تبلیغی جماعت - ایک مثبت جائزہ

اس تحریر کو پڑھنے سے پہلے یہ بات اچھے سے جان لیجیئے کہ میرا اپنا تعلق تبلیغی جماعت سے نہیں ہے. یہ بھی سچ ہے کہ میں جہاں ان کی کچھ اچھائیوں کا معترف ہوں وہاں کئی حوالوں سے ان سے اختلاف رکھتا ہوں. اس جماعت کے خلاف لکھنے یا بولنے والے آج آپ کو بکثرت دستیاب ہیں مگر شاذ ہی کوئی لکھاری آپ کو ایسا ملے گا جو اس جماعت پر لگے اعتراضات کا جواب دے یا کم سے کم اس جماعت کے محاسن ہی بیان کردے. تبلیغی جماعت آج بدقسمتی سے وہ مظلوم ملامتی طبقہ بن چکی ہے جو ہر عام و خاص مذھبی گروہ کی تنقید و عتاب کا نشانہ ہے. کمال یہ ہے کہ تبلیغی جماعت کسی بھی  تنقید اور اشتعال کے جواب میں اکثر خاموشی اختیار رکھتی ہے. ان مٹی کے مادھوؤں کو کوئی کتنا ہی کوس لے، گالیاں دے لے ، مزاق اڑا لے .. یہ جواب میں آپ کو مسکراتے نظر آئیں گے. اس ضمن میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ جتنی مقبولیت عوام الناس میں اس تبلیغی تحریک نے حاصل کی ہے ، اس کا عشر وعشیر بھی دیگر مقبول جماعتیں نہیں حاصل کر پائیں. یہ ایک بنیادی وجہ ہے کہ جب دوسری مذہبی جماعتیں اپنی پیش کردہ سوچ کو عوام میں وہ قبولیت نہیں دلوا پاتیں جو تبلیغی جماعت کے پاس ہے تو وہ اس جماعت سے لاشعوری طور پر خائف ہونے لگتی ہیں. ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ وہ اپنے فلسفہ اور دعوت کو مضبوط کرتے، تبلیغی جماعت کی کامیابی کے عوامل کا دیانتدارانہ تجزیہ کرتے اور پھر اپنی سوچ کے ابلاغ کو موثر بناتے. مگر افسوس کے اسکے برعکس وہ کرتے یہ ہیں کہ مائکروسکوپ لے کر تبلیغی جماعت میں کیڑے نکالنے لگتے ہیں. یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ میرا اشارہ علمی و مثبت تنقید کی جانب نہیں ہے بلکہ اس رویہ کی طرف ہے جہاں طعنہ و تشنیع کو ہتھیار بنالیا جاتا ہے.

 

طریقہ واردات اکثر یہ ہوا کرتا ہو کہ مختلف مذہبی گروہ پہلے پورے اخلاص سے یہ تقاضہ کرتے ہیں کہ تبلیغی جماعت اپنے منشور اور طریق کو یا تو ترک کر دے یا پھر اس میں ترمیم کرکے دین کا وہ نظریہ اپنا لیں جسے یہ پراخلاص ناقد گروہ دین کی ترجیح یا درست راستہ سمجھتا ہے. اب ظاہر ہے کہ ایسا ہونا قریب قریب ناممکن ہے. اپنے منشور و طریق کو ترک کرنے یا ترمیم کرنے کا مطالبہ اگر ان دیگر جماعتوں سے بھی کیا جائے تو یہ کبھی بھی اسے اپنے لئے تسلیم نہ کریں. اب جب یہاں دال نہیں گلتی اور وہ دیکھتے ہیں کہ تبلیغی جماعت انکی پیش کردہ سوچ کو نہیں اپنا رہی یا اپنا منہج نہیں تبدیل کررہی تو پھر ناراضگی اور الزامات کی بوچھاڑ ہونے لگتی ہے. کوئی گروہ پکارتا ہے کہ تبلیغی جماعت میں اتنے سارے لوگ ہیں تو یہ اسرئیل سے جہاد کیوں نہیں کرتے ؟ یا کشمیر کیوں نہیں آزاد کرواتے؟ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ انکی اتنی کثیر تعداد ہے پھر یہ خلافت کی واپسی کی کوشش کیوں نہیں کرتے ؟ تیسرا تحقیقی مزاج گروہ بولتا ہے کہ یہ سہہ روزہ وغیرہ چھوڑ کر کوئی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کیوں نہیں کھولتے ؟ .. غرض جتنے منہ اتنے مشورے، اتنی تنقید. یہاں وہ مسالک تو زیر بحث ہی نہیں ہیں جو تعصب کی پٹی باندھ کر صرف مسلکی عداوت کی بناء پر اس جماعت کے دشمن بنے رہتے ہیں. تبلیغی جماعت کا حال یہ ہے کہ یہ ہر قسم کی فرقہ پرستی سے خود کو دور رکھتی ہے ،لہٰذا یہ دیوبند سے تعلق کے باوجود کبھی تو علامہ طاہر القادری صاحب کے ساتھ بیٹھی ہوتی ہے تو کبھی اہل تشیعہ کی بارگاہ میں نماز ادا کرتی ہے. کبھی امام کعبہ کے ساتھ نظر آتی ہے تو کبھی نعمان علی خان جیسے نوجوان اہل علم کو گلے لگاتی ہے. اگر یہ بیچارے صرف تکفیری گروہوں کا نشانہ ہوتے تو شائد شکایت نہ ہوتی مگر حال یہ ہے کہ جدید و قدیم تمام دانشور اپنے منہج کے مطابق انہیں طرح طرح کے مشورے دیتے نظر آتے ہیں. لہٰذا ڈاکٹر اسرار احمد سے لے کر جاوید احمد غامدی صاحب تک اور پروفیسر رفیق اختر سے لے کر ڈاکٹر ذاکر نائیک تک الگ الگ زاویوں سے انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں. یہ دھیان رہے کہ جن بزرگوں کا نام درج کیا ہے ، یہ سب اس جماعت کے کسی نہ کسی درجہ میں معترف بھی ہیں اور اسکی بے پناہ مقبولیت کے قائل بھی.

یہ بھی پڑھیں:   خلافت کا قیام اور متفرق مسلم مکاتبِ فکر

.

یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ جو شخص، جماعت یا ادارہ جتنا مقبول ہوتا ہے ، اس کے ناقد اور دشمن بھی اتنے ہی کثیر ہوتے ہیں. دنیا بھر کے بینکوں میں پچھلے برس 'ایچ ایس بی سی' بینک کو مقبول ترین بینک قرار دیا گیا، مزیدار بات یہ ہے کہ سب سے زیادہ فراڈ کی کوشش بھی اسی بینک سے منسلک لوگوں کے ساتھ کی گئی. کمپیوٹر کی دنیا میں 'ونڈوز آپریٹنگ سسٹم' کو سب سے مقبول مانا جاتا ہے مگر لطف یہ ہے کہ سب سے زیادہ ہیکنگ اور وائرس کے حملے بھی اسی سافٹ ویئر کے خلاف ہوتے

ہیں. قصہ مختصر یہ کہ تنقید اور شکایات اکثر مقبولیت کا ضمیمہ بن کر آتی ہیں.

تبلیغی جماعت پر سب سے بڑا اعتراض شائد یہ کیا جاتا ہے کہ ان کے بیانات میں ضعیف ترین احادیث بھی بیان کردی جاتی ہیں. خود ان کی مقبول ترین کتاب 'فضائل اعمال' میں ایسی بہت سی احادیث درج ہیں جو روایت و درایت دونوں پر صحت کے اعتبار سے پورا نہیں اترتیں. جیسا کے میں نے گفتگو کے آغاز میں ہی درج کردیا تھا کہ میں خود تبلیغی جماعت کی کئی باتوں سے اختلاف رکھتا ہوں اور شائد یہ بتانا مناسب ہوگا کہ ان ضعیف احادیث کا بیان کرنا میرے ان سے اختلافات میں سرفہرست ہے. مگر سوال یہ ہے کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ یہ احادیث صحت کے اعتبار سے ٹھیک نہیں ؟ ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو اس جماعت کے بڑوں سے جاکر ملے ہوں اور اپنے اشکالات کے جواب طالبعلمانہ انداز میں جاننے چاہے ہوں ؟ اگر آپ تحقیق کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ تبلیغی جماعت اہل سنہ میں موجود علماء کی ایک مقبول رائے کے تحت ایسا کرتے ہیں. اس رائے کے مطابق جب دین کے 'اصول' بیان کئے جائیں گے تو لازمی ہے کہ ان کی بنیاد قران یا صحیح حدیث کی 'قطعی' بنیادوں پر استوار ہو. مگر جب ایک بار کوئی اصول قران و حدیث سے صریح طور پر ثابت ہوگیا تو اس کے 'فضائل' میں ضعیف احادیث یا دیگر سبق آموز قصے بھی بیان کے جا سکتے ہیں. اب مثال کے طور پر جنت کا ہونا اور اس میں ہر طرح کی خواہش کا پورا ہونا دین کے واضح نصوص سے ثابت ہے. اس کے حق میں قرانی آیات اور صحیح ترین احادیث موجود ہیں. اب جب جنت میں ہر نعمت ملنا ثابت ہوگیا تو اب جنت کے فضائل میں جو جو بھی احادیث یا واقعات حاصل ہوں گے ، تبلیغی جماعت اور اسی طرح کئی اور جماعتوں میں بے تکلف بیان کردیئے جائیں گے. وجہ وہی ہے کہ اب بات 'فضائل' کی ہے 'اصول یا ایمانیات' کی نہیں. اسی طرح نماز اور روزہ کا مقبول ترین عبادت ہونا قران و سنت سے اصول میں ثابت ہے. اب شوق پیدا کرنے کی غرض سے جو جو احادیث بھی ان عبادات کے 'فضائل' کو بیان کر رہی ہیں ، وہ بیان کر دی جائیں گی. اسی وجہ سے جب میرے جیسے سامع بناء تبلیغی جماعت کی اس اپروچ کو سمجھے بغیر 'حور' کے فضائل سنتے ہیں تو ناراض ہو جاتے ہیں. میں ہرگز یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ تبلیغی جماعت کی اس رائے سے اختلاف نہ کریں. میں بس اتنا کہہ رہا ہوں کہ پہلی بات یہ جان لیں کہ یہ رائے تبلیغی جماعت کی خود ساختہ نہیں ہے بلکہ اکابر میں رائج آراء میں سے ایک ہے. دوسری بات یہ سمجھ لیں کہ یہ ضعیف واقعات میری یا آپ کی طبیعت پر چاہے کتنے ہی گراں کیوں نہ گزریں مگر کم سے کم اتنی طمانیت ضرور دیتے ہیں کہ ان کے ذریعے دین کے 'اصول' متعین نہیں کئے جارہے بلکہ ان کا دائرہ 'فضائل' تک محدود ہے.

یہ بھی پڑھیں:   سالِ نو کے عزائم اور ہم

.

تبلیغی جماعت پر دوسرا مشہور اعتراض مولانا طارق جمیل کے حوالے سے یہ ہے کہ یہ صرف نامور ملکی شخصیتوں کو دعوت دیتے ہیں. یہ اعتراض بہت ہی کھوکھلا  اور بےبنیاد ہے. اس جماعت سے کمتر ترین واقفیت رکھنے والے بھی جانتے ہیں کہ مولانا طارق جمیل سمیت پوری تبلیغی جماعت ہر سطح پر تبلیغ کا اہتمام کرتی ہے. مچھیروں سے لے کر طالبعلموں تک، فوج سے لے کر کرکٹرز تک اور گلوکاروں سے لے کر طوائفوں تک ان کا پیغام ایک جیسی تندہی سے پہنچایا جاتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   دعا سیریز6: (مسجد سے نکلنے کی دعا)

.

ایک تیسرا اعتراض یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کو چھوڑ کر غیرمسلموں کو کیوں دین کی دعوت نہیں دیتے ؟ .. اس کا جواب مجھے تب ملا جب میں خود انگلینڈ میں غیرمسلوں کو دعوت دینے لگا. مجھے تبلیغ کے بھائیوں نے باقاعدہ کتب مہیا کی. اسی طرح میری ملاقات بحسن اتفاق ایک بزرگ شخصیت 'شیخ محمد جہانی' سے ہوئی جو تبلیغی جماعت سے وابستہ ہیں مگر ان کے ہاتھ پر روز تین سے چار لوگ اسلام قبول کرتے ہیں. لہٰذا یہ سوچنا کہ تبلیغی جماعت سے منسلک لوگ غیرمسلم افراد کی جانب بلکل توجہ نہیں کرتے، سراسر بےبنیاد ہے. یہ ضرور ہے کہ ان کی ترجیح پہلے اپنے مسلم بھائیوں کی اصلاح ہے

.

اسی طرح ایک چوتھا اعتراض یہ ہے کہ یہ سہہ روزہ یا چلہ وغیرہ بدعات ہیں. لیکن ان سے بات کیجیئے تو معلوم ہوگا کہ وہ اسے دین کا حصہ نہیں کہتے بلکہ اسے مباحات میں شمار کرتے ہیں. یہ ایک ترتیب ہے جو تجربہ اور اشاروں کی بنیاد پر بنائی گئی ہے. اس کے بارے میں تبلیغی جماعت کا یہ موقف ہرگز نہیں رہا ہے کہ اگر کوئی سہہ روزہ پر نہیں گیا تو وہ گنہگار شمار ہوگا. اس بات کی بھی بار بار تلقین کی جاتی ہے کہ اس تبلیغی ترتیب سے آپ کا خاندان متاثر نہ ہو.

.

ایک اور معروف اعتراض یہ ہے کہ تبلیغی جماعت تحقیق کیوں نہیں کرواتی. ایسا مطالبہ کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیئے کہ اس جماعت کے مقاصد کیا ہیں ؟ معلوم ہوگا کہ اس جماعت کا قیام اسلئے نہیں کیا گیا ہے کہ بڑے بڑے محققین پیدا کئے جاسکیں بلکہ اس کے وجود کا واحد مقصد لوگوں کو بنیادی باتوں کی جانب بلانا ہے. بیشمار لوگ پاکستان ، بنگلہ دیش، ہندوستان وغیرہ میں موجود ہیں جو کلمہ تک نہیں پڑھ سکتے. اس جماعت کا مقصد لوگوں کو بنیادی باتوں کی جانب بلانا ہے جیسے ارکان اسلام یا  اچھے اخلاق اور اس ضمن میں یہ بڑی حد تک کامیاب رہے ہیں

.

اعتراضات کی ایک طویل فہرست ہے جو مرتب کی جاسکتی ہے مگر طوالت کی بناء پر میں اتنے پر ہی اکتفاء کرتا ہوں. اختلاف کیجیئے ، ضرور کیجیئے مگر جہاں اس جماعت پر تنقید کا حوصلہ رکھتے ہیں، وہاں یہ اخلاقی جرات بھی پیدا کریں کہ ساتھ ساتھ ان کے محاسن کا اعتراف بھی کرسکیں. الله پاک ہم سب میں محبت پیدا کرے اور ہم سب کو اپنی اصلاح کی توفیق دے، آمین.

(3313 مرتبہ دیکھا گیا)

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمان عثمانی اپنے مزاج کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہیں۔ بڑے بڑے موضوعات کو دو جمع دو چار کرکے سمجھانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں سے فیضیاب ہوتے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

42 تبصرے

  1. محمد اسامہ سرسری says:

    ماشاءاللہ ، بہت عمدہ تحریر ہے ، ہر بات کو بہت سلیقے سے پیش کیا ہے۔

  2. اسامہ بھائی آپ کی توجہ کا تہہ دل سے مشکور ہوں. امید ہے آپ مستقبل میں بھی اپنی رائے سے آگاہ کرتے رہیں گے

  3. ziakhatak says:

    ma sha Allah bhot zabardast tahreer .. !!!

    • عظیم الرحمن عثمانی says:

      آپ کی حوصلہ افزائی تقویت دیتی ہے خٹک صاحب ، شکریہ .. خوش رہیں اور یوں ہی جڑے رہیں

  4. azim Bhai umda tahreer hy

    • عظیم الرحمن عثمانی says:

      بہت مشکور ہوں خرم بھائی ، امید ہے آپ آئندہ بھی اپنی رائے دیتے رہیں گے

  5. Hafiz Safwan says:

    بہت اچھا لکھا اور مثبت انداز میں زندہ سوالات کو ایڈریس کیا گیا.

    • عظیم الرحمن عثمانی says:

      صفوان بھائی ، آپ کا تو نام پڑھ کر ہی ہمارا دل خوش ہوجاتا ہے. تبلیغی جماعت کے مثبت و منفی پہلوؤں کو آپ سے زیادہ کون جان سکتا ہے؟

  6. سجاد حیدر says:

    بہت پیارے انداذ میں آپ نےمعروف اعتراضات کو موضوع بنایا. ماشااللہ
    ایک اور بات جس کی طرف توجہ دلائی جاتی ہےوہ ہے دیگر برائیوں کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور قتال عام کے خلاف اس بڑی اور موثر جماعت کی خاموشی.

    • عظیم الرحمن عثمانی says:

      جی جی سجاد بھائی ، بلکل یہ بھی کہا جاتا ہے. مگر یہ اعتراض اسی قبیل سے ہے کہ تبلیغی جماعت جہاد کیوں نہیں کرتی ؟ یا خلافت کی کوشش کیوں نہیں کرتی ؟ وغیرہ . یہ اور اس طرح کے بیشمار اعتراضات اسلئے جنم لیتے ہیں کہ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس جماعت کا واحد مقصد دین کی بنیادی باتوں کی جانب بلانا ہے اور بس.

  7. Numan Bukhari says:

    پہلے میں سوچتا تھا کہ آج کے دور میں صرف وہی شخص عظیم ہو سکتا ہے جس کا نام عظیم ہو.. مگر عظیم بھائی کی تحاریر اور کاوشیں دیکھ کر میری سوچ یہ ہوئی ہے کہ میری سوچ غلط تھی.. ان جیسے بےشمار عظیم انسان موجود ہیں جو اپنے مثبت علمی روئیے کی وجہ سے علمی حلقوں میں ایک مینارہء نور ہیں.. سدا خوش رہیں..

    • عظیم الرحمن عثمانی says:

      قبر کے حال سے مردہ ہی واقف ہوتا ہے نعمان بھائی ، جو میرا حال ہے ... بس الله ہی رحم کرے 🙁 .. آپ کی خوش گمانی کا بہت شکریہ ، الله سے دعا ہے کہ وہ مجھے آپ کے گمان کی طرح بنا دیں آمین

  8. Muhammad Ali says:

    کمی کوتاہی ہر جگہ ہوتی ہے کیونکہ انسان کامل العقل نہیں ہے مگر عام عادمی کو اس سے بہت فائدہ ہو رہا ہے اور جماعت پہ خیر غالب ہے۔

    • عظیم الرحمن عثمانی says:

      آپ نے اختصار سے جامع بات کر دی علی بھائی.. خوش رہیں اور جڑے رہیں

  9. Ahmed Sohail Khan says:

    بہت پیارے انداذ میں آپ نےمعروف اعتراضات کو موضوع بنایا. ماشااللہ
    ایک اور بات جس کی طرف توجہ دلائی جاتی ہےوہ ہے دیگر برائیوں کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور قتال عام کے خلاف اس بڑی اور موثر جماعت کی خاموشی.

    • عظیم الرحمن عثمانی says:

      یہ تو آپ نے سجاد حیدر بھائی کا کمنٹ پیسٹ کردیا احمد سہیل بھائی 🙂 .. انہیں اپر جواب دیا ہے، اسے دیکھ لیجیئے.

  10. Syed Waheed Ahmed Zaidi says:

    اچھی تحریر ہے, بس زرا طویل ہے

    • طوالت کیلئے دل سے معزرت خواہ ہوں ، مگر یقین جانیں ابھی بھی اختصار سے ہی کام لیا گیا ہے ، وگرنہ کئی ایسے گوشے مزید ہیں جن پر کلام کی حاجت ہے

  11. جامع مضمون
    بہت عمدہ

    • عظیم الرحمن عثمانی says:

      خرم شہزاد بھائی آپ کی توجہ کیلئے مشکور ہوں. امید ہے آپ دیگر پوسٹوں کو بھی ملاحظہ کریں گے

  12. amir zaman says:

    Bohat achy Azeem bhai...summarized the whole issue well.

    • عظیم الرحمن عثمانی says:

      الحمد اللہ سم الحمد الله .. شکریہ میرے عزیز. میری حالیہ پوسٹ پر بھی نظر ڈالیں

  13. محمد شاہ زیب صدیقی says:

    اعلی آرٹیکل ہے

    • عظیم الرحمن عثمانی says:

      شاہ زیب صدیقی بھائی .. توصیف کا شکریہ ، امید ہے آپ جڑے رہیں گے

    • عظیم الرحمن عثمانی says:

      Waalikum Assalam Akhi,

      I can only say ameen to your dua. Please stay in touch.

  14. Abu Ammar says:

    AssalamoAlaikum, May Allah Ta'ala accept your effort for bridging the gap between different segments of ummat. May Allah Ta'ala bring us back to the same state where Nabi Kareem sallallaho alehay wasallam had left this last ummat, ameen. Wassalam

  15. JUNAID ABBASI says:

    bahot khoob bhai ma sha ALLAH bahot ahsan tareeky sy ap ny bahot c batain clear ki... Allah pak sab ki soch ko aisa bana dy

  16. waqar ahmad says:

    What a great and logical column. May Allah accept your effort and make it the source for the up left of deen e islam. One thing I'll state here is when people have grudges with hazrat abobakar and umar (r.a). Then no one can satisfy them.let them bark. Long live tableeghi jumat

    • عظیم الرحمن عثمانی says:

      پسندیدگی کا شکریہ۔ہمیں یہ ملحوظ رکھنا ہوگا کہ تنقید بھی تعمیری ہو اور الفاظ کا چنائو شائستہ رہے

  17. Anees Ansari says:

    اجی عظیم صاحب ہم تو آپ کے مداح ہوگئے ہیں۔ اللہ آپ کو جزا دے اور ہر اس بندے کو حوصلہ اور پیغام پھیلانے کی توفیق دے جو مسلمانوں کی خوبیاں بھی بیان کرتا ہے۔
    میرے دل میں عرصے سے خواہش ہے کہ کم از کم برصغیر کی تحریکوں کا کوئی جائزہ سامنے آئے جن میں ان کا انسانی تعمیر و ترقی میں حصہ سامنے لایا جائے۔ ایک دفعہ پھر مشکور ہوں اس مختصر اور تشنہ تحریر کا۔

    • عظیم الرحمن عثمانی says:

      انصاری صاحب آپ کی عزت افزائی کا شکریہ۔ دعا کی درخواست ہے۔ امید ہے آپ اسی طرح سائٹ سے جڑے رہیں گے۔

  18. Saad says:

    Achi taqreeeer hay per taweeeek hay...

    Wallah...

    Mujhe samajh nhi aata...
    Looog achi baat me bhe keera kaisay nikaal lete hain...

    Bhaiiii... agr baat taweel na hoti tou samjh nhi aati....

    Ajeeeebbbb bhaiiii...
    Syed waheed ahmed zaidi.... soooochyee

    • عظیم الرحمن عثمانی says:

      ارے غصہ نہ ہوں سعد بھائی۔۔۔ وحید بھائی بڑے علم دوست مگر مصروف انسان ہیں۔ اسی لئے اختصار سے جامع گفتگو کرنے کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔

      🙂

  19. نیاز محمد says:

    ماشااللہ بہت ہی عمدہ تحریر ھے۔ اللھم زدفزد۔۔۔۔

  20. ایاز خان says:

    ایک اچھی کاوش ہے جو تبلیغی جماعت پر کئے گئے اعتاضات کو مہمل کردیتی ہے بس سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیئے

  21. عمدہ اور سنجیدہ تحریر ہے جس سے دلیل کی بنیاد پر اختلاف کا حق ہر کسی کو حاصل ہے ۔ عمدگی کی وجہ سے میں نے فیس بک پر شیر کیا ہے : جزاک اللہ احسن الجزاء

  22. جواد احمد says:

    بہت اعلی عظیم بھائی

  23. Shafqat mehmood says:

    Asalamalaikum buhut Khushi hui apki tehreer parh Kar mai khud tableeghi jamaat sai buhut time sai attach hun aur meray dil mai bhe yai sawal thay aaj dil satisfied hu gaya ALLAH PAK apku buhut jazai Khair dai

  24. malik naveed says:

    یہ صرف حضور کا ادب کرنا سیکھ جائیں ناموس رسالت پر پہرا دینے والے بن جایئں ولیوں پر بھونکنا چھوڑ دیں گستاخیاں چھوڑ دیں تو ٹھیک ورنا یہ کبھی بھی ترکی نہی کر سکتے

  25. Abdullah says:

    ما شاء اللہ، اللہ تعالی لکحاری کو جزائے خیر عطا فرمائیں، اور ھمیں دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

تبصرہ کریں