بگ بینگ: ایک نقطۂ نظر

کائنات کی تخلیق کی پہیلی کو بوجھتے ہوئے انسان اب بگ بینگ (Big-Bang) کے نظریے پر پہنچا ہے جبکہ قران زمین اور آسمان کے یکجا ہونے کا اشارہ ۱۴۰۰ سال پیشتر دے چکا ہے! یہ واضح رہے کہ قران نہ بگ بینگ کی تصدیق کررہا ہے اور نہ ہی مسترد بلکہ ان منکرین کو جواس کی حقیقت کی جستجو میں ہیں صرف ایک اشارہ دے رہا ہے کہ کیا اُنہوں نے جوکہ جو ایمان نہیں رکھتے، دیکھا نہیں کہ یہ باہم ملے ہوئے یا بند تھے؟ قران: (سورۃ ۲۱، آیت ۳۰)
”کیا وہ جو ایمان نہیں رکھتے ، انہوں نے دیکھا نہیں کہ زمین اور آسمان بندتھے ، پھر ہم نے انہیں کھول دیا“

یہ آیت بظاہر دورِ حاضر یا مستقبلِ قریب کے افراد کے لیئے ہی لگتی ہے۔یہ عجیب کِنائے کا پیش گوئی کرتا ہوا خطاب ہے کہ تخلیق کے عُقدے کے حل کی جستجومیں منکرین ہی یہاں تک پہنچیں گے! کیا ایسا نہیں ہورہا؟
آئیں بگ بینگ کے نظریئے کے حوالے سے اٹھنے والے چند ضروری نکات کا غیر علمی اور کامن سینس سے جائزہ لیں۔

اس تھیوری کے مطابق بگ بینگ کے بعد کائنات میں شدید گرم ماحول تھا اور درجۂ حرارت بے انتہا تھا کہ تمام اجرام فلکی دھک رہے تھے جو بعد میں رفتہ رفتہ اربوں سال میں ٹھنڈے ہوئے یہاں تک کہ کیمیائی عمل سے پانی کا ظہور ہوا جس سے زندگی کی ابتدا ہوئی۔ اب یہاں ایک عجیب مخمصے والی صورتحال سامنے آتی ہے۔ عام طبعی قوانین کے تحت کوئی گرم چیز اسی وقت ٹھنڈی ہوتی ہے جب وہ کسی ٹھنڈے ماحول یا چیزسے متّصل ہو۔ تھرماس میں موجود گرم یا ٹھنڈی اشیاء کا رابطہ باہر سے منقطع کیا جاتا ہے یا ایک خلاء تخلیق کی جاتی ہے تبھی کوئی چیز اپنا درجۂ حرارت برقرار رکھتی ہیں۔ اسطرح اطراف میں خلاء کا ہونا تو ضمانت ہے کہ درجۂ حرارت یکساں رہے گا! مگربگ بینگ تھیوری میں یہ ایک بڑا جھول ہے۔ آخر دھکتے اجرام ِ فلکی کس قانون کے تحت ٹھنڈے ہوئے جبکہ Big-Bang کسی بھی وقت کے ماحول میں وقوع پذیر نہیں ہوا بلکہ سائنس کے مطابق وقت اسکے بعد شروع ہوا۔ اسی سائنسی نظریے کے مطابق اس وقت کچھ نہیں تھا مگر کچھ نہیں میں کوئی حرارت یا ٹھنڈک بھی نہیں ہوتی! اگر وہاں ٹھنڈک تھی تواسکا مطلب یہ ہوا کہ بگ بینگ سے باہر کچھ اور بھی تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   دعا سیریز 2: (کھانا کھانے کے بعد کی دعا)

بگ بینگ کے بعد کائنات کی تخلیق وقوع پذیر ہونے کے لیے یہاں منطقی طور پہ ایک یخ ماحول کی موجودگی سائنسی قوانین کی پیروی میں لازم ہے ورنہ اجرام کبھی ٹھنڈے نہ ہوتے۔لیکن دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اگر بیرونی ماحول یخ تھا تو وہ کسی برتر ماحول سے منسلک یا اسکا حصہ ہوگا، سوال یہی ابھرتا ہے کہ وہ برتر ماحول کیا تھا؟ مزید یہ کہ کائنات کے لیے جگہ Space کہاں سے آئی؟ جگہ Space کا ہونا بذات ِ خودایک فزیکل وجود ہے خواہ آپ اسے خلاء کا نام ہی دیں ورنہ وہ عدم اور nothing ہے جبکہ عدم کامطلب فزکس یا طبعیات کی نفی ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ کائنات کے پھیلاؤ کی وجہ سے تپش کم ہوئی تو مزید یہ کہ کائنات کا پھیلنا کس ماحول کے اندر ہورہا ہے یعنی کائنات کی سرحد کے باہرکیا ہے اور کیوں ہے ۔ اب یقیناً سائنسدانوں نے اسکی سائنسی توجیہات دی ہونگی جو عام آدمی کی سمجھ سے باہر ہی ہونگی ۔ یہاں تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ بگ بینگ ایک پہلے سے تخلیق شدہ ماحول (وجودیت)کے اندر وقوع پذیر ہوا۔ قران کے الفاظ یہی تاثّر لیے ہوئے ہیں کہ زمین اور آسمان جدا کیے گئے گویا انسان کے حوالے سے ایک مخصوص محدود وجودیت کی تخلیق کے بعداسکے اندر تخلیق ِ کائنات ہوئی ۔ یہاں خالق خود اشارہ دے رہا ہے کہ میں اس ماحول کے اندر نہیں بلکہ باہر ہوں۔
لیکن منکرین کے لیئے سوالات ضرور ہیں کہ :
عدم سے اچانک ظاہر ہونے والا بگ بینگ لاتعداد علوم لیے کیوں عیاں ہوا؟
اسکے ہر گوشے بلکہ ذرّے ذرّے کی وضاحت کے لیے الگ الگ علوم کہاں سے عدم میں وارد ہوئے؟
حسابی اور الجبرا کے قوانین جن پر کائنات کی قوّتیں عمل پیرا ہیں آخر وہ کیونکر ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   سائنس کی حتمیت

میری ناقص رائے میں قران کا انسان کے حوالے سے خطاب اسی شعوری وجودیت کے دائرے کے اندر ہے! جبکہ ماورائے شعور وجودیت کے پیمانے عدم میں بہت مختلف ہو سکتے ہیں۔


بارے مصنف کے:

مجیب الحق حقیجناب مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے سابقہ آفیسر ہیں۔ اسلام، جدید سائنس اور الحاد کے موضوع پر ان کی کتاب ”The Divine Whispers“ حال ہی میں انگریزی زبان میں شائع ہوئی ہے جس کا اردو ورژن بھی طباعت کے مراحل میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   قانونِ کائنات اور ملحدین

(303 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. السلام علیکم:

    اس کے علاوہ بھی سورۃ الانبیاء کی آیت نمبر 30 میں اللہ نے فرمایا ہے:

    أولم ير الذين كفروا أن السماوات والأرض كانتا رتقا ففتقناهما وجعلنا من الماء كل شيء حي أفلا يؤمنون

    کیا کافر لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان وزمین باہم ملے جلے تھے پھر ہم نے انہیں جدا کیا اور ہر زنده چیز کو ہم نے پانی سے پیدا کیا، کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں ﻻتے۔

تبصرہ کریں