ایک موہوم سی کوشش

پسِ منظر

آنکھ کھولی تو معاشرے کو پرکھنے کی تمیز نہیں تھی۔ شعور نہیں تھا۔ اب بھی نہیں ہے۔ لیکن تخیل سے ابھرتے پیچیدہ ترددات اور فکری بے خودی کی چیستانیں سلجھانے کے مواقع مجھے نو عمری میں ہی میسر آگئے۔ یہ صرف سراسیمگی کا نوحہ نہیں بلکہ ایسی جیتی جاگتی حقیقت تھی جسے میں نے بذاتِ خود جیا تھا۔ اور جی رہا ہوں۔ ایک طویل عرصہ گزرا ہے جب دنیا سے کہیں دور کمرے میں بیٹھا میں ہوتا تھا اور دیر رات تک میرے ساتھ جاگتی کتابیں۔ بلکہ نہیں۔ کتابیں جاگتی نہیں ہیں۔ وہ تو ہماری ہی ستم گری اور جبر سے دوچار و لاچار لبیک! کے نعروں میں مصروف ہوتی ہیں ناں؟ کچھ ایسا ہی تھا جو میرے ساتھ ہو رہا تھا۔ میں شاید خود سے بھاگنے کی سعیِ لاحاصل میں مصروف تھا۔ تفصیل کی گنجائش نہیں۔ یا شاید میں لکھنا نہیں چاہ رہا۔ متردد ہوں کہ کیا لکھوں اور کیا چھوڑ دوں۔ جو اور جیسا کی بنیاد پر میں نے وہ وقت گزارا۔ ہم سب ہی یہی کرتے ہیں۔ وقت گزار دیتے ہیں۔ کٹھن سے کٹھن وقت بھی۔ بے قرار، بے چین، مضطرب، مشکل، ناممکن، قیامت۔ ہر وقت ہی گزر جاتا ہے۔ مجھ پر جو گزرا وہ کیا وقت تھا؟ میں اسے کوئی نام نہیں دے سکتا۔ لیکن وہ گزر گیا۔ اسے گزرنا ہی تو تھا۔ اور وقت کی سب سے اچھی بات یہی تو تھی کہ وہ گزر گیا۔ ؎

بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی

لیکن جاتے جاتے بہت کچھ بطورِ سوغات چھوڑ گیا۔ وہ میرے جاگنے کا دور تھا۔ کیونکہ اس کے بعد میں کبھی سو نہیں سکا۔ گو آنکھیں اب بھی بند کرتا ہوں۔ نیند اب بھی آجاتی ہے۔
بہر حال اس دور نے مجھے کئی حالات اور کئی مزاجوں سے روشناس کروایا۔ کئی مراحل پر ہار مانی۔ کئی پر جیت ہوئی۔ لیکن وہ سب میری تربیت کا ماحول تھا جو مجھے قدرت نے فراہم کیا تھا۔ مجموعی صورت یہ ہوئی کہ طبیعت میں طمانیت پیدا ہوئی۔ ایسی طمانیت جو مجھے دوڑتے رہنے پر آمادہ کرچکی تھی۔ سوچتے رہنے کی راہیں فراہم کر رہی تھی۔

یہ ویب سائٹ اسی کوشش کی ایک منظم شکل ہے جو میں اپنی فکری تسکین کی خاطر سرِ عام رکھ رہا ہوں۔ تھمے ہوئے دریا میں کنکر سے طوفان لانے کی ایک موہوم سی کوشش ۔ اور اس میں آپ کا ساتھ میرے لیے ناگزیر ہے۔ آپ کا لکھا ہوا ایک ایک لفظ میری اس کوشش کو ایک قدم آگے بڑھانے کا کردار ادا کرے گا۔ یہ ویب سائٹ ہر اس شخص کے نام ہے جو جامِ علم و آگاہی اور فکر کے بارِ گراں سے کسی بھی طور دو چار ہوا ہے۔

خادم: مزمل شیخ بسملؔ

(110 مرتبہ دیکھا گیا)