بھکاری بن کے آیا ہوں

دو ہزار گیارہ دس ربیع الاوّل کی رات والد صاحب کے ایک دوست مجھے ایک بنگلے میں لے گئے جہاں سیرت کے حوالے سے پرگرام رکھا گیا تھا۔ مجھے نعت پڑھنی تھی۔ مجھ سمیت تین چار اور بھی لوگ جو آقا کی شان میں مدح سرائی فرماتے رہے تھے۔اُن میں ایک جنید جمشید تھا جسے میں پہلی بار صرف دو فٹ کے فاصلے پر ذندہ دیکھ رہا تھا.

"شخصیّت لباس کی محتاج ہوتی ہے"

یہ جملہ اس دن سمجھ آیا جب جنید کو بہترین ٹوپی،عمدہ کوٹ،منفرد لباس اور اعلی قسم کی خوشبو میں مہکتے دیکھا۔اُسکا اسٹائل اتنا وی آئی پی تھا کہ کوئی کمی معلوم نا ہوتی تھی۔ داڑھی چہرے پر اور چہرہ داڑھی پر اس قدر جچتا تھا کہ دیکھنے والا کچھ لمحے تو نظریں ہٹانا بھول بیٹھے۔

میری بحث اس پر نہیں کہ یہ اسکا اسٹائل تھا یا عیّاشی کی آخری حد !!

میرے نزدیک وہ اس لائق تھا کہ اعلی و عمدہ لباس میں خود کو ڈھانپے۔ ہو سکتا ہے کوئی اسکی وضع قطع کو فضولیات میں شمار کرتا ہو۔یا پھر جنید کی مقبولیت پر جلتا رہتا ہو۔

زاوئیہ ہر ایک کا اپنا ہے۔تولنے کا پرکھنے کا انداز بھی ہر ایک کا اپنا ہے۔ تولنے والوں کو اجازت ہے کہ وہ تفصیل سے تولیں۔تاکہ میانہ روی کے نعرے لگانے والوں کو سانس لینے میں دشواری نا ہو۔

پروگرام کے بعد کوئی پندرہ منٹ ملے جس میں جنید جمشید سے سلام دعا کے بعد روایتی سی گفگتو ہوئی۔اُس مختصر سی گفتگو نے میرے دل پر اس قدر اثر ڈالا کہ آج بھی مجھے انکے اخلاق و محبت کی منقّش چادر میں لپٹے حسیں جملے نہیں بھولے۔میں عمر میں اُن سے بہت چھوٹا تھا مگر انہوں نے پوری گفتگو میں جو عرفان بھائی کہہ کر مخاطب کیا گویا دل پر اپنی یادوں کا اک سلسلہ چھوڑا۔میرے کہنے پر بلا اٹیٹیوڈ دو بول نعت کے سنائے۔

وہ اتنا بااثر شخص تھا کہ سمجھدار آدمی اس سے مل کر چند ہی لمحوں میں خوب اندازہ کرسکتا کہ وہ کس قدر اخلاق و عاجزی کا پیکر تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   میں کچھ نہیں جانتا

افسوس کہ ناسمجھ طبقہ خوامخواہ اپنی توانائی ضائع کرتا رہا۔وہ ذندہ تھا تب بھی اِن بیوقوفوں کے دل میں کھٹکتا تھا۔وہ نہیں ہے تو اسکی مقبولیت سے جلنے والے لوگ آج بھی اپنی اپنی طاقت کے مطابق خوامخواہ کا شور برپا کیے ہوئے ہیں۔

اور ہمارے ہاں تو ایک عجب دستور رائج ہوتا جارہا ہے کہ اچانک ہونے والے حادثات میں، جہاں ہر ذندہ دل شخص غم سے چُور ہوتا ہے وہاں چند مردہ دل لوگ گروہ کی شکل میں پھوٹی کوڑیوں کے عوض بکتے نظر آتے ہیں۔

ممتاز قادری سے لے کر اب تک کی شہادتوں پر ہونے والے تبصروں سے انداذہ لگا لیجیے کہ کس قدر گھٹیا اور ناپاک سوچ کے مالک لوگ ہمارے اردگرد موجود ہیں۔

یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا کوئی مذہب کوئی مسلک کوئی عقیدہ نہیں ہوتا۔ یہ لوگ بس غم میں ڈوبی انسانیت کو مزید غموں میں جھونکنے کا کام کرتے ہیں۔ مقصد حقائق سے آگاہ کرنا نہیں بلکہ عوام کو منتشر کرتے ہوئے اپنی گھٹیا سوچ کا پرچار ہوتا ہے۔ اس طرح کے واقعات پر دھمال ڈالنے سے انہیں شاید دلی سکون ملتا ہے۔ یا پھر چند ٹکڑے جن پر یہ پلتے بڑھتے ہیں !!

شکر ہے اللہ کی ذات کا جس نے اب بھی ملکِ پاکستان میں ایسے لوگ باقی رکھے کہ جن کے پہلو میں دھڑکتے دل آج بھی احساس سے خالی نہیں۔ بدقسمت سمجھتا ہوں میں ان لوگوں کو جو مسلک و مذہب کو ڈھال بناتے ہوئے نسلی حماقت پر اتر آتے ہیں۔

اوراقِ ماضی پلٹیں تو دل خون رونے لگتا ہے۔ کہ اس قدر ذلیل سوچ بھی ہمارے لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ ایسے لوگ جنکا سچ جھوٹ سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ انکا مقصد صرف و صرف غموں کو ہوا دینا اور مسلمانوں کے زخمی سینوں پر لفظوں کے مزید وار کرنا اور آرام سے بیٹھ کر تماشہ دیکھنا ہوتا ہے۔ لیکن بحمد اللّہ یہ لوگ آج تک ناکامی کے سوا کچھ نا پا سکے۔

جنید کو ہی دیکھ لیجیے۔ کوئی اسکی مہنگی ٹوپی پر تنقید کرتا، تو کوئی مہنگے لباس کو داغ دار کرنے کی ناکام کوشش کرتا۔کوئی ماں بہن کی ننگی گالیاں دیتا اور کوئی تو دھّکے دینے تک آجاتا۔کبھی کبھی تو اس قدر ذہنوں کو منتشر کردیا جاتا تھا کہ دل میں جنید کے لیے سوالات اٹھنے لگتے تھے۔منافقین کی سن سن کر تھک جاتے تو سب کی نظریں جنید پر ہوتی تھیں۔اور جنید ہمیشہ کی طرح ہاتھ جوڑے اپنی کوتاہئیوں کی معافی مانگتا نظر آتا۔کبھی اس نے اپنی غلطیوں پر دلیلیں پیش کرتے ہوئے خود کو اونچا نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   ویلین ٹائن ڈے کا تاریخی پس منظر

کافر کہا گیا،یہاں تک کہ اُسکی حیاء پر انگلیاں اٹھیں اور ناجانے کیا کیا نا کیا گیا !!

وہ دونوں ہاتھ جوڑے اپنی غلطیوں کی معافی مانگتا رہا۔ سب سہتا رہا،ہنستا رہا،مسکراتا رہا۔وہ جنید جو غلطی سے ہوجانے والی غلطیوں پر بھی روتا نظر آتا،.اس سے کبھی کسی نے معافی نا مانگی لیکن اسکا دل ایسا تھا کہ خود پر ہاتھ اٹھانے والوں کو بھی مسکرا کر معاف کردیتا۔

شاید کبھی تنہائی کے لمحوں میں جنید ان جملوں کا ورد بھی کرتا ہوگا۔

یہ لب اب کرب سے دُکھنے لگے ہیں

خداوند اب کہاں تک مسکراؤں میں

ہے کوئی ایسا ؟؟

اتنے اعلی اخلاق کا مالک!!

ہے کسی کے پہلو میں جنید سا دل؟؟

کل قیامت کے دن جب صرف سچ ہی سچ ہوگا۔ تب جنید کی گواہی دینے والے بےشمار لوگ کہتے ہونگے۔ کہ اللہ ہماری آنکھوں نے دیکھا تھا یہ شخص کبھی تیرے دین سے بھٹکا نہیں تھا،کبھی شرک نہیں کیا، یہ تو وہ تھا جو دشمنوں کو بھی دعا دیتا تھا،اس کے پاس کیا نا تھا۔سب کچھ تھا،۔وہ بدلا بھی تو لے سکتا تھا اور خوب لے سکتا تھا !!

مگر اے رب کریم یہ جنید کبھی مغرور نا ہوا، کبھی اپنی غلطیوں پر دلیل پیش کرتے ہوئے خود کو صحیح ثابت نہیں کیا۔

موت تو ہر ایک پر آنی ہے۔ مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی موت بھی خوبصورت ہوا کرتی ہے۔ اور اس سے خوبصورت موت اور کیا ہوگی بھلا!!

اللہ کی راہ میں نکلنا اور پھر لوٹ کر نا آنا تو صحابہ کرام کی صفت ہے۔ ناجانے کتنے لوگوں کی ھدایت کا سبب بنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   احساس کمتری

ہم اور کچھ نہیں جانتے۔بس اتنا جانتے ہیں کہ خوفِ خدا،.عاجزی اور اسلام پر ثابت قدمی جسے نصیب ہوجائے۔ وہ شخص اللّہ کے مقرّب بندوں میں سے ہوا کرتا ہے۔ بے شک جنید اللّہ کے مقرّب بندوں میں سے تھا۔

اچھی یادیں آنکھوں میں تب ہی نمی لاتی ہیں،.جب ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ہم اِن یادوں کو دوبارہ نہیں جی سکتے۔

آج جنازہ پڑھتے ہوئے دل پر ایک عجیب کیفیت طاری تھی۔ہجوم تھا جو ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔غم کی ایک فضاء تھی جو اچانک چھا سی گئی تھی۔دردِ دل تھا کہ بڑھتا جارہا تھا۔ہر آنکھ غم میں ڈوبی تھی۔سب کا جنید سب کو یونہی روتا ہوا چھوڑ کر اپنی آخری منزل کی جانب رواں دواں ہوا۔بھکاری بن کر رب کی چوکھٹ پر جانے کی آرزو لیے چل پڑا۔

حادثے اور بھی گزرے ہیں گراں مجھ پہ مگر

مرحلہ تجھ سے بچھڑنے کا مجھے مار گیا

بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی شرکت کی برکت سے اللّہ جنازے کی مغفرت فرما دیتے ہیں۔اور بعض جنازے ایسے ہوتے ہیں کہ شرکت کرنے والوں کی بھی اللّہ مغفرت فرمادیتے ہیں۔ مگر آج کی کیفیت کچھ عجیب تھی۔ جنازے والا بھی مبارک تھا اور شرکت کرنے والوں میں بھی کئی مبارک لوگ شامل تھے۔

وہ جسے لوگ پلکوں پر سجا کے رکھتے تھے۔ آج کندھوں پر اٹھائے من مٹی تلے دبانے لے چلے۔ شاید وہ آج بھی اپنی نعت کے یہ شعر پڑھتا ہوگا !!

تمہیں کچھ خبر ہے کہاں جارہا ہوں

رسولِ خدا ہیں وہاں جارہا ہوں

تمہیں کچھ خبر ہے میں کیا پارہا ہوں

محبت کا اُنکی مزہ پارہا ہوں۔

محمد عرفان السّعید

(103 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں