جبر و اختیار کا فریب اور تقدیر

خیال جب تک ہزاروں جذبات کی چھلنیوں سے نہ گزر جائے تب تلک وجود میں نہیں آتا۔ یوں خیال اپنے آپ میں ایک ایسی اینٹٹی (Entity) ہوتا ہے جس کی حیلہ سازیوں اور فریب آرائیوں کا لامتناہی تسلسل ہمیشہ ناقابلِ گرفت و گیر رہتا ہے۔
اس التباس کو کیا کہیے گا کہ ذہن پر جو مظاہر اثر انداز ہوتے ہیں اور جس طرح کے جذبات ان مظاہر کی بدولت رونما ہورہے ہوتے ہیں، خیال انہی کے بطن سے پیدا ہونے والا ایک فریب ہوتا ہے جسے ہم اپنے تئیں اختیار کرکے مختار ہونے کے دعویدار ہوتے ہیں۔
کائنات میں جب آپ انفرادیت کی سطح سے ذرا اوپر اٹھ کراجتماعیت کی طرف بڑھتے ہیں اور آپ کی نظر ایک سے زیادہ مظاہر کو بطورِ کُل دیکھنے لگتی ہے تو یہ بات بہت واضح ہوجاتی ہے کہ اس کُل میں ہر "فرد" پر صرف جبر ہے۔ اس انفراد سے اجتماع تک کے سفر میں آپ جہاں دیکھیں وہاں یہی قانون لائقِ اطلاق ہے۔ ایک کتاب کا ایک صفحہ انفرادی طور پر جتنا آزاد ہے وہ پوری کتاب کی سطح پر اتنا ہی مجبور ہوتا ہے۔ کسی جاندار میں موجود ہر ہر خلیہ اپنے آپ میں ایک آزاد وظیفہ رکھتا ہے۔ لیکن اس آزادی کے باوجود وہ اپنی بقا کے لیے ایک ٹشو (Tissue) کے جبر میں ہوتا ہے اور ٹشو عضو کے جبر میں۔ اس کے برعکس قوانٹم کی دنیا میں جائیے تو وہاں ہر شئے اپنے قوانین میں کسی چیز کی پابند محسوس نہیں ہوتی۔ وہ مکمل مختار ہے۔ لیکن جب اس سے ایک سیڑھی اوپر اٹھ کر دیکھا جائے تو قوانٹم کی دنیا خود طبیعیات کے قوانین کے جبر میں آجاتی ہے۔
یہاں آکر یہ بات سمجھنا بہت آسان ہے کہ اختیار فرد کے ساتھ خاص ہے۔ اب فرد خود اجتماع کے بغیر کچھ نہیں ہے اس لیے اجتماع کا جبر اور انفراد کا اختیار جب آمیزش کے مراحل سے گزرتا ہے تو یہ نہ جبر رہتا ہے نہ اختیار۔ لیکن اس کے نامیاتی عوامل پر کبھی کوئی بندش نہیں آتی۔ ہر ہر ذرہ بظاہر اپنے اختیار سے کسی سمت میں حرکت کا مرتکب ہوتا ہے۔ اور اس کی ہر حرکت بذاتِ خود کسی پچھلے ذرے سے متاثر ہوتی ہے۔ اور اگلے کو متاثر کرتی ہے۔
یہی تقدیر کی جدلیات کا بنیادی میکانزم ہے جو کبھی جبر کا فریب دیتا ہے اور کبھی اختیار کا۔ لیکن نہ اختیار اصل میں اختیار ہوتا ہے، نہ جبر صحیح معنوں میں جبر۔

یہ بھی پڑھیں:   منطق کے قضایا اور الہیات

(145 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں