تقابل، موازنہ، قیاس اور ہمارے دعوے

مختلف موضوعات کو جوڑنے کی سعی ناقص ہے۔
تقابل، موازنہ اور قیاس وغیرہ پر اک نظرعامی۔
سب سے پہلے دو الفاظ ’کافر‘ اور ’جاہل‘ کا تقابلی جائزہ۔
ہر گلی و محلے میں بے باک و بے لگام استعمال ہونے یہ دو الفاظ۔
دونوں الفاظ بظاہر اک دوسرے سے شاید کوئی تعلق نہ رکھتے ہوں مگر محرکات و رد عمل کو دیکھا جائے تو دونوں میں رتی برابر بھی فرق نہیں۔ دونوں الفاظ کی سب سے پہلی مشترک صفت ’انکار‘ ہے- مخاطب ’مخالف‘ سامنے والے کے الفاظ، اعمال، کردار، تحاریر، تقاریر، تدابیر، تقلید وغیرہ کا انکار۔ بلکہ لفظ ’تکفیر‘ زیادہ موزوں ہے۔
جس کو صرف مذہب و مسلک کے ساتھ نتھی کیا جاتا ہے عرف عام میں۔ تکفیر کا آسان سا مطلب انکار کرنا ہے، کافر وہ ہوا جس نے انکار کیا، کفر کا مطلب اگر لغت میں دیکھیں۔ ناشکری، ضد، خدا کا انکار وغیرہ لکھا ہوا ہے۔ ’کفران نعمت‘ مشہور مرکب – اختلاف کی شدت ضد، انکار اور کافر سے ہوتی ہوئی جہنمی یا جاہل تک پہنچ جاتی۔ اختلاف کی اقسام تو انگنت ہیں مگر ہمارے معاشرے میں آج کل مذہبی و سیاسی اختلاف بہت ہی زیادہ نمایاں ہیں۔ مخاطب کا ہمہ تن گوش سامع نہ بننا، تائید نہ کرنا، تعریف نہ کرنا، تقلید نہ کرنا، ترویج نہ کرنا وغیرہ محرک ہے، رد عمل میں ضد، نفرت، تنقید، تحقیر، دوری، تکفیر وغیرہ شامل ہیں۔
اب لفظ ”جاہل“ کو محرکات و رد عمل کے لحاظ سے تقابل کرایا جائے لفظ ”کافر“ سے تو اختلاف سے شروع، نفرت و تکفیر پر ختم وقت اجازت دے تو اک مختصر مکالمہ کافر بمقابلہ جاہل پڑھ لیں۔ اک حصہ:
”جاہل مخاطب کافر سے : ہم دونوں کا معاملہ ملتا جلتا ہی ہے، لوگ تم سے بھی نفرت کرتے مجھ سے بھی، لوگ تم سے بھی دور بھاگتے، مجھ سے بھی، لوگ تمہیں ہزاروں میل دور سے ہی سلام کرتے قریب نہیں آتے، مجھے بھی، لوگ تمھارے بارے لوگوں کو کہتے کہ اس سے بچنا اپنا وقت برباد نہ کرنا، میرے بارے بھی یہی کہتے کہ اس جاہل سے بحث مت کرنا، لوگ ہمیشہ کے لئے تمہیں دھتکار دیتے، مجھے بھی، ہم دونوں کا کیس اک جیسا ہی ہے۔“

لب لباب انٹرنیٹ کی دنیا سے لفظ کافر و جاہل کی مماثلت دیکھنا بہت آسان ہے محرکات و رد عمل کے تناظر میں، سماجی رابطہ کی دو مشہور سائٹس فیس بک اور ٹویٹر پر مسلمانوں اور غیر مسلموں کی بحث، مسلمان اور ملحدین کی بحث، مسلمانوں کے مذاہب و مسالک کی آپس میں بحث، مختلف ممالک کے لوگوں کے مباحث، سیاسی قائدین و سیاسی کارکنان بلکہ سیاسی مقلدین کے بلند و بانگ مباحث، اداروں کے عہدیداران و ملازمین کی بحث، اساتذہ و طلبہ کی بحث وغیرہ وغیرہ – لفظ ”بحث“ ویسے تو اک مثبت و صحت مند لفظ ہے مگر رائج معنی کے مطابق یہ اک منفی لفظ ہے اور اس کو نہ کرنے پر بھی مباحث ہوتے ہیں۔ عملی مظاہرہ اک دوسرے کے خلاف پوسٹس لکھ کر شئیرکر کے، ٹویٹس لکھ کر، ہیش ٹیگز بنا کر اور ان کو ٹرینڈ کرا کے، اک دوسرے کی تکفیر کی جاتی ہے، نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے، کوئی نا کوئی کسی کو کافر کہہ رہا ہوتا یا جاہل کے سرٹیفکیٹ بانٹ رہا ہوتا۔ ڈھکی چھپی بات نہیں، سب لوگ جانتے ہیں۔ ذرا مخصوص مذہبی تقابلی مگر فقط سطحی جائزہ لیا جائے کہ امام ابو حنیفہ(دیوبندی اور بریلوی جن کی تقلید کرنے کا دعوی کرتے ہیں) کا مشہور قول ہے کہ اگر میری کوئی بات قرآن و حدیث کے منافی ملے تو اس کو دیوار پر دے مارنا اور صرف قرآن و حدیث کو اپنایا جائے۔ اب اگر آج کے آس پاس مختلف گروہوں کو دیکھا جائے، غور سے، مثلاً غیر مقلدین احباب نے کتنی باتیں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ، امام ابن القیم الجوزی، شیخ عبدالوہاب نجدی، شیخ ابن باز حضرات کی دیوار پر مار کر صرف قرآن و حدیث کو اپنایا ہو؟ جماعت اسلامی کے احباب نے بانی جماعت مولانا ابو الاعلی مودودی صاحب کی کتنی باتوں کو دیوار پر مار کر فقط قرآن و حدیث کو اپنایا ہے؟ اسی طرح امامیہ، اسماعیلیہ، بوہری شیعہ حضرات نے اپنے اپنے امام کی کتنی باتوں کو دیوار پر مارا ہے آج تک ؟ آئمہ، مجتہدین‘  توحید پرست‘ امام سب انسان ہی تھے نا، اور انسان سے غلطی ہو سکتی ہے، مگر شاید اصول یہ ہے کہ میرے پسندیدہ انسان سے غلطی نہیں ہو سکتی، تمہارے پسندیدہ انسان نے ہزار غلطیاں کی ہیں۔ سب نے ہی علم اور عمل پہنچایا ہے، جسے پہنچا ہے یہ اس پر منحصر ہے کہ اس کو کس درجے قبول کرنا ہے، سچ ماننا ہے، تقابل کے بغیر ہی یا موازنہ کر کے عمل کرنا ہے، آگے بیان کرنا ہے، کس صورت پھیلانا ہے وغیرہ وغیرہ۔

یہ بھی پڑھیں:   منطق کے قضایا اور الہیات

اب انہی احوال کا تقابل ذرا سیاسی جماعتوں سے کیا جائے، ہر جماعت کا اک منشور ہوتا ہے (جس طرح اک مجتہد کی فقہ ہوتی ہے) اور تمام جماعتوں کے منشور کے اکثر نکات اک جیسے ہوتے ہیں، کچھ ترجیحات میں فرق ہوتا ہے یعنی چند سیاسی فروعی اختلافات کی بنا پر ترتیبات، ترجیحات مختلف ہوتی ہیں، کوئی سیاسی جماعت تعلیم کو پہلی ترجیح دیتی، کوئی صحت کو، کوئی ماحول کو، کوئی صنعتوں کو، کوئی دفاع کو، کوئی تجارت کو۔ غرض لازماً کوئی ترتیب بنائی ہوتی ہے۔ اب سیاسی قائدین پر ہے کتنے لوگوں کو کارکنان بنا پاتے ہیں، کس طرح زیادہ لوگوں کو قائل کرتے ہیں کہ وہ دوسری جماعتوں کے سیاسی قائدین سے اچھے ہیں یا اچھے ثابت ہونگے۔

یہاں پر چند معصوم سوال
کیا ایک ہی وقت میں اک سے زیادہ سیاسی جماعتوں کا رکن بنا جا سکتا ہے؟
کیا صرف ایک ووٹ اک ہی نشست پر کھڑے تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو بیک وقت دیا جا سکتا ہے ؟
اس نمائندے اور کارکن کو کیا نام دیا جاتا ہے جو ہر چار پانچ سال بعد اپنا سیاسی قائد سیاسی جماعت بدل لیتا ہو؟
تمام منشور ملتے جلتے ”تمام قائدین مخلص“ جوش، جذبہ والے، پھر ان میں سے صرف اک ہی کا انتخاب کیوں ضروری؟ اس ”صرف اک“ کو ذرا آئمہ مجتہدین پر قیاس کرکے دیکھیں، ایک وقت میں صرف ایک امام کے اجتہاد پر عمل کیوں ضروری ؟ کیا بیک وقت تمام آئمہ کے ایک ہی مسلہ پر مختلف اجتہادات پرعمل کیا جا سکتا ہے ؟ حالانکہ سب درست، مخلص، باعمل، باعلم ہوں، اگرچہ واپس آئیں، سیاسی کارکنان اپنے سیاسی قائدین کو منشور کے نکات یا ترجیحات سے انحراف کرنے پر ان کے نئے نکات و اقوال کو دیوار پر مارتے ہیں کہ نہیں ؟
کتنی تعداد ہو منحرف سیاسی کارکنان کی کہ سیاسی قائد کی صحت پر فرق پڑ سکے؟ ایک اور بیچ کا نقطہ، کیا ہر شخص سیاسی قائد بن سکتا ہے؟ بالکل بن سکتا ہے، تو بنتا کیوں نہیں؟ اس کا جواب قارئین خود سوچیں۔
کسی سیاسی نمائندے کو مختلف شعبہ جات سے منسلک لوگ منتخب کرتے ہیں، سپاہی، ڈاکٹر، انجینئر، کسان، لوہار، بڑھئی، رنگساز، ڈرائیور، مالی، بینکر، کیشئر، تاجر، استاد وغیرہ سب اک پسندیدہ سیاسی نمائدے کو منتخب کرتے ہیں۔
کیوں کرتے ہیں کہ اب ان سب کے حصے کی سیاست کی یہ نمائندگی کریں گے۔ آگے سب اس نمائندے کی ذمہ داری متعلقہ کاموں کی۔ ہمارا کام صرف منتخب کرنا تھا۔

جبکہ ہم اپنے اپنے شعبہ جات میں کام کریں گے اسی صورتحال کو مجتہد پر قیاس کریں، کہ اک مجتہد ہمارے لیے قرآن و حدیث سے مسائل کا حل نکال کر پیش کرے گا، ہم اپنے متعلقہ کاموں میں مصروف رہیں گے۔ یعنی ہر شخص مجتہد بن سکتا ہے، مگر بنتا کیوں نہیں؟ یا چلو کہلاتا کیوں نہیں؟ کیا ہر سیاسی نمائندہ، سیاستدان کہلاتا ہے؟ چند مشہور لوگوں کے اقوال کو سامنے رکھیں ”کھلاڑی کو کہاں سیاست آتی، فوجی کا کام ہی نہیں سیاست کرنا، تاجر کو سیاستدان بنا دیا، فلاں بندہ بڑا لیڈر بنا پھرتا ہے، ابجد بھی نہیں آتی سیاست کی ”تھوڑا سا قیاس یعنی ہر اجتہاد کرنے والا بھی مجتہد نہیں کہلا پاتا۔ مزید تفصیل اعتراضات کو سامنے رکھتے ہوئے، اک اور عام سا قیاس؛ سائنس کیا ہے؟ علم، کائنات میں، فضا میں، زمیں میں موجود اشیا، عوامل کا علم، کیا ہر شخص یہ علم حاصل کر سکتا؟ بالکل ہر شخص دو آنکھیں، دو کان، دو ہاتھ، دو پاؤں، اک ذہن، اک دہن رکھتا ہے، چلتے پھرتے کھاتے پیتے سوتے جاگتے بھاگتے کھیلتے ہر شخص سائنس کو دیکھ رہا ہوتا ہے، مگر کیا سمجھ بھی رہا ہوتا ہے ؟

اک بات تو کائناتی سچ ہے کہ ہر شخص کا ہر عمل سائنس کا کوئی نا کوئی عمل کہلائے گا، اور انسان بلکہ کائنات کا بظاہر سائنسی عوامل کے بغیر کوئی وجود ہی نہیں رہ سکتا۔
یعنی سائنسی عوامل سے چاہتے ہوئے بھی اک لمحے کا چھٹکارا نہیں مل سکتا انسانوں کو۔ مگر اک اصطلاح ہے ”سائنسدان“۔ کیا ہر انسان سائنسدان کہلاتا ہے؟ یا مخصوص غور و فکر کرنے والا، سائنسی عوامل کو سمجھنے کی کوشش کرنے والا، دماغ استعمال کرنے والا، وقت صرف کرنے والا۔

اب پھر قیاس کی باری، ہم مسلمان ہیں، ہمارے علم کا ماخذ قرآن و حدیث ہیں، ہر مسلمان چاہتے ہوئے بھی قرآن و حدیث سے الگ نہیں ہو سکتا، ہر مسلمان قرآن و حدیث پڑھتا ہے کسی نا کسی درجے میں، مگر کیا ہر مسلمان سمجھتا بھی ہے قرآن و حدیث کو؟ ہر مسلمان کو قرآن و حدیث کے حروف نظر آتے ہیں، تراجم بھی ہو گئے مگر ابھی بھی ہر مسلمان نہیں سمجھ پاتا بہت سے مقامات پر قرآن و حدیث کو۔ سائنسی عوامل پر غور کرنے والے کو سائنسدان کہتے ہیں اور ہر انسان سائنسدان نہیں ہوتا۔ قرآن و حدیث پر غور کرنے والے کو ”مجتہد“ کہتے ہیں، جو کہ حروف و جملوں کی گہرائی میں جا کر ان کی عملی شکل کو آسان صورت میں مسائل کے حل کے طور پر سامنے لاتا ہے اور ہر مسلمان مجتہد نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:   خواتین کے حقوق اور سیاست

نیوٹن کے قوانین میٹرک میں پڑھائے جاتے ہیں۔ تیسرا قانون ہے، ہر عمل کا اک برابر رد عمل ہوتا ہے۔ گیند دیوار پر مارنا اک عمل، ٹکرا کر واپس کسی بھی سمت جانا رد عمل۔ عام برتن میں پانی ڈال کر چولہے پر رکھنا اوپرسے ڈھک کر، تو گرمائش سے بھاپ کا بننا اک عمل، بھاپ کا اوپر اٹھتے ہوئے ڈھکن پر قوت لگانا رد عمل۔ اصول بتا دیا نیوٹن نے ارد گرد غور و فکر کر کے، اب گیند چاہے کرکٹ کی ہو، فٹبال کی ہو، آئس ہاکی کی ہو، باسکٹ بال ہو، والی بال ہو، پیچھے اصول اک ہی، عمل کا رد عمل۔ کیا ہر انسان نے یہ اصول بتایا ؟ نہیں اربوں انسانوں میں سے صرف چند نے۔ جبکہ آنکھیں تمام انسان رکھتے ہیں۔ مگر قانون نیوٹن نے وضع کیا۔ اسی طرح بھاپ سے انجن چلاؤ، ٹربائن چلاؤ، گرمائش یا ٹھنڈک کا کوئی کام لو، عمل کا رد عمل اک قانون بتا دیا نیوٹن نے۔ مگر انجن،  ٹربائن، اے سی کسی اور نے بنائے، ان سب نے نہ تو نیوٹن کو برا بھلا کہا، نہ ہی اس کے قوانین سے برأت کا اعلان کیا۔ بلکہ ان قوانین کو ہی استعمال کر کے فائدہ مند اشیا ایجاد کیں۔ اسی طرح آئمہ مجتہدین نے قرآن و حدیث پر غور کر کے مسائل کے حل کے لیے اصول بتا دیے، حالانکہ پڑھتا ہر مسلمان ہے قرآن و حدیث۔
مگر اس درجے کا غور و فکر نہیں کرتا یا کر پاتا کہ مسائل کا حل نکال سکے۔ اگر آج جدید دور کے مسائل حل کرنے کے لئےکوئی مسلمان قرآن و حدیث پر غور کرنے بیٹھے گا تو آئمہ مجتہدین کے وضع کردہ قوانین کو سامنے رکھے گا اگر مخلص ہوا تو پہلے بنیادی قوانین کو مثالوں سمیت سمجھے گا۔ پھر جدید حل بتائے گا بغیر تنقید کئے آئمہ پر، بلکہ پہلے شکریہ ادا کرے گا کہ ان آئمہ کی ریاضت کی بدولت جدید مسئلہ حل ہو گیا۔ بالکل اسی طرح جس طرح لوگ نیوٹن، آئن سٹائن، جارج سٹیفن، گراہم بیل، رائٹ برادرز وغیرہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

اور آئمہ مجتہدین ڈاکیے نہیں ہوتے، اگر واقعی ایسا ہے تو سائنسدان بھی سارے ڈاکیا ہی ہوئے۔ مجتہد قرآن و حدیث سے مسائل کا حل بتا رہے، سائنسدان ارد گرد سے سائنسی قوانین بتا رہے، ڈاکیا کی تو کوئی اہمیت نہیں رہتی چٹھی پہنچانے کے بعد، مگر ترقی یافتہ اقوام اپنے سائنسدانوں کے مجسمے بناتی ہے، عمارتوں کے نام رکھتی ہے، نوبل پرائز دیتی ہیں اور ان کے نام سے نئے انعامات کا آغاز کرتی ہے۔ پھر ہم کیوں بے اعتنائی برتیں اپنے آئمہ مجتہدین کے ساتھ ۔ یا تو ہم خود اس قابل ہوں کہ قرآن و حدیث پر غور کر کے کسی مسئلے کا حل نکالیں اور اس پر کثیر تعداد میں مسلمانوں کو عمل کرتا ہوا دیکھیں۔ جس طرح اک غیر سیاسی شخص تمام سیاسی جماعتوں سے تنگ آ کر اپنی الگ سیاسی جماعت بنا لیتا ہے، پھر ویسے ہی نعرے، دعوے، جوش، جذبہ، جلسے، مشاورت۔ یعنی نیا بندہ بھی رائج یا پرانے طریقوں کی پیروی کرتا ہے۔ بالکل ایسے ہی نیا مجتہد بھی پرانے طریقے اور اصول اپنائے گا۔

موضوعات کو سمیٹنے کی طرف چلتے ہیں
کسی کو جاہل کہنا اتنا ہی غلط ہے جتنا کسی کو کافر کہنا۔ کافر کہنے پر بھی نفرت رد عمل ہے، جاہل کہنے پر بھی۔ کسی کو کافر کہنا اگر جج کرنا ہے تو جاہل کہنا بھی جج کرنا ہے۔ ”ہم کسی کو جج نہیں کرتے“ کا دعوی کرنے والے ذرا تصحیح فرما لیں۔
کسی کو کافر کہنا شدت پسندی ہے تو جاہل کہنا خود پسندی۔ اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں انسانوں کو کافر بھی کہا ہے اور جاہل بھی کہا ہے۔ الله رب العزت قرآن مجید میں جاہل سے دوری اختیار کرنے کا حکم دے رہا، جبکہ نبی آخرالزماںﷺ کی زندگی میں سے اک بھی واقعہ نہیں ملتا کسی کو جاہل سمجھ کر سلام کر کے دوری اختیار کی ہو۔
ہمارے نبی رحمة للعالمین ﷺ نے نہ تو کسی کو کافر کہا نہ ہی جاہل کہا۔ کوڑا پھینکنے والی بڑھیا ہو یا طائف میں پتھر مارنے والے مکہ میں گلے میں چادر ڈال کر کھینچنے والے یا حالت عبادت میں غلاظت پھنکنے والے، کھلم کھلا ذات نبی پاکﷺ کے قتل کی سازشیں اور پھر اقدام کرنے والے غیرجانبداری کا کوئی وجود نہیں، تائید و تنقید و تکفیر بیک وقت اک ہی فرد کی ہو نہیں سکتی، کسی اک کی تائید دوسرے کی تکفیر (رد کرنا ‘ انکار کرنا) ہو گی۔ ہاں تھوڑا سا فرق ہے، تکفیر ہونے میں اور کرنے میں۔ سوشل سائٹس پر کوئی فرد واحد ایسا نہیں جو یہ دعوی کر سکے کہ اس نے تکفیر نہیں کی، مذہبی لوگ مشہور ہیں تکفیر کرنے میں۔ سیاسی مقلدین اگر اپنے اپنے سیاسی خداؤں کی پرستش کرتے ہیں تو دوسروں کے سیاسی خداؤں کی تکفیر ہو جاتی ہے خود بخود مگر اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا، دوسروں کے سیاسی خداؤں کی تکفیر ”کرنے“ میں بھی کوئی بھی پیچھے نہیں رہا، اس علم غیب سے قطع نظر کہ ”ہم اسی سیاسی خدا کی تکفیر کر رہے جس کو ہم نے ووٹ دیا تھا“ کس نے کس کو ووٹ دیا صرف رب جانے۔ سیاسی خدا کی پرتش، یہ اصطلاح سیاسی مقلدین کو آپس میں اک دوسرے کی انتہا درجے کی تکفیر کرتا دیکھ کر وجود میں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:   میں بچپن بیچ آیا ہوں

اگر دوسروں کے مذہبی خداؤں کو برا بھلا کہنا ٹھیک نہیں تو، دوسروں کے سیاسی خداؤں کو برا بھلا کہنا کتنے درجے کی نیکی ہے؟
چاہے طنز ہو، تمسخر، ٹھٹھا، اتہام، الزام، دشنام، ذات پر بات وغیرہ وغیرہ۔ سب تکفیر کے زمرے میں آتے ہیں۔
یعنی اجتماعی طور پر ہم اک ناکارہ قوم ہیں، مذہبی، سیاسی، سماجی، سائنسی اعتبار سے۔ اس لفظ ”ناکارہ“ کو تقابل کر کے دیکھیں دنیا کی کئی اقوام سے، چھوٹی سی مثال:
جنگ عظیم دوئم میں حصہ لینے والی اقوام کے سائنسدانوں کا دعوی ہے کہ سب سے زیادہ ایجادات ان چھ یا سات سالوں میں کی گئیں یعنی حالت جنگ میں سائنسدان ایجادات کر رہے تھے۔ پاکستان حالت جنگ میں ہے تو یہاں کتنی ایجادات کی گئی ہیں؟ (یا پھر پاکستان کے سائنسدان پاکستان سے زندہ بھاگ رہے ہیں؟) نام لیے بغیر پاکستان کے مشہور سائنسدانوں، انجینئرز، ڈاکٹرز، ریسرچرز نے ڈاکٹر عبدالسلام سے پہلے اور بعد میں کتنے نوبل پرائز حاصل کر لیے؟ (ڈاکٹر عبدالسلام کو ”اون“ نہیں کیا گیا اس ڈر سے پاکستانی سائنسدانوں نے ایجاد کرنا ہی چھوڑ دیا، مگر پیسہ بنانا نہیں چھوڑا) کیا لاکھوں کروڑوں کمانے والے سائنسدانوں، انجینئرز، ڈاکٹرز، ریسرچرز کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں؟ کون سی طاقت ہے جس نے پیسہ بنوا دیا، دو تین منزلہ بڑا سا سہولتوں سے مزیّن گھر بنوا دیا، اک، دو، تین گاڑیاں دلوا دیں، ملکوں کی سیر کروا دی مگر ایجاد کرنا پاپ قرار دلوا دیا؟
کسی جگہ پڑھا تھا ”کام کرنیوالے کے پاس تنقید کرنے کا وقت نہیں ہوتا“۔ مگر ناکارہ قوم کا ہر فرد چاہے کروڑوں کا مالک ہو یا کوڑیوں کا، تنقید کرتا ہے۔ مذہبی، سیاسی، سماجی، سائنسی ہر قسم کی تنقید، علما پر، حکمرانوں پر، مخالف سیاسی خداؤں پر، اداروں پر، شخصیات پر۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے انجینئر، ڈاکٹر، بینکر، سوشلسٹ، بزنس کے مالکان، آرٹسٹس وغیرہ کسی نا کسی کا تمسخر، ٹھٹھا، مذاق اڑا رہے ہوتے، طنز کر رہے ہوتے تکفیر کر رہے ہوتے ہیں۔ جب تھک جاتے تو روزی روٹی کی فکر میں مشغول ہو جاتے اوراس طرح یہ چکر جاری و ساری ہے۔

یہاں تک بات ٹھیک ہے مگردوسروں پر ہمہ وقت تنقید کر کے تکفیر کر کے اور کچھ کی خوشامد کر کے، انہی روایتی طریقوں سے پیسہ کماتے ہوئے، غیرجانبداری، آزادی اور خود مختاری کا جھوٹا اور مضحکہ خیز دعوی کرنا غلط ہے کھلی منافقت ہے، سب کچھ کرو مگر دعوی نہ کرو کسی بھی صورت میں، ہئیت میں، الفاظ میں۔ کیونکہ وہ دعوی غلط ہی نکلے گا نہ ایجاد ہوتا ہے کچھ، نہ اجتہاد ہوتا ہے ہم سے، نہ سیاست ہوتی ہے اور چلیں ہیں ذاتی ترقی کرنے۔

نوٹ : عام اور سادہ الفاظ لکھنے کی کوشش کی ہے۔ تقابل، اجتہاد، قیاس کی تشریحات و تفاہیم میں جانا مخصوص تعلیم والے طلبہ اور علما کرام کا کام ہے۔ قرآن و سنّت سے متعلق سطحی باتوں کے مخاطب مخصوص سطحی افراد ہیں۔ (جو کہ یہ لفظ ”سطحی“ اکثر دوسروں کے لیے استعمال کرتے بھلیکے میں) اس لئے اہل علم فکر نہ کریں، اگر کہیں کچھ مبہم، نامکمل بات لکھی گئی ہو کسی نص قطعی یا سچائی کے بارے میں۔

 تحریر: عمر المختار

(149 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. ignorantways says:

    جزاک الله خیر

تبصرہ کریں