تین اشعار پر تعمیری تنقید - شاد مردانوی

کئی دنوں سے لگاتار گررہی ہے ابھی
فصیلِ شہرِ دلِ زار گررہی ہے ابھی

مطلع میں فصیلِ شہر کا لگاتار گرنا سمجھ نہیں آرہا. لگاتار صرف وہی شے گر سکتی ہے جس کا گرنا ایک تواتر سے جاری ہو. مثلا جھرنے کے پانیوں کو ہم لگاتار گرنا کہ سکتے ہیں. بھر بھرے ٹیلے سے ریت لگاتار سرکتی ہے. فصیل شہر یکبارگی گرتی ہے. اور اس پر لگاتار وار کئے جاتے ہیں.

اس کے ساتھ شعر میں کئی دنوں سے لگاتار "ابھی" گرنا اچنبھے کا باعث ہے. اگر یوں ہوتا تو انسب بالمفہوم اور اقرب الی المحاورہ ہوتا کہ کئی دنوں سے اب بھی لگاتار گررہی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   اداسیوں کے عواطف

ہمارے وار سے اب تک بچا نہیں کوئی
حریفِ جاں تیری دستار گررہی ہے ابھی

دونوں مصاریع میں معنوی بے ربطی ہے. پہلے مصرعے میں شاعر کہ رہا ہمارے وار سے اب تک کوئی بھی نہیں بچ سکا. اس کا مناسب مفہوم دوسرے مصرعے میں یوں ادا کیا جانا چاہیے کہ چونکہ ہمارا وار ہمیشہ کارگر ہوتا ہے. اس لئے اب حریف جان کی دستار پر وار ہورہا ہے اور وہ گررہی ہے. اب کی بجائے ابھی کا استعمال مفہوم بدل رہا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   احمقوں کی تلاش

نیز اس شعر کا مفہوم ہمارے تہذیبی ورثے سے بھی متصادم ہے. دشمنی میں عزت پر وار کرنا ایک مشرقی معاشرے میں معیوب جانا جاتا ہے. دستار گرنا عزت گنوانے کے مترادف جانا جاتا ہے.

بلند اڑان پہ مغرور تھی بہت چڑیا
تھپیڑے کھاکے وہ دوچار گررہی ہے ابھی

تھپیڑے کے استعمال پر شک ہے. اساتذہ رہنمائی فرمائیں. مزید یہ کہ چڑیا سے بلند اڑان متصور نہیں. بلند اڑان باز، عقاب وغیرہ سے متصف ہے. چڑیا اور پدی سے نہیں. یہ محض تعمیلِ ارشاد میں ایک طالب علمانہ جسارت ہے. غلطی کا مکمل امکان موجود ہے. اساتذہ سے اصلاح کی درخواست ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے؟

(249 مرتبہ دیکھا گیا)

شاد مردانوی

جنابِ شاد کے لیے اگر یہ کہا جائے کہ وہ چلتی پھرتی لغت ہیں تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ان کی اردو در اصل اردو نہیں بلکہ معرب و مفرس کسی ماورائے اردو شئے کی تارید کہی جاسکتی ہے۔ علم دوست ہونے کے ساتھ ساتھ منکسر المزاج بھی ہیں اور مطالعے کو اوڑھنا بچھونا رکھتے ہیں۔ ان کی ہنر کاری ان کی تحریروں سے عیاں ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

5 تبصرے

  1. تبصرہ کریں ۔۔ کس پر؟ اشعار پر یا ان پر ہوئی "تعمیری تنقید" پر؟
    فاضل تنقید نگار کے الفاظ "تعمیری تنقید" سے شاید اصلاح مراد ہے؟ وہ تو مناسب ہے۔ یہاں بہت زیادہ بات کرنے کی گنجائش بھی باقی نہیں رہی۔
    خوش رہئے۔ دعاؤں کا طلبگار رہا کرتا ہوں۔

  2. ساحر حسین says:

    بهت خوب لکھا هے
    اس طرح هم بھی کچھ سیکھتےجاءیں گے اور ایسی غلطیوں سے گریز کریں گے

تبصرہ کریں