جنسیات اور ہمارے مغالطے (حصہ اول)

جنسیات اور جنسی سرگرمیوں کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں ایک نہیں بلکہ متعدد قسم کے مغالطے، افواہیں، کہانیاں، اساطیر اور نجانے کیا کیا حکایتیں پائی جاتی ہیں۔ اس حوالے سے کافی عرصے سے ذہن میں تھا کہ تحریروں کا ایک سلسلہ شروع کیا جائے جس میں ایسے تمام مغالطات اور غلط فہمیوں کا علمی ازالہ کیا جائے اور افادۂ عامہ کے لیے شائع کیا جائے تاکہ وہ شرفاء افراد بھی فائدہ حاصل کرسکیں جو شرم و حیا کی وجہ سے ایسے مسائل کسی کے سامنے لانے سے اجتناب کرتے ہیں۔

شروعات میں ایک گزارش ہے کہ تحریروں میں جو کچھ بھی زیرِبحث آئے گا وہ اسلامی یا دینی حیثیت سے نہیں بلکہ جدید سائنسی پہلو سے ہوگا۔ تو اس چیز کو بھی ذہن میں رکھ کر تحریروں کو پڑھا جائے۔ مثلاً کچھ لوگ ایک ممنوع عمل کے بارے میں یہ تصور کرتے ہیں کہ اس کا ضرور کوئی سائنسی نقصان ہوگا۔ اب اگر کوئی ڈاکٹر یہ کہے کہ فلاں (دینی طور پر ممنوع) عمل کا کوئی نقصان نہیں تو لوگ برہم ہو کر کہنے والے کو ہی گالی دیتے ہیں کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ فلاں حرام کام کا کوئی نقصان نہ ہو؟
بات کا مقصد صرف یہ ہے کہ اسلام کی رائے دینی علماء سے پوچھی جائے گی۔ طبی رائے طب کے ماہرین سے۔ ممکن ہے کہ ایک عمل کا طب میں کوئی رتی برابر بھی نقصان نہ ہو لیکن دینی طور پر وہ عمل ممنوع ہے۔

اب آتے ہیں ان مغالطات کی طرف جو کہ ہمارے یہاں نہ صرف پائے جاتے ہیں، بلکہ ان کی جڑیں ہمارے تصورات میں اندر تک سرایت کر چکی ہیں۔ ان مغالطات کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی اور اہم وجہ تو وہ ناقص اور ڈھونگی معالجین جو جنسیات کو پیشہ بنا کر عوام کو بے وقوف بناتے صدیوں سے انہیں لوٹتے آئے ہیں۔ کبھی آپ اس دیہاتی شخص کو دیکھیے جو اپنے ارد گرد چند سانپ اور سانڈے رکھ کر مجمع اکھٹا کرتا ہے اور اپنا تیل بیچنے کے لیے ایسی ڈائیالاگ بازی کرتا ہے کہ اچھا خاصا صحت مند انسان اپنے آپ کو جنسی کمزوری اور نامردی کا مریض ماننے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

یہ سلسلہ آج سے نہیں بلکہ پچھلی کئی صدیوں سے چلتا آیا ہے۔ بادشاہوں اور نوابوں کو درباری حکیموں نے لوٹنے اور بے وقوف بنانے کے کئی پینترے اپنائے جس میں سب زیادہ مضبوط پینترا قوتِ باہ کا مسئلہ تھا۔ وجہ وہی ستر حوروں کے ساتھ ہمبستری کی طاقت تھی جو یہ رئیس قسم کے لوگ اپنی دنیاوی زندگی چاہتے تھے۔ بہر حال۔ بات تو نکلی تو دور تلک جائے گی۔ یہاں ہمارا مقصد صرف ان مغالطات کا ازالہ کرنا ہے جو کہ ہمارے یہاں ناقابلِ تردید سچ کے طور پر مانے جاچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا مسیحا اب جان لیتے ہیں ؟

مغالطہ # 1: کثرتِ جماع مردانہ کمزوری کا سبب ہے

یہ مغالطہ ہمارے یہاں عام ہے کہ کثرتِ جماع سے مردانہ کمزوری ہوتی ہے۔ ایسے اقوال بھی پائے جاتے ہیں کہ جو شخص مہینے میں چار مرتبہ ہم بستری کرتا ہو وہ اپنی قبر کھود کر رکھ لے۔ یعنی اس نے بہت جلد مر جانا ہے۔

سائنسی طور پر کوئی تحقیق اس بات کا ساتھ نہیں دیتی۔ کثرتِ جماع کے انسانی صحت پر کوئی منفی اثرات نہیں ہیں۔ ہاں البتہ یہ دھیان چاہیے کہ ہم بستری میں شوہر اور بیوی دونوں کی رضامندی شامل ہو تاکہ جنسی سرگرمی دونوں کے لیے لطف کا باعث بنے۔ اس کے ساتھ ساتھ غذا اور طریقۂ زندگی حفظانِ صحت کے مطابق ہو۔ خوراک اچھی اور روز نہیں تو کم از کم ہفتے میں تین دن ورزش کو معمول بنائیں۔ یہ بات طے ہے کہ اگر کوئی شخص روزانہ کی بنیاد پر بھی جنسی سرگرمی جاری رکھتا ہے تو بھی اس سے جنسی صحت کو کوئی نقصان نہیں ہے۔

مغالطہ # 2: جنسی عمل یا خود لذتی (Masturbation) سے نظر اور حافظہ کمزور ہوتا ہے

یہ مغالطہ بھی انتہائی بے بنیاد ہے۔ نہ تو جنسی عمل کی کثرت سے حافظہ اور نظر میں کوئی فرق آتا ہے، نہ ہی خود لذتی (Masturbation) سے ایسا کوئی نقصان ہوتا ہے۔ اب تک کی جانے والی بیسیوں تحقیقات اس بات پر شاہد ہیں کہ جنسی سرگرمیاں یا پھر خود لذتی انسان کے جنسی تناؤ میں کمی کا باعث بنتی ہیں، یہ یکسوئی اور دوسرے دماغی اہداف کو حاصل کرنے کا ایک بہتر راستہ ہے۔ اس کے علاوہ جنسی سرگرمیاں اینکزائٹی (anxiety) اور ڈپریشن میں بھی کمی کا باعث ہوتی ہیں۔ کچھ تحقیقات کے مطابق جنسی سرگرمیاں پراسٹیٹ کینسر(prostate cancer) کے امکان کو بھی کم کرتی ہیں۔

مغالطہ # 3: نوعمری میں خود لذتی سے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے

یہ بات بھی ایک مغالطے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اوپر مغالطہ نمبر ایک میں وضاحت کردی گئی ہے۔ جنسی سرگرمی، کثرتِ جماع ہو یا خود لذتی کی کثرت۔ کسی بھی چیز سے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی یا بانجھ پن نہیں ہوتا۔

مغالطہ # 4: سو قطرے خون اور ایک قطرہ مادۂ منویہ (Sperms)

یہ بھی ایک مغالطہ عام طور پر لوگوں کو دیا جاتا ہے کہ منی کا ایک قطرہ بننے کے لیے سو قطرے خون درکار ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ بالکل جہالت کی بات ہے۔ سو نوالوں سے ایک قطرہ خون اور سو قطرے خون سے ایک قطرہ منی کا بننا ایسی بے بنیاد باتیں ہیں جن کے پیچھے نہ سائنس موجود ہے نہ کوئی معقول علم۔ منی (Sperm) کا بننا خصیتین (Testes) کا ایک فزیولوجیکل عمل ہے جو جسم سے نیوٹریشن پہنچنے پر چلتا رہتا ہے۔ یہ کام ان میں بھی ہوتا ہے جو ایک دن میں ایک بار جنسی عمل کریں، اور ان میں بھی جو ہفتے میں ایک بار کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   جلوہ فرماں دیر تک دلبر رہا

مغالطہ # 5: مشت زنی سے ہتھیلیوں پر بال آجاتے ہیں

کچھ لوگوں میں یہ بات بھی عام کہی جاتی ہے کہ مشت زنی سے ہتھیلی پر بال آتے ہیں۔ حالانکہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔  اگر ایسا ہوتا تو آج کا ہر نوجوان اپنی ہتھیلیاں چھپائے چھپائے پھر رہا ہوتا۔

مغالطہ # 6: سرعتِ انزال کی شکایت (Premature Ejaculation)

سرعتِ انزال (Premature Ejaculation) وہ مسئلہ ہے جس سے ہمارے یہاں شاید ہر تین میں سے ایک بندہ پریشان نظر آتا ہے۔ اور عام وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ جنسی عمل کی کثرت یا خود لذتی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ میڈیکل سائنس میں تاہم اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جنسی عمل کی کثرت آپ کے دماغ کو دیر تک لطف اٹھانے کے قابل بناتی ہے۔ عام طور پر یہ معاملہ انسان کی نفسیات سے تعلق رکھتا ہے۔ کچھ لوگ جلدی انزال کے متمنی ہوتے ہیں، اس لیے وہ بغیر اپنے شریکِ بستر کی پروا کیے، جلد سے جلد انزال تک پہنچ کر فارغ ہوجاتے ہیں۔ جبکہ مختلف تکنیک استعمال کرکے سرعتِ انزال کو اپنے قابو میں کیا جاسکتا ہے۔ اس مسئلے سے متاثر لوگوں کی کثیر تعداد وہ ہے جو مختلف افواہوں سے پریشان ہے۔ یا پھر غلط رہنمائی کی وجہ سے اپنے آپ کو بیمار سمجھتی ہے۔ حالانکہ کثیر تعداد ان لوگوں کی ہے جو بیمار نہیں ہیں لیکن خود کو بیمار تصور کرتے ہیں۔ سائنس میں سرعتِ انزال کی کوئی خاص تعریف موجود نہیں ہے۔ آپ کی حسیات اور خود کار تکنیکوں پر منحصر ہے کہ آپ کتنی دیر میں انزال تک پہنچتے ہیں۔ تاہم کچھ کیس ایسے ہوتے ہیں جن میں عضوِ خاص کی حساسیت ضرورت سے زیادہ بڑھ جاتی ہے (Penile Hypersensitivity)۔ ایسے میں بہتر یہ ہے کہ مستند ماہر معالج سے رابطہ کیا جائے، بجائے اس کے کہ کسی ڈھونگی سے رابطہ کیا جائے۔

مغالطہ # 7: عضوِ خاص کی اوسط لمبائی

یہ بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جو ہمارے یہاں پایا جاتا ہے۔ عام طور پر ہماری نئی نسل "سیکس فکٹیشئیس" (Sex Fictitious) فلمیں دیکھنے کے بعد سپر مین بننے کے سپنے سجا بیٹھتی ہے۔ حالانکہ حقیقی زندگی اس سے کہیں مختلف ہے۔ جس طرح آپ فلم میں دکھنے والے سپرمین کی طرح اُڑ نہیں سکتے اسی طرح فلموں میں دکھائی جانے والی جنسی سرگرمیوں کو بھی اپنے آپ پر اپلائی نہیں کرسکتے۔

یہ بھی پڑھیں:   ڈی این اے - ایک حیرت کدہ

چنانچہ عضوِ خاص کی اوسط لمبائی کے حوالے سے مختلف تحقیقات ہوئی ہیں۔ اور ساڑھے چار یا پانچ انچ سے لے کر قریب چھ انچ تک کا سائز اوسط میں گنا جاتا ہے۔ چھوٹے سائز والے لوگوں کے لیے مشورہ ہوتا ہے کہ وہ اپنا پیٹ بڑھنے نہ دیں اور مناسب ورزشیں وغیرہ جاری رکھیں، تاکہ آپ کی جنسی صحت میں کوئی کمی   نہ آئے۔

ایک مزید اہم بات یہ ہے کہ دنیا میں تقریباً ہر مرد اس معاملے میں احساسِ کمتری کا شکار ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کے عضوِ خاص کی لمبائی کم ہے۔ حالانکہ ننانوے فی صد ایسا سوچنے والے ایک اوسط لمبائی رکھتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ لمبا عضو بہتر جنسی سرگرمی کی ضمانت ہے، حالانکہ ایسا بھی نہیں ہے۔ عورتوں کی اکثریت کو عضو کی لمبائی سے دلچسپی نہیں ہوتی، نہ ہی یہ لمبائی عام طور پر عورت کے حمل وغیرہ کے لیے اہم ہے۔ اس لیے ایسی تمام باتوں کو ذہن سے نکال دیجیے۔

مغالطہ # 8: عضوِ خاص کی لمبائی بڑھانے والی دوائیں

اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ تاحال کوئی دوا یا کوئی تکنیک عضوِ خاص کی لمبائی کو محفوظ طریقوں سے بڑھانے کا کام نہیں کرتی۔ آپ ایسی کسی دھوکے بازی میں آکر اپنی جنسی صحت کو کھو تو سکتے ہیں، بہتری بالکل ممکن نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ ایسی دھوکہ بازیوں کا شکار نہ بنیں۔ سائنس اب تک ایسی کوئی بھی دوا بنانے سے قاصر ہے جو عضوِ خاص کی لمبائی اور صحت دونوں کو ساتھ لے کر چل سکے۔ اس لیے اس طرح کے اشتہارات اور باتوں پر بالکل کان نہ دھریں۔بصورتِ دیگر فائدہ تو نہیں، البتہ نقصان کے زیادہ امکانات ہیں۔

(تحریر کا اگلا حصہ یہاں ملاحظہ فرمائیں)

(4069 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

20 تبصرے

  1. Abubakar Riaz says:

    عمدہ، جیتے رہیں۔۔۔

  2. عبد العظیم says:

    بہت عمدہ سلامت رہیں

  3. Shoaib says:

    Nice effort

  4. ثاقب احسان says:

    جو باتیں اور مغالطے آپ نے بیان فرمائے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے معاشرے میں بسنے والے پڑھے لکھے لوگ بھی ان سب باتوں کو حقیقت مانتے ہیں۔۔
    بہت عمدہ علمی کاوش ہے۔۔

  5. Rana Asif says:

    Over all informative hey but i am not agree with you on point # 4.

  6. rizwan says:

    Really v.nice

  7. عتیق بیگ says:

    25 سال کی عمرتک انسانی جسم کا الحاقی مادہ بڑھتا ھے ۔۔ جب تک الحاقی مادہ بڑھنے کی انسانی جسم کی صلاحیت ھے تب تک قد بڑھ سکتا ھے اور جب تک قد بڑھ سکتا ھے تب تک عضو تناسل بھی بڑھ سکتا ھے ۔۔ نسخہ میں بھیج دوں گا تجربہ آپ کر لیجیے گا۔۔ میں تو کامیاب تجربہ کر چکا ھوں۔ قد کا بھی اور عضو تناسل کا بھی

    • مزمل شیخ بسمل says:

      حضورِ والا آپ نےفرمایا:
      25 سال کی عمرتک انسانی جسم کا الحاقی مادہ بڑھتا ھے ۔۔ جب تک الحاقی مادہ بڑھنے کی انسانی جسم کی صلاحیت ھے تب تک قد بڑھ سکتا ھے اور جب تک قد بڑھ سکتا ھے تب تک عضو تناسل بھی بڑھ سکتا ھے ۔۔

      اس بات کا کوئی مستند سائنسی حوالہ بھی موجود ہے؟

  8. عتیق بیگ says:

    دونوں تحریروں میں کافی چیزیں ٹھیک نہیں ھے آپ براہ کرم پہلے اس معاملے میں اپنا علم بڑھائیں پھر اس نازک موضوع پر قلم اٹھائیں

    • مزمل شیخ بسمل says:

      ضرور بتائیں۔ اور جو جو باتیں غلط ہیں ان کا علمی رد لکھ دیجیے اور اسکے مخالف حوالہ بھی عنایت فرما دیں۔

  9. عتیق بیگ says:

    حضور والی ایک نہیں بے شمار حوالے موجود ھیں۔۔۔ میں باقاعدہ تعلیم حاصل کر کے حکیم بنا ہوں۔۔ انٹرنیت کی بے ربط ریسرچ میرا مطمع نظر نہیں ھے ۔۔
    اس پر اگلا مضمون میرا چھاپ دیجیے گا
    آپ کو ارسال کر دوں گا

  10. خود لذتی کے متعلق آپ دین میں جو وعیدین آئیں ہیں اس کے متعلق بھی بیان کریں

    • مزمل شیخ بسمل says:

      وہ کام دینی علماء کریں تو مجھ سے زیادہ بہتر کریں گے نا؟ 🙂

تبصرہ کریں