تخریب میں تعمیر

انیسویں صدی کے اوائل میں 'کائنات کی تخلیق' ایک ایسا تصور تھا جسے ماہرینِ فلکیات ایک اصول کے طور پر نظرانداز کیا کرتے تھے، اس کے برعکس سائنسی اور علمی حلقوں میں یہ تصور بہت مقبول اور عام تھا کہ کائنات لامتناہی وقت سے وجود رکھتی ہے، جس کی کوئی ابتداء نہیں، 'لامتناہی' اور ہمیشہ سے موجود کائنات کا یہ تصور یورپ کے مادہ پرستانہ فلسفیوں کے خیالات سے ہم آہنگ تھا ، چرچ اور مذہب کی شکست و ریخت کے بعد مغربی معاشرے میں فلسفیانہ خلاء کو پُر کرنے کے لیے مادہ پرستانہ خیالات و توجیہات کا سہارا لیا گیا جو درحقیقت قدیم یونان سے اخذ کیا گیا تھا جس کے مطابق مادہ ہی وہ واحد شے ہے جو کائنات میں وجود رکھتی ہے اور اس کا وجود لامتناہی وقت (ہمیشہ) سے ہے، اسی اصول کی بنیاد پر مادہ پرستی کا یہ دعویٰ بھی رہا کہ کائنات ہمیشہ سے ہے اور اسے تخلیق نہیں کیا گیا، اپنے تمام تر ڈیزائن اور نظم ضبط کے ساتھ یہ کائنات از خود وجود میں آگئی اور اس کا کوئی خالق نہیں۔

اپنے مذکورہ دعوے کے ساتھ مادہ پرست یہ بھی اخذ کرتے رہے کہ کائنات کی کوئی غرض و غایت اور کوئی مقصد نہیں ہے، اور وہ تمام توازن، نظم و ضبط اور ہم آہنگی جن کا مشاہدہ ہمیں ہر وقت اور ہرطرف ہوتا رہتا ہے محض اندھے اتفاقات کی پیداوار ہیں۔

تاہم بیسویں صدی کے سائنسی انکشافات نے مادہ پرستانہ خیالات اور تصورات کی قلعی کھول دی، جدید فلکیات کی تاریخ میں 1920 کا عشرہ بہت اہم تھا، 1922 میں روسی طبیعیات دان الیگزینڈر فرائیڈ مین نے آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت کی روشنی میں حساب لگا کربتایا کہ کائنات کی ساخت ساکن یعنی غیرمتغیر نہیں ہے، اور اس کا ایک نقطہ آغاز تھا اور یہ ایک بڑے دھماکے کے نتیجے میں اسی طرح پھیل رہی ہے جیسے کسی نے اسے پھیلنے پر مجبور کیا ہو،1929 میں امریکی سائنسدان ایڈون ہبل نے مشاہداتی شہادت کے ساتھ  فرائیڈ مین کی تحقیقات کی  تصدیق کی۔

بعد میں ہونے والی پے درپے تحقیقات نے ثابت کیا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ساری کائنات اپنی زبردست کششِ ثقل کے باعث ایک نقطے پر جمع تھی جس کا حجم صفر تھا، ساری کائنات  اسی صفر حجم اور لامتناہی کثافت والی کمیت کے پھٹ پڑنے سے وجود میں آئی، آج اسی عمل کو بگ بینگ کے نام سے جانا جاتا ہے جس کی تصدیق بار بار کے مشاہدات سے ہوچکی ہے۔

بگ بینگ کے نظریے نے جہاں لامتناہی اور لافانی کائنات کے تصور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا وہیں لا دین اور ملحد فلاسفہ کو بھی نہایت اہم سوالات سے دوچارکردیا کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟ وہ کونسی قوت تھی جو ایک زبرست دھماکے سے کائنات کے عدم سے وجود میں آنے کا سبب بنی؟ مادے میں شعور اور بالخصوص سیارہ زمین پر زندگی کو وجود دینے کے لیے موافق حالات کس ہستی نے پیدا کیے؟ وغیرہ

یونیورسٹی آف ایڈلیڈ آسٹریلیا کے پروفیسر ' پال ڈیویز' بگ بینگ کے متعلق کہتے ہیں:

The explosive vigour of the universe is thus matched with almost unbelievable accuracy to its gravitating power The big bang was not evidently, any old bang, but an explosion of exquisitely arranged magnitude

(Paul Davies, Superforce: The Search for a Grand Unified Theory of Nature, 1984, p. 184)

'' کائنات کی دھماکہ خیز طاقت (جو اس کےپھیلاؤ کا سبب بنی) اس کی ثقلی قوت سے کم و ییش ناقابل یقین حد تک درستی کے ساتھ مماثلت رکھتی تھی، بگ بینگ کوئی معمولی نوعیت کا ابتدائی دھماکہ نہیں تھا بلکہ یہ غیر معمولی طور پر نپی تلی شدت کا دھماکہ تھا-''

انہوں نے مزید کہا:

The evidence is strong enough to acknowledge the existence of a conscious cosmic design.

''کائنات کے پھیلاؤ میں پنہاں خالق کے وجود کی شہادت انتہائی مضبوط اور ناقابلِ تردید ہے، جس سے ثابت ہے کہ کائنات کو سوچ سمجھ کر تخلیق کیا گیا ہے۔''

یہ بات صد فیصد درست ہے، حقیقت یہ ہے کہ ''دھماکہ'' اصلا" ایک تخریبی واقعہ ہے، کبھی کوئی دھماکہ تعمیری نتائج پیدانہیں کرسکتا، کائنات کی تاریخ میں صرف بگ بینگ ہی واحد استثناء ہے جس نے تخریب کے بجائے تعمیری نتائج پیدا کیے، جس کے بعد کائنات اپنی تمام باریک ترین جزئیات سمیت نوعِ انسانی کے رہنے کے لیے ایک منظم اور مربوط نظام کی صورت وجود پذیر ہوئی۔

تخریب میں تعمیر برآمد کرنے کا یہ استثنائی واقعہ اس بات کا بیّن اور واضح ثبوت ہے کہ اسے ایک غالب و دانا ہستی نے برپاء کیا ہے، جو تخریب کو تعمیر میں، ''نہیں'' کو '' ہے ''میں'' اور ناممکن کو ممکن میں بدلنے پر قادر ہے۔

وہی اللہ ہے، جو چیزوں میں توازن ، ہم آہنگی اور کامل نظم و ضبط پیدا کرتا ہے، چیزوں کو عدم سے وجود بخشتا ہے، وہی ابتداء ہے وہی انتہاء ہے، نا اس سے پہلے کچھ تھا ، نا اس کے بعد کچھ ہوسکتا ہے، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

کوئی بھی شخص اپنے اطراف میں موجود نظامِ قدرت کی نشانیوں کو بغور دیکھ کر اور ان کے گہرے مطالعے کے بعد اس حقیقت کا اعتراف کیے  بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ کائنات ایک بہترن مدبّر اور لازوال خالق کی بےمثال تخلیق ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   والدین اور اولاد میں فرق

دنیا کو ہم جس پہلو سے بھی غور و فکر اور تدبّر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ ہمیں وجودِ باری تعالیٰ اور اس کی اعلیٰ ترین قوت و اختیار کی گواہی دیتی ہوئی نظر آتی ہے، صرف وہی لوگ اللہ کی ان نشانیوں کو سمجھ سکتے ہیں جو دیدۂ بینا اور عقیل سلیم رکھتے ہیں۔

آسمان اور زمین کی پیدائش میں، رات اور دن کے پیہم ایکدوسرے کے بعد آنے میں، ان کشتیوں میں جو انسان کے نفع کے لیے سمندروں میں چلتی ہیں،بارش کے اس پانی میں جسے اللہ اوپر سے برساتا ہے، پھر اس کے زریعے مردہ زمین کو زندگی بخشتا ہے، اور زمین میں ہرقسم کی مخلوق کو پھیلاتا ہے، ہواؤں کی گردش میں، اور آسمان و زمین کے درمیان تابع رکھے گئے بادلوں میں، عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔
( سورۃ البقرہ : آیت 164)

(70 مرتبہ دیکھا گیا)

سید اسرار احمد

سید اسرار احمد ایک متحمل اور بردبار شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی اور فکری بالیدگی نمایاں ہوتی ہے۔ ان سے جڑے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں