جدید تہذیب، اسلام اور لباس

انسان کی فطرت میں ہی اللہ تعالیٰ نے شرم و حیا اور لباس کا تقاضا رکھ دیا ہے۔سورہ اعراف آیت نمبر 26میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے لباس کو نازل کیا یعنی وہ چیزیں پیدا کیں جن سے لباس بن سکتا ہے اور انسان کو اس کا طریقہ بھی سکھایا اور اس کی حاجت بھی رکھی۔ کسی بھی انسان کا تعلق خواہ کسی بھی مذہب سے ہو وہ دوسروں کے سامنے بالکل برہنہ ہونے میں بہت شرم محسوس کرتا ہے۔ تہذیب جدید کے وہ ناسور جو بے حیائی کو پھیلا رہے ہیں وہ بھی بڑی تگ و دو کے بعد اپنے آپ کو اس پر آمادہ نہیں کرپاتے کہ کھلے عام بے لباس ہو جائیں۔ یہ سارے کام خفیہ اور چھپ چھپا کر ہی کیے جاتے ہیں۔ اسلام نے لباس کے حسب ذیل مقاصد و آداب بیان کیے ہیں۔
الف۔ لباس کا بنیادی مقصد ستر پوشی ہے۔اسلام نے مرد و عورت کے جسم کے کچھ حصوں کو ستر قرار دیا اور انہیں ڈھانپنے کا حکم دیا۔ یہ لباس کا اولین مقصد ہے۔ جو لباس اس قدر باریک یا تنگ ہو کہ اس سے جسم چھلکتا ہو یا جسم کے پوشیدہ حصوں کی بناوٹ ظاہر ہوتی ہو وہ لباس پہننا جائز نہیں ہے۔
دوم۔ لباس کا دوسرا مقصد جسم انسانی کی زینت ہے۔ لباس میں انسان زیادہ خوبصورت نظر آتا ہے۔ جانوروں کے جسموں پر بھی اللہ نے کھال ، بال ، پر اور چھلکے وغیرہ پیدا کیا جو ان کی زینت کا باعث ہیں۔ کسی خوبصورت ترین پرندے اور جانور کے بھی اگر پر اور بال وغیرہ اتار دے جائیں تو وہ اپنی خوبصورتی کھو بیٹھتا ہے۔ شریعت کا یہ مقصد ہے کہ انسان جو تمام مخلوقات میں سب سے خوبصورت ہے اپنے لباس سے بھی خوبصورت اور باوقار نظر آئے۔
سوم۔ موسمی اثرات اور ضرررساں اشیاءسے حفاظت بھی لباس کے بنیادی مقاصدمیں سے ہے۔ قرآن میں حضرت داﺅد علیہ السلام کے جنگی لباس کا ذکر ہے۔ ایسا لباس جو سردی و گرمی سے نہ بچا سکے اسے پہننے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔
چہارم۔ لباس کا چوتھا بنیادی مقصد انسان اور قوموں کی انفرادیت کو اجاگر کرنا ہے۔ عورت اور مرد کو ایک دوسرے سے ملتا جلتا لباس پہننے سے منع کیا گیا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کو لباس اور وضع قطع میں غیر مسلموں کی مشابہت اختیار کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔
موجودہ دجالی تہذیب بالکل اسی طرح انسانیت کے بے لباس کرنے میں مصروف عمل ہے جیسے شیطان نے دنیا کے پہلے دو انسانوں کو اس پر اکسایا تھا۔تہذیب جدید کے سامنے اگر کوئی مزاحمت ہے تو وہ دوبارہ تیزی سے ابھرتے ہوئے اسلامی تحرک کی صورت میں ہے۔ اور اسلام کا امتیازی وصف ہی حیا ہے۔ حیا کا لباس سے براہ راست تعلق ہے۔ سورہ اعراف میں لباس کے مقاصد بیان کرنے کے بعد تقویٰ کے لباس کو ترجیح دی گئی ہے۔ یعنی لباس سے حیا اور تقویٰ کی حفاظت کی جائے۔اسلام کی اس اہم ترین حفاظتی باڑ حیا اور تقویٰ پر ضرب کاری لباس کے ذریعے ہی لگائی جا رہی ہے۔
دنیا بھر میں میڈیا دجالی تہذیب کے نمائندے کے طور پر لباس کو کم سے کم کرنے میں مصروف ہے۔ اشتہارات کی بھرمار ہے۔ نت نئے فیشن اور ڈیزائنوں سے نوجوان نسل کو مرعوب کرنے کا کام زور و شور سے جاری ہے۔ لباس کے بنیادی مقاصد پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ ایسے ایسے لباس متعارف کروائے جا رہے ہیں جس سے ستر کو زیادہ سے زیادہ عیاں کیا جا سکے۔ زینت اور وقار کی بجائے بے ڈھنگے اور لچے پن کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ لباس اور وضع قطع میں مرد و عورت کی انفرادیت کو ختم کیا جا رہا ہے۔ فٹنگ کے نام پر انتہائی تنگ لباس متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ لڑکیاں تو لڑکیاں نوجوان لڑکوں کو بھی دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ انتہائی تنگ پاجامے دیکھ کر کسی مزاحیہ شاعر کا فقرہ ذہن میں آجاتا ہے کہ
ٹانگیں ہیں تیری پرکارکی طرح
لباس کا یہ کلچر صرف لبرل یا عام مسلمان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ شرفاءاور دینی ذوق و تربیت رکھنے والے گھرانے بھی اس رنگ میں رنگ چکے ہیں۔ اب تو داعیان دین اور خود کو دین کے مبلغ کہنے اور سمجھنے والوں کی اولاد بھی اسی ڈگر پر چل نکلی ہے۔ یہ ایک اجتماعی وبا ہے جس سے ہر جدید و قدیم کم یا زیادہ ضرور متاثر ہوا ہے۔ مارکیٹ اسی فیشن کی بنیاد پر چل رہی ہے۔ فیکٹریاں یہی مال تیار کر رہی ہیں۔ خال خال انفرادی طور پر کسی جگہ لباس میں معقولیت نظرآتی ہے۔ اور بچوں کے معاملے میں تو اس سے بھی کمزور صورت حال ہے۔ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کا تو جنازہ نکل جاتا ہے۔ باپردہ ترین خواتین اور شریف والدین کی اولاد بھی ایسی بن سنور اور اپنے آپ کو عریاں کرکے سامنے آتی ہے کہ شیطان بھی بے یقینی کا شکار ہو جاتا ہے۔
کرنے کا کام یہ ہے کہ ہم اس بات کا ادراک کر لیں کہ تقویٰ اور حیا اسلامی تہذیب کی بنیادیں ہیں۔ میڈیا کے اس طوفانی دور میں اٹھ کھڑے ہوں۔ بچوں کے معاملے کو سنجیدہ لیں۔ ان میں ابتدائی طور پر ہی لباس کے مقاصد اور معقول لباس پہننے کا شعور اجاگر کریں۔ تاکہ تہذیب جدیدکے مکروہ حملوں سے خود کو بچا سکیں۔صنعت کار اور تاجر حضرات کی بھی ذمہ داری ہے کہ مناسب قیمت پر ایسے لباس متعارف کروائیں جولباس کے اسلامی مقاصد پر پورے اترتے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   تبلیغی جماعت - ایک مثبت جائزہ

(141 مرتبہ دیکھا گیا)

یاسر غنی

یاسر غنی

یاسر غنی صاحب سائنس کے شعبے نباتیات میں ماسٹرز ہیں۔ فی الحال ایک کالج کے پرنسپل ہیں اشاعت و بلاغت میں سر گرم ہونے کے ساتھ مطالعے کو اپنا مشغلہ رکھتے ہیں۔ اور لوکل اخبارات میں "نشانِ منزل" کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں