حساسیت پر قابو پائیں

تحریر: ثنا آصف

حساسیت ایک ایسا جذبہ یا فیلینگز ہیں جو دو طرح سے انسان اپنی زندگی میں تجربہ کرتا ہے۔ یا اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ دو طرح کے انسان ہوتے ہیں ۔ایک بہت حساس دوسرے بے حس۔ اگر بات کی جائے حساس لوگوں کی تو ایسے لوگ چھوٹی چھوٹی بات کو سر پہ سوار کر لیتے ہیں۔ اور اس کے متعلق سوچتے رہتے ہیں جس کے نتیجہ میں سردرد، پریشانی، دل کا نا خوش ہونا، جیسی فیلینگز ان پر حاوی ہو جاتی ہیں۔ ایسے لوگ بہت زیادہ حساس کہلاتے ہیں۔

حساسیت انسان کو دو طرح سے گھیرتی ہے ۔ فزیکلی اور ایموشنلی۔ یہ کسی بھی واقعہ یا بات کے نتیجے میں انسان محسوس کرتا ہے۔  مثال کے طور پہ قومیت ، دینی، وغیرہ۔
جذباتی یا حساس ہونا ایک صحت مند عمل ہے۔ لیکن اگر یہ حد سے زیادہ ہو جائے تو صحت کو تباہ کر دیتا ہے۔ حساسیت کو کم کرنے کے لیے درج ذیل رویوں پہ عمل کریں۔

  • اپنی حساسیت میں توازن لائیں (نہ تو زیادہ حساس ہو جائیں نہ ہی کٹھور)۔
  • خود میں اعتماد پیدا کریں۔
  • روزمرہ کے واقعات پر Over react نہ کریں۔
  • بدگمانی سے جہاں تک ہو سکے بچیں۔
  • اپنی پریشانیوں کو لکھیں (جس چیز کے بارے میں پریشان ہیں اس کو لکھ کر ، پڑھیں اور تجزیہ کریں کہ کون سی ایسی بات یا واقعہ ہے جس کی وجہ سے آپ زیادہ حساسیت کا شکار ہوئے۔ مثال کے طورپر اگر کوئی آپ پر کمنٹ کر دے یا آپ کی ڈریسنگ یا لہجے کے بارے میں کسی سے بات کرے اور آپ کو پتا چل جائے تو کچھ لوگ فوراً سے رونا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے متعلق لکھیں کہ آپ نے بات پتا چلنے پہ آپ نے فزیکلی یا ایموشنلی کیا تبدیلیاں محسوس کیں۔ جب آپ ان کو لکھ کر پڑھیں گے تو آپ کو سمجھ  میں آ جائے گی کہ آپ نے اس کا ردعمل کیسے کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی معاہدہ کریں گے آپ نے 1 منٹ تک کوئی ردعمل محسوس نہیں کرنا چاہیے۔ شروع میں یہ تھوڑا مشکل ہو گا مگر جوں جوں آپ پریکٹس کرتے جائیں گے یہ آسان ہو جائے گا۔ یہ آپ کی حساسیت کو کم کرنے میں بہت مدد دے گا۔
  • اپنے آپ پر اچانک بوجھ نہ ڈالیں۔ ہر چیز کو ایک ایک کرکے خود پر اپلائی کریں۔
  • کوشش کریں کہ ایسے احساسات کو روکیں جن سے آپ کی جسمانی و ذہنی صحت کو نقصان پہنچتا ہے۔ ان کو جانیں اور ان کا تجزیہ کر کے آہستہ آہستہ کم کرنے کی کوشش کریں۔
یہ بھی پڑھیں:   احساس کمتری

بارے مصنف کے:

ثنا آصف بطورِ ماہرِ نفسیات کے پریکٹس کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ چائلڈ نفسیات میں سپیشلائزیشن کی طالبِ علم بھی ہیں۔ اور پبلک ہیلتھ اینڈ اینجئیرنگ ڈیمپارٹمنٹ سے ملحق ہیں۔

(180 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

4 تبصرے

  1. ماشااللہ۔۔
    بہت عمدہ آرٹیکل ہے۔۔ معلوماتی اور اچھا۔۔

  2. ایاز ناصر says:

    اچھا مضمون ہے۔
    اس حوالے سے بھی لکھیں کہ اگر کوئی شخص ضرورت سے زیادہ حساس ہے۔ اور ہر بات کو منفی انداز میں لیتا ہے تو اسے اپنے علاج کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

  3. umar farooq says:

    mashaallah ap ne hasasiyat ko boht achi tarha define kia ha

تبصرہ کریں