تم نے شرک نہیں چکھا

تم نے مشرک لفظ سنا ہو گا، تم نے اس لفظ میں موجود زہر کو بھی محسوس کیا ہو گا، اکثر یہ لفظ تمہاری زبان سے گالی کی صورت نکلنے کو بیتاب رہا ہو گا، اس لفظ کی کراہت تم جانتے ہو لیکن تم نے شرک کو دور سے ہی دیکھا ہے۔ تمہارے عقیدۂ توحید نے شرک کو کبھی تمہارے پاس پھٹکنے نہ دیا۔ اپنے فہم سے سوال کرو کہ دور سے آگ کی حرارت محسوس کرنے والا آگ کو سمجھتا ہے یا اس سے جھلسا ہوا اسے بیان کرنے میں ملکہ رکھتا ہے!

یہ تحریر بھی پڑھیں    icon-hand-o-left    انسانی عقل اور دین کا دائرہ

مجھے دیکھو، کہ میں اس آگ کا جھلسا ہوا ہوں، میرے سیاہ نامے میرے زخموں کے پھپھولوں سے اٹے پڑے ہیں۔ میں نے وحدت کے دریا سے سیراب ہونے سے پہلے شرک کی گھاٹیاں پار کی ہیں، یہ نوک قلم جو جوہر افشانیاں کرتا ہے، دراصل انہی گھاٹیوں سے حاصل آبلوں سے رِستے خون کو روشنائی بنایا ہوا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بچے کے لیے صرف ماں کا دودھ

یہ شرک کی گھاٹیاں ہیں! یہ تھکن سے چور کر دینی والی ہیں، یہ اطمینان سے دور کر دینے والی ہیں، یہ بینا نظروں کو بے نور کر دینے والی ہیں، یہ اچھے خاصے سمجھدار کو بے شعور کر دینے والی ہیں، یہ سبک گام عمل شخص کو مخمور کر دینے والی ہیں۔

تم شروع سے وحدت کے سبزہ زاروں کے مکین رہے ہو، تمہیں شرک کی گھاٹیوں میں پیاس کی شدت کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ تم صرف ایک کے سامنے سر جھکاتے ہو بھلا تم نے جھکنے سے پہلے اپنے ایک سے زیادہ خداؤں کا موازنہ کرنے کی سختی دیکھی ہے؟ تم سکون کے آنچل میں پرورش پاتے ہو بھلا تم نے اضطراب کے دامن میں سانس بھی لیا یے؟

یہ بھی پڑھیں:   علم میراث - تیسرا سبق

سنو دوست۔ تم اپنے موحد ہونے پر خوشی مناؤ، اپنے ایک رب کا شکر بجا لاؤ، خدائے واحد کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ کہ تمہیں ایک بہت بڑی دولت ورثہ میں مل چکی ہے۔

لیکن جب میں تمہیں ایک خدا کے سامنے گردن جھکانے کی بجائے سینہ چوڑا کئے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ یہ توحید کی نعمت جو تمہیں طشتری میں سجا کر پیش ہوئی ہے اگر مجاہدے کے بعد ملتی تو تم سمجھتے۔ تم سمجھتے کہ شرک کی اڑیل چٹانوں کے سامنے توحید کے نخلستان کیا اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کالے پتھروں پر گھسٹنے کے بعد تمہیں سبزہ زاروں کا مخملی فرش دیدہ زیب و قابل چاہ لگتا۔

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیا اور اظہار رائے کی آزادی

خدا تمہیں تمہارے مقام سے آشنا کر دے۔ اور تمہیں عطا کی گئی نعمتوں کا احساس دلا دے۔ کہ تمہیں ابھی اس گراں مایہ جنس کے منڈی میں نایاب ہونے کا علم ہی نہیں۔

اے پیدائشی مسلمان۔۔ شکر کر۔


تحریر: ثاقب الرحمن

(177 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں