بحر الفصاحت از مولوی نجم الغنی خاں رام پوری

بحر الفصاحت نامی یہ کتاب اپنے موضوع کے حساب سے اردو ادب کی وہ شہرہ آفاق اور مایہ ناز کتاب ہے کہ جامعیت میں اس کتاب کے مقابلے پر ٹکنے والی کتابیں شاذ و نادر ہی نظر آسکتی ہیں۔

بحر الفصاحت پنجاب یونیورسٹی کے فاضلِ ادب کے امتحان کی درسی کتابوں میں شامل رہی ہے۔ مولوی صاحب کی زندگی میں اس کتاب کے تین ایڈیشن شائع ہوئے۔ تیسرا ایڈیشن مولوی صاحب نے  سنہ ۱۹۲۷ء  میں کافی اضافات و ترامیم کے ساتھ تیار کیا تھا  جو کہ پھر مستقل جاری ہو گیا۔ یہ کتاب پڑھنے کے بعد قاری نہ صرف اردو بلکہ عربی و فارسی کے ادب کی راہ تک پہنچنے میں بھی بہت آسانی محسوس کرتا ہے۔ کتاب کا متن اس موضوع پر لکھی گئی دوسری کتابوں کے مقابلے میں نہایت آسان اور سہل ہے، اور سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ مولوی صاحب نے  زبان کے حوالے سے تمام تر  تضمنات کو جمع کرنے کی  پوری کوشش کی ہے جس میں وہ بہت بڑی حد تک کامیاب بھی ہو ئے ہیں۔

مولانا کا ایک مجموعی مزاج یہ ہے کہ وہ نظریات کے معاملے میں کافی سخت گیر واقع ہوئے ہیں۔ اور اردو کو ہندی کے مقابلے میں عربی اور فارسی کے ماتحت دیکھتے اور قبول کرتے  ہیں۔فنیات کے معاملے میں بھی مولوی صاحب  کا مزاج قدیم روایتی ہے جو کہ ان کے مجموعی ماحول، تعلیم اور رہن سہن کا ایک لازمی نتیجہ بھی تھا۔ مولوی صاحب  آزاد نظم کے حوالے سے ایک جگہ لکھتے ہیں:

یہ بھی پڑھیں:   کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے؟

"یورپ میں بلینک ورس یعنی غیر مقفیٰ نظم کا بنسبت مقفیٰ کے زیادہ رواج ہے۔ اس قسم کے تمام کلام اصطلاح کی رو سے نثرِ مرجز میں داخل ہونے کے قابل ہیں۔ ان کو نظم میں داخل کرنا فنِ انشا پردازی عربی،  فارسی، اور اردو کے خلاف ہے۔  یہاں انگریزی کا قاعدہ چلانا گویا مقررہ اصطلاحِ فن کے گلے پر چھری چلانا ہے۔"

بہر حال۔ مولوی نجم الغنی نے بحر الفصاحت نامی اس فنی خزانے کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ اور دیباچے میں ان پانچ حصوں میں بیان کردہ مباحث کا خاکہ خود مولوی صاحب نے دیا  ہے جس میں ایک صدف اور چار جزیرے ہیں۔

۱۔ صدف: یہ حصہ حقیقت ِشاعری پر ہے جس میں مولوی صاحب نے عربی، فارسی اور اردو شاعری، ان زبانوں میں شعر کی کیفیت، جواز اور عدم جواز پر بحث کی گئی ہے۔ صدف کے چھ موتی ہیں۔ پہلا موتی شعر کی ایجاد، جواز و عدم پر۔ دوسرا موتی اردو شعر کی حقیقت اور ریختے کے بیان میں ۔ تیسرا موتی شعر کی تعریف کے حوالے سے۔ چوتھا موتی شعر کی قسموں کے حوالے سے۔ پانچواں موتی نظم کی اقسام اور ان کی نسبت سے اشعار کی قسموں کے بیان میں۔  چھٹا موتی مضمون کے اعتبار سے نظم کی قسموں کے بیان میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اداسیوں کے عواطف

۲۔ پہلا جزیرہ: یہ حصہ علمِ عروض کے بیان میں ہے۔ اس حصے میں عروضی حوالے سے تفصیلی بحث  کی گئی ہے اور اسے مزید چھ شہروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا شہر بحروں کی ایجاد۔ دوسراشہر  ارکانِ بحر، اور بحر کے دائروں کے حوالے سے بحث کرتا ہے۔ تیسرا شہر زحافات کے حوالے سے۔ چوتھا شہر تقطیع کے بیان میں۔ پانچواں شہر بحروں کی تفصیل۔ اور چھٹا شہر رباعی کے بیان میں۔

۳۔ دوسرا جزیرہ: یہ حصہ  علمِ قافیہ کی تفصیل بیان کرتا ہے جس کے مزید پانچ شہر ہیں۔ پہلا حروفِ قافیہ، پھر حرکاتِ حروفِ قافیہ، اس کے بعد  عیوبِ قافیہ،  پھر اقسامِ قافیہ باعتبارِ وزن اور آخر میں  ردیف کا بیان۔

یہ بھی پڑھیں:   کن فیکون اور تخلیقِ عالم

۴۔ تیسرا جزیرہ: یہ حصہ فصاحت و بلاغت کے حوالے سے ہے۔ اور اس کے مزید تین شہر ہیں جو پھر کئی باغات، اور چمنوں  میں تقسیم ہوتے ہیں۔  پہلا شہر علمِ معانی۔ دوسرا شہر علمِ بیان۔ دوسرا شہرعلمِ بدیع کے احوال میں ہے۔

۵۔ چوتھا جزیرہ:  اس حصے میں ایک شہر اور دو صحرا ہیں۔  شہر اقسامِ نثر کے حوالے سے۔ پہلا صحرا  عیوبِ کلام اور دوسرا صحرا سرقاتِ شاعری کے بیان میں ہے۔

مندرجہ ذیل لنک سے بحر الفصاحت ڈاؤنلوڈ کریں اور ناقص کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔

 بحر الفصاحت ڈاؤنلوڈ

ڈاؤنلوڈ کریں

(892 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

12 تبصرے

  1. محمد اسامہ سرسری says:

    مزمل بھائی! اللہ آپ کو اس تعاون پر اپنی نعمتوں سے مالا مال کردے۔

    • مزمل شیخ بسمل says:

      آمین۔ جزاک اللہ خیر۔ اللہ آپ کو بھی دین و دنیا کی کامیابیاں عطا کرے۔

  2. محمد اسامہ سرسری says:

    آمین!

  3. محمد سمیع اللہ حامد says:

    مزمل بھای اللہ پاک آپکو انتہائ جزاۓ خیر عطا فرماۓ۔ بہت خوبصورت ویب سایٹ اور انتہائ قیمتی مواد۔ بحرالفصاحت ڈاؤنلوڈ کر لی ہے الحمداللہ

  4. کافی دنوں سے مولوی نجم الغنی رامپوری صاحب کی کتاب بحر الفصاحت کی تلاش تھی آپ کی ویب سائٹ پر مل گئی بہت شکر گزار ہوں سلامتی اور ڈھیر ساری دعائیں

  5. ندیم says:

    سلامت رہیں بھائی
    اللہ آپکو جزائے خیر دے

  6. ABDUL SALAM says:

    بحر الفصاحت کہیں بھی نہیں مل رہی تھی۔ آپ کا بے حد شکریہ۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ میراایک چھوٹا سا بلاگ ہے اردو محل کے نام سے۔ اسے بہتر بنانے میں آپ کی مدد کس طرح حاصل کر سکتا ہوں برائے کرم مطلع فرمائیں۔

  7. خالد محمود says:

    جناب بحر الفصاحت کا حصہ دوم اگر ہو سکے تو بھیج دیں۔ نوازش ہو گی۔ یہ میر ای میل ایڈریس ہے ۔ اس پر بھیج سکیں تو بھیج دیں یا پھر ای میل میں اس کا لنک بھیج دیں۔
    khalidsaqi66@gmail.com

تبصرہ کریں