جب خواہش مرتی ہے

خواہش شاید اس کائنات میں وہ واحد ولادت ہوتی ہے جو پیدا ہوتے ہی آپ کو بڑا بنا دیتی ہے۔ قیاس آرائیاں یہ ہیں کہ بے چاری گونگی پیدا ہوتی ہے، مگر لڑکپن میں چلتی پھرتی مورت دکھائی دیتی ہے۔ آپ کے ساتھ کھیلتی ہے، بےتکلف ہوتی ہے اور نہاتے ہوئے آپ کے سامنے بھی آجاتی ہے۔
آپکے لاشعور میں گھس کر وجدان کے کپڑے پہن کر آپ کے تخیل کو دھوکا دینا اور پھر فقیرنی کی طرح باہر نکل کر آپ کے تخیل کی ہی بلائیں لینا اس کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے۔

خواہش ایک فلیش میں ڈیٹا لے کر پیدا ہوتی ہے، یہ ہمیشہ ربط میں حملے کرتی ہے۔
آپ منزل پر ہیں! منزل کے قریب ہیں! ہزار مصیبتیں ہیں! یہ اپنی فلیش سے فوٹو شاپڈ تصویریں نکال کر آپ کی پُتلیوں کے پیچھے اپنا پردہ ٹانک کر آپ کو تصویریں دکھانا شروع کر دے گی، آپ کے جذبات کو غلام بنا کر چپ چاپ استعمال کرے گی۔
یہ شباب میں آتے ہی آپ کو احساس دلانا شروع کر دے گی کہ ”میں آپ کے اندر نہیں بلکہ آپ میرے اندر پل رہے ہیں“
یہ اپنے آپ کو عشق کی آخری منزل بھی کہتی ہے اور اس کا ادراک یوں کرواتی ہے کہ آپ تکلیف میں ہیں۔ یہ اٹھے گی اور آپ کو مزید تکلیف دے گی اور بیٹھ جائے گی۔ آپ کو اس پر اور بھی پیار آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   کالم بدست

جوانی اس کی تکمیل کا وقت ہوتا ہے، جب یہ خود ائیر کنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ کر آپ کو کوئلوں پہ چلواتی ہے، جب زمیں کی حدت آپ کے پیروں سے بڑھ کر سیدھا آپ کے دماغ کو جلاتی ہے اور آپ کو یوں لگتا ہے گویا سر کے بل چل رہے ہوں۔ اس پل آپ ہمت نہیں ہارتے۔ کیوں؟ کیونکہ یہ پلے بیک میں ”آگ کا دریا“، ”عشق نہیں آساں“، ”درد کا دوا ہونا“ اور اس جیسے کئی محاورے ریپیٹ میں چلا رہی ہوتی ہے۔ پھر بہار کا موسم سردیوں میں وارد ہوتا ہے جب آپ کو اپنی خواہش کا مادی جسم ڈھونڈنا ہوتا ہے جس میں دبے پاؤں جاکر آپ کے ساتھ پلی بڑھی روحانی خواہش کو اس مادی جثے میں دراز ہوکر بڑھاپے میں تبدیل ہونا ہوتا ہے۔ یہی اسکی منزلیت ہوتی ہے، یہی آپ کی خواہش کی تکمیل ہوتی ہے۔ مگر روحانی خواہش حالات کے غنڈوں میں پھنس کر آپ کو پھر دھوکا دے جاتی ہے اور یوں وہ مادی جسم ناراض ہوکر آسمانوں کو پرواز کر جاتا ہے۔

اب خواہش عاجز ہے۔ رو رہی ہے، پیٹ رہی ہے، آپ کے آگے ہاتھ جوڑ رہی ہے کہ اسے اس کے مادی وجود کا لمس دلا دیا جائے۔ اسے جنت سے کوئی سروکار نہیں ہوتا، وہ بس اپنے مادی وجود میں گھل کر اسکی ڈی کمپوزیشن کی خواہاں ہوتی ہے۔
”اس وقت آپ کی خواہش بھی خواہاں ہوتی ہے“

یہ بھی پڑھیں:   مبالغہ آرائی کی حد بندی

مگر معاشرے کی دشنام طرازی آپ کو آپ کی پالی ہوئی اولاد سے بیگانہ کر چکی ہوتی ہے۔ اب آپ وجدان میں گھس کر اسکی تذلیل کرتے ہیں

تو نے ہی مجھے مروایا! اب بھگت
تونے میرا سُکھ، میرا سکون چھینا! اب بھگت
تو میری کاوشوں کو کربلا لے جا کر کاٹتی رہی اور بعد میں کالے کپڑے پہن کر خود ہی ماتم کرتی رہی! اب بھگت

وہ بین کرتی ہے، چیختی ہے
لال آنسو نکالتی ہے
اپنے نحیف بازو آپ کے دماغ کی دیواروں پر مارتی ہے اور آپ اس کی ہری چوڑیاں ٹوٹ کر زرد ہوتے دیکھ کر دور کھڑے ”کیپو چینو“ کا مزہ لے رہے ہوتے ہیں۔
وہ مرتی مرتی پھر وار کرتی ہے۔۔۔۔ ”میں تمہاری اولاد ہوں، کیا تم میرا کہنا نہیں مان سکتے؟“
آپ پسیج جاتے ہیں اور اسے مادی وجود سے ملانے لے چلتے ہیں کہ بہرحال خواہشی انقلاب آپ کو بھی لانا ہوتا ہے۔۔۔۔۔ وہ چاہے رحمتِ خداوندی کے گھیرے کے اندر رہ کر آئے یا باہر نکل کر۔

اب کی بار کوئی براق نہیں ملتا لہذا آپ اسے اپنی انا کے کارپٹ پر بٹھا کے اوپر لیجاتے ہیں، وہیں ستاروں سے آگے جہاں ہر پانچ میٹر اونچائی کے بعد آپ کو دھکا لگا کر کارپٹ کی اڑان کو بڑھانا ہوتا ہے۔۔۔ کروڑوں صدیوں کی مسافت کے بعد جب آپ بمشکل پہلے آسمان کو چِیرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو وہاں آپ کی حیرت کو بھی حیرت ہونے لگ جاتی ہے کہ آپ کی خواہش کا وہ ”مادی وجود“ کب کا تنہائی کی سفوکیشن سے گل سڑ چکا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   فدائے دلبرِ رنگیں ادا ہوں

آپ کی آنکھوں سے ایک آنسو بھی نہیں ٹپکتا جو آپ کی پلکوں کے دو چار بال ہی بھگو کر احساس دلا سکے کہ جناب! آپ مابعدالطبیعات میں قدم رکھ چکے ہیں اور جنت اور خالقِ مبدا اول کے قریب تر ہونے کا فائدہ اٹھا کر اس مری ہوئی خواہش میں روح پھونکوا سکتے ہیں۔

مگر آپ بت بن چکے ہوتے ہیں جو یہ بھی نہیں دیکھ پاتا کہ پیچھے آخری سبز چوڑی ٹوٹ کر زرد ہوچکی ہوتی ہے

آپ کی خواہش۔۔۔


تحریر: الف سراج

(196 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. Alif Siraj says:

    Shukriya Janaab Ka;)

تبصرہ کریں