ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد

کتنا بے نیاز ہے تو۔ انسانی جذبوں سے بیان کر پاؤں تو کہوں کہ کتنا صابر ہے تو۔ کتنی برداشت رکھتا ہے تو، یا پھر یوں کہوں کہ تیری محبت نے تیری پکڑ کی رسی کو بہت وسعت دے دی ہے۔

تیری پیدا کردہ جمالیات پر نظر کروں تو سورج کی پہلی سنہری کرن سے گھاس پر پڑی اوس تک اور دھنک کی کمان سے لے کر اس تتلی تک جو پھولوں سے رنگ چرا کر اپنے پروں کو حسن سے رنگین بناتی ہوئی تیرا پتا دیتی ہے تیرا نشان ہوتی ہے۔

تیری تراشی ہوئی وحشت پر نظر کروں تو سرخ چٹیل پہاڑوں سے لے کر گہری کھائیوں تک اور طلاطم خیز سمندری موجوں سے لے کر ابلتے چنگھڑتے آتش فشاؤں تک تیرے جبروت کے نشان نظر آتے ہیں۔

یہ تحریر بھی دیکھیں    icon-hand-o-left    آگہی کا خلا اور خدا

تیرے پیدا کردہ عجائب پر نگاہ ہو تو ہلکے نیلے پانیوں میں عجیب خود کار طریقے سے پیدا ہونے والی خوردبینی مخلوقات سے لے کر انسان کے پیٹ میں پلنے والے ٹیپ وارم نامی کیڑے کی پچاس فٹ لمبائی تک اور پنگھوڑے میں منمناتے بچے سے لے کر انڈے سے سر نکال کر پہلا سانس لیتے چڑیا کے بچے تک سب تیرے دست قدرت کی تعریف بتاتے ہیں۔

اس جہان کی وسعت جانیں تو اپنا نظام شمسی ایک نکتے سے زیادہ نہیں نظر آتا۔ اور اس نظام شمسی میں انسانی وجود ریگستان کے ایک زرے سے بھی زیادہ حقیر لگتا ہے۔ وقت کی دھارے پر حضرت انسان کو پرکھتا ہوں تو صدہا صدیوں کے معلوم ماضی کے سامنے یہ ستر اسی سال ایک چٹکی ہی معلوم ہوتے ہیں۔ اور انسان کی زندگی کا دورانیہ اتنا ہی لگتا ہے گویا کوئی پکھیرو شاخ پر بیٹھا، کچھ ساعت چہچہایا اور اُڑ گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   صفر کی جہت (Zero Dimension)

اتنے حقیر وجود اور اتنی مختصر زندگانی رکھنے والا بیچارا حضرت انسان، اس عالم کو دیکھ کر کیا کرتا ہے؟ اپنے سر کے اوپر سے گزرتے لاکھوں لیٹر پانی لئے ہوئے بادلوں کو دیکھ کر اور پیروں کے نیچے زمین میں میٹھے اور بغیر بدبو کھڑے پانی کا زخیرہ جان کر اور کائنات کی وسعتوں کا نظارا کرنے اور خود کو تمام مخلوقات سے زیادہ علم رکھنے والا سمجھنے کے باوجود اس خدا کا جب انکار کرتا ہے تو حد ہی کر دیتا ہے۔

جب کبھی یہ سوچتا ہوں کہ ایسے میں خدا کیا کرتا ہو گا تو اندرون جواب دیتا ہے کہ خدا بجائے غصہ کرنے کے مسکرا دیتا ہو گا۔ اتنی قوت وہ بلاشبہ رکھتا ہے کہ حقیر وجود رکھنے والے انسان کی دو انچ زبان کو ایسا کہنے سے پہلے ہی گنگ کر دے۔ قلم پکڑی ہوئی تین انگلیوں کو خدا کا انکار لکھنے سے پہکے ہی شل کر دے۔ اور چھوٹے سے دماغ میں ایسا خیال آنے سے پہلے ہی دوران خون روک دے۔ لیکن اس کی شان دیکھیں کہ موقع دیتا جاتا ہے۔ آخر کیوں وہ مٹھی بھر خاک کو سینہ چوڑا کر کے تبرا کا موقع دیتا ہے؟ آخر کیوں چند سانسوں پر پھیلی زندگانی کو اتنی جرات کرنے دیتا ہے کہ وہ مالک ارض و سماوات پر انگلی اٹھائے؟ سوال اٹھتا ہے کہ آخر کیوں؟

گزرے وقتوں کی بات ہے جب میرا سن پندرہ کے قریب تھا اور میرا تین سالہ بھائی میرے برابر میں بیٹھا کھلونوں سے دل بہلا رہا تھا۔ ابھی اس نے بولنا سیکھا ہی تھا اور توتلی زبان میں اچھا برا جو بھی کہتا وہ سننے میں مزا آتا تھا۔ یونہی کھیلتے دوران نجانے اس کے ذہن میں کیا آیا کہ مجھے دیکھ کر کہنے لگا "ابھی ایک لات دے کر تمہیں وہاں دور پھینک دوں گا" یہ الفاظ کہنے کے بعد وہ پھر سے پلاسٹک کی موٹر اور چھوٹی بندوق میں مصروف ہو گیا اور میں نے اس کی بات سن کر چند سیکنڈ توقف کے بعد قہقہہ لگایا جو بہت وقت تک جاری رہا۔

یہ بھی پڑھیں:   قانونِ کائنات اور ملحدین

مجھے اپنا چھوٹا بھائی کبھی سہما ہوا پسند نہیں آیا اور ایسی شرارتیں کرتے ہوئے، مجھ پہ غصہ کرتے ہوئے، مجھے برا بھلا کہتے ہوئے ہمیشہ وہ معصوم لگا۔ میرے رب کو فرشتے میسر تھے جو ہمیشہ اس سے سہمے رہتے اور اس کا حکم بجا لاتے۔ ایسا کوئی موجود نہ تھا جو اس بے نیاز کے سامنے اکڑ کر کوئی بات کر سکے۔ پھر خدا نے انسان بنایا۔ پھر اس انسان کو مغرور بنایا۔ پھر اس میں تکبر بھرا۔ پھر اس کو شرارت کرنے کا ذوق بخشا۔ پھر اس میں انا اور اکڑ پیدا کی۔ اسے سوال کرنے کا ہنر دیا۔ اسے ناطق بنایا۔ حسن گویائی اور قوت سماعت کے امتزاج سے اسے اپنی راہ خود طے کرنے کا اختیار دیا۔

اب انسان اپنے اس اختیار کو بروئے کار لاتے ہوئے رب کے وجود کا انکار کر رہا ہے اور رب اپنے تخلیق کردہ حقیر وجود "انسان" کو دیکھ کر مسکرا رہا ہے۔ انکار خدا ایک موحد کے لیے قبیح تصور اور جذباتی فعل ہو گا لیکن خدا کے لیے یہ بھی ایک شرارت ہے۔ اسی طرح کے گناہ ہی ہیں جن کی بناء پر انسان کی تخلیق ہوئی۔ بنا گناہ کے کائنات کتنی پھیکی تھی کروڑ ہا فرشتے کچھ قیام میں کچھ سجود میں کچھ رکوع اور کچھ عرب عظیم کی بارگاہ میں بچھے ہوئے ہوتے ہونگے۔

یہ بھی پڑھیں:   جدید ذہن اور انکار آخرت

یہاں علامہ اقبال کا شعر یاد آتا ہے کہ ؎

قصور وار، غریب الدیار ہوں لیکن
ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد

اس خرابے کو منکروں نے ہی آباد کرنا تھا، ایمان اور کفر کے درمیان ایک لکیر کھینچی تو جا چکی ہے لیکن نظر کیجیے ہر زمانے میں ہمیشہ کفر کی تعداد ہی زیادہ رہی ہے۔ پھر بھی زمین سبزہ اگاتی ہے، آسمان بارش بھی برساتا ہے، ہوائیں فرحت بھی بخشتی ہیں اور دریا و نہریں پیاس بھی بجھاتی ہیں۔ پھولوں کی خوشبو بھی مسحور کن ہوتی ہے اور مرغان سحر کی نوائیں بھی کانوں میں رس گھولتی ہیں۔

منکرین خدا بھی موجود رہیں گے، قحبہ خانے اور مے خانے بھی یہیں سنگ میں چلیں گے۔ یہاں گناہ بھی ہوں گے اور اجر و ثواب کے دور بھی چلیں گے۔ سفید سب سے ہلکا اور سیاہ سب سے گہرا رنگ ہےاور یہ دنیا کالے اور سفید کے درمیان واقع رنگین حقیقت ہے۔ سبز، پیلے، سرخ اور نیلے نافرمانوں پر رب ہمیشہ سے مسکراتا رہا ہے اور وہ مسکراتا ہی رہے گا۔

(210 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

5 تبصرے

  1. Bilal says:

    بہت عمدہ یار ثاقب
    اللہ تعالٰی ترقی سے نوازیں

  2. khaleel saifi says:

    بہت ہی لاجواب تحریر. . .اللہم زد فزد

  3. بہت خوبصورت تحریر. لیکن اگر خالقِ کائنات حضرت انسان کی نافرمانیوں کو محض شرارت سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا تو پھر عذاب کی دل دہلا دینے والی وعیدیں کس لیے بیان کی گئی ہیں؟ے

  4. raeesuddin says:

    وه انکے لئے جو اسکی نعوذبااللہ ہمعصر ی کی کوشش کریں اور مخلوق کے ساتھ ناانصافی کریں

  5. Zafar Gee says:

    بہترین مضمون بلکہ لاجواب مضمون

تبصرہ کریں