تزکیۂ نفس - ایک خانقاہ کا احوال (مکمل)

اللہ کی قربت عبادات سے حاصل ہوتی ہے،  اور سب سے بڑھ کر فرض نماز کو اپنے وقت پر ادا کرنا اور  پورے اہتمام سے ادا کرنا اللہ کی قربت کا یقینی ذریعہ ہیں، تاہم جس بات کو ہم اکثر اہمیت نہیں دیتے وہ یہ ہے کہ اللہ  ربّ العزت عبادات کی کثرت سے قریب آتے ہیں، لیکن اس کے بندوں کے ساتھ معاملات کی خرابی سے دور چلے جاتے ہیں، اللہ کو پانے کا ہر رستہ اس کے بندوں سے ہوکر گزرتا ہے، جس نے اللہ کو پانا ہے وہ بندوں کے درمیان جھک کر رہنا سیکھ لے۔ جو اللہ کے لیے حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا اور نزاع ختم کرنے کے لیے خاموشی اختیار کرلے گا  ایک روایت کے مفہوم کے مطابق اللہ کے رسول نے فرمایا  اس شخص کے لیے جنت کے بالکل بیچ میں محل کا میں خود زمہ دار ہوں۔

بخاری کی ایک روایت میں اللہ کے رسول (ص) نےفرمایا، قیامت کے دن اللہ کے حضور بدترین حیثیت کا حامل وہ شخص ہوگا جس کی بد زبانی اور لڑائی جھگڑے کے سبب لوگ اس سے ملنا جُلنا ترک کردیں۔

سوچیے کس قدر سخت وعید ہے،

دین دار طبقوں میں اکثریہ معاملہ ہوجاتا ہے کہ عبادات کی تو بہت کثرت ہے لیکن اخلاق و معاملات کی طرف بہت بے توجہی ہوجاتی ہے ، اسکی وجہ سے وہ رقت قلبی نصیب نہیں ہوتی جسے ایمان کی حلاوت کہتے ہیں،  عبادات میں وہ لذّت نہیں ملتی ، دعا و مناجات اور چپکے چپکے اللہ سے سرگوشی کا سرور نہیں ملتا، ایمان بہت لطیف شے ہے، اسے کسی 'کثیف' شے کے بغیر مجسم نہیں کیا جاسکتا، یعنی ایمان کا ظہور جب تک اعمال اور اخلاق میں نہیں ظاہر ہوگا وہ ایمان مکمل نہیں ہوگا۔

تزکیۂ نفس کے حوالے سے اس اُمّت میں صوفیاء کا بہت اہم کردار رہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ جب تک اس اُمّت میں خانقاہوں میں صوفیاء کی تذکیری نشستیں جاری رہیں اس وقت تک ہمیں نفسیاتی عارضے اول تو لاحق نہیں ہوتے تھے، تاہم اگر ہوبھی گئے تو  کسی معالج کی ضرورت نہیں ہوتی تھی، لوگ ان بزرگوں کے ہاں جاتے اور قلبی سکون حاصل کرتے۔

آئیے میں آپکے ساتھ ایک اہم واقعہ شئیر کرتا ہوں،

پرانے وقتوں کی بات ہے ، ہندوستان میں ایک صوفی بزرگ کسی بستی میں ہوا کرتے تھے، شاید کوئی 90 یا 100 سال قبل کی بات ہے، بہت اللہ والے، بہت نیک، ان کی خانقاہ میں لوگ دور دور سے ایمان و اخلاق سیکھنے آتے، ان کے ہاں بس ایک ہی اولاد تھی جو انکے صاحبزادے تھے، وہ بزرگ تو خیر بہت تقویٰ والے تھے ، لیکن صاحبزادے کا دین کی طرف رغبت و رحجان کم تھا، یہ صاحب ایک کاروباری شخصیت تھے اور بہت سے لوگ ان کے ہاں ملازم بھی تھے،

کچھ وقت گزرا اور بزرگ کے انتقال کا وقت قریب آگیا، موصوف نے بوقت انتقال اپنے خانقاہی سلسلے کے ایک مرید کو جو انکی نظر میں بہت متقی پرہیزگار تھے ، اپنی جگہ بٹھایا اور وصیت کرگئے کہ آئندہ سے جو لوگ اس خانقاہ میں آئیں گےان کی تربیت اور تزکئیے کی زمہ داری آپکی ہے۔

انتقال ہوا، تدفین ہوگئی، حضرت ایک قریبی قبرستان میں دفن کردئیے گئے، وقت گزرتا گیا۔

کچھ عرصے بعد ان کے صاحبزادے کواپنی زندگی میں مقصدیت کا فقدان محسوس ہوا , بہت روپیہ  کمایا لیکن زندگی میں سکون و اطمینان نام کی چیز ناپید تھی،   بہت غور و خوض کے بعد یہ بات انہیں سمجھ میں آئی کہ زندگی میں ہر آسائش کی موجودگی کے باوجود جس چیز کی کمی نے راتوں کی نیندیں اچاٹ کی ہوئی ہیں وہ تعلق باللہ کی غیر موجودگی ہے، انہیں اس بات کا بہت ملا ل ہوا،  کہ ابّاجان تو بہت اللہ والے تھے ، ساری زندگی ایمان و تقویٰ میں گزاری لیکن میری کم نصیبی کہ لوگ میرے والد سے ایمان سیکھنے دور دور سے آتے جبکہ میں انکی شخصیت سے گھر میں ہونے کے باوجود استفادہ نہیں کرپایا ، انہیں پچھتاوا ہوا، کاش کہ میں بھی اللہ کی قربت حاصل کرتا، کاش مجھے بھی آخرت میں کامیابی نصیب ہوجائے، یہ احساس دن بدن بڑھتا رہا، اور ایک دن انہوں نے تہیہ کرلیا کہ اب مجھے لازماً خانقاہ کا رخ کرنا چاہیے، اگر والد بزرگوار نہیں رہے ، تو کم ازکم جو بزرگ ان کی جگہ گدی نشین ہیں انہی سے سیکھ لیا جائے، یہ سوچ کر انہوں نے ایک دن خانقاہ کی راہ لی۔

مریدین کوخبر ہوئی کہ حضرت کے حاحبزادے تشریف لارہے ہیں تو ہلچل مچ گئی، جن بزرگ کو حضرت صاحب کی جگہ گدی نشین کیاگیا تھا، انہوں نے بہت گرم جوشی اور احترام سے انکا استقبال کیا، بہت عزت دی، یہ صاحب وہاں پہنچے تو انکے ساتھ بہت آؤ بھگت اور بہت اکرام کا معاملہ کیا گیا۔

حتیٰ کہ صاحبِ خانقاہ نےاپنی جگہ خالی کی اور ان سے کہا کہ آپ ہمارے مرحوم پیر صاحب کے صاحبزادے ہیں اس لیے ہم آپکو کہیں اور نہیں بلکہ یہاں بٹھائیں گے اپنی جگہ پر،  جگہ خالی کرکے کپڑے سے جھاڑا، اور عرض کیا آپ ازراہ کرم یہاں تشریف رکھیں، موصوف بہت شکر گذار ہوئے، منع بھی کیا کہ میں اس قابل نہیں کہ آپ کی جگہ پر بیٹھوں، لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی اور زبردستی انہیں گدی نشین صاحب کی جگہ پر بٹھا دیاگیا۔

یہ صاحب کچھ رسمی گفتگو کرنے کے بعد اصل مدعا پر آئے اور صاحبِ خانقاہ سے عرض کی کہ میں نے ساری زندگی روپیہ پیسہ کمانے میں گزاری، دنیاو مال کی محبت میں ہر قدم اٹھایا، نا دین کی فکر کی۔۔۔۔ نا ایمان کی، ۔۔۔۔آج اباجان دنیا سے تشریف لے جا چکے تو عمر کے اس حصے میں احساس ہوتا ہے کہ مجھے اپنی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہیئے۔

میں اسی غرض کو لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں، مجھے اپنے نفس کا تزکیہ کرنا ہے، مجھے اللہ کی قربت چاہیئے، مجھے اللہ کا تعلق نصیب ہوجائے، آپ میری تربیت کیجے۔

میرا نفس گناہوں کی آلائش سے آلودہ ہوچکا ہے، اگر آپ میری مدد نہیں کرینگے تو میں کہیں کا نہیں رہونگا، میری آخرت برباد ہوجائیگی!!!

صاحبِ خانقاہ نے انکی یہ بات سنی تو کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئے، پھر پوچھا آپ واقعی اس بات کا تہیہ کرکے آئے ہیں کہ اپنے نفس کا تزکیہ کرینگے؟ کیا آپ جانتے ہیں اللہ کیسے ملتا ہے؟ صاحبزداے نے عرض کی، حضرت آپکے پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ میں واقعی دل کے پورے ارادے سے  آیا ہوں، میں آپکے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں، مجھے نہیں معلوم اللہ کیسے ملتا ہے، لیکن میں اللہ کو پانے کے لیے ہر جتن کرنے کو تیار ہوں!!! وہ روہانسے ہوگئے ، آنکھوں میں آنسو ڈبڈبانے لگے۔ سر جھکالیا، قدموں میں ہاتھ رکھ دئیے، بتائیے کیا آپ مجھے ناکام ہونے دیں گے؟ کیا میں ان گناہوں کا بوجھ لیے دنیا سے اپنا تزکیہ کیے بغیر چلا جاؤں؟؟؟

صاحبِ خانقاہ نے انہیں بازؤں سے پکڑ کر اٹھایا، اور ان  کاچہرہ اپنے چہرے کی جانب کیا، انکی تیوری چڑھی ہوئی تھی۔ اور پیشانی شکن آلود ہوگئی، آنکھوں میں غصے کے آثارنمایاں ہوگئے۔۔۔اور انتہائی تلخ لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چل اُٹھ ۔۔۔۔اُٹھ اس جگہ سے۔۔۔۔۔ابھی فوراً!!!   انکا بدلہ ہوا لہجہ اور تلخی دیکھ کر صاحب ایک دم گھبراگئے، کیابات ہے؟؟؟ آپ نہیں چاہتے میں ایمان و تقویٰ سیکھوں؟ بتائیے؟َ میں آپکی منّت کرتا ہوں!!!

سنو برخوردار، سب سے پہلے تو تم اس اونچی جگہ سے اترو۔۔۔  پھر مریدوں سے گویا ہوئے۔۔۔آس پاس کھانے پینے اور اکرام کا سامان ہٹادو، اور خادم سے کہا ان کے اردگرد سے ہٹ جاؤ، ۔۔۔۔۔اور جاؤ اپنا اپنا کام کرو، ۔۔۔۔جو چیزیں بھی انکے کھانے پینے اور طعام کے لیے پیش کی تھیں سب  ہٹادو۔۔۔

یہ اچانک روئیے کی تبدیلی صاحبزادے کی سمجھ سے بالاتر تھی،

پھر بھی کڑا گھونٹ پیا ۔۔۔۔اور خاموش رہے،

تمام تر عزت و اکرام ایک طرف کرکے صاحبَ خانقاہ گویا ہوئے،

""ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں کہ تزکئیے کی پرخار جھاڑی کا تھکیڑ مول لے،بجا ہے کہ تزکیئے کے بغیر کامیابی کا تصور محال ہے۔ لیکن عزیزِمن یہ وہ جوہرِ نایاب ہے جو ہر ایک کے نصیب میں نہیں آتا۔ ۔یہ وہ کوہِ نور ہے جو ہر تاج کی زینت نہیں بنتا۔ اس رستے میں کانٹے ہی کانٹے ہیں۔ اس رہ گزر پر شاہانہ وار نہیں چلا جاسکتا۔ اس دیس کا باسی وہی بن سکتا ہے جس میں اللہ کی خاطر خود کو مٹادینے کی، اور اپنے نفس کو کچلنے کی ہمت ہے۔ میرا مشورہ ہے۔۔۔۔آپ بڑے کاروباری شخصیت ہیں۔۔۔عام سے سادہ مسلمان کی سی زندگی گزارلیجئے۔۔۔جنّت مل جائیگی۔۔۔لیکن اللہ کو پانے والے۔۔۔ خدا کے پڑوسی کا جو شرف حاصل کریں گے۔۔ انکا معاملہ عام لوگوں کا سا نہیں ہوتا۔۔۔وہ دنیا میں کچلے اور پسے جاتے ہیں۔۔ مجھے ڈر ہے ۔۔آپ جذبات میں اس راہ کو اختیار تو کرلینگے۔۔لیکن نباہ نہیں کرسکیں گے۔۔۔اس لیے مناسب ہے کہ آپ اپنی راہ لیجئے۔۔۔۔""

نہیں نہیں۔۔۔۔ ازراہ کرم مجھ پر رحم کیجے۔۔۔ گناہوں کے بوجھ نے نفس کو مکدر کردیا ہے، میرا   رواں رواں  گناہوں کی غلاظت سے  بھرا ہوا ہے۔

آپ نے فرمایا۔۔۔۔اللہ کا پڑوس؟۔۔۔کیا یہ بھی کسی کو مل سکتا ہے؟؟؟

ہاں مل سکتا ہے۔۔۔ناممکن تو نہیں ہے۔۔۔۔لیکن۔۔۔اتنا سہل بھی نہیں ہے۔

یہ الفاظ صاحبزادے نے پہلی بار سنے تھے، خدا کے پڑوس ملنے کے خیال سے ہی طبیعت میں نشاط پیدا ہوگیا۔۔۔(محسوس ہوا۔۔۔ہائے کاش! کیا ہی بڑی کامیابی ہوگی)۔۔۔آپ آپ۔۔آپ ایسا کیجے مجھے بنادیجے اسی رستے کا مسافر ۔۔۔۔میں اتروں گا اس وادی میں۔۔۔مجھے اللہ کا تعلق چاہیے۔۔۔اسکا پڑوس چاہیے۔۔۔کیا یہ بڑی کامیابی نہیں ہے؟

میں نے تو کاروبار میں بھی کبھی کم منافع کو قبول نہیں کیا۔۔۔پھر آخرت میں مجھے منافع کم کیوں ملے؟؟؟ اللہ تو فرماتا ہے یہ دنیا عارضی ہے۔۔۔!!! اگر تکلیف و رنج آئیں گے بھی تو کیا بڑی بات ہے۔۔۔یہ ہمیشہ تو نہیں رہے گا۔۔۔کہیے حضرت ۔۔۔آپ کیوں مجھے مایوس کرکے بھیجنا چاہتے ہیں۔۔۔کیا یہ بڑی کامیابی مجھے نا ملے؟؟

وہ جذباتی سے ہونے لگے۔۔۔

""ہاں بلکل۔۔۔یہی فوز العظیم ہے۔۔۔۔سب سے بڑی کامیابی۔۔۔""

انکی جذباتیت اور عزم دیکھ کر صاحبِ خانقاہ کچھ دیر چپ ہوئے اور کہا۔۔۔

اگر تم اپنے تزکئیے کے معاملے میں سنجیدہ ہو۔۔۔۔تو آج سے تمہاری تربیت اور تعلیم شروع ہے، لیکن اسکی ایک ہی قیمت ہے، جو تمہیں ادا کرنی ہوگی۔۔۔۔انہوں نے تحکمانہ انداز میں کہا۔۔۔۔۔

میں میں ۔۔۔ ہر قیمت دینے کو تیار ہوں،۔۔۔۔۔بولیے کیا پیش کروں۔۔۔۔بتائیے ۔۔۔کوئی رقم چندے کی مد میں؟ کوئی خادم ۔۔۔۔ خدمت کے لیے؟؟ کوئی ملازم؟؟؟ کچھ بھی ضروت ہو۔۔۔بتائیے میں تیار ہوں۔۔۔۔مجھے ہر قیمت منظور ہے۔

نہیں  نہیں نہیں۔۔۔ہرگز نہیں ۔۔۔۔۔ ۔وہ گرجدار آواز میں بولے۔۔۔ان میں سے ایک بھی چیز نہیں۔۔۔۔جس چیز کو ضرورت ہے  وہ تمہارے دل کی پوری آمادگی اور سچی نیت ہے۔اور ہاں۔۔۔۔سوال کرنے کی ممانعت ہے۔۔۔۔جو کہا جائے چپ چاپ کرتے رہو۔

جی جی بلکل میں تیار ہوں۔۔ ۔میری سچی نیت ہے اسی لیے حاضر ہوا ہوں۔۔۔اور مجھے منظور ہے میں کسی حیل حجت کے بغیر۔۔۔ آپ کے ہر حکم کے آگے سرتسلیم خم ہے، آپ جو کہینگے  میں تعمیل ارشاد کرونگا۔۔۔۔ مجھے وظائف دیجے  پڑھنے کے لیے، زکر ، تسبیحات، مراقبہ۔۔ ۔میں سب کرونگا۔

برخوردار یہ بات  آپ نے نہیں بتانی کہ آپکو کیا سبق دیا جائیگا، اسکا فیصلہ میرا ہوگا۔ ۔صاحبِ خانقاہ نے انکی بات کو کاٹتے ہوئے کہا،

جی بہت بہتر ہے۔۔۔ صاحبزادے عاجزی سے گویا ہوئے،

تو اب اٹھو یہاں سے اور جاؤ وہاں جاکر بیٹھو جہاں لوگ اپنے جوتے اور چپلیں اتارتے ہیں۔

جی؟کہاں،؟؟؟ ۔۔۔۔۔!!!

وہاں۔۔۔(انہوں نے انگلی کے اشارے سے خانقاہ کے بیرونی دروازے کی طرف اشارہ کیا )۔۔۔۔ "لوگ دور دور سے اللہ کی محبت میں یہاں آتے ہیں ایمان سیکھنے، یہ دیکھنے میں بہت عام لوگ ہیں، لیکن اللہ کے لیے ان کے دل میں جو محبّت ہے اسکے سبب یہ بہت خاص ہیں،۔۔۔۔۔ تمہارا آج کا سبق یہ ہے ، کہ تم خانقاہ کے بیرونی دروازے پر نیچے بغیر کوئی چادر یا کرسی رکھے جوتوں اور چپلوں پر بیٹھو گے، اور آنے جانے والوں کی جوتیاں سیدھی کروگے۔۔۔۔اور یہ سبق اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا جب تک میں نا چاہوں!!"

لل ۔۔لل۔۔لیکن۔۔آپ تو دوسرے لوگوں کو زکر تسبیحات۔۔ تلاوت ۔۔ یہ سب وظائف دیتے ہیں؟ مجھے یہ عجیب سا سبق کیوں؟؟ میں کچھ سمجھ نہیں پایا!!! یہ امتیازی سلوک۔۔۔ یہ رویہ؟؟ یہ  یہ ۔۔۔ یہ کیا بات ہوئی؟

برخوردار۔۔۔۔۔ابھی کچھ لمحوں پہلے تم نے کیا عہدکیا تھا؟؟؟  

اوہ  بہت معذرت چاہتا ہوں، نہیں کرونگا اب کوئی سوال۔۔۔۔۔ معاف کردیجے۔۔۔۔ میں تیار ہوں۔۔۔۔

یہ کہا اور کسی سعادت مند خادم کی طرح  جاکر بیرونی دروازے پر زمین پرچپ چاپ بیٹھ گئے۔۔۔ تھوڑی دیر گُم سُم ایسے ہی بیٹھے رہے تو ایک خادم قریب آئے اور کہا۔

آپ چُپ چاپ نہیں بیٹھ سکتے۔۔۔۔۔ آپکو جوتیاں سیدھی بھی کرنی ہیں۔۔۔۔ یعنی جو لوگ آرہے ہیں۔۔۔۔ ان کے جوتے اٹھائیں اور سیدھے کرکے رکھیں۔۔۔ اپنے ہاتھوں سے۔۔۔۔ یہ حضرت جی کی ہدایت ہے آپ کے لیے۔۔۔

جی؟؟؟

جی!

اوہ۔۔۔خدایا۔۔۔!!! جوتیاں سیدھی کرکے رکھنا ۔۔۔ یہ کیسا کام ہے؟۔۔ یہ کونسا طریقہ ہے تزکیے کا؟؟۔۔

یہاں آنے والے سب لوگ تو انتہائی خستہ حال غریب لوگ ہیں۔۔۔۔ میں تو ایک کارخانے دار ہوں۔۔۔۔ ان جیسے سینکڑوں لوگ میرے ہاں ملازم ہیں ۔۔۔ میں ان لوگوں کے جوتے اٹھاؤں اور سیدھے کرکے رکھوں؟؟ یہ کیسا سبق ہے؟؟ دل ہی دل میں مسوس کررہ گئے۔۔۔ لیکن کہہ کچھ نہیں سکتے تھے۔۔۔ اسلیے چپ چاپ۔۔۔۔ جوتے سیدھے کرنے میں لگ گئے۔۔۔۔

آتے جاتے لوگ ان کو دیکھتے۔۔۔۔ ایک خوش پوش۔۔۔ خوبرو۔۔۔ جوان۔۔۔ زرق برق کپڑوں میں ملبوس۔۔۔ اور لوگوں کے جوتے اٹھا رہا ہے؟؟

پہلا دن تو ایسے گزررہا تھا ۔۔۔ جیسے قیامت۔۔۔۔۔ میں نے تو کبھی اپنے کپڑوں پر معمولی گرد کبھی نہیں لگنے دی۔۔۔۔ میں تو اعلیٰ خوشبوؤں سے لباس کو مزیّن کرتا ہوں، خانقاہ میں آنے والے لوگ تو میرے ملازموں جیسی اوقات رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اے اللہ!! تجھے پانا اتنا مشکل ہے؟؟؟

لیکن۔۔۔ مجھے یقین ہے۔۔۔ اسی میں کوئی  نا کوئی خیر ہے۔۔۔ اسی میں کوئی بھلائی ہے۔۔۔ میں سمجھ سکتا ہوں۔۔۔ اللہ والوں کے ہرکام میں کوئی نا کوئی حکمت ہوتی ہے۔۔ شاید میری تربیت ایسے ہی ہوگی۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ مجھے جنت الفردوس چاہیئے۔۔۔۔ اللہ کا پڑوس چاہیے۔۔۔!! میں کرونگا جوتے سیدھے۔۔۔۔

سوچ و خیال میں عجیب زلزلہ طاری تھا۔۔۔ ایک جنگ تھی اپنے آپ سے ۔۔۔ سب سے مشکل ترین جنگ۔۔۔ اپنا نفس مٹانا۔۔۔ اپنی خودی کو رگڑنا۔۔۔ نفسِ ملامت گر کسی بسمل کی طرح لوٹ رہاتھا،۔۔۔ بےچینی۔۔۔ بےکلی۔۔۔ ایک عجیب عالم تھا۔

دن تھا کہ پہاڑ۔۔۔ ایک ایک شخص کی نظر کسی تیر کی طرح سینے کے پار ہوجاتی۔۔۔ قلبِ مضطر بار بار بھاگ جانے کو کہے۔۔۔ لیکن مارے باندھے ہی سہی یہ صاحب  ثابت قدم تھے۔

اپنے وجود کے بار کو اٹھائے روز چلے آتے۔۔۔بھاری قدموں اور بے ترتیب دھڑکنوں کے ساتھ۔

آج پھر جوتے اٹھانے ہیں؟؟  

انہوں نے ایک خادم کو آواز دی۔۔۔

جی ہاں۔۔۔آج بھی جوتے اٹھانے ہیں۔۔۔

لیکن کب تک؟۔۔۔ کیا آپ حضرت صاحب سے پوچھ سکتے ہیں۔۔۔یہ کام کب تک کرنا ہے؟؟

 

یہ بھی پڑھیں:   اسلامی جمہوریہ پاکستان اور ہمارا کردار

نہیں میرے محترم۔۔۔ یہ ہمارے علم میں نہیں ہے۔۔۔ یہاں تو جو نیا آتا ہے۔۔۔ صاحبِ خانقاہ اسکے 'مرض' کےمطابق دوا تجویز کرتے ہیں، یہ نظر انہی کی ہے، ہم کسی کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں شخص تزکئیے کے کس مقام پر ہے۔۔۔

'مرض'؟؟؟ کیا مجھے کوئی مرض ہے؟؟

ہاں میرے عزیز۔۔۔ دنیا کی محبّت۔۔۔ اندر کا کبر۔۔۔ نفس کا غرور۔۔۔ یہ سب امراض ہی ہیں۔۔۔ اور اللہ ربّ العزت ایسے دل میں نہیں آتے۔۔۔ جہاں نفس دنیا کی گندگیوں سے آلودہ ہو۔۔۔ انہیں تو پاک صاف دل چاہیے۔۔۔ قلبِ سلیم!!

ہوں۔۔۔!!!

آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔۔ میرے اندر ایسے امراض واقعی ہیں،۔۔۔ ایک نئی تازگی تھی جو خادم سے بات کرکے ملی۔۔۔۔ یہ پھر جوتے اٹھانے میں جُت گئے۔۔۔

محسوس ہونے لگا۔۔۔ ہاں۔۔۔ سچ ہے۔۔۔ دوا جتنی زیادہ کڑوی ہو۔۔۔ علاج اتنا ہی اچھا ہوتا ہے۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ میں کرونگا جوتے سیدھے۔۔۔ اور سوال نہیں کرونگا۔۔۔

کافی دن یہ اسی طرح روز چلے آتے۔۔۔ اور چپ چاپ۔۔۔ بات کئیے بغیر جوتے اٹھاتے رہتے۔۔۔

جب کئی دن گزرے گئے تو پریشانی بڑھنے لگی۔۔۔ آخر میرا سبق کیوں نہیں تبدیل ہوتا۔۔۔ میں اٹھا رہاہوں جوتے روز۔۔۔ اور کوئی سوال نہیں کرتا۔۔۔ کسی سے بات نہیں کرتا۔۔۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ صاحبِ خانقاہ مجھے بھول گئے ہوں؟؟

اس خیال کا آنا تھا۔۔وہ تیزی سے خانقاہ کے اندر گئے۔۔۔ حضرت۔۔۔ حضرت۔۔۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔ حضرت میں بہت معذرت چاہتاہوں۔۔۔ میں کسی سوال کی وجہ سے حاضر نہیں ہوا۔۔۔۔بس ایک چھوٹی سی بات پوچھنی تھی۔۔۔۔

برخوردار!!

یہی پوچھنے آئے ہوناں کے جوتے کب تک اٹھانے ہیں؟ اور کہیں صاحبِ خانقاہ مجھے بھول تو نہیں گئے، مت گھبراؤ۔۔۔۔ ہماری نگاہ ہر ایک پر ہے۔۔۔

آپکا سبق ابھی ختم نہیں ہوا۔۔۔ اور اب اپ بغیر اجازت اندر نہیں آسکتے۔۔۔ آپکے سبق کی تبدیلی آپکو بتائے بغیر ہوگی۔۔۔ جب ہم مناسب سمجھیں گے!

اوہ اچھا!!

بہت بہتر ہے۔۔۔ (وہ سعادت مندی کے ساتھ واپس اپنی جگہ پر آگئے)

روز روز جوتے اٹھانے سے نفس پر جو چھریاں چل رہی تھیں وہ کسی بیان کی محتاج نہیں تھیں، لیکن  دور کے مسافر آنےوالی منزل کی جازبیت اور فوز العظیم کو پالینے کے خیال سے بے خود ہوجاتے ہیں، ہر صبح انہیں اس خیال سے نئی معلوم ہوتی ہے کہ سفر کا ایک دن اور کم ہوگیا۔

دل کی دنیا کچھ بدل سی رہی تھی، اپنی حقیقت کچھ سمجھ میں آنے لگی تھی۔۔۔۔ اللہ کے بندے۔۔۔ اسکی مخلوق۔۔۔ یہ سب بہت قیمتی ہیں۔۔۔ یہ سب مجھ سے بہتر ہیں، ہاں۔۔۔ اگر یہ مجھ سے بہتر نا ہوتے تو شاید ان میں سے کوئی میرے ساتھ جوتے اٹھا رہا ہوتا۔۔۔ یہ یقیناً مجھ سے تزکئیے میں آگے ہیں۔۔۔ ورنہ صاحبِ خانقاہ مجھے اور انہیں ایک جیسا سبق ہی دیتے۔۔۔۔ سچ ہے۔۔۔ اللہ کو پانا مشکل ہے۔۔۔

نہیں نہیں۔۔۔ مشکل نہیں ہے۔۔۔ سہل ہے۔۔۔۔ مشکل تو اسکے لیے ہے جو نفس کو مارنے پر آمادہ نا ہو۔۔۔ میں شاید اسی لیے اس قدر تڑپ رہا ہوں کہ میرا نفس فربہ تھا۔۔ بلکہ ابھی بھی فربہ ہے۔۔ اور جو چیز جتنی فربہ ہوتی ہے۔۔۔ اسے رگڑنے میں اسی قدر مشکل پیش آتی ہے۔ اسی لیے مجھ جیسے لوگوں کا اللہ کو پانا مشکل ہے۔

اللہ مجھے سمجھا رہے ہیں۔۔۔ اسکے بندوں کو اپنے سے کمتر نا سمجھو۔۔ ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے۔۔۔ اور سب قابلِ احترام ہیں۔۔۔۔

سنو خادم۔۔۔ نہیں۔۔۔ نہیں آپکا۔۔ آپکا نام کیا ہے؟؟ انہوں نے پاس کھڑے خادم کو مخاطب کرکے کہا۔۔۔۔ میں اتنے دن سے یہاں آرہا ہوں۔۔۔ آپکا نام تک نہیں پوچھا۔۔۔ آپکو خادم کہہ کرآواز دیتا ہوں۔۔۔ اوہ۔۔ کس قدر کبر ہے مجھ میں۔۔۔ میں معذرت چاہتا ہوں۔۔۔ آپ کو خادم کہہ کر مخاطب کیا ہمیشہ۔۔۔ آپ مجھے اپنا نام بتادیجئے میں آئندہ آپ کو آپکے نام سے مخاطب کرونگا۔

خادم نے اچٹتی نگاہ ان پر ڈالی۔۔۔ اور مسکرائے۔۔۔۔ میرا نام عبداللہ ہے ۔۔۔ معذرت کی کوئی بات نہیں۔۔۔ آپ مجھ سے بہتر ہیں۔۔۔ جیسے چاہے پکاریں میرے دل پر گراں نہیں گزرتا۔

اوہ۔۔۔ آپ کس قدر مزکّی شخصیت ہیں۔۔۔ واللہ۔۔۔ میں جس دن سے یہاں آیا ہوں۔۔۔ آپ پر تحکمانہ انداز میں اثر انداز ہوتارہاہوں۔۔۔ کبھی آپکو عزت و احترام سے مخاطب کرنے کا دھیان ہی نہیں کیا۔۔۔ سوچا بھی نہیں کہ میں آپ کو کسی ملازم کی طرح مخاطب کررہاہوں۔۔۔۔ حالانکہ آپکا رویہ تو بہت شاندار ہے۔۔۔ آپ براماننے کے بجائے مجھے یہ کہہ رہے ہیں کہ میں آپ سے بہتر ہوں؟؟ نہیں نہیں۔۔۔۔ آپ بہتر ہیں۔۔۔ بہت بہتر ہیں مجھ سے۔۔۔ مجھے معاف کردیجے برادر عبداللہ۔

خادم انکی بات سن کر مسکرائے اور خاموش ہوگئے۔۔۔

سبق اپنا اثر کررہا تھا۔۔ ۔دل نرم ہونے لگا۔

جوتے اٹھانے میں جو مشکل شروع کے دنوں میں پیش آتی تھی۔۔۔ وہ کم ہونے لگی۔۔۔کچھ دن مزید گزرے۔۔۔ اور یہ باقاعدہ۔۔۔ وقت کی پابندی سے آتے۔۔۔ پہلے سلام میں کتراتے تھے، اب باقاعدہ سلام کرتے اور جوتے اٹھانے میں لگ جاتے۔

عبداللہ انکے قریب آئے اور کہا۔۔۔۔ ماشاءاللہ۔۔۔ جو شخص سلام میں پہل کرے وہ کبر سے بری ہے۔۔۔ یہ حدیث ہے۔۔ آپ ماشاءاللہ شروع میں سلام نہیں کرتے تھے، اب سلام کرتے ہیں۔۔۔ اور قابلِ تعریف بات یہ ہے کہ آپ سلام میں پہل کرتے ہیں۔۔۔ اللہ آپ سے راضی ہو!

جزاک اللہ بھائی عبداللہ۔۔۔ آپ نے میری حوصلہ افزائی کی۔۔۔۔

صاحبِ خانقاہ انکے رویے کی تبدیلی پر اب سبق بدلنے کی تیاریوں میں تھے۔

عزیز ساتھیو ۔۔۔۔۔ پرانے وقتوں میں گھروں میں نکاسی کا نظام نہیں ہوا کرتا تھا، حتّی کہ ٹوائلٹ وغیرہ کی صفائی  کے لیے بھی دن ختم ہونے کے بعد خاکروب اور جمعدار آتے اور صفائی کرکے تمام غلاظت اور بول و براز کو ایک بڑی سی ٹرالی میں جمع کرکے لے جاتے۔ کیونکہ ظاہر ہے پراپرسسٹم نہیں ہوتا تھا ،

یہاں تو چونکہ خانقاہ تھی اور لوگوں کا بھی تانتہ بندھا رہتا تھا۔۔ اسلیے کچرا اور غلاظت کی وجوہات بھی بہت تھیں۔

ایک دن سرِ شام جب دن ڈھلنے لگا۔ ۔ ۔ تو صاحبِ خانقاہ نے ۔۔۔ خاکروب کو بلایا۔۔ اور کہا۔۔۔

آپ روز صفائی کے لیے تشریف لاتے ہیں، تمام گند اور غلاظت کو اٹھا کرلے جاتے ہیں،آج آپکو ایک ضروری کام سونپنا ہے،

جی جی حضرت کہیے۔۔کیا کرنا ہے؟

خاکروب نے عاجزی سے عرض کی۔۔

کام کوئی خاص نہیں ہے۔۔۔۔ بس آپ ایسا کیجے۔۔۔ گند غلاظت اور بدبو سے بھری اس ٹرالی کو۔۔۔ عقبی دروازے سے لے جانے کے بجائے۔۔۔ سامنے کے بیرونی دروازے سے لیکر جائینگے۔۔۔ اور ایک کام بہت خصوصیت سے کرنا ہے آپ نے۔۔۔ اور وہ یہ کہ۔۔۔۔ جو صاحب بیرونی دروازے پر نیچے بیٹھے ہیں۔۔۔ ٹرالی کو ان کے اتنے قریب سے گزارنا ہے کہ بدبو اور تعفُّن انہیں محسوس ہو۔ اور یہ کام آپ روز کرینگے، جب تک میں نا روک دوں!

جی بہت بہتر ہے۔۔۔۔ میں ایسا ہی کرونگا۔۔

بہت شکریہ۔۔۔۔ اور سنیے۔۔۔!!! انہوں نے جاتے ہوئے خاکروب کو روکا۔۔۔۔ اس بات کا دھیان رہے کہ اگر وہ صاحب بدبو اور تعفن سے ناراضگی اور خفگی کا اظہار کریں تو آپ نے جواب کچھ نہیں دینا۔۔۔ خاموش رہنا ہے۔۔۔!!!

جی حضرت۔۔۔ میں سمجھ گیا۔۔۔ میں نہیں جواب دونگا کوئی بھی۔ بہت بہتر ہے، جو حکم آپکا!

خاکروب کو یہ نئی زمہ داری دے دی گئی۔

دوسرے دن۔۔۔

یہ نیا سبق۔۔۔ صاحبزادے کے فرشتوں کو بھی علم نہیں کہ سبق تبدیل ہوچکا ہے،

یہ سلام کرکے حاضر ہوگئے۔۔۔۔ دن بھر جوتے سیدھے کرتے رہے۔۔۔ شام کا وقت ہوگیا۔۔۔۔

اچانک بدبو اور تعفُّن کا بھپکا انکے نتھنوں کو بری طرح جھنجھوڑتے ہوئے گزرا،

استغفراللہ۔۔۔۔۔۔۔ اُف!!!!

او بھنگی!!! تم کو شرم نہیں آتی۔۔۔۔ دماغ ٹھکانے پر ہے تمہارا کہ نہیں؟؟ رکو ادھر آؤ۔۔۔ یہاں سے آنے کو کس نے کہا تم سے۔۔۔ لاحول ولا قوۃ۔۔

اب ڈھیٹ بنے کھڑے ہو۔۔۔ اس قدر بدبو اور تعفن ہے کہ سانس لینا دشوار ہورہا ہے۔۔۔۔ میرے کارخانے میں ایسے غیر زمہ دار ملازم ہوں تو ایک لمحے میں فارغ کردوں۔۔۔ دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔۔ اور آئندہ ٹرالی لے کر یہاں سے نہیں گزرنا۔۔۔ جاؤ!!!!

وہ حلق کے بل چلّا رہے تھے اور غصے اور غضب کی کیفیت میں مٹھیوں کو بھینچ رہے تھے۔۔۔

خاکروب نے ہدایت کے مطابق ایک لفظ کا جواب نہیں دیا۔۔

اور چپ چاپ ٹرالی لیکر چلتا بنا۔۔۔

شور شرابہ سن کر عبداللہ قریب آئے۔۔۔۔ ارے صاحب۔۔۔ کیوں خفا ہوتے ہیں۔۔۔ مجھے یقین ہے انہیں کسی زمہ دار شخص نے ایسا کرنے کو کہا ہوگا۔۔ آپ ناراض مت ہوئیے،

کیا کہا؟؟ زمہ دار شخص؟؟؟

عبداللہ آپکا دماغ تو ٹھیک ہے؟؟؟ یہ  بھلاکسی زمہ دار شخص کی حرکت ہوسکتی ہے؟؟ یہاں آنے جانے والوں کا تانتہ بندھا ہوا ہے، لوگ نماز اور زکر تلاوت کررہے ہیں یہاں۔۔۔ ایسی غلیظ ٹرالی۔۔ یہاں سے لے جانا کونسی تُک ہے؟؟ آپ منع کریں ان کو کہ یہ آئندہ یہاں سے ناگزرے۔۔۔ مجھ سے برداشت نہیں ہوتی بدبو !! حد ہوتی ہے!!! دل میں غصے کا طوفان ویسے ہی امڈ رہا تھا، عبداللہ کی اس عجیب حمایت نے گویا جلتی پر تیل کا کام کیا!

یہ بری طرح بگڑنے لگے-

بہت بحث و تکرار کے بعد جب انہیں کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو خاموشی اختیار کرلی، اور رُخ پھیر لیا۔

"دیکھیے صاحب یہ بات میرے اختیار میں نہیں ہے۔۔۔ اور میں آپ سے بھی یہی گزارش کرونگا کہ آپ خاموشی اختیارکرلیجے۔ اسی میں بہتری ہے!"

عبداللہ کا یہ روکھا جواب سن کر وہ بری طرح بھنّا کررہ گئے اور مُٹھیاں بھینچتے ہوئے دوبارہ زمین پر پیر پٹختے ہوئے جابیٹھے،

اب یہ روز کا معمول ہوگیا۔۔

خاکروب بدبو ، تعفن اور غلاظت سے بھری ٹرالی جان بوجھ کر انکے انتہائی قریب سے گزار کر لے جاتا۔۔۔ اور یہ مچل کررہ جاتے۔۔۔۔

کبھی عبداللہ کو قہر آلود نگاہوں سے گھورتے اور کبھی خاکروب سے کہتے۔۔۔ ارے بھئی اگر لے کر ہی جانی ہے یہاں سے ٹرالی تو میرے سر پر سے تو مت گزارو۔۔کچھ تو خیال کرو!!! ٹھیک ہے کسی نے اگر یہاں سے لے کر جانے کو کہا بھی ہے تو اللہ کے بندے میرے اتنے قریب سے لے کرجانے کی کیا ضرورت ہے؟؟

خاکروب کی تو گویا زبان ہی نہیں تھی۔۔۔۔ وہ گونگا بہرا بنا روز ایک ہی کام کرتا۔۔۔ ٹرالی بھری اور بیرونی دروازے پر بیٹھے صاحب کے بلکل قریب سے گزار کر لے جاتے۔۔۔

صاحبزادے کچھ دن کے بعد یوں سمجھئے عادی سے ہوگئے اور جزع فزع چھوڑ دی، بحث و تکرار کے سارے تار و پود آہستہ آہستہ ڈھیلے پڑنے لگے،

عبداللہ۔۔۔!!!

کیا اللہ کوصرف عبادت سے نہیں پایا جاسکتا؟

جی ہاں، اللہ ربّ العزت کو پانے کا رستہ انکی عبادت ہی ہے، محترم۔۔۔۔لیکن!

لیکن؟

لیکن کیا؟

لیکن یہ کہ اللہ ربّ العزت بندوں کے روپ میں عبادت کے اثر کو دیکھنے آتے ہیں۔۔۔

اچھا؟؟

اللہ خود آتے ہیں؟ یہ امتحان لینے؟

ہاں یہی سمجھ لیجے، حدیث میں ہے یہ بات کہ بندہ  اپنے اردگرد لوگوں کا خیال رکھتا ہے، ان کے ساتھ احسان اور خوش اخلاقی سے پیش آتا ہے تو اللہ روزِ قیامت اس کے ان احسانات کو یاد دلائینگے۔۔۔ میرے بندے میں بھوکا تھا تو نے مجھے کھانا کھلایا، میں پیاسا تھا تو نے مجھے پانی پلا کر سیراب کیا، بندہ کہے گا اے میرے رب، آپ تو بھوک اور پیاس سے پاک ہیں، آپ کو میں نے کب کھانا اور پانی پلایا ؟؟؟

تو اللہ فرمائینگے ہاں بے شک میں بھوک و پیاس سے پاک ہوں، لیکن یاد کرو فلاں بندہ۔۔۔ جو گرمی کی تپتی دوپہر میں خشک حلق لے کر تمہارے پاس آیا تو تم نے اسے پانی پیش کیا، کس کے لیے؟ میرے ہی لیے نا؟

وہ عرض کرے گا ہاں بے شک آپکی محبت میں۔

اور یاد کرو وہ وقت جب فلاں بندہ بھوکا آیا، فلاں بندہ غربت کے سبب بے لباس تھا، تم نے بھوکے کو کھاناکھلایا ، اور بے لباس کو پوشاک دی، تو حقیقتاً  یہ میری ہی محبت تھی تو اس لیے۔۔۔۔ گویا یہ سب مجھے دیا!

سبحان اللہ۔۔۔عبداللہ کیا یہ واقعی حدیث ہے؟

جی ہاں یہ حدیث ہے لیکن ممکن ہے الفاظ میں کوئی ردّوبدل ہو، تاہم مفہوم یہی ہے،

اللہ اکبر۔۔۔ بہت خوب۔۔۔ یعنی اللہ کو پانا ہے تو بندوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا ہوگا؟

جی محترم آپ ٹھیک سمجھے، اللہ کو پانے کا رستہ اس کے بندوں سے ہوکر گزرتا ہے۔

جو جتنا بندوں سے قریب ہے، اتنا ہی وہ اللہ سے بھی قریب ہے۔

اولیاء کہتے ہیں،۔۔۔ جس آدمی کا دل ساری انسانیت کی محبت سے سرشار ہو، جس کے دل میں کائنات کے کسی ایک فرد سے بھی ایک رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی بغض یا منفی خیال نا ہو، تو اس بندے سے کرامات کا صدور ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

پھر زمین آسمان اور خلائق اس سے محبّت کرنے لگتے ہیں، پھر مخلوقات اسکی تابع فرمان ہونے لگتی ہے۔

لیکن۔۔۔

لیکن؟ ...... کہو کہو۔۔۔ میں ہمہ تن گوش ہوں۔۔۔

لیکن کیا؟؟

لیکن میرے بھائی یہ دولت ہر ایک کو مل نہیں پاتی۔۔۔ یہ بڑے نصیب کی بات ہے اگر پیدا ہوجائے۔

پھر سمجھو ۔ اللہ زندگی میں ایسے ساتھ نظر آئینگے، جیسے تہمارا سایہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔۔۔

اچھا ۔۔۔۔۔۔۔!!!

بہت خوب۔۔۔ اللہ مجھے بھی ایسا ہی بنادے۔۔۔۔

انشاءاللہ۔۔۔ آپ محنت میں لگے رہیے ، یہ منزل بھی مل جاتی ہے، بڑی ریاضتوں اور بڑے مجاہدوں کے بعد۔

ہوں۔۔!!!

عبداللہ کی باتیں ان کے لیے ہمیشہ ہی کسی ایندھن کا کام کرتیں۔

وہ اپنے اندر تیزی سے تبدیلی محسوس کررہے تھے۔

خاکروب کی آمد و رفت ایسے ہی جاری تھی۔۔۔ لیکن اس بار ایک نیا انداز انہوں نے اپنایا۔

خاکروب گند اور غلاظت سے بھری ٹرالی ان کے انتہائی قریب سے لیکر جاتا۔

شروع میں تو بہت غصہ ہوئے تھے، آگ بگولہ ہوئے تھے!

پھر یہ تبدیلی آئی کہ  آہستہ آہستہ خاموشی اختیار کی

اور صرف گھور کر دیکھتے ۔۔۔۔ کہتے کچھ نہیں تھے۔

تاہم آج شام ڈھلے ان کے دل میں خیال آیا،۔۔۔۔۔ خاکروب بھی تو اللہ کا بندہ ہے!!! میں کیوں نا اس سے بھی اللہ ہی کے لیے محبّت کروں؟؟

اوہ!!!

اس خیال نے دفعتاً دل کی دنیا ہی بدل ڈالی۔۔۔ ہاں ہاں بلکل۔۔۔ میں اس سے اللہ کے لیے محبّت کرونگا۔۔۔ ضرور۔۔!!!

آج کی شام خاکروب اپنی روٹین کے مطابق گندی ٹرالی ان کے قریب لایا۔۔۔

تو انہوں نے اسے روک لیا۔۔۔

سنئیے۔۔۔۔!!! رکئیے۔۔۔!!!

خاکروب ٹھٹک کر رک گیا۔۔۔۔

اور انکی طرف گرد ن گھما کر سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔۔۔۔ مجھ سے مخاطب ہیں؟

جی جی آپ سے۔۔۔۔

کیسی طبیعت ہے آپکی؟؟ میں دیکھتا ہوں روز آپ اتنی محنت کرتے ہیں، لوگوں کا گند صاف کرتے ہیں، آپ تھک جاتے ہونگے۔۔۔

خاکروب تو جیسے عجیب دیوانہ سا ہوگیا۔۔۔۔

ارے صاحب۔۔۔۔ یہ تو ہمارا کام ہے، ۔۔۔۔ لیکن آپ نے میری طبیعت کا پوچھا مجھے بہت خوشی ہوئی۔۔۔۔

ہاں کیوں نا پوچھوں تم بھی تو اللہ کے بندے ہو۔۔۔ اور تمہاری فکر کرنا تو میری زمہ داری ہے۔۔۔۔

رویے کا یہ بدلاؤ خاکروب کی سمجھ سے بالاتر تھا۔۔۔

اسے یک دم یاد آیا۔۔۔۔ بات تو کرنا منع تھا۔۔۔۔ اس خیال کے آتے ہیں۔۔۔ ٹرالی لیکر تیزی سے گزر گیا۔۔۔

صاحبزادے اندر ہی اندر سکون محسوس کرنے لگے۔۔۔ یہ بندہ کتنا خوش ہوا میری زرا سی فکر نے اسکے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑادی۔۔۔ الحمدللہ ۔۔۔ یہ میں ہی تھا؟؟ وہ اپنے اندرکی اس خوشگوار تبدیلی سے بہت خوش تھے۔۔۔

صاحبِ خانقاہ تک ان کے اس روئیے کی تبدیلی کی خبر بھی پہنچ گئی۔۔۔۔ اور وہ اللہ کے شکرگزار ہوئے۔۔۔

دیر تک ان کی کامیابی کے لیے سجدے میں اللہ کے حضور دعائیں مانگتے رہے۔۔۔ گریہ و زاری کرتے رہے۔۔۔۔

لیکن سبق اب بھی باقی تھا۔۔۔ کسی امتحان میں کامیابی کے بعد جیسے طلباء کے لیے سبق بھی مشکل ہونے لگتا ہے، ویسے ہی۔۔۔ اب سبق نے مزید مشکل ہونا تھا۔۔۔۔۔۔

آج شام انہوں نے خاکروب کو پھر آواز دی۔۔۔۔ اور گویا ہوئے۔۔۔

آپ ٹرالی روز ویسے ہی لے کر جارہے ہیں جیسی میری ہدایت تھی؟؟

جی جی حضرت۔۔۔ بالکل ویسے ہی۔۔ آپکا حکم سر آنکھوں پر۔۔۔۔کہیے کوئی اور حکم ہے ۔؟؟ تو بتائیے۔۔۔!!!

جی ہاں۔۔۔ اب ایک اور کام سونپنا ہے آپکو۔

جی فرمائیے۔۔۔ میں تیار ہوں۔

کام یہ ہے کہ جن صاحب کے قریب سے آپ روز ٹرالی لے کر گزرتے تھے کہ بدبو اور تعفن محسوس ہو، اب آپ نے ایک کام اور کرنا ہے۔

جی۔۔ جی۔۔ کیا کام؟

اب آپ نے اس ٹرالی کو ایسے لے کر جانا ہے کہ  انکے اجلے کپڑوں پر گند اور غلاظت لگ جائے، اور نشان اتنا  ہو کہ واضح نظر آئے۔۔۔

جی؟؟ یہ ۔۔یہ ۔۔۔ ٹرالی ٹکرانی ہے؟؟ خاکروب پھٹی آنکھوں سے استفہامیہ ان کی طرف دیکھنے لگا۔

جی ہاں۔۔۔ یہی کرنا ہے۔

کوئی پریشانی ہے؟ انہوں نے آپ سے ناراضگی کا اظہار تو نہیں کیا ناں کبھی؟

نہیں نہیں حضرت پریشانی تو کوئی نہیں ہے۔۔۔ وہ واقعی شروع میں تو بہت آگ بگولہ ہوئے تھے، لیکن کل ہی میں نے ان میں عجیب تبدیلی دیکھی، وہ تو میری خیریت لے رہے تھے، حالانکہ وہ دیکھ رہے تھے میں جان بوجھ کر انہیں ستانے کے لیے ٹرالی انکے بالکل قریب سے لیکر جاتا ہوں، اس کےباوجود ۔۔۔ وہ اتنی شفقت اور محبّت سے پیش آرہے تھے جیسے میں نے ان پر کوئی احسان کردیا ہو۔۔۔۔

الحمداللہ ۔۔۔ ثمہ الحمدللہ۔۔۔۔ بہت خوب۔۔۔ میرا دل ان کے قلب کی اس نرمی پر بے حد شاد ہے۔۔۔

لیکن میرے عزیز۔۔۔۔ دل کو مزید نرم ہونا ہے۔۔۔۔ آپ مت گھبرائیے۔۔۔ آپ وہی کیجے جس کا میں نے آپکو کہا ہے۔۔۔ میری ہدایت کے مطابق اب کل سے آپ نے ٹرالی کو ان سے ہلکا سا مس کرنا ہے، ایسے کہ  دھبہ کپڑوں پر نمایاں ہو۔۔!!!

حضرت ۔۔ آپ پہنچے ہوئے بزرگ ہیں۔۔۔یقیناً اس میں کوئی نا کوئی حکمت ہوگی۔۔۔۔ لیکن میرا دل ڈر رہا ہے، اب جبکہ انہوں نے مجھ سے بہت خوش اخلاقی والا معاملہ کیا ہے تو میرا ضمیر اس حرکت کے لیے تیار نہیں ہورہا۔۔۔ پھر بھی یہ چونکہ آپکا حکم ہے۔۔۔ تو میں تیار ہوں۔

صاحبِ خانقاہ مسکرائے۔۔۔آپ بالکل بھی مت گھبرائیے۔۔۔ یہ حکمتاً ہے۔۔۔ نفس ایسے ہی چوٹ کھاتا ہے تو نرم ہوتا ہے۔۔۔

جی بہت بہتر ہے۔۔۔ میں تیار ہوں!!

اگلا دن۔۔۔

عصر اور مغرب کا درمیانی وقت۔۔۔

خاکروب ڈرتے ڈرتے۔۔۔۔ ٹرالی انتہائی قریب لے کر گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ اور۔۔۔ اور ٹکرادی!!!

صاحبزادے کے لیے گویا آسمانی بجلی گر پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی قہر آلود نگاہ سے خاکروب کو دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! جیسے آج اسے جلا کر بھسم کردیں گے۔۔۔۔ خاکروب بلکل شان بے نیازی سے ٹرالی ٹکرا کر چلتا بنا۔۔۔۔

عبداللہ ایک طرف کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

صاحبزادے کے اندر غصے کا طوفان لبوں پر آنے ہی کو تھا۔۔۔۔مغرب کی آزان شروع ہوگئی۔۔۔۔اللہ اکبر ۔۔ اللہ اکبر۔۔۔!!! اشہدان لا الہ اللہ۔۔۔

یہ آزان کی آواز سن کر چپ ہوگئے،

خاکروب نے موقع غنیمت جانا اور تیزی سے غائب ہوگیا،

آج صاحبزادے نے اپنے آپ سے تہیہ کرلیا۔۔۔ وہ غصہ نہیں کرینگے۔۔۔۔ عبداللہ نے انہیں پانی پلایا۔۔۔

اور کہا۔۔۔ اس داغ کو دھولیجے اور وضو کرلیجے۔۔۔ نماز کا وقت ہورہا ہے۔۔۔۔

بلکہ ٹھہریے میرے ساتھ آئیے۔۔۔

انھیں ساتھ لیا۔۔۔ وضو خانے کے قریب لے جاکر جہاں غلاظت لگی ہوئی تھی اسے اپنے ہاتھوں سے دھوکر صاف کرنے لگا۔۔۔

ارے ارے ارے۔۔۔۔ عبداللہ ۔۔۔ آپ کیوں زحمت کرتے ہیں۔۔۔۔ میں خود دھولونگا۔۔۔

نہیں صاحب۔۔۔ کوئی بڑی بات نہیں۔۔۔۔ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔۔۔

عبادت سے تو جنت ملتی ہے۔

لیکن۔۔۔

لیکن؟

لیکن کیا عبداللہ؟؟؟

عبادت سے جنت ملتی ہے۔۔۔؎

لیکن خدمت سے تو خدا مل جاتا ہے۔۔۔

میں اس لیے آپ کی خدمت کرکے خدا کو پانا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔

اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آنسو کسی لڑی کی طرح بہنے لگے۔۔۔۔ عبداللہ آپ کتنے عظیم انسان ہیں۔۔۔!!!!

آپ مجھے سمجھانے کے لیے کتنا شاندار انداز اپناتے ہیں۔۔۔ واللہ ۔۔۔ میں آپکا احسان زندگی بھر نہیں بھول سکتا!!!

کیا ہی شاندار طریقے سے آپ نے میری غصے کو مثبت رخ دے دیا۔۔۔

اللہ آپکو اپنا رفیق۔۔ بلکہ اپنا حبیب بنالے۔۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔

جی میں ان دعاؤں کے لیے بہت مشکور ہوں۔۔۔۔ چلیے اب جلدی سے وضو کرلیجے۔۔۔ جماعت کھڑی ہوچکی ہے۔

جی جی بہت بہتر۔۔۔

اگلا دن۔۔۔

خاکروب ۔۔۔ آج بھی ہدایت کے مطابق تیار تھا۔

آج پھر وہی ہوا۔۔۔۔

ٹرالی قریب لایا۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ٹکرادی۔۔۔

صاحبزادے نے  اسکی جانب دیکھا۔۔۔ اور مسکرا کر کہا۔۔۔۔

کوئی بات نہیں۔۔۔۔!! ہوجاتا ہے۔۔۔۔ میں اپنے کپڑے خود دھولونگا!!!!

خاکروب یہ سن کر بھوچنگا ہوگیا!!!! حیرت کا کوئی پہاڑ تھا جو اس پر گرچکا تھا۔۔۔۔!!!

زبان گنگ تھی۔۔۔۔ کچھ کہے بغیر تیزی سے دروازے سے باہر نکل گیا۔۔۔

صاحبزادے اطمینان سے اٹھے۔۔۔۔

جس جگہ داغ لگا تھا اسے دھویا۔۔۔ وضو کیا۔۔۔ اور تسلی سے نماز میں شامل ہوگئے۔۔۔

آج کی نماز میں ایک عجیب سرور اور کیف تھا۔۔۔۔

آہ۔۔ یہ نماز تو مجھے کبھی نصیب نہیں ہوئی جو آج میں نے پڑھی۔۔۔

سچ ہے۔۔۔ بالکل سچ ہے۔۔۔ حق ہے۔۔۔ بالکل حق ہے۔۔۔ اللہ کو پانے کا رستہ اس کے بندوں سے ہوکر گزرتا ہے۔۔۔

آج یہ حقیقت منکشف ہوگئی۔۔۔۔ آج میرے ایمان نے نئی زندگی حاصل کی ہے۔۔۔۔

آج میرا من شانت ہے۔۔۔ آج مجھ پر حقیقتِ اعلیٰ منکشف ہوگئی ہے۔

آج میرا رب مجھے قریب بلانے کے اشارے دے رہا ہے،۔۔۔۔

وہ آنسوؤں سے نماز میں رکوع و سجود میں لگے رہے۔۔۔

یہ من کی دنیا عجیب ہے عبداللہ۔۔۔!!!

وہ عبداللہ سے مخاطب ہوئے۔۔۔

اسے ہم گناہوں سے آلودہ کرکے کتنا کثیف کردیتے ہیں، کس قدر گرد جم جاتی ہے۔۔۔ ہم ایسے ہی غلیظ نفس لے کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے تو کیا ہوگا!

ان کے اس جملے پر عبداللہ نے انکو محبت بھری نگاہ سے دیکھا۔۔۔۔ ہاں یہ سچ ہے!!!

اللہ ربّ العزت نے جنّت کو مزکّی اور پاکیزہ لوگوں کے لیے بنایا ہے۔ وہاں آلودہ نفوس نہیں جاسکتے۔

ہاں عبداللہ تم نے سچ کہا۔۔۔

میں خودیہ سوچ رہا ہوں، اس گندی غلیظ ٹرالی کو جس میں بول و براز اور غلاظت بھری پڑی تھی، میں نے کتنا سخت ناپسند کیا۔۔۔۔ یہ میری طبیعت کو کس قدر ناگوار گزرا۔۔۔ پھر اللہ تو تمام پاکیزہ لوگوں سے بڑھ کرپاک زات ہے، وہ کیوں کر گناہوں اور غلاظتوں میں لتھڑے دل کو قبول کرینگے۔۔۔۔ آہ!! اللہ نے کیا ہی خوب میری تربیت فرمائی!!

دیر تک عبداللہ اور وہ۔۔۔ آنسوؤں سے روتے رہے۔۔۔

صاحبِ خانقاہ۔۔۔ اب ایک آخری سبق کے لیے فیصلہ کرنے کی طرف بڑھ رہے تھے،

دراصل انسان کا نفس جن آلودگیوں سے پُر ہوتا ہے، ان میں نفس کا کبر اور دوسروں کو خود سے حقیر سمجھنا ، سب سے خطرناک ترین برائیوں میں سے ایک ہے، کبر صرف اللہ کی ذات ہی پر جچتا ہے، یہ اسی کی شان ہے کہ وہ اپنی بڑائی اور عظمت پر متکبر ہو۔

موصوف کی ثابت قدمی اس لائق تھی کہ انہیں تصوف کی اصل روح سے آشناء کرایا جائے، درحقیقت یہ تمام اسباق ان کے تزکیۂ نفس سے قبل کے وہ مدارج تھے جو انہوں نے ہر حال میں طے کرنے تھے۔

آج خاکروب کر طلب کرلیا گیا۔

جی حضرت میں حاضر ہوں، مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ کوئی بہت اہم کام مجھے سونپنا چاہتے ہیں؟

ہاں بالکل یہی بات ہے۔

حضرت، اس سے پہلے کہ آپ مجھے کوئی کام عنایت کریں، میں آپ سے بہت ادب سے گزارش کرتا ہوں کہ جن صاحب کو آپ کے حکم کے مطابق مجھے ٹرالی سے ٹکرانا تھا، انکے رویے میں روز ہی ایسی تبدیلی رونما ہوجاتی ہے جسکے سبب میں انکا سامنا کرنے سے کتراتا ہوں، مجھے بے انتہاء شرمندگی ہوتی ہے، آپ اللہ والے ہیں، آپکے ہر کام میں حکمت ہے، لیکن میں کسی آزمائش کے قابل نہیں ہوں، آپ سے ہاتھ جوڑ کر عرض ہے آپ مجھے یا تو اس کام سے فارغ کردیجے یا کم از کم اب انکا سامنا کرنے مت بھیجیے،

میں آپکا شکر گذار ہونگا۔

خاکروب کی یہ بات سن کر صاحبِ خانقاہ نے انہیں بہت نرمی سے اپنے قریب بلایا، اور کہا،

ناصر مسیح!

آپ عرصے سے ہمارے ہاں آرہے ہیں، کیا آپ جانتے  یہا ں لوگ کیوں آتے ہیں؟

جی حضرت وہ ایمان سیکھنے آتے ہیں۔

ایمان کیا ہے؟

ایمان؟؟۔۔۔۔جی؟؟

جی میں نے تو صرف اسکا نام سنا ہے، دیکھا کبھی نہیں۔

ناصر مسیح کبھی اپنی بائبل پڑھئیے گا بہت غور سے کسی صحیح اہلِ علم کی رہنمائی میں، آپ کو مسیح کے خطبات میں ایمان کی جھلک دکھائی دے گی۔

جی حضرت میں کوشش کرونگا۔

آپ کام نہیں کرنا چاہتے، ہم آپ کو نہیں روکیں گے، لیکن اگر آپ ہمارے لیے ایک آخری کام کرسکیں تو ہم آپکے بیحد شکرگزار ہوںگے۔

آپ جو مناسب فیصلہ چاہیں کرلیں۔

خاکروب اس بات کو سن کر متذبذب ہوگیا،

اچھا کیا یہ آخری کام ہے؟

جی ان صاحب کے لیے یہ آخری ہے،

اچھا ٹھیک ہے حضرت آپ بڑے بزرگ ہیں، میں آپ کو منع نہیں کرسکتا، مجھے لاج آتی ہے۔

بہت شکریہ ناصر!

اب کام یہ ہے کہ آپ نے اس گندی ٹرالی کو ان صاحب پر پورا انڈیل دینا ہے، اور اس بات کے لیے آپ بالکل بے فکر رہیے، وہ آپ سے کچھ نہیں کہیں گے، یہ میری زمہ داری ہے،

اوہ!!!

یہ آپ کیا کہہ رہےہیں؟؟؟!!!

خاکروب کی تو جیسے ٹانگوں سے جان ہی نکل گئی!

دیر تک۔۔۔ صاحبِ خانقاہ نے انہیں مطمئن کیا اور بالآخر وہ تیار ہوگئے۔

تمام رات انہوں نے صاحبزادے  کے لیے قیام الیل میں گزاری، اور دیر تک اللہ کے حضور گریہ و زاری میں لگے رہے۔

رکوع و سجود میں ان کےلیے لمبی لمبی دعائیں کیں۔ رو کر انہیں اللہ سے قبول کروانے کی کوشش میں لگے رہے۔

صاحبزادے آج تک کے اسباق میں بتدریج نفس کو زیر کرتے کرتے یہاں تک پنہنچے کہ انہیں اب کسی بات کا نا رنج تھا نا ملال، وہ نفس کُشی کی اس اعصاب شکن محنت سے آہستہ آہستہ مانوس ہوتے جارہے تھے۔

نماز عصر کے بعد عبداللہ ان سے مخاطب تھے،

ایمان ایک ایسا زائقہ ہے جس کی لذت صرف وہ محسوس کرسکتے ہیں جو اس کی خاطر خود کو مٹا دینے کو تیار ہوں، اللہ نے ہر چیز میں زائقہ پیدا کیا ہے، جیسے پھلوں میں بھی زائقے بیشمار ہیں، آم کا الگ، سیب کا الگ، امرود کا الگ۔۔۔ جس کو ایمان کے زائقے سے آشنائی حاصل ہوجائے اس کے لیے  بھی دنیا کے ہر واقعے میں ایک روحانی زائقہ محسوس ہوتا ہے، کھونے کا زائقہ الگ،

پانے کا زائقہ الگ۔

اللہ کے لیے رونے کا زائقہ الگ۔

اللہ کے لیے ہنسنے کا زائقہ الگ۔

محرومی ایک اور زائقہ

یافت ایک اور زائقہ

اللہ کے لیے کسی کو معاف کرنا ایک عجیب بے خود کرنے والا زائقہ ہے۔

اور اللہ کے لیے اپنی غلطی نا ہوتے ہوئے بھی خاموشی اختیارکرلینا ایک اور زائقہ۔

جو ایمان جیسی دولت کو پالے اسے جو سب سے بڑی دولت حاصل ہوتی ہے، وہ اللہ کا قرب ہے، یہ ایسی لذّت ہے جسے مل جائے وہ بےخود ہوجاتا ہے، وہ دنیا میں رہ کر فرشتوں کا ہمنشین بن جاتا ہے۔

صاحبزادے انکی  باتوں میں گم تھے،

اچانک خاکروب بول و براز  سےبھری ٹرالی تیزی سے  لے کر آیا

اور پوری کی پوری گندی ٹرالی ان پر انڈیل دی۔۔۔۔!!!

وہ عبداللہ کی باتوں میں اسقدر گم تھے کہ اس اچانک  کے حملے کے لیے تیار نہیں تھے، لیکن اندر کی آنکھ جیسے روشن تھی۔

اس غلاظت کے ڈھیر کو اپنے اوپر دیکھ کر انھوں نے الحمدللہ کہا!!!

اور خاکروب کی طرف مخاطب ہو کر گویا ہوئے،

آپ نےمجھے ایمان کے جس زائقے سے آشنائی کرائی میں اسکے لیے  آپکا بیحد شکرگزار ہوں،

ساری غلطی میری ہے۔

اور اپنے ہاتھ سے سارا گند اٹھاکر ٹرالی میں بھرنے لگے،

'مجھے معاف کردیں ، میری غلطی ہے۔

مجھے معاف کردیں  میری غلطی ہے'

مجھے معاف کردیں میری غلطی ہے'

صاحبزادے  یہی  الفاظ زبان سے دہراتے رہے، اور تسلی سے غسل کے لیے روانہ ہوگئے،

آج انہوں نے ایمان کے اصل زائقے کو محسوس کرلیا تھا!

دل پوری طرح سے لذتِ ایمانی کے زائقوں سے آشنائی حاصل کرنے کے لیے بے تا ب تھا۔

یہ دن ان کی زندگی کا سب سے شاندار دن تھا،

اللہ کے لیے خود کو مٹادینے کی پہلی منزل اپنے نفس کے کبر کر مٹانا ہوتا ہے،۔۔۔۔ اور آج وہ اپنی خودی اپنا نفس اللہ کے ہاتھ فروخت کرچکے تھے،

انہیں اپنی غلطی نا ہو کر بھی مان لینے میں جو لطف محسوس ہورہا تھا اسکی حلاوت بیان سے باہر تھی،

غسل کے دوران گویا پانی انکے جسم ہی کو نہیں ۔۔۔بلکہ نفس کو بھی پاک کررہا تھا۔

آج رواں رواں اللہ کی محبٗت سے سرشار محسوس ہورہا تھا۔

مغرب کی جماعت میں وہ حاضر تھے، قلب پر کیفیات اپنی تجلّیوں کے ساتھ آن موجود ہوئیں، اور نا معلوم کتنی دیرتک وہ قیام رکوع اور سجود میں حالتِ ایمانی کوکو محسوس کرتے رہے۔

آج صاحبِ خانقاہ نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی،

اور سینے سے لگالیا،

تسلی سے پاس بٹھایا، ان کے سینے پر اپنا ہاتھ رکھا ۔۔۔ اور گویا ہوئے،

کہیئے۔۔۔

ال ۔۔۔ ال۔۔۔۔اللہ!!!!!

ابھی یہ الفاظ وہ زبان سے دہرانے کے لیے لب ہلانا ہی چاہتے تھے،

دل پر ایسی زور کی بجلی گری کہ ۔۔ غش کھاکر گرپڑے اور بیہوش ہوگئے،

ہوش میں آئے توکہا۔۔۔

حضرت یہ الفاظ زبان سے اگر نکل گئے۔۔۔۔ تو آج میری روح نکل جائیگی۔۔۔۔!!!!

میرے محبوب میرے قلب میں بسیرا کر چکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قلب و جاں انکی محبّت اور عشق کے اسیر ہیں۔۔۔۔ مجھ سے میرے محبوب کا نام ادا کرنے میں دشواری ہورہی ہے، میں عشق کے در کا غلام بن چکا ہوں۔۔۔ مجھے اسکے عشق میں رُلنا ہے۔۔۔۔ در در پھرنا ہے۔۔۔۔ ٹھوکریں کھانی ہیں۔۔۔۔ مجھے مت کہیے کہ میں انکا پاک نام اپنی ناپاک زبان سے ادا کروں۔۔۔ وہ قدّوس زات۔۔۔ وہ وریٰ الوریٰ زات۔۔۔ ۔وہ آسمانوں کا رب۔۔۔ آہ۔۔۔۔ سینے میں دل نہیں انگارہ ہے۔۔۔ انگارہ۔۔!!! سلگ رہا ہے!!!،۔۔۔۔ اسے آگ میں مزید جلنا ہے۔۔۔۔ مجھے بھسم کردیں۔۔۔ مجھےدنیا سے بےرغبت کردیں۔۔۔۔۔۔

وہ کسی ماہیِ بے آب کی طرح تڑپ رہے تھے۔۔۔۔

وقت گزرتا رہا۔۔۔۔ اور صاحب اس صوفی سلسلے کےاولاً مرید ہوئے۔۔۔ کشاں کشاں بڑھتے رہے۔۔۔ خود اپنی ایک کتاب میں لکھتے ہیں۔۔۔۔

مجھ پر اکژ ایمان کی ایسی کیفیات کا غلبہ ہوجایا کرتا کہ۔۔۔۔

گھر سے کوئی چینی / شکر یا مٹھائی لے کر دیوانہ وار نکل پڑتا۔۔۔ اور گلی کے کونے میں  کھڑا ہوجاتا۔۔۔۔ آنے جانے والوں سے کہتا۔۔۔ ارے سنو۔۔ سنو!

تم میرے محبوب رب کا نام تو لو اپنی زبان سے۔۔۔۔ میں تمہارے ہاتھ جوڑتا ہوں۔۔۔ مجھے انکا نام کسی اور کے منہ سے سننے میں وہ لطف آتا۔۔۔ کہ اگر کوئی شخص میری درخواست پر اللہ کا نام اپنی زبان سے ادا کرتا تو میں اسکا منہ میٹھا کردیتا۔۔۔ لو۔۔ اجنبی۔۔۔ تم نے میرے محبوب کا نام لیا۔۔۔ یہ الفاظ میرے کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ اور اسکو مٹھائی یا کوئی بھی میٹھی چیز کھلا دیتا۔۔۔۔

اور

کبھی وہ حالت ہوجاتی۔۔۔کہ۔۔۔

گھر سے دیوانہ وار تلوار لیکر نکل کھڑا ہوتا۔۔۔۔۔ اور آنے جانے والوں سےغضبناک  لہجے میں  کہتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  خبردار اگر کسی نے میرے اللہ کا نام بے وضو اپنی زبان سے ادا کیا!!!!

یہ اپنے وقت کے بڑے بزرگ ہوئے۔۔۔۔ کچھ عرصے بعد انتقال ہوا۔۔۔ اور اپنے مرحوم والد کے پہلو میں مدفون ہوئے۔

اللہ اپنے ولیوں پر تاابد رحمت  کا مینہ برسائے!!!

آمین!

(242 مرتبہ دیکھا گیا)

سید اسرار احمد

سید اسرار احمد ایک متحمل اور بردبار شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی اور فکری بالیدگی نمایاں ہوتی ہے۔ ان سے جڑے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

7 تبصرے

  1. Muhammad Shariq says:

    ماشاءاللہ۔۔ بہت عمدہ تحریر ہے اللہ ہمیں علم و عمل کی توفیق عطا فرمائے اور اسرار بھائی کو اس محنت کا اجر دے۔آمین

  2. ignorantways says:

    پتا نہیں واقعہ ایسا ہے یا انداز جیسا ہے ' پورا پڑھ کر ہی سانس لیا

    کبر اور حب جاہ نکالنے کے لئے ایسے حیلے بزرگوں کی ہی ایجاد ہیں - جو کہ سائنسی ایجادات سے ہزار گنا زیادہ سود مند اور ناگزیر ہیں

    ماشا الله ' لکھنے سنانے والے کو جزاک الله خیر ' اسرار' اسرار کھولتے رہیں ' دوبارہ کبھی پڑھنے کا موقع ملے یا نہ ملے رب جانے ' مگر حسن ظن کہہ رہا لکھاری عامل بھی ہے خود چاہے کسی بھی درجے کا ہو ' الله اور آگے لے کر جائے دنیا و آخرت میں - جیتے رہیں

    • سیّد اسرار احمد says:

      جزاک اللہ برادر،
      اللہ رب العزت مجھے صاحبِ عمل بنائے، اور آپکی دعاؤں کو خؤد آپ کے حق میں بھی قبول فرمائے ۔ آمین

  3. فاطمہ امل says:

    اللہ کے لیے خود کو مٹادینے کی پہلی منزل اپنے نفس کے کبر کر مٹانا ہوتا ہے،۔ اللہ اللہ!

  4. بہت اچھی تحریر ہے سر جی

تبصرہ کریں