتی ہے فی الوقت شاعر خود وہاں موجود نہیں ہے. تو پھر وہ نہر کیسے بہ رہی ہے؟

مر کے فقیرِ شہر کی توقیر بڑھ گئی
چادر لحد پہ اس کی اور اس کا مزار دیکھ

غزل میں یہ ایک شعر ہے جو خیال اور لفظ دونوں حوالوں سے قابل گرفت نہیں ہے. عمدہ شعر ہے.

امجد ہیں اور کام بھی مجھ کو جہان میں
اے عشق ! اب یہاں سے تو راہِ فرار دیکھ

راہِ فرار کے لفظ پر نگہ اٹکتی ہے. کہ فرار ہمشہ کسی غیر پسندیدہ یا ڈرانے اور خوف دلانے والی شے سے فرار ہونے والا اپنی مرضی سے اختیار کرتا ہے. جبکہ یہاں عشق سے شاعر پریشانیء خاطر کا ذکر کررہا ہے. کہ مجھے اور بھی کام ہیں. تو فرار کا مستحق شاعر ہے. نہ کہ عشق.... عشق کو تو شاعر جھڑک رہا ہے. اور جھڑکنے کے بعد عشق کا شاعر کے در سے ذلیل ہوکر جانے کو بہر حال فرار نہیں کہا جا سکتا. فرار کے مفہوم میں مقابل خطرے سے بچ نکلنا بھی شامل ہے. اور اگر عشق جھڑکی کھاچکا ہے. تب وہ بچ نکلنے میں کامیاب تو نہیں ہوا.

یہ بھی پڑھیں:   علمِ عَروض سبق ۱

(114 مرتبہ دیکھا گیا)

شاد مردانوی

جنابِ شاد کے لیے اگر یہ کہا جائے کہ وہ چلتی پھرتی لغت ہیں تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ان کی اردو در اصل اردو نہیں بلکہ معرب و مفرس کسی ماورائے اردو شئے کی تارید کہی جاسکتی ہے۔ علم دوست ہونے کے ساتھ ساتھ منکسر المزاج بھی ہیں اور مطالعے کو اوڑھنا بچھونا رکھتے ہیں۔ ان کی ہنر کاری ان کی تحریروں سے عیاں ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

5 تبصرے

  1. sana faisal says:

    hashr nashr kia, or kia umdha kia... jeety rahye

  2. سہیل امجد says:

    مردانوی صاحب! کیا تیا پانچہ فرمایا ہے آپ نے غزل کا ۔۔۔

    • shadmardanvi says:

      غلطی ہو گئی سر... بچہ سمجھ کر معاف فرمائیں.... آئندہ نہیں کرونگا 😛

      • ghani says:

        shad sahab pele sher man shaair qatl krne or muddaee banne ki bat kr raha ha yani ye do alag alag kaam han yahi wajah ha ke us ne 'karobar ko jama bandha ha wese aap behtar samajhte han

تبصرہ کریں