جدید ذہن اور انکار آخرت

جدید تشکیک زدہ اذہان کا اصل مسئلہ خدا کے وجود کو تسلیم کرنا نہیں ہے بلکہ ان کا اصل مسئلہ خدا کے سامنے جواب دہ ہونے کو قبول کرنا ہے۔ یہ احساس کہ وہ موت کے بعد کسی کو جواب دہ ہونگے؟ اور اپنے اپنے اعمال کا اچھا برا اجر پائیں گے؟ اس نظریے کو تسلیم کرلینا بہت سے اذہان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ ان کے لئے خود کو جواب دہ ماننا اپنی آزادی کو سلب کردینے کے مترادف ہے۔ وہ اپنی شتر بے مہار جیسی آزادی پر کسی بیرونی پہرے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ لہٰذا سچ پوچھیے تو ان کا یہ انکار عقلی سے زیادہ جذباتی بنیاد پر استوار ہے۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ دین بھی اپنا مقدمہ پیش کرتے ہوئے بناء جھجھک اس کا اعلان کردیتا ہے کہ اس فانی دنیا میں انسان کو فی الواقع اپنی آزادی کو خدا کی مرضی کے سامنے قربان کرنا ہوگا اور اس کا عبد یعنی غلام بن کر رہنا ہوگا۔ اس کے برعکس دور حاضر کا جائزہ لیجیے تو جو ممالک الحاد سے جتنا متاثر ہیں اتنا ہی انسان کی مادر پدر آزادی کے مبلغ ہیں۔ فری ڈم آف اسپیچ ، لبرٹی اور لبرلزم ان معاشروں میں عقائد کی طرح رائج ہیں۔ اس آزادی انسان کے لیے وہ اتنے متشدد ہیں کہ ہم جنسی کے فروغ اور ہر طرح کے فطری انسانی رشتے کو قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اسی آزادی کا نام لے کر وہ مرد و زن کی ہر قیود کو توڑ کر انہیں کپڑوں اور دیگر ہر حرمت سے بے نیاز کرنے پر مصر ہیں۔ گویا ایک طرف یہ مغربی ذہن ہے جو پوری شدت سے مکمل 'آزادی' کا دلفریب نعرہ لگا رہا ہے تو دوسری جانب دین کا پیرو ذہن خود کو عبد کہنے پر مسرور ہے اور اسی جانب دوسروں کو نصیحت کرتا ہے۔ یہی وہ کشمکش ہے جس کے نتیجے میں بعض لوگ خدا کے منکر یعنی 'ایتھیسٹ' ہوجاتے ہیں تاکہ جواب دہی کے کسی امکان پر بات ہی نہ ہو۔ جبکہ بعض دوسرے خدا کو ایک زندہ ہستی کی بجائے مختلف تاویلوں سے ایک ایسے وجود کا نقشہ کھینچ لاتے ہیں جس نے اس کائنات کو لامحالہ تخلیق تو کیا ہے مگر وہ کسی سے اس کے اعمال کا حساب نہیں لے گا۔ اس دوسرے گروہ میں مختلف نظریات سے منسلک لوگ وابستہ ہیں جن میں سے کچھ خود کو 'ڈیسٹ' اور کچھ کو 'اسپرچولسٹ' کہلواتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد

آپ انسانی تاریخ کے مقبول ترین سائنسدان 'البرٹ آئین سٹائن' کی مثال لیجیے جو خدا کے وجود کو کھلے الفاظ میں قبول کرتا ہے مگر ساتھ ہی یہ کہتا ہے کہ میں کسی 'پرسنل گاڈ' کو نہیں مان سکتا۔ 'پرسنل گاڈ' سے مراد اس کی ایک ایسی خدائی ہستی ہے جو اعمال کا حساب لے گی۔ اسی طرح سے دور حاضر کا شائد سب سے معروف سائنسدان 'اسٹیفن ہاکنگ' کی مشہور زمانہ تصنیف 'بریف ہسٹری آف ٹائم' دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بذریعہ سائنس 'خدائی ذہن' کو سمجھنے کی سعی کررہا ہے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خدا کو کسی نہ کسی صورت مان رہا ہے مگر حال ہی میں اس نے خدا کے وجود کا مطلق انکار کر دیا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ بظاہر یہی نظر آتی ہے کہ اسکے لئے ایک ایسے خدا کے وجود کو ماننا ممکن نہیں ہے جو صرف خالق و مدبر ہی نہیں بلکہ 'مالک الیوم الدین' بھی ہے۔ آپ دیگر ملحدانہ سوچ سے متاثر سائنسدانوں کی گفتگو سنیے تو معلوم ہوگا کہ وہ ایک جانب تو وجود خدا کا انکار کرتے ہیں مگر دوسری طرف کائناتی قوانین و توازن کو 'مدر نیچر' کہہ کر اس سے ان ہی صفات کو منسلک کرتے ہیں جو روایتی طور پر خدا ہی کی صفات سمجھی گئی ہیں۔ لفظ خدا کی جگہ 'مدر نیچر' کی اس اصطلاح کو اسی غرض سے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ روز آخرت یا خدا کو جواب دہی کے امکان کو ختم کیا جاسکے۔ اسی طرح ذرا دقت نظر سے دیکھیں تو جدید فلسفوں پر استوار ان 'اسپرچولسٹ' گروؤں کا بھی حال کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ لہٰذا آپ گرو رجنیش یعنی 'اوشو' کی تعلیمات دیکھیے تو اس کا ماننا ہے کہ خدا موجود نہیں ہے مگر ساتھ ہی کہتا ہے کہ وجود خدا کا انکار اسے 'ایتھیسٹ' نہیں بناتا۔ وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں خدا کا نہیں لیکن ایک 'کائناتی شعور' (کاسمک کونشئیس نیس) کے وجود کا قائل ہوں۔ جس میں انسانی شعور ضم ہوکر ابدی حیات پاسکتا ہے۔ ایک اور مثال راقم کے مطابق اس وقت کے سب سے ذہین گرو 'سدھ گرو' کی ہے جو ایک بار پھر خدا کے وجود کو منفرد استدلال سے ایک ایسی نادیدہ برتر ذہانت (سپریم انٹلیجنس) تک محدود کرنا چاہتے ہیں جو تخلیق کے مختلف رنگوں میں ڈھل گیا ہے اور جس کا روپ انسان خود ہے۔ گویا آج کا جدید ذہن کبھی 'مدر نیچر'، کبھی 'کاسمک کونشئیس نیس'، کبھی 'سپریم انٹلیجنس' جیسی دلفریب 'فینسی' اصطلاحات کا استعمال کرکے وجود خدا پر ایمان کو روز جزا پر ایمان سے جدا کردینا چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   انسانی عقل اور دین کا دائرہ

اس کے بالکل برعکس دین کا وہ مقدمہ ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔ جس طرح رسول ص کی رسالت پر ایمان لانے والا کسی صورت یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ قران حکیم پر ایمان نہیں رکھتا۔ ٹھیک اسی طرح خدا پر ایمان کا دعویٰ کرنے والا روز آخرت کا انکار نہیں کرسکتا۔ کلام پاک بڑی شان سے جابجا اعلان کرتا ہے کہ قیامت یا روز جزا کے برپا ہونے میں کوئی شک نہیں کیا جاسکتا اور ہر شخص بلاتفریق اپنے ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل کا بھی بدلہ پائے گا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دیگر عقائد کے مقابلے میں قران مجید روز آخرت کے عقیدے پر سب سے زیادہ زور دیتا ہے۔ پورے قران پاک کا شائد ہی کوئی ایسا صفحہ موجود ہو جہاں بالواسطہ یا بلاواسطہ قیامت یا روز آخرت کا ذکر نہ کیا گیا ہو۔ اسی کی نمائندہ مثال سورہ البقرہ کی وہ ابتدائی آیات ہیں جن میں جہاں مومنین و متقین کی صفات بتاتے ہوئے بیان ہوا کہ وہ غیب پر 'ایمان' لاتے ہیں، موجودہ کلام یعنی قران مجید پر 'ایمان' لاتے ہیں اور سابقہ صحائف پر 'ایمان' لاتے ہیں۔ وہاں اختتام اس پر کیا کہ وہ آخرت پر 'یقین' لاتے ہیں۔ غور طلب امر یہ ہے کہ بقیہ عقائد پر فقط 'ایمان' لانے کی بات ہوئی جبکہ روز آخرت پر 'یقین' لانے کی بات کی گئی۔ دین کے طالبعلم واقف ہیں کہ محققین کے مقبول موقف کے مطابق ایمان بڑھتا یا گھٹتا ہے مگر 'یقین' ایمان کی مستحکم و مستقل صورت کا نام ہے۔ گویا مطالبہ یہ ہے کہ آخرت پر ایمان بھی اس درجے کا ہو جو یقین کا درجہ حاصل کرلے۔ حقیقت یہ ہے کہ روز آخرت یا خدا کو جواب دہی کا تصور ہی وہ بنیادی عقیدہ ہے جو ایک انسان کے مومن ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   زندگی کی بے ترتیبی

(118 مرتبہ دیکھا گیا)

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمان عثمانی اپنے مزاج کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہیں۔ بڑے بڑے موضوعات کو دو جمع دو چار کرکے سمجھانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں سے فیضیاب ہوتے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں