ثقافت و امن اور زندہ قوم

جیون کے نام پر جس زندہ سماج میں انسانیت، محبت، ہدایت، معیشت، روایت، علمیت، رواداری اور صحافت اپنے اصل رُوپ میں موجود ہوں۔ بلاشبہ وہاں مثالی ثقافت، صحت مند کھیل اور حیات کے نئے زاویے عیاں کرنے والے فنونِ لطیفہ کو امن کی راہ ہموار کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اگر ’’روشن ماضی‘‘ کے عنوان سے تاریخ کا حصہ بن جانے والی اپنی سرگزشت کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں اپنی بات کے معقول ہونے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے، جسے ذہن کے دریچے نظریاتی اختلاف کے باوجود اپنے دامن میں سمو لینے پر فخر کرتے ہیں۔ کیوں کہ انسان کی فطرتِ سلیمہ امن کی بہاروں میں سانس لینے کی ایسی ہی تمنا رکھتی ہے، جیسا کہ ایک ماہیِ بے آب پانی کے لیے تڑپتی ہے۔ امن کی خوش گوار بہاروں کو ہر معاشرے کے چمن میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ خاص طور پر اس کی قیمت کا احساس دل کی اتھاہ گہرائیوں میں تب مچلتا ہے، جب سکھ چین کی فاختہ ”عنقا“ کا روپ دھار کر اہلِ چمن کے نصیب میں دہشت کے کانٹے چھوڑ جاتی ہے۔ شاید ’’میرے وطن‘‘ کی حالتِ زار کچھ ایسی ہی ہے۔

’’ثقافت، کھیل اور فنونِ لطیفہ کسی بھی قوم کو مخصوص پہچان دینے کے لیے ازحد ناگزیر ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یہاں کی مٹی کو وہی ثقافت و امن امن دے سکتی ہے، جو اسی دھرتی پر پیدا ہوئی، پلی اور بڑھی ہے۔ جس کا نظریاتی نسب نامہ ’’مدینہ‘‘ سے جُڑا ہوا ہے۔ اور جس کی یادیں ’’مرحوم دہلی‘‘ سے وابستہ ہیں۔ ایک زمانہ تھا، جب دیگر اقوام برصغیر کی ثقافت پر رشک کیا کرتی تھیں۔ مغل بادشاہ ’’جہانگیر‘‘ کے دور میں ایک انگریز سفیر ’’تھامس فرو‘‘ یہاں آئے۔ وہ برصغیر کے لوگوں کا رہن سہن اور تہذیب و ثقافت دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
’’یہاں ہر شخص میں مہمان نوازی اور خیرات کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھر اہوا ہے۔ سب سے زیادہ یہ کہ صنفِ نازک پر زیادہ سے زیادہ اعتماد کیا جاتا ہے۔ اس کی عزت، عصمت اور عفت کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ یہ ایسے اوصاف ہیں، جن کے ہوتے ہوئے ہم اس قوم کو غیرمہذب اور غیرمتمدن نہیں کہہ سکتے۔ ایسی صفات کی موجودگی میں ہندوستان کو یورپی اقوام سے کسی طرح کم تَر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر ہندوستان اور انگلستان کے درمیان تہذیب، تمدن اور ثقافت کی تجارت کی جائے تو مجھے کامل یقین ہے کہ ہندوستان سے ثقافت کی جو کچھ درآمد انگلستان میں ہوگی، اس سے انگریزوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔‘‘
کرنل ’’سلیمان‘‘ نے لکھا ہے:
’’میرے تجربے میں سیکڑوں مثالیں ایسی آچکی ہیں کہ ایک آدمی کی دولت، آزادی اور زندگی... جھوٹ بولنے سے بچ سکتی تھی، لیکن وہ جھوٹ ہی نہ بولا۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   تم نے شرک نہیں چکھا

جب ہم ثقافت کے عنوان کے تحت ایسی سرگرمیوں، اظہارات، رویوں اور سوچو ں کو پروان چڑھائیں گے تو کوئی شبہ نہیں ہمارے معاشرے میں امن قائم ہوگا۔ اُلفت اور اپنائیت کی ہوائیں چلیں گی۔ محبت کے سندیسے گردش کریں گے۔ لوگ قریب ہوں گے۔ زندگیوں کی قدر کی جائے گی۔ خوف کی ماری شہ رگوں میں اٹکی ہوئی سانسوں کو سکون نصیب ہوگا۔

کھیلوں کی دنیا کا نوجوان طبقے سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ تمام ایسے کھیل، جو مفید ہوں۔ صحت مندی کو پروان چڑھانے میں مدد فراہم کرتے ہیں، اُنہیں امن کے خواہش مند معاشرے میں رائج کرکے امن کی فاختہ اُڑائی جا سکتی ہے۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے علاوہ انہیں مصروف رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔ ہمارا نوجوان صلاحیتوں کے نکھار سے ایسا سرگرم ہو کہ کسی بھی وقت ملت و ملک کی خدمت میں کام آسکتا ہو۔ جیسے ہاکی ہے۔ تیراکی ہے۔ گھڑسواری ہے۔ تیر اندازی ہے۔ ذہنی تربیت کے باوصف اسکاؤٹنگ بھی ایک بہترین چیز ہے۔ کھیلوں کی دنیا آباد کرنے میں اس امر کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ اُن کھیلوں کو ہی فروغ دینا چاہیے، جو ہماری ثقافت کے آئینہ دار ہوں۔ اس سے جہاں دیگر اقوام سے ہم آہنگ ہونے کے مواقع ملیں گے، وہیں ہمارے امن کی محافظ ...ہماری ثقافت... کے پھیلاؤ اور رواج میں بھی بہت مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   ماموں اور خالہ ہی کیوں؟

دہشت گردی کے ناسور کا جائزہ لینے سے یہ معلوم ہوتا ہے زندگیاں چھیننے میں وہی فولاد صفت نوجوان نظر آتے ہیں، جن کا خون فارغ البالی کی آنچ پر اُبل رہا ہوتا ہے۔ دشمن کی سازشی نگاہ ہمارے اس ’’فولاد‘‘ کی عدم مصروفیت کا فائدہ اُٹھا کر اُسے اپنے مذموم مقاصد میں استعمال کر لیتی ہے، جس کے نتیجے میں گولی چلتی ہے۔ سینے میں سوراخ ہوتا ہے۔ خون کا فوارہ اُبلتا ہے۔ سائرن بجتے ہیں۔ خوف پھیلتا ہے اور سانس ٹوٹنے سے ایک زندگی روٹھتی ہے تو اُس زندگی سے وابستہ کئی دل ویران ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ہمیں مزید خون خرابے سے بچنے کے لیے نوجوانوں کو علمی و ثقافتی مصروفیات میں لگانا چاہیے۔ جب بھی کوئی قوم اپنی ثقافت کے حوالے سے کچھ نیا پیش کرتی ہے تو یہ دیکھا جاتا ہے وہ کیا، کیوں اور کس رُخ سے سوچ پیش کر رہی ہے؟ تاریخِ ہند کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے ہمارے زمانۂ اقتدار میں کوئی بھی نئی تعمیر وجود میں آتی تھی تووہ ایک عمارت ہونے کے علاوہ ایک مذہب کی نمائندہ محسوس ہوتی تھی۔ اس کی ہر اینٹ سے ایک ثقافت جھلکتی تھی۔ اس کے نقش و نگار سے کچھ تصوارت اُبھرتے تھے۔ اس کا گارا ایک تہذیب کے پانی سے گوندھا ہوا ہوتا تھا۔ اس کے ارد گرد کوئی علمیت ہالہ بنائے دمک رہی ہوتی تھی۔

گزشتہ زمانوں کی بہ نسبت آج ہر طرف پھیلی ہوئی خوف کی فضا میں ''عدم برداشت'' کا عنصر بہت زیادہ ہے۔ یہی وہ شے ہے، جو چند لوگوں کی کم عقلی کی وجہ سے علم کو ’’جہالت‘‘، مذہب کو ’’شرارت‘‘، سیاست کو ’’منافقت‘‘ او ر لسانیت کو ’’غارت‘‘ کا سبب بنا دیتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کسی دور میں ہم بہت روادار لوگ رہے ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں تقریبا تمام مسلم حکمرانوں کے دور میں یہاں کی مقامی آبادی مذہبی منافرت اور لسانی چپقلش سے دور رہی ہے۔ ایک ہزار سالہ مسلم اقتدار میں تمام مذاہب کے لوگ مل جل کر رہا کرتے تھے۔ مغلیہ سلطنت کے بانی ’’ظہیر الدین بابر‘‘ نے اپنے بیٹے ’’نصیر الدین بابر‘‘ کو ایک خفیہ وصیت میں لکھا تھا:
’’اے بیٹے! ہندوستان میں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ الحمد للہ! اللہ تعالی نے اُن کی بادشاہت تمہیں عطا فرمائی ہے۔ تم پر لازم ہے مذہب کے تمام تعصبات کو لوحِ دل سے دھو ڈالو اور عدل و انصاف کرنے میں ہر مذہب و ملت کے طریقے کا لحاظ رکھو۔ اس کے بغیر تم ہندوستان کے لوگوں پر قبضہ نہیں کر سکتے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   طوطا اور مینا

ایک انگریز مفکر ’’ہملٹن‘‘ نے ہندوستان کے شہر ’’سُورت‘‘ کے متعلق لکھا تھا:
’’ریاست کا مسلّم مذہب اسلام ہے، لیکن اگر دس ہندو ہیں تو ایک مسلمان ہے۔ اس کے باوجود مسلمانوں کی جانب سے ہندوؤں کے ساتھ مذہبی رواداری مکمل طور پر برتی جاتی ہے۔ اس شہر میں تقریبا سو مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں، لیکن کبھی اُن کے اعتقادات اور طریقہئ عبادت کے متعلق سخت جھگڑے نہیں ہوتے۔ کسی کو صرف مذہبی اختلاف کی بنیاد پر تکلیف دینا، اُن میں بالکل بھی نہیں ہے۔‘‘

جس قوم کے نصیب میں یہ خوبیاں دَر آئیں، وہ کامیابی کے اُن ستاروں پر پہنچ جاتی ہے، جہاں کمندیں ڈالنے کی آرزو اقبالؔ کو بھی رہی ہے۔ اگر ہمارے وطن میں امن کی ایسی بہاریں آجائیں، جنہیں دل بھی محسوس کرے اور پھر وطن کی محبت میں نغمے گائے جائیں تو اُن میں سچائی جھلکے گی۔ حکمران وعدے کریں تو دل اُن پر یقین کرے گا۔ تب ہم حقیقت میں ایک زندہ قوم بن سکتے ہیں۔

تحریر: محمد لقمان شاہد

(39 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں