بین الاقوامی قانون

"دنیا میں جتنی بھی اچھی باتیں تھیں وہ کہی جاچکی ہیں بس ان پر عمل کرنا باقی ہے۔" کچھ دنوں پہلے انٹرنیشنل لا پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ انٹرنیشنل لا کے نام سے ایک موٹی سی کتاب پڑھی جو "ایس کے کپوری" نے لکھی ہے۔ اس کتاب میں وضاحت کی گئی ہے کہ انٹرنیشل لا کب معرض وجود میں آیا اور اس کا پس منظر کیا ہے۔ اس کی خوبیاں کیا ہیں۔ اسکی خامیاں کیا ہیں۔ ایک ملک کے دوسرے ملک کے ساتھ تعلقات کیسے ہونگے، دو ملکوں کے بیچ سرحدی معاملات کیا ہونگے، انٹرنیشنل لا کی خلاف ورزی کرنے پر کون سے اقدامات کیے جائیں گے اس کتاب کی ایک بات مجھے حد سے زیادہ پسند آئی وہ یہ کہ ایک ملک دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں بے جا مداخلت نہیں کرے گا۔ اپنی فوج دوسرے ملک کی اجازت کے بغیر نہیں بھیجے گا۔ اس قانون کو مرتب دینے والے زیادہ تر امریکی ہیں۔ دوسرے ملکوں کے لوگ بھی شامل ہیں لیکن زیادہ اثر اس قانون پر امریکہ کا ہے۔ یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں، قانون جو بھی مرتب کرے اگر وہ انسان کے بنیادی حقوق کے خلاف نہ ہو وہ قابل ستائش ہے، لیکن میرے نزدیک سب سے زیادہ خلاف ورزی امریکہ ہی کر رہا ہے اسی ایک بات کو لے لیجیے کہ ایک "ملک دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا" یہ ایک نہایت عمدہ اور قابل تعریف نکتہ ہے لیکن بدقسمتی سے ہم دیکھتے آرہے ہیں کہ امریکہ نے افغانستان میں کیا کیا۔ اعراق کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ فلسطین میں بھی امریکی اور اسرائیلی کاروائیاں جاری ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق ہی مذاکرات پہلا عمل ہے۔ جنگ سے انتہائی درجے میں انحراف کیا جائے گا کوشش کی جائے گی کہ مذاکرات سے مسائل حل ہو جائیں۔ یہاں کبھی معصوم لوگوں پر ڈرون گرائے جاتے ہیں، کبھی راکٹ حملے کئے جاتے ہیں، کبھی شام اور برما کے معصوم بچوں کے خون کو ہم دیکھ لیتے ہیں، فلسطین میں خون کی ہولی دیکھنے کو ملتی رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لسی - ہر پریشانی کا حل

بدقسمتی سے انٹرنیشل لا عمل میں نہیں لایا جاتا، امریکہ نہ اسرائیل نہ کوئی اور ملک سنجیدہ نظر آتا ہے انسانوں کا خون کرنا ایک نہایت آسان کام بن گیا ہے۔ مودودی صاحب نے کیا خوب لکھا ہے "کسی کتے نے آج تک دوسرے کتوں کو غلام نہیں بنایا، کسی مینڈک نے دوسرے مینڈکوں کی زبان بندی نہیں کی، یہ انسان ہی ہے جس نے اللہ کی ہدایت سے بے نیاز ہوکر جب اس کی دی ہوئی قوتوں سے کام لینا شروع کیا تو اپنی ہی جنس پر ظلم ڈھانے شروع کر دیے۔ جب سے انسان زمین پر موجود ہے اس وقت سے آج تک تمام حیوانات نے اتنے انسانوں کی اتنی جان نہیں لی ہے جتنی انسانوں نے صرف دوسری جنگ عظیم میں انسان کی جان لی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فی الواقع دوسرے انسانوں کے بنیادی حقوق کی کوئی تمیز نہیں ہے۔"

یہ بھی پڑھیں:   تقابل، موازنہ، قیاس اور ہمارے دعوے

زندہ رہنا ہر کسی کا حق ہے چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم۔ چاہے اس کا تعلق امریکہ سے ہو یا فلسطین، افغانستان، پاکستان یا کسی اور ملک سے ہو۔ ہر کسی کو جینے کا حق ہے اس حق کو ہم نہیں چھین سکتے۔ کیونکہ یہ حق دینے والے ہم نہیں ہیں تولینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ امریکہ، اسرائیل یہ ملک میرے نزدیک سب سے زیادہ اسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ نہ یونائیٹڈ نیشن سنجیدہ نظر آرہا ہے نہ یہ امریکہ اور دوسرے ممالک۔ بظاہر پریس کانفرنس، اخبارات اور اشتہارات میں یہ ممالک انسانی حقوق کی علم برداری کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن پس پردہ ہو کچھ اور رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   میں کچھ نہیں جانتا

بدقسمتی سے بین الاقوامی قانون کی جہاں خوبیاں ہیں وہاں ایک بڑی خامی یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون کو عمل میں لانے کے لئے کوئی Enforcement Agency نہیں ہے۔ امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت کر رہا ہے نہ وہ خود روک رہی ہے نہ کوئی اور ایکشن لیتا ہے۔ دنیا میں جتنی بھی اچھی باتیں تھیں وہ کہی جاچکی ہیں بس ان پر عمل کرنا باقی ہے۔


تحریر: فیاض الدین

(121 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں