حقیقت کیا ہے ؟

کچھ فیصلے عقلی تسکین کے لیے ہوتے ہیں اور کچھ جذباتی تسکین کے لیے۔ بلکہ اگر کہا جائے کہ عقلی تسکین کے لیے کوئی فیصلہ نہیں ہوتا، سب کے سب جذباتی تسکین کے فیصلے ہیں تو بھی بات وہی رہتی ہے۔ صرف الفاظ بدل جاتے ہیں۔ کیونکہ عقل کو کوئی حتمیت کا اعزاز حاصل نہیں۔ یہ بھی جذبات کی تسکین اور اطمینان کے موقع و محل کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ایسے میں حقیقت وہی ہوتی ہے جسے آپ حقیقت سمجھیں۔ نفسیات کی حقیقت اور ہے، عقلیات کی حقیقت اور۔ سائنس اور کہانی سناتی ہے اور دریوزہ گروں کی کہانی اور ہے۔ فلسفہ کی سچائیاں کچھ ہیں، اور ارضی صداقتیں کچھ اور۔ کس طرف دیکھیے؟ کہاں جائیے؟ کوئی ایک راہ ہو تو سمجھ میں آئے۔ عقل؟ اس کے قوانین بھی ایک سے نہیں ہیں۔ آپ کوئی ایک مقدمہ قائم کرکے اس پر حتمی صداقت کا حکم نہیں لگا سکتے۔ نہ اسے عین عقلی بنیادوں پر مطلق کہہ سکتے ہیں۔ یہ تشکیک نہیں۔ بلکہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے ہر انسان ہر لمحے میں جیتا ہے۔ میں بھی۔ آپ بھی۔ کوئی محسوس کرتا ہے، کوئی نہیں بھی کرتا۔ حقیقت کی اپنی اپنی تشکیلات ہیں۔ اپنے اپنے ورژنز ہیں۔ آپ کو صرف اسی کی ضرورت ہے جو آپ سے متعلق ہے۔ آپ کے جذبات سے زیادہ قریب ہے۔ آپ کو زیادہ متاثر کرتا ہے۔ لیکن ہر حقیقت کے بر عکس ایک حقیقت ہے۔ تضاد کی حقیقت۔ یعنی ہر منزل کے مقابلے پر ایک منزل ہے۔ کوئی منزل حتمی نہیں۔ یہی فطرت کی تقسیم ہے۔ یہی قانون ہے۔ الجھاؤ کا قانون۔ اجتماعِ ضدین کا قانون۔ تو پھر حقیقت کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کو استدلالی بنیادوں پر حقیقت کہا ہی نہیں جاسکتا۔ کیونکہ حقیقت خطِ افق کی مانند ہے۔ جیسے ہی تعیین کا مرحلہ آئے گا، حقیقت ایک قدم اور آگے بڑھ چکی ہوگی۔ آپ کی تمنائیں ہمیشہ کی طرح ناتمامی کی چوٹ کھا کر پھر سے چور چور ہو جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلام کا روایتی بیانیہ یا پھر جدید جوابی بیانیہ ؟

(102 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں