جنات کا وجود اور سائنس

ایک محترمہ کا سوال آیا ہے کہ جنات اور چڑیل وغیرہ کے موضوع پہ کچھ لکھنے کی میری گزارش پوری کر سکتے ہیں؟ کیا واقعی جنات کا وجود محض انسانی دماغ کا تخیل ہے ؟ اگر سائنس مابعد الطیبیعات کو کھوجنے سے قاصر ہے تو کیا اسے رد کرنے کا حق رکھتی ہے ؟

ساتھ میں انہوں نے جناب قدیر قریشی صاحب کی یہ تحریر بھی پیش کی ہے:

ہر کلچر میں اس قسم کی مافوق الفطرت مخلوقات کے بارے میں قصے مشہور ہوتے ہیں - جس قسم کی مخلوق کے قصے اس کلچر میں مشہور ہوں، وہاں کے لوگوں کو صرف اسی قسم کی مخلوق ہی نظر آتی ہے - ہندوؤں کے ہاں بھوت پریت ہوتے ہیں، یورپ میں بدروحیں ہوتی ہیں، عرب میں عفریت ہوتے ہیں، ہمارے ہاں چڑیلیں ہوتی ہیں - ان مخلوقات کے بارے میں ہمیں بچپن سے ہی ڈرایا جاتا ہے چنانچہ یہی شبیہیں ہمارے ذہن میں بٹھا دی جاتی ہیں اور ان کا خوف تمام عمر طاری رہتا ہے - اندھیرے میں جب صاف نہیں دکھتا، ہمارا دماغ یہی تصور کرنے لگتا ہے کہ ہم وہی مخلوق دیکھ رہے ہیں جس کا خوف یمارے ذہن میں بچپن سے ہوتا ہے - چنانچہ یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ان مخلوقات کی کوئی حقیقت نہیں صرف یہ ہمارے اپنے خوف ہیں

اگر آپ انٹرنیٹ پر ریسرچ کریں تو آپ کو ایسی سینکڑوں مافوق الفطرت مخلوقات کے بارے میں معلومات مل سکتی ہیں جو مختلف کلچرز میں مشہور ہیں اور صرف اسی کلچر کے لوگون کو نظر آتی ہیں

میں چونکہ امریکہ میں مقیم ہوں جہاں ایسے پاکستنیون سے واسطہ پڑتا ہے جو اپارٹمنٹ کامپلکس میں رہتے ہیں لیکن ارد گرد کے اپارٹمنٹس میں امریکن لوگ رہتے ہیں - مجھے یہ بات بہت دلچسپ معلوم ہوتی ہے کہ ان پاکستانوں کو اپارٹمنٹ کامپلکس کے برآمدوں میں اکثر جنات یا باریش بزرگ نظر آتے ہیں لیکن ان کے کسی امریکی ہمسائے کو نہ تو کبھی کوئی جن نظر آتا ہے اور نہ ہی کوئی باریش بزرگ - اس سے آپ خود فیصلہ کر سکتے لیں کہ ان ہستیوں کی کیا حقیقت ہے

بعض شادی شدہ حضرات کا خیال ہے کہ انہیں جو چڑیلیں نظر آتی ہیں وہ ان کی اپنی ہی بیگمات ہوتی ہیں جو رات کو میک اپ کے بغیر ہوتی ہیں - تاہم میں اس سلسلے میں اپنی رائے محفوظ رکھنا چاہوں گا

 

یہ بھی پڑھیں:   انسان کی حقیقت اور اس کا مقصد

محولہ بالا تحریر میں قدیر قریشی صاحب نے جو لکھا ہے وہ سائنسی حیثیت میں بالکل درست ہے۔ ہم جو آسیب، بھوت، پریت یا چڑیل اور دوسری غیر مرئی مخلوقات دیکھنے یا ملاقات کرنے کے دعوی کرتے ہیں ان میں کوئی ایک بھی دعوی معتبر ثبوت کے ساتھ پیش نہیں کیا جاسکتا۔

اب بھوت پریت یا چڑیلوں کے وجود کا ثبوت کیا ہوگا؟ یہی کہ میں نے دیکھا ہے؟ تو یہ بات در اصل کوئی ثبوت نہیں ہوتی۔ اگر کوئی شخص اکیلے میں کسی پر اسرار مخلوق کا مشاہدہ کرتا ہے، یا اس سے باتیں کرتا ہے تو اس کی سائنسی وضاحت موجود ہے۔ اور یقین کیجیے کہ وہ وضاحت نہ صرف یہ کہ دل کو لگتی ہے، بلکہ عملی طور پر اسے ٹیسٹ بھی کیا جاسکتا ہے۔ ہیلوسینیشنز اور الیوژنز انہی چیزوں کے نام ہیں جو مختلف دماغی امراض یا حالات میں انسانوں کے ساتھ پیش آتے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   قرآن اور جدید سائنس کی پیش رفت

اب ایسے مظاہر کو لے کر جب آپ بھوت پریت وغیرہ کے وجود کو منوانے پر اصرار کرتے ہیں تو یہ نا انصافی کی بات ہے۔

جہاں تک جنات کا تعلق ہے، تو میں مسلمان ہونے کی حیثیت میں ان کے ہونے پر یقین رکھتا ہوں۔ تاہم میں ان لوگوں کے قصوں کہانیوں پر یقین نہیں رکھتا جو لوگ انکو دیکھنے یا انکے ساتھ ملاقات کرنے کی دعوی کرتے ہیں۔ میرے نزدیک انسان ایسی کسی بھی مافوق الفطرت مخلوق کا مشاہدہ اور اس سے کلام نہیں کر سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   سائنس کی حتمیت

تو بات یہ ہوئی کہ ایک تو جنات کا وجود ہے، اور دوسرا یہ بات کہ ہم جنات کو دیکھ سکتے ہیں، باتیں کر سکتے ہیں، ان کا حلیہ بتا سکتے ہیں (جو کہ عموماً انسانوں ہی کی کوئی موڈیفائیڈ شکل ہوتی ہے)۔ میں پہلی کو تو مانتا ہوں، لیکن دوسری کو ماننا میرے لیے بہت مشکل کام ہے۔

 

(167 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں