حمیت نام تھا جس کا

اسکی حالت غیر تھی کہ جب اسے معلوم ہوا کہ اس کے دادا ایک مولوی تھے اور انکی داڑھی بھی تھی جی ہاں وہی داڑھی کہ جو طالبانیت اور دہشت گردی کی علامت ہے وہ بار بار کف افسوس ملتا کہ کس خانوادے میں پیدا کر دیا گیا ہے آج کہ جب اس نے گھر کی متروک اشیاء رکھے جانے والے اسٹور میں ایک پرانے صندوقچے سے اپنے دادا مرحوم کی تصویر نکالی تو اس وقت سے اس پر ماتمی کیفیت طاری تھی۔

آہ!! اب میں اپنے لبرل حلقوں میں کیسے منہ دکھاونگا؟

داڑھی والا پر نور چہرہ اور سر پر موجود قابل احترام دستار۔

اور پھر جب اسے معلوم ہوا کہ دادا مرحوم کا تعلق دہشت گرد احراری امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری اور مولانا مفتی محمد حسن سے بھی تعلق تھا تو افسوس سے اس کی آنکھوں سے آنسو ابل پڑے۔

ہائے ہائے۔۔ اس نے سینے پر دو ہتھڑ مارے۔

ابھی وہ کل ہی تو اپنے کالم میں لکھ آیا تھا کہ یہ مخصوص احراری دیوبندی مسلک دہشت گردی کی علامت ہے اور دادا مرحوم نکلے دہشت گردوں کے دوست۔ اف۔! افسوس۔۔۔

یہاں تک تو ٹھیک لیکن جب اسے دادا مرحوم کی ختم نبوت تحریک میں شمولیت کا علم ہوا تو اپنے احمدی دوستوں کے سامنے شرمندگی سے اس پر حالت مرگ طاری ہو گئی!

اب وہ زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتا تھا کہ دادا مرحوم کی تصویر گلی میں آواز لگاتے ردی پیپر والے کے حوالے کر دے۔

یاسر پیرزادہ ہم تمھارے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   شخصیت

ایک طرف یہ پیر زادگی اور دوسری جانب ترقی کی جانب بلاتی لبرل روشنی بھلا تم کہاں اس دقیا نوسیت سے چمٹے رہنے والے۔

موصوف سینٹ ویلین ٹائین کے عشق میں اتنے مبتلا ہوئے کہ آپے سے ہی باہر ہو چلے اور ہر اس شخص کو کہ جو اس عالمگیری تیوہار کو منانے سے انکاری ہے دہشت گرد قرار دے دیا۔

موصوف اس اسلامی آئین والے پاکستان میں کم از کم دوسروں کو اتنا آئینی حق تو دیجیے۔

بے دھڑک بے دلیل بات کہ دینا تو موصوف کا خاصہ ہے شاید انہیں "research" نامی چڑیا کا علم نہیں اور موصوف حوالوں سے ایسے ہی کتراتے ہیں کہ جیسے اسلام سے گھبراتے ہیں۔

موصوف کا فرمانا ہے کہ موسیقی کی مخالفت کرنے والا انتہائی قسم کا دہشت گرد ہے اور ہر وہ مولوی جو اس دہشت گردی پر آمادہ ہے قابل گردن زدنی ہے ہاں دوسری طرف وہ مولویوں کے ایک گروہ کا موسیقی کی فضیلت پر اجماع بیان کرتے ہیں۔

ویسے ہمارے علم میں جدت پسند مولویوں کی فہرست میں سر سید سے جناب غامدی تک دس ایسے افراد بھی نہیں آتے کہ جو موسیقی کو کم سے کم درجے میں سنت غیر موکدہ ہی سمجھتے ہوں ہاں بعض اقسام کی موسیقی (قومی و ملی ترانوں سبق آموز نظموں اور جنگی ترانوں کا جواز ضرور ملتا ہے ) لیکن موصوف جس انداز میں چست لباس میں ملبوس عورتوں کے فحش گانوں پر رقص بسمل کی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں اس سے تو ہر جدت پسند اور شدت پسند مولوی کا دامن پاک ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مایوسی چھوڑ دیجیے

اجی آپ (Striptease) سے لطف اندوز ہوں اور (Lap dance) سے دل بہلائیں مگر خدارا قوم کی بہن بیٹیوں کو اس راہ پر مت لگائیں۔
پی ایس ایل میں ناچتی عورتوں کی گنجائش آپ کے ذاتی اسلام میں تو ہو سکتی ہے، محمد عربی صلی الله علیہ وسلم کے اسلام میں نہیں ہاں ہماری اس بات کو شاید موصوف مولوی کی بڑ سمجھ کر نظر انداز کر دیں لیکن جناب من نہ تو قرآن کریم مولویوں کا لکھا ہے اور نہ ہی حدیث مولویوں کی بنائی ہوئی کم از کم خود مطالعہ فرما کر دیکھ لیجئے۔

دوسری جانب موصوف خالص حسن نثاری اسٹائل میں مولویوں کا گریبان پکڑ کر انہیں جھنجھوڑتے دکھائی دیتے ہیں۔

ارے او ظالمو ... ! مغرب کی بنائی ہوئی مادی چیزوں کو استعمال کرتے ہو اور عمل اپنے
نبی (صلی الله علیہ وسلم ) کی سنّت پر شرم سے ڈوب مرو ...

خیر جناب آپ مغرب سے مستعار ثقافت پر بغلیں بجائیں اور بے حیائی کو ترقی کی علامت ٹھہرائیں ہمیں تو ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔

نظم :غلام قادر رہیلہ
علامہ محمّد اقبال : بانگ درا .

رہیلہ کس قدر ظالم، جفا جو، کینہ پرور تھا
نکالیں شاہ تیموری کی آنکھیں نوک خنجر سے

دیا اہل حرم کو رقص کا فرماں ستم گر نے
یہ انداز ستم کچھ کم نہ تھا آثار محشر سے

بھلا تعمیل اس فرمان غیرت کش کی ممکن تھی !
شہنشاہی حرم کی نازنینان سمن بر سے

بنایا آہ ! سامان طرب بیدرد نے ان کو
نہاں تھا حسن جن کا چشم مہر و ماہ و اختر سے

یہ بھی پڑھیں:   علمی اختلاف، اعلی اخلاق اور متجددین

لرزتے تھے دل نازک، قدم مجبور جنبش تھے
رواں دریائے خوں ، شہزادیوں کے دیدئہ تر سے

یونہی کچھ دیر تک محو نظر آنکھیں رہیں اس کی
کیا گھبرا کے پھر آزاد سر کو بار مغفر سے

کمر سے ، اٹھ کے تیغ جاں ستاں ، آتش فشاں کھولی
سبق آموز تابانی ہوں انجم جس کے جوہر سے

رکھا خنجر کو آگے اور پھر کچھ سوچ کر لیٹا
تقاضا کر رہی تھی نیند گویا چشم احمر سے

بجھائے خواب کے پانی نے اخگر اس کی آنکھوں کے
نظر شرما گئی ظالم کی درد انگیز منظر سے

پھر اٹھا اور تیموری حرم سے یوں لگا کہنے
شکایت چاہیے تم کو نہ کچھ اپنے مقدر سے

مرا مسند پہ سو جانا بناوٹ تھی، تکلف تھا
کہ غفلت دور سے شان صف آرایان لشکر سے

یہ مقصد تھا مرا اس سے ، کوئی تیمور کی بیٹی
مجھے غافل سمجھ کر مار ڈالے میرے خنجر سے

مگر یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر
حمیت نام ہے جس کا، گئی تیمور کے گھر سے

(114 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. Qasim Cheema says:

    واہ بہت خوب ۔۔۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ .. سید عطاء اللہ شاہ بخاری ایک عظیم قائد ،، اللہ انکی قبر کو نور سے بھر دے

تبصرہ کریں