تمہیں تعجب ہوا ہے شاید - ابن انشا

تمہیں تعجب ہوا ہے شاید مجھے جو ہے عشق تم سے کیوں ہے
کہ تم سے بڑھ کر حسیں تو مجھ کو ہر ایک کوچے میں مل سکے گا
تم اپنے دل میں سمجھ رہے ہو یہ خامکاری ہے یا جنوں ہے
ذرا تغافل سے کام لو گے تو خود ہی میدان چھوڑ دے گا
 
ابھی یہ کل ہی کی بات ہے تم کو اس قدر تھا خیال میرا
کہ شاید اپنے یہ جبر کر کے بھی میری ہر بات مانتے تھے
ابھی یہ کل ہی کی بات ہے تم اداس لمحاتِ نیم شب میں
مرے دلِ شیفتہ کی تسکیں کو حاصلِ زیست جانتے تھے
 
تو پھر یہ اپنا قصور مانو! تمہی نے لمحاتِ نیم شب میں
مرے دلِ دردمند کو ایک آرزوئے حیات بخشی
مجھے تو اُس رات کی سحر کی نہ آرزو تھی نہ یہ خبر تھی
کہ اس سفینے کو غم کے ظلمات پار کرنا بھی ہے ضروری
 
میں دور رکھوں گا خود کو تم سے تمہارے گھر بھی نہ آؤنگا میں
مگر تم اپنی شفیق نظروں میں اجنبیت سمو سکو گے؟
اگر میں راتوں میں کاہشِ غم سے تا سحر جاگتا رہوں گا
تو اس قدر پاس رہ کے بھی مجھ سے اس قدر دور ہو سکو گے؟
 
مجھے تو منظور ہے یہ سب کچھ، میں رو کے جی لوں سسک کے جی لوں
مگر مری ایسی زندگی پر تمہی کو شاید ملال ہو گا
نہ جانے کس کس شفیق دل پر یہ شاق گزرے گا میرا مرنا
"مرا مرض لادوا نہیں تھا" مگر یہ کس کو خیال ہوگا؟

(77 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں