جنسیات اور ہمارے مغالطے (حصہ دوم)

اس مضمون کا حصہ اول یہاں ملاحظہ فرمائیں

مغالطہ # 9: مادۂ منویہ گھٹنوں میں بنتا یا محفوظ ہوتا ہے

یہ ایک عام مغالطہ ہے کہ مادۂ منویہ گھٹنوں میں بنتا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ گھٹنوں میں محفوظ ہوتا ہے۔ کچھ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ کمر کے پچھلے حصے سے آتا ہے۔ البتہ یہ ساری باتیں نری بے سر و پا ہیں۔ مادۂ منویہ خصیتین میں بنتا ہے اور وہیں (Epididymis) سے آتا ہے۔

مغالطہ # 10: مذی (Pre-seminal fluid) کا نکلنا مردانہ کمزوری پیدا کرتا ہے

یہ بھی ایک بے کار سی بات ہے۔ ایسی کوئی سائنسی تحقیق موجود نہیں جو مذی کے نکلنے کو خطرناک بتاتی ہو۔ مذی کی مقدار مختلف لوگوں میں کم بہت کم، زیادہ یا بہت زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔ مذی آپ کے مادۂ منویہ کی دوسرے تیزابی مادوں سے حفاظت کا کام کرتی ہے۔ اس لیے اس کا نکلنا صحت مند تولیدی خلیوں کی ضمانت ہے۔ براہِ کرم ایسے کسی جھانسے میں آکر دواؤں، ڈاکٹروں یا حکیموں کے چکر میں نہ پڑیں۔

مغالطہ # 11: مرد انزال کے بعد جنسی عمل سے فارغ ہو جاتا ہے جبکہ عورت مطمئن نہیں ہوتی

یہ بھی ایک بڑا مغالطہ ہے کہ مرد جنسی عمل سے جس طرح انزال پر فارغ ہو جاتا ہے اس طرح عورت نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ عورت کو مطمئن کرنے کے لیے مرد کو چار مرتبہ انزال ہونے تک جنسی سرگرمی میں رہنا ضروری ہے ورنہ عورت مطمئن نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں:   چائے کے کپ سے موبائل فون چارج

یہ سب ایک بکواس سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ میڈیکل سائنس کی تقریباً تمام جدید تحقیقات اس بات پر شاہد ہیں کہ عام طور پر جتنی دیر میں مرد کو انزال ہوتا ہے، تقریباً اتنے ہی وقت میں عورت بھی جنسی عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ زیادہ تر مرد عورت کے حوالے سے اس کے اعضا کی ساخت کو نہیں سمجھتے اس لیے عورت ان کے لیے معمہ بنی رہتی ہے۔ عورت کی بر انگیختگی میں جنسی عمل سے پیشتر عوامل (foreplay) کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اس پر تفصیل پھر کسی وقت۔

مغالطہ # 12: پردۂ بکارت (Hymen Layer) کنوارے پن کی علامت ہے

انتہائی جہالت پر مبنی یہ مغالطہ بھی پرانے وقتوں کا گھڑا ہوا ہے جب باکرہ کے لیے واحد طریقہ یہ ہوتا کہ اس کے پہلی رات کے بستر پر پردہ ٹوٹنے کا خون چیک کیا جائے گا۔ اور یہ رسم آج بھی کئی خاندانوں اور قبیلوں میں رائج ہے۔ اگر خون نہ نکلے تو شکوک و شبہات اور تشدد تک کی نوبت آجاتی ہے۔ حالانکہ پردۂ بکارت ایک بہت ہی نازک سی جھلی ہوتی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ مکمل طور پر بند نہیں ہوتی۔ دوسرا یہ کہ معمول کی بے احتیاطیوں میں بھی اپنے آپ یہ جھلی ٹوٹ جاتی ہے مثلاً کھیل کود کے درمیان، ورزش، یا سیڑھیوں سے غیر محتاط اتر چڑھ کرنے پر یہ پردہ اپنے آپ ٹوٹ سکتا ہے جو کہ ایک عام بات ہے۔ چنانچہ اپنے عقل مند ہونے کی دلیل دیں اور یہ بات ان لوگوں تک بھی پہنچائیں جہاں یہ فاسد تصور آج بھی رائج ہے اور وہ گھر کی عورت کا جینا حرام کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   تبلیغی جماعت - ایک مثبت جائزہ

مغالطہ # 13: مرد کا عضوِ خاص چھوٹا ہو تو عورت مطمئن نہیں ہوتی

عضوِ خاص کی غیر معمولی لمبائی یا پھر غیر معمولی چھوٹا پن، دونوں ہی مسئلہ ہوتے ہیں۔ البتہ یہ ایک مغالطہ ہے کہ عورت بڑے عضو سے ہی مطمئن ہو سکتی ہے۔ مغالطہ # 7 میں بھی اس بات کا ذکر کیا تھا کہ یہ مغالطہ پورن فلموں کو دیکھ زیادہ مقبولیت پکڑ گیا۔ حالانکہ لمبا عضو عورت کی بیضہ دانی کے منہ (Cervix) پر ٹکرا کر تکلیف کا باعث بنتا ہے۔

مغالطہ # 14: ایامِ حیض (Periods) میں حمل ممکن نہیں ہوتا

یہ بات بھی ایک مغالطہ ہے۔ ایامِ حیض جسم کی فزیولوجی کے لیے اتنے زیادہ متعین دن نہیں ہوتے کہ تمام خواتین میں ایک ہی طریقے سے اور ایک دورانیے کے لیے آتے ہوں۔

عام طور پر خواتین کی ماہواری کا چکر (Menstrual Cycle) اٹھائیس دنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ یعنی ایک حیض کے پہلے دن سے دوسرے حیض کے پہلے دن تک۔ البتہ بہت سی خواتین میں یہ چکر بائیس یا پچیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ مرد کے تولیدی خلیے (Sperm Cells)  عام حالات میں عورت کے جسم میں پانچ سے چھ دن تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ اس لیے اگر ایامِ حیض کے آخری دنوں میں جنسی عمل کیا جائے تو بھی حمل ٹھہر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   گھر سے بھاگنے والی لڑکی

پس نوشت

یہاں آکر میرے مطابق بنیادی تمام مغالطات کا ازالہ ہو گیا ہے۔ اس سلسلے کا بنیادی مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا تھا۔ پرانے اور دقیانوسی خیالات سے نجات اور علمی بنیادوں پر اپنے نظریات قائم کرنا ایک بہتر اقدام ہوتا ہے۔ چنانچہ جو مداری یا ڈھونگی حکیم کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر عوام کو لوٹتے آئے ہیں ان سے خود بھی بچیے اور درست معلومات کو آگے پہنچا کر لوگوں کے بھی فائدے کا سبب بنیں۔

 اس کے علاوہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ کوئی کمی یا خامی رہ گئی ہے تو تبصرہ خانے میں ذکر فرما دیں۔ ضروری نہیں کہ آپ اپنا نام لکھ کر تبصرہ چھوڑیں، کسی فرضی نام سے بھی تبصرہ کیا جاسکتا ہے۔

(2501 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

28 تبصرے

  1. imtiaz khan says:

    boaht he acha written hain, iss se bohat se logo ku ab faida huga, khas kar "Hymen Layer" iss ke waja se boaht se larkiyo ke zinda kharab hoye hain...Thank you..

  2. ایک الجھن ہے کہ قرآن میں ہے یخرج من بین الصلب والترائب
    اور آپ نے لکھاہے کہ یہ خصیوں میں ہوتا ہے
    تو اس میں مطابقت کی کیا صورت ہے ؟

    • مزمل شیخ بسمل says:

      بہتر ہے اس حوالے سے علماء سے مشورہ کیا جائے۔ میرے خیال میں یہاں مادۂ منویہ کے نکلنے کا ذکر ہے۔ اس کی پروڈکشن اور سٹوریج کا نہیں۔

  3. Shah says:

    مغالطہ نمبر ۹ سے متعلق
    قرآن كريم اس بیان کی کیا تفسیر ہو گی۔
    خلق من ماء دافق. يخرج من بين الصلب والترائب... الخ
    سب کچھ بہت اچھا لکھا اور بہترین لکھا۔ ماشاءالله!

    • مزمل شیخ بسمل says:

      بہتر ہے اس حوالے سے علماء سے مشورہ کیا جائے۔ میرے خیال میں یہاں مادۂ منویہ کے نکلنے کا ذکر ہے۔ اس کی پروڈکشن اور سٹوریج کا نہیں۔

  4. Thanks For Collecting all information together.

  5. جنید says:

    کیا ٹائمنگ کا انسانی صحت سے کوئی تعلق ہوتا ہے ؟ مطلب نارمل انسان کے اور تندرست و توانا جسم میں جیسے جو ڈیلی ورک اوٹ کرتا ہو

    • مزمل شیخ بسمل says:

      ٹائمنگ کا تعلق صحت سے زیادہ اس سے مشق اور نفسیات سے ہوتا ہے۔
      عام طور پر آپ کے روز مرہ کے ورک آؤٹ اور ایکسرسائز آپ کے دماغ پر اچھے تاثرات چھوڑتے ہیں۔ اس کا ضمنی اثر یہ ہوتا ہے کہ آپ کی سیکس لائف بہتر ہو جاتی ہے۔

  6. Simi says:

    بہت عمدہ لکھا ہے۔۔۔۔ بہت سے ذہنی خیالات اور تصورات کو ختم کیا

  7. ڈاکٹر سید عطاءالمصطفیٰ says:

    بہت اچھا کام کر رہے ہیں جزاک اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ آپ کے کام سے تقویت لیتے ہوئے میں نے بھی اس نیک کام کا آج سے آغاز کیا ہے اور ماں اور بچے کے حوالے سے معلومات کا آغاز کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ سلامت رہیے

  8. چائے زیادہ پینے سے منی کے پتلا ہونے کاجو لوگوں میں خیال عام ہے اس کے متعلق کیا رائے ہیں اور اسی طرح سے رات کو دیر تک جاگنےکے بارےمیں؟

    • مزمل شیخ بسمل says:

      چائے یا کوفی کے منی پر کوئی منفی اثرات نہیں ہوتے۔ بلکہ تحقیق کے مطابق کافین منی کے تولیدی خلیوں کی حرکت (Motility) میں اضافہ کرتی ہے۔
      نیند کے البتہ برے اثرات ہیں۔ مناسب نیند ضروری ہے۔

  9. استاد مؤمن says:

    آپ نے لمبائی کا ذکر تو کیا ہے۔ کیا عضو کی موٹائی بھی درکار نہیں ہوتی؟
    منی کا گاڑھا پن کس حد تک ضروری ہوتا ہے؟ پتلی منی کے کیا نقصانات ہیں؟
    گاڑھا کرنے کے قدرتی طریقہ کار کیا ہو سکتی ہیں؟
    عموماً احتلام کتنے دن بعد ہو تو نارمل کنسیڈر کیا جاتا ہے؟

    • مزمل شیخ بسمل says:

      دیکھیے، مضمون میں یہ بات کہیں نہیں کہ لمبائی سے بالکل کوئی فرق نہیں پڑتا۔
      البتہ یہ ضرور ہے کہ جس طرح کی ذہنیت لوگوں کی بن چکی ہے اس میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ جسے عام طور لوگ سمجھتے ہیں کہ عورت کی تسلی کے لیے اتنا لمبا عضو ہونا ضروری ہے تو یہ غلط بات ہے۔
      ایک اوسط لمبائی والا عضو مناسب ہوتا ہے۔ اسی طرح موٹائی کا مسئلہ بھی ہے۔ ضرورت سے زیادہ چھوٹا اور پتلا عضو مائکرو پینس کہلاتا ہے۔ اور یہ واقعی ایک معذوری ہے۔ لیکن ایسے معذور لوگوں کی تعداد سو میں ایک بھی نہیں ہے۔ نہ ہی اس کا اب تک کوئی علاج موجود ہے۔

    • مزمل شیخ بسمل says:

      منی کا گاڑھا یا پتلا ہونا منی کے معیار کا پیمانہ نہیں۔
      تین چیزیں دیکھی جاتی ہیں:
      سپرم کاؤنٹ۔ یعنی منی میں موجود خلیوں کی تعداد۔
      سپرم موٹیلیٹی یعنی خلیوں کی حرکت
      سپرم مارفولوجی یعنی خلیوں کی شکل اور ساخت۔
      اگر یہ تینوں چیزیں سیمن انالیسس میں درست آتی ہیں تو فکر کرنے کی کوئی وجہ بھی موجود نہیں ہے۔

    • مزمل شیخ بسمل says:

      احتلام اگر ہفتے میں تین بار بھی ہو رہا ہے تو نارمل ہے۔ یہ انسانوں کی عام فزیولوجی کا ایک عمل ہے۔

  10. اسلام وعلیکم
    موضوع سخن بھی چنا گیا ہے اور اس پر تبصرہ پڑھ کر اک بات کا تو ادراک ہوا ہے کہ ہم سب میں اک حکیم کہیں چھپا بیٹھا ہے

  11. SHAHNAWAZ says:

    ahtelm agar haftan 1 bar hota ho or koch maheno k baad jensy amal karain to es ka koi side efect to nahy hain hain na?

    • مزمل شیخ بسمل says:

      احتلام اگر ہفتے میں دو یا تین بار ہو، یا سال میں ایک بار بھی نہ ہو تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔

  12. Rao Shafique Ahmad says:

    بہت خوب لکھا ہے ! پیشاب آنے سے پہلے بھی مذی کا اخراج ہوتا اوریہ پیشاب کی نالی کو لبریکیٹ کرتی ہے اور پیشاب کی تیز دھار سے نالی کو رگڑی نقصان نہیں ہوتا- اسے دھانت پڑنا کہا جاتا اور نوجوانوں کو خوف زدہ کرکے مختلف دوائیاں بیچی جاتی ہیں -- اگر میں نے درست کہا ہے تو بہترین معلوماتی مضمون میں شامل کر لیں

  13. یہ واقعی ایک بہت اچھا مضمون ہے، شکریہ ہمارے ساتھ اشتراک کرنے کے لئے ایک بہت ہے

  14. Muhsin Ahmed says:

    تمام باتیں بہترین ہیں ، مگر مشت زنی کی جو اسلام میں ممانعت ہے،وہ کس بنا پر ہے ؟ اس کی بھی کچھ وجہ ہوگی

    • مزمل شیخ بسمل says:

      وجہ یا فائدہ ہونا یا حکمت ڈھونڈنا مذہب کا مقصود نہیں ہے۔
      نہ ہی حکم کسی فائدے یا حکمت کا تابع ہوتا ہے۔ اگر آپ ربط دے دیں تو یہ آپ پر ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ احکام اور حکمت میں ربط ضروری ہو۔

  15. gulam says:

    سر بہت اچھے بہتر انداز میں سمجھایا ہے آپ نے مشکورہیں آپ کے
    پھر بھی کوئی نہ سمجھے تو الگ بات ہے

  16. Ehsan Ullah says:

    سیکس کرنے سے پیٹ بڑھ جاتا ہے کیا یہ بات واقعی درست ہے اور وزن بھی بڑھ جاتا ہے اگر پیٹ بڑھتا ہے تو کیا احتیاط لازمی ہیں

    • مزمل شیخ بسمل says:

      جی نہیں۔ سیکس کرنے سے نہیں بلکہ روٹین بدلنے سے پیٹ بڑھ جاتا ہے۔ شادی کے بعد مرد عموماً ہڈ حرام اور کاہل ہو جاتے ہیں۔

تبصرہ کریں