تمنائے لاحاصل

کہنے والے بہت کچھ کہہ گئے اور نصیحتیں کرنے والوں نے نصیحتوں کے انبار لگا کر رکھ دیے۔ لیکن ایک بات جو ہمیشہ سچ رہی وہ یہ کہ ابنِ آدم جب تک اپنے آپ ہی وعظ و نصائح کے بندھنوں کو توڑ کر ذاتی تجربات اور ذاتی مشاہدات کی دنیا میں داخل نہ ہو جائے تب تک وہ بے چین اور بے سکون ہی رہتا ہے۔ پھر لطیف تر معاملہ تو یہ ہے کہ انسان سکون کی خواہش میں جو جو کام بھی کرتا ہے، جس جس راہ سے بھی گزرتا ہے، جن جن در آمدوں اور بر آمدوں کو بلا خوف و خطر پار کرتا جاتا ہے، وہ ہر مقام، ہر قدم اور ہر لحظہ اپنی ہی جستجو کے بڑھنے کا سامان کر رہا ہوتا ہے۔ ہر پچھلا مقام حاصل کرنے کے بعد جو سکون اسے حاصل ہوتا ہے وہ لحظہ بھر سے زیادہ ٹھہر نہیں پاتا۔ اسے اگلا مقام پچھلے سے زیادہ پر کشش محسوس ہوتا ہے۔ وہ پھر سے بے سکون ہو جاتا ہے۔ مال، دولت، جاہ و حشمت، رشتے ناطے، شہرت اور مسند میں ہر ہر چیز ایک کے بعد ایک اپنے حصول میں لامتناہی جد و جہد کے طالب ہوتے ہیں۔ اور جب تک آپ خود کو بے یقینی کی کیفیت میں رکھتے ہیں تب تک سکون ناممکن ہی رہتا ہے۔

دنیا کا خوش قسمت ترین انسان بھی یہ دعوی کبھی نہیں کرسکے گا کہ اس کی ہر خواہش پوری ہوگئی۔ ہر تمنا کو اس کا حاصل نصیب ہو گیا۔ ہر خواب کی تعبیر مل گئی۔ اس ساغر میں کوئی ایک قطرہ، کوئی ایک بوند ہمیشہ ایسی رہ جاتی ہے جو اس کے لبریز ہو جانے کے باوجود بھی اس میں نہیں سماتی۔ سما سکتی ہی نہیں ہے۔

حل کیا ہے؟ کیا یہ سلسلہ ہمیشہ یونہی چلتا رہے گا؟

اس بے چینی کو کیسے ختم کیا جائے؟

یہ بھی پڑھیں:   مری عمر بھر کی کمائی تھی

کیا اس جستجوئے لا حاصل کو تسکین کی کوئی صورت بھی میسر آسکے گی؟

ان سب سوالوں کا ایک جواب ہے۔ یعنی ان کا کوئی جواب نہیں ہے۔ تسکینِ محض کی جستجو عبث ہے۔ یہ کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔ صرف یہی صورت ہے کہ جستجو چھوڑ دی جائے اور طوفان کے رخ کے ساتھ اپنے آپ کو بہنے دیا جائے۔ اور جستجو چھوڑنے کے لیے فکر، سوچ، احساسات جذبات اور اپنی کم مایگی یا بے مایگی کے گراں بار احساس سے تہی دست ہوجایا جائے۔

کیا کبھی آپ اس مقام سے گزرے ہیں جب آپ اپنے لیے کسی چیز کے شدید خواہشمند ہوں؟ وہ تمنا آپ کو کسی طرح سے چین نہ لینے دے رہی ہو؟ لیکن چاہ اور آہ کی مسلسل ضرب کے باوجود آپ ناکام رہے ہوں؟ اور اسی جہدِ مسلسل میں ایک طویل عرصہ گزر جائے؟ جب یہ وقت گزر جاتا ہے تو وہ بے چینی اور بے سکونی ختم ہو جاتی ہے۔ آپ کی تمنائیں آپ کو مزید مضطرب نہیں رکھتیں۔

ظاہر ہے کہ یہ سب اس لیے نہیں ہوتا کہ آپ کی خواہشیں پوری ہوگئیں۔ تمنائیں حاصل ہو گئیں۔ بلکہ اتنا ہو جاتا ہے کہ آپ خود کو بے حس کر چکے ہوتے ہیں۔ خواہش تو نہیں مرتی۔ بس اتنا ہوتا ہے کہ آپ اس خواہش کا اظہار کرنے سے بھی اکتا چکے ہوتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یکسوئی حاصل ہو جاتی ہے۔ اضطراب ختم ہو جاتا ہے۔ پھر اگر ایک خواہش سے اکتاہٹ دوسری خواہش کو جنم دے دے تو پھر سے ایک جہد اور نئے سفر کا آغاز ہو جاتا ہے۔ پھر سے ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور کامیابی یا نا کامیوں کے مرحلوں سے پھر ایک بار گزرنا پڑتا ہے۔

لیکن کچھ لوگ ہیں جنہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

؎

کوئی حاصل نہ تھا آرزو کا مگر

سانحہ یہ ہے اب آرزو بھی نہیں

(149 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں