تمباکو نوشی کے فوائد

عنوان دیکھ کر ممکن ہے کہ آپ کو حیرت ہوئی ہو۔ اور ہونی بھی چاہیے۔ ایک سلیم الفہم اور نفاست پسند شخص ہونے کی حیثیت سے آپ تمباکو نوشی کے نقصانات اپنے آس پاس کے لوگوں سے اور پڑھے لکھے طبقے سے سنتے ہی آئے ہیں۔ اور اب چونکہ آپ خود ایک معقول اور سمجھ دار انسان ہیں اس لیے تمباکو نوشی کے نقصانات آپ کے لیے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ہم اس کے برعکس چونکہ ایک غیر نفیس اور انتہائی غیر متواضع شخصیت واقع ہوئے ہیں اس لیے ایک مثالی اور معقول شخصیت کی تمام خصوصیات کو ہم خود سے کہیں دور چھوڑ آئے ہیں۔

تمباکو نوشی کے نقصانات پر برسہا برس سے بحث جاری ہے۔ اس کے نقصانات سے دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ہر دو طرح کے ممالک تقریباً مکمل واقفیت رکھتے ہین۔ سب جانتے ہیں کہ تمباکو نوشی پھیپڑوں کی بیماریاں، کینسر، دمہ امراضِ قلب اور مختلف مہلک اور غیر مہلک بیماریوں کا سبب ہے۔ اس کے با وجود ہزاروں لاکھوں لوگ جس طرح ہر روز سیگریٹ نوشی کے سبب بیماریوں میں مبتلا ہوتے اور مرتے جا رہے ہیں اسی طرح روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ تمباکو نوشی کو اپنے گلے سے لگا لیتے ہیں۔ گویا سگریٹ اور عشق دونوں ہی ایک نوع کے واقع ہوئے ہیں۔ عشاق اور تمباکو نوش دونوں ہی ایک کیفیت میں ہوتے ہیں۔ سب جاننے کے باوجود انہیں کوئی غرض نہیں کہ غمِ عشق میں فراق کی ہر رات کس مشکل سے کاٹنی پڑ سکتی ہے۔ بقولِ اختر:

غمِ عاقبت ہے نہ فکرِ قیامت
پیے جا رہے ہیں، جیے جا رہے ہیں

بہر حال، بات کہیں کی کہیں نکلی جارہی ہے۔ تمباکو نوشی کے جہاں نقصانات ہیں وہیں کچھ فوائد بھی قابلِ ذکر ہیں جو مختلف تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آتے رہتے ہیں۔ ذیل میں چیدہ چیدہ فوائد درج کرتا ہوں۔

تمباکو نوشی اور یکسوئی

ایک بڑا مسئلہ جو خصوصاً لکھاریوں کے ساتھ پیش آتا ہے وہ یکسوئی کی عدم موجودگی ہوتی ہے۔ دماغ منتشر ہوتا ہے۔ خیالات دھواں دھواں ہوتے ہیں اور اس لیے لکھنے کے لیے بیٹھا جائے تو کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ اس مقصد کے لیے اکثر لکھاری، شعرا، بلکہ طلباء کی اکثریت بھی تمباکو نوشی کا سہارا لیتی ہے۔ در اصل سگریٹ میں موجود نکوٹین دماغ کی اس فعالیت کا سبب بنتا ہے جو مزاج میں تبدیلی لا کر اعصابی نظام کو بہتر بنا دیتی ہے۔ مزاج کی تبدیلی میں کئی معاملات جیسے غم کی کیفیت، صدمہ اور دیگر بے آرامی کی کیفیتیں شامل ہیں۔

پارکنسن اور الزیمر امراض (Parkinson and Alzheimer's Disease)

پارکنسن اور الزیمر کے امراض جو کہ شدید دماغی امراض ہیں۔ ان میں دماغ کے عصبی خلیوں (Neurons) کی تعداد میں کمی آنا شروع ہوجاتی ہے۔ متعدد دلچسپ تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان امراض کا خدشہ تمباکو نوشی میں مبتلا افراد میں بہت کم ہے۔ بنسبت ان کے جو تمباکو نوش نہیں ہیں۔ نکوٹین کے دماغ پر اثرات کا یہ ایک اہم پہلو ہے کہ یہ دماغ کو آپ کی توقع سے کہیں زیادہ متاثر کرتا ہے۔ اور مختلف نیوروٹرانسمیٹروں کو فعال اور غیر فعال کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔

سوزش اور ورم (Inflammatory Disorders)

تمباکو نوشی مخلتف السر اور اور سوزش کی صورت میں کافی فائدہ مند دیکھی گئی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی میں مبتلا افراد سوزش کے مختلف امراض خصوصاً بڑی آنت کا ورم (Ulcerative Colitis) سے محفوظ رہتے ہیں۔

بعدِ جراحت کی متلی اور قے (Postoperative Nausea and Vomiting)

انیستھیزیا کے اثرات سے مختلف آپریشنوں کے بعد مریض میں متلی اور قے کے آثار نمودار ہوتے ہیں۔ این سی بی آئی (NCBI) کے مطابق ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ پوسٹ پیریٹو متلی اور قے سے دو چار افراد میں غیر تمباکو نوش افراد کی تعداد تمباکو نوشوں سے کہیں زیادہ ہے۔ تاحال اس کا درست سبب علم میں نہیں ہے۔

تمباکو نوشی اور موٹاپا

2011 میں ایک تحقیق (شائع شدہ: Physiology and Behavior) کے مطابق تمباکو نوشی موٹاپے میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ سگریٹ میں موجود نکوٹین بھوک میں کمی کا سبب ہوتا ہے جس کی وجہ سے سگریٹ پینے والوں کی اکثریت کا وزن بے قابو نہیں ہوتا۔

 

یہ بھی پڑھیں:   عقائد اور پاکستانی ریاست کے حدودکار

پسِ نوشت: اس تحریر کا مقصد تمباکو نوشی کا جواز دینا نہیں۔ محض معلومات کا یہ زاویہ سامنے لانا ہے۔

 

(914 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

4 تبصرے

  1. زبردست۔۔۔۔
    ایک دفعہ پہلے تمباکو نوشی کے فوائد سنے تھے مزاحیات میں۔۔ آرٹیکل اسی غلط فہمی میں کھولا مگر یہاں تو واقعی زبردست معلومات ہے۔۔۔

    • مزمل شیخ بسمل says:

      ویب سائٹ پر خوش آمدید۔
      آپ کو مضمون پسند آیا ہماری محنت وصول ہوئی۔ 🙂

  2. شیخ جی ایسے فائدے نہ ہی بتایا کریں۔ ویسے ہی دل کر جاتا ہے پھر تمباکو نوشی پر

  3. ابن آس محمد says:

    بہت عمدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھ جیسے " بے چین اسموکر " کو ایسی ہی کسی تحریر کا برسوں سے انتظار تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرہ کریں